| عنوان: | مضمون: مسلمانوں کے عائلی قوانین میں دخل اندازی غیر آئینی ہے (قسط: اول) |
|---|---|
| تحریر: | فیضان المصطفیٰ قادری |
| پیش کش: | حلیمہ فاطمہ |
| منجانب: | مجلس القلم الماتریدی انٹرنیشنل اکیڈمی، مرادآباد |
یونیفارم سول کوڈ کی تجویز کے خلاف پورا ملک سراپا احتجاج ہے۔ مودی حکومت معاشی ترقی اور صنعت و تجارت کے فروغ کے نام پر اقتدار میں آئی اور دنیا میں ہندوستان کی امیج کو بہتر طور پر پیش کرنے کی کوشش کرتی ہوئی نظر بھی آئی لیکن ساتھ ہی ساتھ رفتہ رفتہ بھگوا تنظیموں کے منصوبوں کی طرف اس کے قدم مسلسل بڑھتے نظر آ رہے ہیں۔ مسلمانوں کے عائلی قوانین میں تبدیلی کی بات کر کے انھوں نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ یہ حکومت اندرون خانہ انھیں تنظیموں کے زیر اثر کام کر رہی ہے۔ سب کو معلوم ہے کہ مسلمان اپنے عائلی قضیے مذہبی تعلیمات کے مطابق حل کرتے ہیں، اور اس پر بہت سختی سے کاربند بھی رہتے ہیں۔ یہ بھی کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں کہ مسلمانوں کے پنچانوے فیصد عائلی مسائل کورٹ تک جاتے ہی نہیں، بلکہ پورے ملک میں پھیلے ہوئے دار الافتا اور دار القضا سے حل ہو جاتے ہیں، جن کا بوجھ انتظامی مقننہ یا عدلیہ پر بالکل نہیں پڑتا۔ پھر بھی نہ جانے اس کی فکر کیوں ستا رہی ہے کہ ان عائلی قوانین کو تبدیل کر کے یکساں قانون نافذ کیا جائے۔ مسلم خواتین کے بارے یہ کہنا کہ وہ ان اسلامی قوانین کی بنا پر ظلم کا شکار ہوتی ہیں غلط ہے، اگر کچھ مسلم خواتین مردوں کی طرف سے ظالمانہ رویے کی شکار ہوتی ہیں جس میں غیر مسلم خواتین بھی شامل ہیں تو اس کے دوسرے محرکات ہیں جو ہندوستانی مسلمان جو مذہبی تعلیمات پر کئی دوسرے ترقی یافتہ ملکوں کی نسبت زیادہ عامل ہیں یہاں طلاق کی شرح ہرگز دوسرے ملکوں کی نسبت زیادہ نہیں۔ بلکہ مغربی ممالک میں طلاق کی شرح زیادہ ہے۔ بلکہ مغربی ملکوں میں کتنی خواتین پچاس سال کی عمر تک پہنچتے پہنچتے چار پانچ شادیوں سے گزر چکی ہوتی ہیں۔ بلکہ کچھ تو درجن بھر شوہر بھی فارغ کر چکی ہوتی ہیں۔ یہ کہنا کہ مسلم خواتین کو علیحدگی اختیار کرنے کا کوئی حق نہیں دیا گیا، یقینی طور پر غلط ہے۔ اور یہ کہنا کہ تین طلاق دینے کے بعد دوبارہ شادی کرنے کے لیے حلالہ کے مرحلے سے گزارنا عورت پر ظلم ہے بھی غلط ہے بلکہ یہ تو اصل میں عورت کی آزادی اور اس پر تین طلاق دینے والے مرد کے اختیارات کو سلب کر لینا ہے۔ نہ جانے لوگ کیوں اس کو اس جہت سے دیکھتے ہیں، جبکہ عورت کی دوسری شادی ہو یا پہلی اس عورت کی رضامندی کے بغیر ہو ہی نہیں سکتی۔ اب اپنی مرضی سے کسی اور سے نکاح کرے اور اس پر تین طلاق دینے والے شوہر کا کوئی بس نہ چلے تو اس میں عورت کی آزادی ہے یا اس پر ظلم ہے؟ اگر اس مسئلے پر کوئی غلط طور پر عمل کرتا ہے تو اسلامی تعلیمات سے بیگانگی یا قانون کے نفاذ کی کمی ہے، لوگ تین طلاق کے بعد حلالہ کو اس عورت کے لیے سزا سمجھتے ہیں جو کہ دراصل اس مرد کے لیے سزا ہے جس نے اسے تین طلاق دی ہے۔ بہرکیف اس قسم کے مسائل پر خاصی تفصیل سے گفتگو کی جا سکتی ہے لیکن فی الحال صفحات اس کے متحمل نہیں۔ ہمیں اس قسم کی حکومتی تجاویز پر حضور مفتی اعظم ہند یاد آتے ہیں جنھوں نے اندرا گاندھی کے زمانے میں نس بندی کے قانون کی کھل کر مخالفت کی تھی، اور اس کے خلاف فتویٰ جاری کیا تھا جس کے بعد حکومت کو اپنا فیصلہ واپس لینا پڑا تھا، آج بھی ایسی مرکزی اور متحدہ کوششیں درکار ہیں جن کی بنا پر حکومت مسلمانوں کے عائلی قوانین میں کسی قسم کی دراندازی نہ کر سکے۔ ہندوستان ایک جمہوری ملک ہے اور اس ملک کے آئین نے اپنے شہریوں کو مکمل مذہبی آزادی دی ہے۔ لہٰذا مسلمانوں کو بھی مذہبی تعلیمات پر عمل کرنے کی پوری آزادی رہنی چاہیے۔ ہندوستانی مسلمان اس میں کسی قسم کی دخل اندازی برداشت نہیں کریں گے۔ [پیغامِ شریعت، ص: 5]
