| عنوان: | خانقاہوں کو اپنی روش بدلنے کی ضرورت |
|---|---|
| تحریر: | مولانا محمد شہزاد عالم مصباحی |
| پیش کش: | عالیہ فاطمہ انیسی |
| منجانب: | مجلس القلم الماتریدی انٹرنیشنل اکیڈمی، مرادآباد |
اسلاف کو دیکھو! ہندوستان کی مختلف خانقاہوں اور علمی گھرانوں کا بنظرِ غائر جائزہ لیا جائے تو یہ بات طشت از بام ہوتی ہے کہ ان میں ان اسلاف کی طویل فہرست ہے جو تادمِ مرگ دین و سنیت اور مذہب و ملت کی صحیح ترجمانی کرتے رہے اور امت کو اعتقادی خرابیوں سے دور فرماتے رہے، اور ان کی کامیاب و مؤثر تبلیغ سے ہزاروں گم گشتگانِ راہ نے رشد و ہدایت کا سامان پایا۔
مگر ان کے دارِ فانی سے کوچ کرنے کے بعد ان کے گمراہ جانشینوں نے ان کی پاکیزہ تعلیمات کو یکسر فراموش کر دیا اور اپنے اسلاف کے نام پر بہتوں کو بے راہ روی اور گمراہی کے قعرِ عمیق میں دھکیل دیا۔ اچھا، یہ فطری بات ہے کہ بزرگوں کی اولاد اگر کچھ غلط کرے تو ان کی غلط بات کو بھی ان کے پیروکار بآسانی تسلیم کر لیتے ہیں چونکہ ان کی نظر میں ان کے اسلاف کی تصویر ہوتی ہے اور ان کو لگتا ہے کہ ایسوں کی اولاد جو کر رہی ہے وہ اپنے آبا و اجداد کو دیکھ کر یا اجازت پا کر ہی کر رہی ہوگی، مگر اللہ بھلا کرے ان علمائے حق کا جو بروقت امت کی صحیح رہنمائی فرما کر اس کو حقیقتِ حال سے واقف کرا دیتے ہیں۔ لیکن ایک سوال آتا ہے کہ ایسے نازک دور میں ہم کو کیا کرنا چاہیے؟ جواباً عرض ہے کہ اس کو حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے اثر سے سمجھیں، چنانچہ مشکوٰۃ المصابیح (کتاب الایمان) کی حدیثِ پاک ہے، حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں:
مَنْ كَانَ مُسْتَنًّا فَلْيَسْتَنَّ بِمَنْ قَدْ مَاتَ، فَإِنَّ الْحَيَّ لَا تُؤْمَنُ عَلَيْهِ الْفِتْنَةُ۔
یعنی جو راہ اختیار کرنا چاہے تو اس کو چاہیے کہ ان کی راہ اختیار کرے جو حالتِ ایمان میں اس دنیا سے تشریف لے گئے، چونکہ زندہ شخص پر فتنے میں مبتلا ہونے کا قوی اندیشہ ہے۔
حدیث کا صاف و صریح مفاد یہ ہے کہ اگر کسی بزرگ یا ولی یا عالم کی اولاد راہِ راست سے ہٹ جائے اور بے راہ روی کا شکار ہو جائے تو ان کے عقیدت مندوں کو ان کی راہ چھوڑ کر ان کے ان اسلاف کی راہ لینا چاہیے جو اپنی قبروں میں آرام فرما ہیں چونکہ بعدِ وصال ان کی کامیابی اور لوگوں کے دلوں میں ان کی عقیدت کے راسخ ہونے کا راز ان کے پاکیزہ نظریات ہیں۔
لہٰذا اب جو اخروی سرخروئی حاصل کرنا چاہتا ہے تو اس کو ان بزرگوں کی راہ پر چلنا ہوگا نہ کہ ان بھٹکے ہوئے جانشینوں کی روش پر۔ یہیں سے آج کی باوقار خانقاہوں کے بگڑے ہوئے ان شہزادگان کا حال بھی سمجھ میں آ گیا جو اپنے آبا و اجداد کا طرزِ حیات چھوڑ کر اور تاویلاتِ فاسدہ کا سہارا لے کر قوم کو گمراہ کرنے میں مگن ہیں اور اپنی بے راہ روی کو ہی راہِ نجات سمجھے بیٹھے ہیں، لہٰذا احبابِ اہل سنت کو لازم ہے کہ ان کو نمونۂ عمل نہ بنائیں بلکہ ان کے اسلاف اور ان لوگوں کو جو اپنے ان اسلاف کی راہ پر گامزن ہیں نمونۂ عمل بنائیں اور ایسی اولاد کو پوری طرح فراموش کر دیں کہ ان کی صحبت زہرِ ہلاہل سے کم نہیں، چنانچہ حضور شفیعِ امت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں (حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ راوی ہیں):
يَكُونُ بَعْدِي أَئِمَّةٌ لَا يَهْتَدُونَ بِهُدَايَ وَلَا يَسْتَنُّونَ بِسُنَّتِي، قُلُوبُهُمْ قُلُوبُ الشَّيَاطِينِ فِي جُثْمَانِ إِنْسٍ۔ قَالَ حُذَيْفَةُ: قُلْتُ: كَيْفَ أَصْنَعُ إِنْ أَدْرَكْتُ ذٰلِكَ؟ قَالَ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ: تَسْمَعُ وَتُطِيعُ الْأَمِيرَ، وَإِنْ ضُرِبَ ظَهْرُكَ وَأُخِذَ مَالُكَ فَاسْمَعْ وَأَطِعْ۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے بعد کچھ ایسے پیشوا آئیں گے جو نہ میری ہدایت پر ہوں گے اور نہ ہی میرے طریقے پر، اُن کے دل انسانی شکل میں شیطانی دل ہوں گے۔“
حضرت حذیفہ نے عرض کیا کہ اگر مجھے وہ لوگ مل جائیں تو میں کیا کروں؟ فرمایا: ”تو ایسے وقت میں سچے امیرِ کارواں کی سن اور اس کی مان، اگرچہ وہ تقاضائے شریعت کی بنیاد پر تجھے پیٹ دے یا تیرا مال لے لے مگر تو اسی کی سن اور اس کی مان۔“
اس کا مطلب بھی یہی ہے کہ بہکے ہوئے کو اپنا آئیڈیل نہیں بنانا ہے اور نہ ہی ان سے رشتہ رکھنا ہے، اللہ پاک ہم کو اچھوں کی صحبت میں رکھے اور اچھوں کے ساتھ ہی اٹھائے۔
تَوَفَّنَا مُسْلِمِينَ وَأَلْحِقْنَا بِالصَّالِحِينَ۔
