Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

مفتی اعظم ہند اور جماعت وتر

مفتی اعظم ہند اور جماعت وتر
عنوان: مفتی اعظم ہند اور جماعت وتر
تحریر: مولانا فواد رضا قادری مظہری
پیش کش: قافیہ نوری بنت محمد ظہیر رضوی
منجانب: امجدی گلوبل اکیڈمی

بلا شبہ حضور مفتیِ اعظم ہند نور اللہ مرقدہ کی ذاتِ بابرکت اللہ کے مقبول بندوں میں سے ایک تھی، اگر صرف آپ کی کرامات جو عوام تو عوام اہلِ علم و فضل کی زبانوں پر جاری ہیں انہیں جمع کیا جائے تو دفتر تیار ہو جائے، پھر مختلف موضوعات پر کئی یادگار تصانیف و رسائل ہیں جن میں فتاوے کا ایک عظیم مجموعہ فتاویٰ مصطفویہ کی شکل میں ہمارے سامنے ہے مگر اس مجموعہ میں شامل فتاویٰ کے علاوہ اور دیگر ہزاروں فتاوے ہیں جو منظر عام پر نہ آسکے، مرشدی حضور تاج الشریعہ قدس سرہ نے فقیر سے بیان فرمایا کہ: ”جب حضرت نے وصال فرمایا تو دارالافتاء میں ۹۵ رجسٹر تھے، جن میں ۴۵ رجسٹر ایسے تھے جن میں صرف حضرت کے فتاویٰ تھے۔“ افسوس بہت کچھ حوادثِ زمانہ کی نذر ہو گیا یا لوگوں کی الماری کی زینت ہے، اگر تمام یا اکثر شائع ہو جائیں تو فتاویٰ رضویہ کی مجلدات کے برابر ہو۔ خیر! راقم السطور کی نظر سے فتاویٰ مفتیِ اعظم میں ایک ایسا تحقیقی تفصیلی فتویٰ گزرا جس کے متعلق کسی کا مقالہ ہمیں نہیں مل سکا، لہذا اسی وقت ارادہ کر لیا تھا کہ ضرور اس پر کچھ خامہ فرسائی کروں گا اور الحمدللہ آج وہ گھڑی آگئی۔

سوال: حضور مفتیِ اعظم سے سوال ہوا کہ کچھ لوگوں نے مسجد میں تنہا فرض عشاء پڑھے پھر امام کے ساتھ تراویح پڑھی اور جب تراویح ختم ہوئی تو ان کے ذمہ کچھ تراویح تھیں تو اب وہ جماعتِ وتر میں شامل ہو جائیں یا پہلے بقیہ تراویح ادا کریں اور جماعتِ وتر چھوڑ دیں؟ بعض لوگ بحوالہ صغیری کہتے ہیں کہ نمازِ وتر میں شامل ہو جائیں اور بعد کو تراویح پوری کریں اگرچہ فرضوں میں شامل نہیں ہوئے کیوں کہ جماعتِ وتر تابع جماعتِ تراویح کے ہے، اس لئے وتر کی جماعت نہ چھوڑیں اور بعض بحوالہ بہارِ شریعت کہتے کہ اگر فرض عشا جماعت کے ساتھ نہیں پڑھے تو وتر بھی جماعت سے نہ پڑھے۔

جواب: حضور مفتیِ اعظم نے ابتداً نفسِ مسئلہ سے فرمائی کہ جس نے فرض جماعت سے نہ پڑھے ہوں وہ وتر کی جماعت میں شریک نہیں ہو سکتا پھر وجہ تفصیل سے ذکر کی جس کا خلاصہ درج کرتے ہیں:

جماعتِ وتر مستقل نہیں بلکہ تبعاً ہے کہ وہ از قبیلِ نفل ہے یا تو رمضان کے تابع ہے یعنی اسی میں مشروع ہے (غیر رمضان میں برسبیلِ تداعی مکروہ ہے کما فی ردالمحتار) یا پھر فرضِ عشا کے تابع ہے یا تراویح کے تابع ہے مشہور یہی ہے کہ ان دونوں کے تابع ہے۔

اگر جماعتِ وتر فرضِ عشا کے تابع ہے جب تو ظاہر ہے کہ وتر جماعت سے نہیں پڑھ سکتا۔

رمضان کے تابع مانیں تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ رمضان میں وتر جماعت سے ہی پڑھیں جائیں، بلکہ یہ ہے کہ رمضان میں وتر جماعت سے پڑھ سکتے ہیں، تو جماعت سے ہی پڑھنا اس سے کب متبادر؟

اگر تراویح کے تابع مانو تو یہاں بھی وہی پچھلی صورت ہوگی یعنی بعد تراویح جماعت وتر ہو سکتی ہے۔

فی الجملہ تینوں صورتوں میں سے کچھ بھی مانیں تبعیتِ فرض سے جماعتِ وتر نہیں نکلتی، رمضان کے تابع مانو تو اس کے معنی یہ ہیں کہ فقط رمضان میں جماعتِ وتر، عشا یا تراویح کے تابع ہوگی، یہ نہیں کہ اس کی مستقل طور پر جماعت ہوگی، فقہائے کرام میں سے کسی نے اس کی صراحت نہیں فرمائی۔ ہاں علما کے درمیان اس میں اختلاف ہے کہ اگر کسی نے فرض جماعت سے نہیں پڑھے تو وہ تراویح بھی جماعت سے پڑھ سکتا ہے یا نہیں؟ صحیح یہ ہے کہ وہ پڑھ سکتا ہے، نمازِ وتر کا مستقل ہونا اور بات اور اس میں جماعت کا مستقل ہونا اور بات۔

ثمرۂ خلاف

اوپر گزرا کہ جماعتِ وتر کی تبعیت میں اختلاف ہے کسی کے یہاں فرضِ عشاء کے تابع ہے تو کسی کے یہاں جماعتِ تراویح کے اور کسی کے نزدیک رمضان کے تابع ہے، تو خلاف کا ثمرہ کیا ہوا؟ حضور مفتیِ اعظم رقمطراز ہیں:

”اس خلاف کا ثمرہ یہ نہیں کہ جن کے نزدیک جماعتِ وتر تابعِ جماعتِ فرض ہے وہی بحالتِ فوتِ جماعتِ عشاء جماعتِ وتر سے ممانعت کریں اور جن کے نزدیک اس کی جماعت تابعِ جماعتِ تراویح ہے وہ اسے (جماعت میں شرکت کی اجازت دیں) جب کہ جماعتِ تراویح فوت نہ کی، اور جن کے نزدیک تابعِ رمضان ہے اسے مطلقاً جماعتِ وتر کی اجازت دیں؛ بلکہ اس خلاف کا ثمرہ یہ ہے کہ جس نے فرض ایک امام کے پیچھے پڑھے اور تراویح دوسرے امام کے پیچھے، یا فرض و تراویح دونوں ایک امام کے پیچھے اور وتر دوسرے کی اقتداء سے، یا فرض جماعت سے اور تراویح بے جماعت پوری، یا کچھ جماعت سے، یا بالکل نہ پڑھیں، تو جو اس کی جماعت تابعِ جماعتِ فرض ٹھہراتے ہیں وہ امامِ فرض کے پیچھے ان سب صورتوں میں اس کی جماعت جائز بتاتے ہیں، دوسرے کے پیچھے اجازت نہیں دیتے اور جو جماعتِ تراویح کے تابع بتاتے ہیں وہ امامِ تراویح کے پیچھے بشرطیکہ اس نے تراویح سب یا کچھ جماعت سے ادا کی ہوں اور جو اسے رمضان کے تابع ٹھہراتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ امامِ فرض کے پیچھے پڑھے یا امامِ تراویح کے یا کسی اور امام کے خواہ تراویح سب یا کچھ جماعت سے پڑھے ہوں یا علیحدہ یا بالکل نہ پڑھیں ہوں۔“ (۱۰)

اس سے آشکار ہو گیا کہ جماعتِ وتر جس کے بھی تابع ٹھہرائیں اس میں شریک ہونے کے لئے جماعتِ فرض میں شرکت ضروری ہے، البتہ بوجہِ خلاف تبعیت جماعتِ وتر، کب کس کی اقتداء کی جائے وہ حسبِ صورت مختلف ہے، پھر اپنی تائید میں جمع الانہر، تتمہ الفتاویٰ الصغریٰ، فتاویٰ تاتارخانیہ، غنیہ، ردالمحتار اور اس کی شرح جدالممتار کی عبارتیں نقل فرمائیں، بعدہ صغیری اور اس کی اصل کبیری (غنیۃ المتملّی) کی طرف مراجعت کی، لکھتے ہیں:

”صغیری اور اس کی اصل کبیری میں یہ مسئلہ ہماری نظر میں دو جگہ ہے، کہ اگر کسی کا ایک تراویح یا دو تراویح یا اکثر فوت ہو گئے اور امام وتر کو کھڑا ہو گیا تو یہ امام کے ساتھ وتر پڑھے یا اپنی باقی تراویح ادا کرے۔ دونوں جگہ اس کا کہیں پتہ نہیں کہ اگرچہ فرضوں میں شامل نہیں ہوئے کیوں کہ جماعت وتر تابع جماعت تراویح کے ہے۔“ (۱۱)

اور صغیری کبیری کی عبارتیں نقل فرمائیں جن کا حاصل یہ ہے کہ جس شخص کی چند یا اکثر رکعات تراویح امام کے پیچھے چھوٹ جائیں تو کیا وہ انہیں وتر سے پہلے پڑھے یا پہلے وتر ادا کرے پھر بقیہ تراویح کی تکمیل کرے؟ علامہ حلبی کہتے ہیں: ”ہمارے زمانے کے مشائخ کی آراء مختلف ہیں بعض کہتے ہیں کہ پہلے امام کے ساتھ وتر پڑھے تا کہ فضیلت جماعت سے محروم نہ ہو پھر فوت شدہ تراویح ادا کرے اس لئے کہ وتر کے بعد بھی جائز ہے اور بعض کہتے ہیں پہلے تراویح ادا کرے پھر وتر پڑھے۔“ عبارات کو نقل کر کے یوں تفہیم کراتے ہیں کہ ”ان میں یہ کہاں ہے کہ اگرچہ فرضوں میں شامل نہیں ہوئے“ اور نہ یہاں یہ کہ ”جماعت فرض سے کیا تعلق؟“ وہ صورت ان دونوں کتابوں میں زیر فروع اسی مسئلہ مذکور سے متصل ذکر فرمائی ہے کہ اور جب کہ فرض امام کے ساتھ نہ پڑھے ہوں تو امام عین الائمہ کرابیسی سے منقول ہے کہ نہ امام کے ساتھ تراویح پڑھے نہ وتر، پھر اس صورت میں بھی کبیری میں بعد بیان اختلافِ حکم و وجہ ہر حکم یہ تحریر فرمایا کہ:

لَا شَكَّ أَنَّ تَأْخِيرَ الْوَتْرِ أَوْلَى وَإِنْ فَاتَتِ الْجَمَاعَةُ فِيهِ، فَإِنَّ الِانْفِرَادَ بِهِ أَوْلَى عَلَى قَوْلِ الْجُمْهُورِ كَمَا سَيَأْتِي إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى

یعنی: بے شک تاخیر وتر اولیٰ ہے، اگرچہ وتر کی جماعت جاتی رہے کہ وتر میں انفرادی ہر قولِ جمہور اولیٰ ہے۔

نیز صغیری میں بعد اختلاف فرمایا: وَلَا شَكَّ أَنَّ تَأْخِيرَ الْوَتْرِ أَوْلَى وَكَذَلِكَ الِانْفِرَادُ بِهِ۔ بے شک وتر کو مؤخر کرنا اولیٰ ہے اسی طرح انفراداً بھی۔

کہاں یہ اور کہاں وہ کہ اگرچہ فرضوں میں شامل نہیں ہوئے، کیوں کہ جماعتِ وتر جماعتِ تراویح کے تابع ہے، اس سے لزومِ جماعتِ وتر یا بہر حال بے کراہت اس کا جواز کیوں کر نکلا کہ اگرچہ فرضوں کی جماعت کھوٹی ہو مگر وتر جماعت ہی سے پڑھے، تابع ہونے کا حاصل تو اتنا ہی ہے کہ تراویح جماعت سے پڑھی جاتی ہیں، تو رمضان میں ان کی تبعیت سے وتر بھی باجماعت پڑھ سکتے ہیں نہ یہ کہ وتر بہر حال جماعت ہی سے پڑھیں۔ (۱۲)

اس سے روزِ روشن کی طرح عیاں ہو گیا کہ صغیری کی اس کی اصلِ کبیری میں وہ مسئلہ نہیں جو لوگ بتا رہے ہیں حالانکہ ان کتب میں تو اس صورت میں بھی اختلاف لکھا ہے کہ جب کسی کی تراویح فوت ہو گئی ہوں تو وہ وتر میں امام کی اقتدا کرے گا یا نہیں اور حکم ہر دو جانب ہے کہ بعض فقہاء جماعتِ وتر میں فضیلتِ جماعت کی خاطر شریک ہونے کا حکم کرتے ہیں اور بعض تراویح مکمل کرنے کو کہتے ہیں کہ وتر میں تاخیر اور انفراد افضل ہے، پھر امام عین الائمہ کرابیسی سے اسی صغیری میں منقول ہوا جس شخص نے فرض امام کے ساتھ نہ پڑھے ہوں تو وہ نہ امام کے ساتھ تراویح پڑھے نہ وتر، رہا جماعتِ وتر کا تابعِ تراویح ہونا تو اس کا معنی یہ نہیں کہ جماعت سے ہی پڑھی جائے بلکہ اس کا حاصل اس قدر ہے کہ تراویح جماعت سے پڑھی جاتی ہے، یہ نہیں کہ بہر صورت وتر جماعت ہی سے پڑھیں۔

عبارتِ موہومہ کی تحقیق

لیکن اب بھی یہ سوال ہو سکتا ہے کہ لوگوں نے صغیری کا حوالہ کیسے ذکر کر دیا اور نہ یہ ایسی کتاب جسے عوام پڑھتے ہوں ضرور کسی عالم یا مفتی نے بیان کیا ہے تو نفسِ مسئلہ کی وضاحت کے بعد سرکارِ مفتیِ اعظم نے صغیری کی ایک موہوم عبارت ذکر فرمائی جس سے یہ ایہام ضرور ہوتا ہے کہ اگرچہ فرض باجماعت نہ پڑھے ہوں پھر بھی جماعتِ وتر میں شریک ہو جائے البتہ یہ نرا وہم ہے جو تلخیص کی وجہ سے ہوا ہے، چنانچہ رقمطراز ہیں:

ہاں صغیری کی یہ عبارت: وَإِذَا لَمْ يُصَلِّ الْفَرْضَ مَعَ الْإِمَامِ، قِيلَ لَا يَتْبَعُهُ فِي التَّرَاوِيحِ وَلَا فِي الْوَتْرِ، وَكَذَا إِذَا لَمْ يُصَلِّ مَعَهُ التَّرَاوِيحَ لَا يَتْبَعُهُ فِي الْوَتْرِ، وَالصَّحِيحُ أَنَّهُ يَجُوزُ أَنْ يَتْبَعَهُ فِي ذَلِكَ كُلِّهِ۔ اگر اس نے امام کے ساتھ فرض نہیں پڑھے تو کہا گیا ہے کہ وہ تراویح اور وتر امام کے ساتھ نہیں پڑھ سکتا، اسی طرح جب اس نے اس کے ساتھ تراویح نہ پڑھی ہو تو وتر اس کے ساتھ نہ پڑھے اور صحیح یہ ہے کہ وہ ان سب میں امام کی اقتدا کر سکتا ہے۔

اس عبارت میں اس کا ایہام ضرور ہے کہ اگرچہ فرض بے جماعت پڑھے ہوں وتر میں شامل ہو سکتا ہے مگر یہ نرا وہم ہے، اس کا کوئی قائل نہ ہوا، کتبِ فقہ دیکھ جائیے، دور کیوں جائیے کبیری ہی دیکھ لیجیے اختصار کے سبب یہ وہم پیدا ہو گیا، تصحیح دو قولوں سے ایک کی ہوتی ہے، یہاں کوئی دوسرا قول ہی نہیں وَمَنِ ادَّعَى فَعَلَيْهِ الْبَيَانُ، پھر اگر ہوتا بھی تو اصحابِ تصحیح سے اس کی تصحیح اگر ہوتی، تو علامہ ابراہیم حلبی صاحبِ صغیری یہ فرما سکتے کہ وَالصَّحِيحُ الخ کہ خود یہ اصحابِ تصحیح سے نہیں کہ خود کسی قول کی تصحیح کریں۔ (۱۳)

سبحان اللہ! چند سطروں میں موہوم عبارت کی وضاحت کر دی کہ اولاً فقہا میں سے کسی کا یہ قول نہیں کہ اگرچہ فرض امام کے ساتھ نہیں پڑھے ہوں تب بھی جماعتِ وتر میں شریک ہو جائے، خود کبیری جس کی ملخص یہ صغیری ہے اس میں اس کا نشان نہیں۔ ثانیاً تصحیح ہوتی تو دو قولوں میں ہوتی اور نفسِ مسئلہ میں دوسرا قول کہاں ہے؟ پھر تصحیح اصحابِ تصحیح کا وتیرہ ہے حالانکہ صاحبِ صغیری ان میں سے نہیں۔ بات یہ ہے کہ کبیری میں تصحیح مختلف اقوال پر نقل کی گئی کہ جس نے جماعت فرض نہیں پائی بر بنائے مذہبِ صحیح وہ جماعتِ تراویح میں شریک ہو سکتا ہے، ایسے ہی جس نے تراویح جماعت سے نہیں پڑھی صحیح یہ ہے کہ وہ جماعتِ وتر میں شریک ہو سکتا ہے رہا نفسِ مسئلہ اس میں خلاف ہی نہیں تھا تو اسے اسی طرح نقل کیا مگر تلخیص میں یہ اختصار کے سبب یہ وہم ہوتا ہے کہ فرض جماعت سے نہ پڑھنے کی صورت میں بھی وتر باجماعت ادا کئے جا سکتے ہیں یہ صحیح کہنا کسی کا قول نہیں، حضور مفتی اعظم کبیری سے ہر صورت کے متعلق عبارتیں تحریر کرنے کے بعد ان کا خلاصہ تحریر فرماتے ہیں کہ ”کبیری میں اس کا کہیں نشان ہے کہ فرض بے جماعت پڑھے ہوں تو بھی وتر جماعت سے پڑھ سکتا ہے؟ حاشا کہیں نہیں، اس کا کہیں پتہ ہی نہیں تصحیح کیسی؟ انہوں نے تو پہلے امام عین الائمہ سے تین حکم نقل فرمائے:

  1. جس نے فرض بے جماعت پڑھے ہوں وہ تراویح میں امام کی اتباع نہ کرے۔
  2. یوں ہی وتر میں۔
  3. جس نے تراویح میں اتباعِ امام نہ کیا ہو وہ وتر میں بھی نہ کرے۔

یہ مسئلہ مختلف فیہ تھا اس میں اختلاف ذکر کیا، پھر امام ابو اللیث سے امام ابو یوسف البانی کے اس قول کی تصحیح نقل فرمائی: کہ تراویح ایک کے پیچھے پڑھیں تو دوسرے کے پیچھے وتر پڑھ سکتا ہے، یوں ہی پہلے میں بھی اختلاف تھا اور قولِ آخر یعنی جوازِ جماعتِ تراویح بحالِ فوتِ جماعتِ فرض صحیح تھا، اسے لکھا اور اس کی امام ظہیر الدین مرغینانی سے تصحیح نقل فرمائی، دیکھئے امام عین الائمہ کرابیسی کے جواب میں انہوں نے ان دونوں مسئلوں میں امام ابو اللیث و امام ظہیر الدین مرغینانی سے تصحیح نقل فرمائی اور جہاں سادہ خلاف قول تھا وہاں سادہ نقل فرمایا، ان کا وہ دوسرا مسئلہ کہ جس نے فرضوں کی جماعت کھوئی ہے وہ وتر جماعت سے نہ پڑھے، خلاف سے ہی پاک تھا، اسی لیے اس کے خلاف کوئی سادہ قول بھی نقل نہ فرمایا، اگر اس کے خلاف کوئی قول ہوتا تو ضرور نقل فرماتے، اب بحمدہ تعالیٰ روشن تر ہو گیا کہ صغیری کی عبارت سے جو وہم ہوتا ہے وہ نرا وہم ہے، ہرگز ان کی مراد یہ نہیں کہ فرض بے جماعت پڑھے ہوں جب بھی وتر جماعت سے پڑھے یہی صحیح ہے، اس کا صحیح ہونا درکنار یہ کسی کا قول نہیں۔“ (۱۷)

صغیری پر مفتیِ اعظم کا حاشیہ

اخیر میں حضور مفتیِ اعظم نے صغیری کی موہوم عبارت پر اپنے حاشیہ کو نقل فرمایا ہے اور مہینہ یا اس سے زیادہ وقت گزر جانے کے بعد صغیری پر سیدنا اعلیٰ حضرت کا حاشیہ اور فتاویٰ رضویہ کا فتویٰ مل جانے کا ذکر فرماتے ہیں اور شکر الٰہی بجالاتے ہیں کہ میں نے اسی طرح بحث کی جیسے میرے والدِ ماجد نے کی تھی، ہم یہاں بخوفِ طوالت صرف حواشی کو نقل کرتے ہیں سیدی مفتیِ اعظم تحریر فرماتے ہیں:

فَالْحَمْدُ لِلَّهِ وَالْمِنَّةُ عَلَى كَشْفِ الْغُمَّةِ، وَهُوَ وَلِيُّ النِّعْمَةِ، وَكَتَبْتُ عَلَى تِلْكَ الْعِبَارَةِ عَلَى هَامِشِ الصَّغِيرِيِّ، قَوْلُهُ: فِي ذَلِكَ يَعْنِي: اتِّبَاعُهُ فِي التَّرَاوِيحِ صَحِيحٌ فِيمَا إِذَا لَمْ يُصَلِّ الْفَرْضَ جَمَاعَةً، وَكَذَا اتِّبَاعُهُ فِي الْوَتْرِ فِيمَا إِذَا لَمْ يُصَلِّ التَّرَاوِيحَ بِالْجَمَاعَةِ، لَا أَنَّ اتِّبَاعَهُ فِي الْوَتْرِ يَصِحُّ فِيمَا إِذَا لَمْ يُصَلِّ الْفَرْضَ مَعَ الْإِمَامِ، فَافْهَمْ وَتَدَبَّرْ وَتَثَبَّتْ وَتَشَهَّدْ، لِمَا قُلْنَا اقْتِصَارُهُ فِي التَّصْرِيحِ عَلَى لَفْظِهِ التَّرَاوِيحِ، هَذَا كُلُّهُ كَتَبْتُهُ بِتَوْفِيقِ اللَّهِ تَعَالَى تَفَقُّهًا، ثُمَّ بَعْدَ تَحْرِيرِهِ بِشَهْرٍ أَوْ أَزْيَدَ ظَفِرْتُ بِصَغِيرِيِّ مَكْتَبَةِ سَيِّدِنَا الْوَالِدِ الْمَاجِدِ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى فَرَاجَعْتُهَا، فَوَجَدْتُ بِحَمْدِ اللَّهِ تَعَالَى مَا حَاشِيَتُهُ عَلَى تِلْكَ الْعِبَارَةِ الْمَوْهُومَةِ، أَجَابَ عَنْهَا بِعَيْنِهِ مَا أَجَبْتُ وَبَحَثَ مَا بَحَثْتُ وَلِلَّهِ الْحَمْدُ، وَهَذَا مَا نَصُّهُ: "قَوْلُهُ {وَالصَّحِيحُ أَنَّهُ يَجُوزُ أَنْ يَتْبَعَهُ فِي ذَلِكَ كُلِّهِ} لَيْسَ هُوَ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى مِنْ أَصْحَابِ التَّصْحِيحِ، وَإِنَّمَا هُوَ نَاقِلٌ، وَيُرْشِدُكَ مَطَالِعَةُ، شَرْحِهِ الْكَبِيرِ الْمُلَخَّصِ مِنْهُ هَذَا الصَّغِيرُ إِنَّ التَّصْحِيحَ لِلْإِمَامِ الْفَقِيهِ أَبِي اللَّيْثِ وَلِلْإِمَامِ ظَهِيرِ الدِّينِ الْمَرْغِينَانِيِّ، وَإِنَّهُمَا إِنَّمَا يُرَجِّحَانِ إِلَى تَصْحِيحِ جَوَازِ الِاتِّبَاعِ فِي الْوَتْرِ إِنْ لَمْ يَتْبَعْ فِي التَّرَاوِيحِ، وَجَوَازِ الِاتِّبَاعِ فِي التَّرَاوِيحِ وَإِنْ لَمْ يَتْبَعْ فِي الْفَرْضِ، وَلَا أَثَرَ فِيهِمَا التَّصْحِيحُ جَوَازَ الِاتِّبَاعِ فِي الْوَتْرِ وَإِنْ لَمْ يَتْبَعْ فِي الْفَرْضِ فَرَاجِعْهُ صَفْحَةَ: ٤١٠" فَالْوَاقِعُ هَهُنَا نَشَأَ مِنِ اقْتِصَارٍ فَحَلَّ فَلْيَتَنَبَّهْ لَيْسَ الْفَرْقُ بَيْنَهُمَا إِلَّا فَرْقُ اللِّسَانِ، كَأَنَّهُ هُوَ فَانْظُرْ إِلَى هَذَا التَّوَارُدِ، وَمَنْ أَنَا، وَأَيْشٍ (١٥) أَنَا، مَا هَذَا إِلَّا بِفَضْلِ اللَّهِ فَيْضُ خِدْمَتِهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَأَرْضَاهُ عَنَّا، ثُمَّ بَعْدَ مَا مَضَى عَلَى هَذَا بُرْهَةٌ مِنَ الزَّمَانِ ظَفِرْتُ بِكَرَمِ اللَّهِ تَعَالَى بِبَابِ الْوَتْرِ وَالنَّوَافِلِ مِنْ فَتَاوِيهِ الْمُنَسَّقَةِ الْمُبَارَكَةِ قَدَّسَ اللَّهُ تَعَالَى سِرَّهُ وَأَفَاضَ عَلَيْنَا بِرَّهُ.

یعنی: پس خدا کا شکر ہے اور اس کا احسان ہے مشکل آسان فرمانے پر اور وہی نعمت عطا فرمانے والا ہے، میں نے صغیری کے حاشیہ میں اس موہوم عبارت پر لکھا ہے ان کا قول اس بارے میں، یعنی: اس کی اقتدا تراویح میں درست ہے اس صورت میں جب کہ اس نے فرض جماعت سے نہ پڑھے ہوں، یوں ہی وتر کی جماعت میں بھی اقتدا درست ہے اس صورت میں جب اس نے تراویح جماعت سے نہ پڑھے ہوں، (عبارت کا) یہ مطلب نہیں کہ اس کی اقتدا اس صورت میں بھی درست ہے جب اس نے فرض امام کے ساتھ نہ پڑھے ہوں، اس کو سمجھ لو، غور کرو اور ذہن نشین کر لو، جیسا کہ ہم بیان کر چکے کہ انہوں نے لفظ ”تراویح“ کی تصریح فرما کر اسی پر اکتفا کر لیا ہے، میں نے یہ سب اللہ عزوجل کی توفیق، اپنی فقہی بصیرت کی روشنی میں لکھا، پھر اس کے لکھنے کے ایک ماہ یا اس سے کچھ زائد کا عرصہ گزر ہی رہا تھا کہ مجھے اپنے والد گرامی کی لائبریری میں ”صغیری“ مل گئی تو میں نے اس کی طرف رجوع کیا، الحمد للہ میں نے دیکھا کہ اس موہوم عبارت کے حاشیہ پر انہوں نے وہی جواب دیا جو میں نے دیا تھا اور اسی طرح بحث کی جیسی میں نے کی تھی، والحمد للہ علی ذالک۔

ان کی عبارت یہ ہے: ”صاحب صغیری کا قول یہ ہے کہ صحیح بات یہ ہے کہ وہ ان تمام صورتوں میں اقتدا کر سکتا ہے“ لیکن علامہ ابراہیم حلبی ”صغیری“ کے مصنف اصحابِ تصحیح سے نہیں بلکہ وہ تو محض ناقل ہیں اور شرح کبیر کا مطالعہ جس سے یہ صغیر ملخص ہے، تمہاری اس طرف رہنمائی کرے گی کہ تصحیح امام فقیہ ابو اللیث اور امام ظہیر الدین مرغینانی کی ہے کہ وہ دونوں بزرگ تراویح میں عدمِ اقتدا کی صورت میں وتر میں اقتداء کے جواز کی تصحیح کو ترجیح دیتے ہیں اور فرض میں عدم اقتداء کی صورت میں وتر میں جوازِ اقتداء کی تصحیح کا کوئی اثر نہیں، اس طرف رجوع کیا جا سکتا ہے۔ ”واقعہ یہ ہے کہ یہ صورت اختصار کی وجہ سے پیدا ہوئی، لہٰذا متنبہ ہو جاؤ اور میں کیا ہوں میری حیثیت ہی کیا ہے یہ تو سب ان کی خدمت کا فیض ہے، اللہ ان سے راضی ہو اور ان کو ہم سے راضی فرمائے، پھر اس پر تھوڑے دن گزرنے کے بعد آپ کے مبارک فتاویٰ میں ایک فتویٰ باب الوتر والنوافل مل گیا، اللہ تعالیٰ ہم پر ان کے فیض کی بارش فرمائے۔“ (۱۶)

خلاصۂ مباحث

  1. عبارتِ موہومہ کا یہ مسئلہ درست ہے: اگر کسی نے فرض باجماعت نہ پڑھے تو وہ تراویح باجماعت پڑھ سکتا ہے یوں ہی جو جماعتِ تراویح میں شامل نہیں ہوا وہ جماعتِ وتر میں شریک ہو سکتا ہے۔ اسی کو امام مرغینانی اور امام فقیہ ابو اللیث نے راجح قرار دیا ہے۔
  2. رہا یہ کہ جو جماعتِ فرض میں شریک نہیں ہوا وہ جماعتِ وتر میں شامل ہو جائے: یہ درست نہیں خود صاحبِ صغیری نے لفظ ”تراویح“ کی صراحت فرما کر اسی پر اکتفا فرما لیا یعنی صحیح انہیں دو صورتوں سے متعلق ہے کہ جس نے امام کے ساتھ فرض نہیں پڑھے وہ تراویح پڑھ سکتا ہے ایسے ہی جس نے تراویح باجماعت نہ پڑھی یا کچھ پڑھی یا پھر کسی اور امام کی اقتداء میں پڑھیں تو وہ جماعتِ وتر میں شریک ہو سکتا ہے، اسی پر کبیری میں تصحیح ہے، مگر یہاں عبارت کے اختصار کی وجہ سے یہ وہم ہو گیا کہ جس نے فرض باجماعت نہ پڑھے وہ بھی جماعتِ وتر میں شریک ہو جائے یہ درست نہیں بلکہ نرا وہم ہے۔ حضور مفتی اعظم اختتامِ فتویٰ پر تحدیثِ نعمت کے طور پر رقم طراز ہیں:

أَنْظُرْ كَيْفَ سَنَحَ عَلَيَّ بِعَيْنِ أَكْثَرَ مَا سَنَحَ عَلَى أَبِي بِفَضْلِهِ الْوَفِيِّ

”دیکھو! رب تعالیٰ کے بھرپور فضل و کرم سے یہ بات مجھ پر میرے والد ماجد سے زیادہ آشکارہ ہو گئی۔“

مآخذ و مراجع

  1. ماخوذ از آن لائن سوال جواب سیشن حضور تاج الشریعہ عليه الرحمہ، بتاريخ ١٩ دسمبر ٢٠١٠ء، مفہوماً
  2. جہانِ مفتی اعظم صفحہ ۷۷
  3. تقديم فتاویٰ مصطفويہ از فقيہ ملت مفتی جلال الدین احمد امجدی علیہ الرحمہ ۱ / ۳۱
  4. مرجع سابق
  5. جہانِ مفتی اعظم ۱۲۶
  6. فتاویٰ رضويہ ۱ / ۷۶۳
  7. مرجع سابق
  8. تاج الشريعہ کی فقہی مجالس، صفحہ ۱۵۳
  9. مقالات شارح بخاری ۴ / ۱۳۳-۱۳
  10. فتاویٰ مفتی اعظم ۳ / ۷۶
  11. فتاویٰ مفتی اعظم ۳ / ۷۶
  12. فتاویٰ مفتی اعظم ۳ / ۸۰
  13. فتاویٰ مفتی اعظم ۳ / ۸۱
  14. فتاویٰ مفتی اعظم ۳ / ۸۲
  15. اَيْش منحوت من "أی شئ" بمعناہ، وقد تکلمت به العرب، معجم الوسيط
  16. فتاویٰ مفتی اعظم ۴ / ۳

ماخوذ از: ماہنامہ سنی دنیا، بریلی شریف، فروری ۲۰۲۴ء، ص ۴۴

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!