Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

میزانِ مطالعہ (قسط: اول)

میزانِ مطالعہ (قسط: اول)
عنوان: میزانِ مطالعہ (قسط: اول)
تحریر: مفتی محمد عابد حسین قادری مصباحی
پیش کش: نوری کرن
منجانب: امجدی گلوبل اکیڈمی

سیدی اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خاں قادری برکاتی بریلوی قدس سرہ العزیز افلاکِ علم و فکر پر آفتاب و ماہتاب بن کر چمک رہے ہیں۔ اجالوں کی ان کرنوں کا سہارا لے کر نہیں معلوم کتنے ذرے ہم دوشِ ثریا ہو گئے۔ اعلیٰ حضرت کے وسیع علوم و افکار سے عقیدت مندوں، نیاز مندوں اور وفا کیشوں کے ایوانِ قلب و جگر میں تجلیات پھوٹ رہی ہیں۔ اور وہ کچھ اس طرح گویا ہیں:

ایسی چنگاری بھی یا رب اپنے خاکستر میں تھی

عرصہِ دراز تک آپ کی حیات و خدمات پر گمنامی کی چادر پڑی رہی، آپ کی خدمات کے حوالے سے محدود انداز میں طبقہِ خواص اور اہلِ علم کو واقفیت و آگاہی رہی۔ شبِ ظلمات چیر کر جب سپیدہِ سحر نمودار ہوا اور تحقیق و تفحص کے چراغِ شب تاب اس راہ میں روشن ہوئے تو دنیا بھر کے اہلِ علم، صاحبِ فکر اور اربابِ بصیرت تصویرِ حیرت بن کر اس عبقری کی تحقیقات پر سر دھننے لگے اور اس طرح دنیائے علم کو آپ کے بلند ترین مقامِ علمی و فکری کے بارے میں نئی نئی معلومات فراہم ہوتی چلی جا رہی ہیں۔ ہر طرف آپ کے علمی نقوش کے رنگ صد ہزار بکھرے ہوئے ہیں جس سے جوہر شناس نگاہیں خیرہ ہو رہی ہیں۔ اور اس طرح کا ماحول بنا ہوا ہے:

وادیِ رضا کی کوہِ ہمالہ رضا کا ہے
جس سمت دیکھیے وہ علاقہ رضا کا ہے

پیغامِ رضا، افکارِ رضا، خیالاتِ رضا اور جہانِ رضا سے روشناس کرانے کے سلسلے میں ماہنامہ ”المیزان“ کے مدیرِ اعلیٰ، حضرت جیلانی میاں اور ان کے رفقائے کار کے سر سہرا بندھتا ہے کہ انہوں نے ہند و پاک میں پہلی مرتبہ امام احمد رضا کے علمی و فکری کارنامے اور ان کی عظیم دینی و ملی خدمات پر باقاعدہ منصوبہ بند انداز میں کام کی داغ بیل ڈالی اور انہوں نے اس سلسلے میں ایک ”دائرۃ المعارف“ کی ترتیب دے کر ہند و پاک کے سیکڑوں اہلِ علم، صاحبِ قلم اور اربابِ فکر و نظر سے رابطے قائم کیے۔ ملاقاتیں کیں اور نہ جانے کتنے پاپڑ بیلے، کس قدر آبلہ پائی کے مرحلے سے گزرے۔

کوہ کنی کی یہ داستانِ دلخراش المیزان کے اداریے میں ملاحظہ فرمائیے اور اس طرح طویل محنت و مشقت کے بعد ضخیم اور قابلِ قدر ”امام احمد رضا نمبر“ کی زیارت سے علم دوست حضرات کی آنکھیں منور ہوئیں، اس کے بعد رفتہ رفتہ منظر نامہ ہی تبدیل ہوتا چلا گیا۔ یہ دائرۃ المعارف پھیلتا اور پھیلتا ہی چلا گیا اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے علم و فکر کے اس نیرِ تاباں سے بادلوں کا قافلہ رختِ سفر باندھنے لگا اور سیدی اعلیٰ حضرت امام احمد رضا کی پھیلی ہوئی دینی و ملی خدمات پر تہہ بہ تہہ جمی ہوئی گرد صاف ہونے لگی اور خدوخال نکھر کر سامنے آتے چلے گئے، سچ ہی کہا تھا:

بے نشانوں کا نشاں مٹتا نہیں
مٹتے مٹتے نام ہو ہی جائے گا

اغیار اور مخالفین نے جو کچھ کیا اس پر نہ ہمیں گلہ ہے نہ شکوہ۔ لیکن اپنوں کی اس درجہ بے اعتنائیوں پر ہمیں فریاد کرنے کا پورا حق حاصل ہے، ایک عرصے تک تو دانستہ یا نادانستہ اغماض و چشم پوشی کی داستانِ خوں چکاں نے اہلِ دل کو اشکبار رکھا اور جب تحقیق کے چراغ روشن ہو گئے تو بعض کوتاہ بیں، تنگ خیال و تنگ نظر افراد پر یہ تذکرہِ جمیل بارِ گراں ثابت ہونے لگا اور پھر نئے نئے شگوفے چھوڑے جانے لگے، اتہام و دشنام طرازی کا ایک لمبا سلسلہ شروع ہو گیا، جتنے منہ اتنی باتیں، جتنے قلم اتنے الزامات۔ گویا ان کور علموں کا یہ مقصدِ زندگی بن کر رہ گیا ہے۔ انہی شگوفوں میں سے ایک شگوفہ یہ ہے کہ اعلیٰ حضرت نے سلطان الہند خواجہِ خواجگان عطائے رسول حضرت سید معین الدین حسن چشتی سنجری رحمۃ اللہ علیہ کی ولایت و سیادت اور قیادت کا خطبہ نہیں پڑھا۔ عاقبت نااندیشوں نے تاریخی صداقتوں کا گلا گھونٹا اور یہاں تک کہہ گزرے کہ انہوں نے ہندوستان میں رہنے کے باوجود سلطان الہند کے آستانے پر حاضری کی سعادتیں حاصل نہ کیں۔ امام احمد رضا فاضلِ بریلوی قدس سرہ پر الزام تراشیوں کا سلسلہ کوئی نیا نہیں ہے اہلِ علم و فکر کو ہر دور میں اس طرح صبر آزما مرحلوں سے گزرنا پڑتا ہے۔

زیرِ تبصرہ کتاب میں مولانا محمد عابد حسین نوری مصباحی نے اسی اتہام و الزام کا علمی، تحقیقی و تاریخی جائزہ پیش کر کے اس غیر علمی الزام کے تار و پود بکھیر کر رکھ دیے ہیں۔

مرتب موصوف علم و تحقیق کی دنیا کے آدمی ہیں خاموشی کے ساتھ علمی امور کی انجام دہی ان کا مزاج ہے۔ تصنع، بناوٹ، نمود اور نمائش ان کی پاکیزہ طبیعت سے میل کھانے والی چیزیں نہیں۔ سنجیدہ مزاجی ان کا وصفِ خاص ہے، خالص علم دوست، علما نواز اور دین دار عالمِ دین ہیں۔ بزرگانِ سلف بالخصوص سیدی اعلیٰ حضرت و خانوادہِ رضا سے آپ کا تعلق جذباتی ہے۔ مسلکِ اعلیٰ حضرت کے نقیب و ترجمان کی حیثیت سے اپنی علمی، فکری و قلمی صلاحیتوں کا کھل کر استعمال کرتے ہیں۔ موصوف کی اس تحقیقی و علمی کاوش پر حوصلہ افزا کلمات تحریر کرتے ہوئے ماہنامہ ”نئی آواز“ کے مدیر مولانا سید محمد حسینی مصباحی رقم طراز ہیں:
”کتاب کا حسنِ ترتیب اور مضامین پسند آئے۔ موصوف نے سلطان الہند حضرت سیدی خواجہ ہندوستان غریب نواز کی شانِ زیبا میں اعلیٰ حضرت امام احمد رضا قدس سرہ نے جو خراجِ عقیدت پیش کیا ہے اسے ترتیب دینے کا تاریخی کارنامہ انجام دیا ہے، نیز معترضین کے اعتراضات کا بہت نفیس اور شاندار پیمانے پر جواب دیا ہے۔ آپ نے پوری جماعتِ اہلسنت کی طرف سے فرضِ کفایہ ادا کیا ہے۔“

بکھرے اور منتشر شہ پاروں کو حسنِ ترتیب سے موتیوں کی طرح پرو کر دربارِ خواجہ میں اور مجددِ دین و ملت کی بارگاہ میں خراجِ عقیدت کے طور پر پیش کرنے کی سعادت حاصل کی ہے۔

”آغازِ سخن“ کے عنوان سے مرتب موصوف نے نپے تلے جملوں میں اس کی نفیس اور خوبصورت تمہید بیان کی ہے، اس کا ایک اقتباس ہدیہِ قارئین ہے:
”جمہورِ مسلمین کے راستے اور طریقے کو چھوڑ کر الگ راستہ اختیار کرنا کوئی نئی بات نہیں ہے ہر دور میں معدودے چند افراد ایسے رہے ہیں جو جمہورِ مسلمین سے ہٹ کر اپنا الگ نظریہ قائم کرتے رہے اور اولیاء اللہ اور علمائے دین سے بغض و حسد اور عداوت رکھتے رہے ہیں۔ اس دورِ پرفتن میں بھی انگلی پر گنے جانے والے چند اشخاص ملتے ہیں جو اللہ کے ولیوں اور رسول اللہ کے وارثین علمائے ملتِ اسلامیہ سے دشمنی اور بغض و حسد رکھتے ہیں۔ کوئی رہبرِ امتِ محمدیہ حضرت امام اعظم ابو حنیفہ کو برا بھلا کہتا ہے تو کوئی پیرانِ پیر سیدنا شیخ عبدالقادر جیلانی سے کینہ رکھتا ہے، کوئی خواجہِ خواجگان حضور غریب نواز سے تو کوئی بارہویں صدی ہجری کے مجدد سلطان اورنگ زیب علیہ الرحمہ سے، کوئی مجاہدِ جنگِ آزادی استادِ مطلق علامہ فضلِ حق خیر آبادی علیہ الرحمہ سے عداوت رکھتا ہے تو کوئی اعلیٰ حضرت امام احمد رضا محدث بریلوی علیہ الرحمہ سے۔ مگر تاریخ گواہ ہے کہ ان اولیائے کرام اور علمائے عظام سے نفرت کرنے والے خود ہی خائب و خاسر ہو گئے۔“

گویا ستیزہ کاری و دسیسہ کاری کی یہ تاریخ کوئی نئی نہیں ہے، یہ روایت صدیوں قدیم ہے بلکہ ازل سے اس سلسلہِ نامسعود کی کڑی ملتی ہے کہ ہر دور میں بولہبی شرارے چراغِ مصطفوی علیہ التحیہ والثنا سے ستیزہ کاری میں مصروف رہے ہیں:

ستیزہ کار رہا ہے ازل سے تا امروز
چراغِ مصطفوی سے شرارِ بولہبی

چاند پر تھوکنے والا خود اپنے لیے ذلت و رسوائی کا سامان مہیا کرتا ہے، امام احمد رضا فاضل بریلوی مقبولِ بارگاہِ الہی ہیں جبھی تو آج گلی کوچے میں ان کے علمی و فکری کاموں کی گونج سنائی دے رہی ہے۔ آج کون کلمہ گو ایسا ہے جس کے کانوں میں نغماتِ رضا کے بول رس نہیں گھول رہے ہیں۔ مصطفیٰ جانِ رحمت پہ لاکھوں سلام کی گونج سے کس کلمہ گو کے کان آشنا نہیں۔

تاریخ گواہ ہے کہ اعلیٰ حضرت کے خلاف جن لوگوں نے محاذ آرائی کی، آج علمی دنیا میں ان کی بازگشت بھی سنائی نہیں دیتی۔ بڑے بڑے قد آوروں نے اس راہ میں منہ کی کھائی۔ کل تک علمی حلقوں میں جن کے علم کا طوطی بول رہا تھا جو حق و صداقت کی آواز نہیں بلکہ اس کی شہادت سمجھے جاتے تھے جن کی زبان سے نکلے ہوئے کلمات پر افرادِ امت آنکھیں بند کر کے اعتماد و بھروسہ کرتے تھے جو یقیناً اس منزل پر تھے:

مستند ہے میرا فرمایا ہوا

آج انحراف کے سبب نہ وہ صرف منظر نامے سے غائب ہو گئے بلکہ جماعت میں وہ معتوب نظر آ رہے ہیں۔ جن کے سامنے لب کشائی کی جرات نہ ہوتی تھی آج ان سے جماعت کے بالشتی حضرات میدان میں مقابلہ آرائی کے لیے آستین چڑھائے ہیں اور دو دو ہاتھ کرنے کے لیے تیار ہیں یا للعجب!

احترامِ سادات تو اعلیٰ حضرت کی گھٹی میں تھا اس سلسلے میں ایسی ایسی تاریخی صداقتیں ہیں جن کے مطالعہ سے بے نور آنکھیں روشن ہو جاتی ہیں۔ پھر ایسی شخصیت سے یہ توقع کس طرح قائم کی جائے کہ انہوں نے سلطان الہند حضرت خواجہ غریب نواز کی سیادت و قیادت کا خطبہ نہیں پڑھا۔ مرتب موصوف نے فتاویٰ رضویہ سے لے کر الملفوظ تک، حدائقِ بخشش سے لے کر مجیرِ معظم تک، احسن الوعاء سے لے کر دوسرے مستند تاریخی ماخذ تک کے صفحات کھنگال کر حضرت خواجہ غریب نواز رحمۃ اللہ علیہ کی عقیدت و محبت میں لبریز عبارتیں موتی کی طرح چن چن کر نکالیں اور حسنِ ترتیب سے زینتِ اوراق بنا کر عوام و خواص کی غیر جانب دار عدالت میں پیش کر دیا۔

ایک سوال کے جواب میں اعلیٰ حضرت سائل سے فرماتے ہیں:
”حضور سیدنا غوثِ اعظم ضرور دستگیر ہیں اور سلطان الہند معین الحق والدین ضرور غریب نواز۔“

مرتب موصوف اس فتوے کی توضیح و تشریح کرتے ہوئے اس کے بین السطور پر روشنی ڈالتے ہیں:
”امام احمد رضا، خواجہ غریب نواز کے ایسے عقیدت مند بلکہ عشق کی حد تک پہنچے ہوئے شیدائی ہیں کہ بہر تقدیر ان کا دفاع کرتے، ان کی قرار واقعی شان کو اجاگر کرتے، اور ان پر کیے گئے کسی طرح کے اعتراض کا دنداں شکن جواب بھی دیتے۔ مذکورہ بالا عبارت میں جہاں یہ واضح کیا کہ حضرت ہندوستان کے بادشاہ، حق کی اعانت کرنے والے، دین کے مددگار اور غریب نواز ہیں وہیں حضرت کا دفاع کر کے مخالفینِ خواجہ کا رد بھی کیا ہے۔“

حضرت مفتی نقی علی خاں قدس سرہ کی کتاب احسن الوعاء لآداب الدعاء کی شرح اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ نے تحریر فرمائی جس کا نام ذیل المدعا لاحسن الوعا تجویز فرمایا اس کتاب میں ان چوالیس مقامات کی نشاندہی کی گئی جہاں دعائیں قبول ہوتی ہیں۔ اعلیٰ حضرت قدس سرہ رقم طراز ہیں:
”سی و نہم: مرقد مبارک حضرت خواجہ غریب نواز معین الحق والدین چشتی قدس سرہ۔“

مرتب کتاب یہ حوالہ نقل کرنے کے بعد تحریر کرتے ہیں:
”غور فرمائیے! اس اقتباس میں اعلیٰ حضرت امام احمد رضا نے حضور خواجہ غریب نواز علیہ الرحمہ کی بارگاہِ اقدس میں جس قدر عقیدت و محبت کے پھول نچھاور کیے ہیں اور خوب سے خوب تر القاب سے یاد کیا ہے وہ اربابِ علم و بصیرت پر مخفی نہیں۔“

حضرت خواجہ غریب نواز رحمۃ اللہ علیہ کی ذاتِ اقدس سے امام احمد رضا قدس سرہ العزیز کی نیاز مندی پر شہادت پیش کرتے ہوئے الملفوظ کی یہ عبارت پیش فرماتے ہیں:
”حضرت خواجہ صاحب کے مزار سے بہت کچھ فیوض و برکات حاصل ہوتے ہیں۔“

زیارتِ حرمین شریفین کے دوسرے سفر کی واپسی پر ممبئی سے براستہ اجمیر شریف درگاہِ حضرت خواجہ کا قصد کیا یہ واقعہ اپنے آپ میں حضرت خواجہ سے تعلقِ خاطر و عقیدت و نیاز مندی کی روشن شہادت ہے۔ مولانا سید محمد فرقان علی رضوی چشتی گدی نشین آستانہِ عالیہ اجمیر شریف کے مضمون کا ایک اقتباس مرتبِ کتاب نے نقل کیا ہے آپ بھی ملاحظہ کریں:
”اعلیٰ حضرت جب زیارتِ حرمین شریفین سے ہندوستان واپس تشریف لائے تو بمبئی کی بندرگاہ سے سیدھے اجمیر شریف خواجہِ ہند کی بارگاہِ ناز میں حاضری دینے آئے، وابستگان و اہلِ عقیدت کا ایک ہجوم اعلیٰ حضرت کو لے کر سب سے پہلے اپنے شہر یا اپنے قصبے یا اپنے گھر کو ان کے وجود سے مشرف کرنے کی سعادت حاصل کرنے کا اصرار کرتا رہ گیا مگر آپ نے سارے عقیدت مندوں کی عقیدت پر حضرت سلطان الہند خواجہ غریب نواز کے ساتھ اپنی عقیدت و شیفتگی کو ترجیح دی۔ چنانچہ وہاں کے خدمت گزار اور گدی نشین سید حسن علی رضوی وکیل جاورہ جو اعلیٰ حضرت کے وکیل، دعا گو اور مریدِ خاص تھے انہوں نے اپنی کتاب ”دربارِ چشت“ کے صفحہ 10 پر لکھا ہے کہ یہ حاضری ایسی عقیدت و محبت کی حامل تھی کہ ہم خدامِ آستانہ اور تمام مسلمانانِ اجمیر کے دلوں پر نقش کر گئی۔“

حقائق کے ان اجالوں اور شہادتوں کے اس کھلے منظر کے بعد بھی اگر کوئی کور چشم اتہام و الزام تراشی کی اس گرم بازاری میں مصروف ہے تو یہی کہا جا سکتا ہے:

دیدہِ کور کو کیا آئے نظر کیا دیکھے

مولانا عابد حسین نوری مصباحی نے تلاش و جستجو کی شمع روشن کر کے اس موضوع پر تحقیق کے اجالے بکھیر دیے، ناقابلِ تردید حقائق اور روشن شہادتوں سے معترضین کو مسکت جواب دے کر انہیں بہت کچھ سوچنے پر مجبور کر دیا۔

مطالعے کے دوران ایک واقعے کی تفصیل پڑھتے ہوئے راقم الحروف ذہنی خلجان کا شکار ہوا اگرچہ مرتب موصوف اس واقعے کے ناقل ہیں تاہم نقل نگاری کے مرحلے سے گزرتے ہوئے بھی ایک ذمہ دار ناقل کے اوپر ذمہ داریاں عائد ہو جاتی ہیں۔ معارفِ رضا کراچی پاکستان کے حوالے سے اعلیٰ حضرت قدس سرہ کے سفرِ اجمیر کا ایک واقعہ نقل کیا ہے، مجھے اس واقعے کی صحت و صداقت پر کسی قسم کا کلام نہیں ہے چونکہ اس واقعے کے راوی ایک عالمِ دین علامہ نور احمد قادری ہیں جنہوں نے اپنے دادا حاجی عبدالنبی قادری رضوی مریدِ اعلیٰ حضرت کا کانوں سنا نہیں آنکھوں دیکھا واقعہ نقل کیا ہے۔

دہلی سے اجمیر شریف تک جانے کے لیے بی بی اینڈ سی آئی آر ریل چلا کرتی تھی جب یہ ریل گاڑی پھلیرہ جنکشن پر پہنچتی تو قریب قریب مغرب کا وقت ہو جاتا تھا، پھلیرہ اس دور کا بہت بڑا ریلوے جنکشن ہوا کرتا تھا جہاں سانبھر، جودھپور اور بیکانیر سے آنے والی گاڑیوں کا بھی کراس ہوا کرتا تھا۔ ان تمام دوسری لائنوں سے آنے والے مسافر اجمیر شریف جانے کے لیے اس میل گاڑی کو پکڑتے تھے اس لیے یہ میل گاڑی پھلیرہ اسٹیشن پر تقریباً چالیس منٹ ٹھہرا کرتی تھی۔

بہر کیف! جب اعلیٰ حضرت سفر کر رہے تھے تو پھلیرہ جنکشن پر پہنچتے ہی مغرب کی نماز کا وقت ہو گیا اعلیٰ حضرت نے اپنے ساتھ والے مریدین سے فرمایا کہ نمازِ مغرب کے لیے جماعت پلیٹ فارم پر ہی کر لی جائے چنانچہ چادریں بچھا دی گئیں اور لوگوں میں سے جن کا وضو نہ تھا انہوں نے تازہ وضو کر لیا۔

اعلیٰ حضرت ہر وقت با وضو رہا کرتے تھے چنانچہ انہوں نے فرمایا کہ میرا وضو ہے اور امامت کے لیے آگے بڑھے اور پھر فرمایا کہ آپ سب لوگ پورے اطمینان کے ساتھ نماز ادا کریں ان شاء اللہ گاڑی ہرگز اس وقت تک نہ جائے گی جب تک ہم لوگ نماز پورے طور سے ادا نہیں کر لیتے آپ لوگ قطعاً اس بات کی فکر نہ کریں اور پوری یکسوئی کے ساتھ نماز ادا کریں۔ یہ فرما کر اعلیٰ حضرت نے امامت کرتے ہوئے نماز پڑھنا شروع کر دی۔ مغرب کے فرض کی جب ایک رکعت ختم کر چکے تو ایک دم گاڑی نے سیٹی دے دی۔ الخ

خط کشیدہ جملوں کا بغور مطالعہ کیجیے تو ان جملوں میں بظاہر تضاد نظر آئے گا۔ ٹرین پھلیرہ اسٹیشن پر چالیس منٹ رکتی تھی، پھلیرہ جنکشن پر پہنچتے ہی مغرب کی نماز کا وقت ہو جاتا تھا، اعلیٰ حضرت ہر وقت با وضو رہتے تھے چنانچہ انہوں نے فرمایا کہ میرا وضو ہے اور امامت کے لیے آگے بڑھے، مغرب کے فرض کی جب ایک رکعت ختم کر چکے تو ایک دم گاڑی نے سیٹی دے دی۔

ظاہر ہے کہ ایک رکعت مکمل کرنے میں چالیس منٹ تو لگیں گے نہیں لہٰذا تسلیم کیا جائے کہ واقعہ نقل کرنے میں کہیں نہ کہیں ناقل سے سہو ہوا ہے۔

بہر حال! زیرِ نظر کتاب اپنے متن، اسلوب اور طرزِ نگارش کے اعتبار سے عمدہ اور قابلِ قدر ہے مولانا عابد حسین نوری مصباحی نے اس موضوع سے متعلق تمام واقعات، فتاویٰ، ملفوظات، اشعار اور مشاہدات حسنِ ترتیب سے کتابی شکل میں یکجا کر کے معاندین کو علمی و تحقیقی انداز میں جواب دیا ہے۔ رضویات سے دلچسپی رکھنے والے حضرات کے لیے خاصے کی چیز ہے پیشکش عمدہ اور معیاری ہے آئندہ ایڈیشن میں کتابت کی غلطیوں پر مزید توجہ کی ضرورت ہے۔

[دوماہی الرضا انٹرنیشنل، پٹنہ، جلد: 2، شمارہ نمبر: 7، ص: 51 تا 54]

(جاری...)

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!