Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

میڈیکل سائنس کے تعلیمی پروگرام (قسط: دوم)

مضمون: میڈیکل سائنس کے تعلیمی پروگرام (قسط: دوم)
عنوان: مضمون: میڈیکل سائنس کے تعلیمی پروگرام (قسط: دوم)
تحریر: طارق انور مصباحی
پیش کش: عائشہ فاطمہ
منجانب: مجلس القلم الماتریدی انٹرنیشنل اکیڈمی، مرادآباد

Palli Dars پلی درس

جو ہو سکے تو کرو چاک پردۂ ظلمت
ستارہ بن کے چمکنے سے کچھ نہیں ہوتا

ریاست کیرلا میں مساجد میں باضابطہ درس ہوتا ہے، جو پلی درس (Palli Dars) کے نام سے متعارف ہے۔ ہر مسجد میں پانچ، چھ استاد پلی درس کے لیے مقرر کیے جاتے ہیں۔ اسکول کی طرح پلی درس میں باضابطہ سات کلاس ہوتے ہیں۔ اس کا ایک مستقل نصاب تعلیم ہے۔ اسکولی طرز پر امتحانات بھی ہوتے ہیں۔ حکومتی اسکول کے خارج اوقات میں یہ درس ہوتا ہے، یعنی شام بعد نماز عصر و مغرب اور صبح بعد نماز فجر درس ہوتا ہے۔ اسکول کے اوقات میں وہ طلبہ عصری تعلیم کے لیے اسکول جاتے ہیں۔ پلی درس سے فراغت کے بعد طلبا نصف عالم ہو جاتے ہیں۔ اس طرح کیرلا میں عصری تعلیمات کے ساتھ مذہبی تعلیم بھی دیگر علاقہ جات ہندیہ کی بہ نسبت زیادہ فروغ پذیر ہے۔ مسلمانوں نے اسلامی مدارس کے ساتھ مختلف قسم کے عصری اسکول و کالج بھی قائم کیے ہیں۔

حدیث نبوی ہے:

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم: الْكَلِمَةُ الْحِكْمَةُ ضَالَّةُ الْمُؤْمِنِ، حَيْثُمَا وَجَدَهَا فَهُوَ أَحَقُّ بِهَا [سنن ابن ماجہ، باب الحکمۃ — سنن ترمذی، باب فضل الفقہ علی العبادۃ]

ترجمہ: حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: علم و حکمت مومن کا گمشدہ خزانہ ہے، جہاں کہیں اسے وہ پائے، وہ اس کا زیادہ حقدار ہے۔

چونکہ ریاست کیرلا میں شوافع آباد ہیں۔ مسلک شافعی کے اعتبار سے نماز فجر کی جماعت کچھ تاریکی رہتے (بوقت غلس) ادا کی جاتی ہے۔ اس لیے جس وقت ہندوستان کے دیگر علاقوں میں نماز فجر کی جماعت ہو رہی ہوتی ہے، اس وقت کیرلا میں مسلم بچے اور بچیاں کتابیں لے کر پلی درس کی یونیفارم زیب تن کیے ہوئے مساجد کی جانب جا رہے ہوتے ہیں۔ علی الصباح سفید کپڑوں میں ملبوس ایک ساتھ درس گاہ کی جانب جاتے ہوئے طلبا و طالبات کا سہانا منظر قابل دید ہوتا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ کوئی آفاقی مخلوق ابھی ابھی آسمان سے اتر کر سوئے حرم جا رہی ہو۔ طلبا و طالبات کا یہ جلوس اسلامی تہذیب و ثقافت کا ایک دلکش، جاذب نظر اور خوشنما نظارہ پیش کرتا ہے۔

ملیالم زبان میں مسجد کو ”پلی“ کہا جاتا ہے۔ اس طرح پلی درس کا مفہوم ”مسجد کا درس“ ہوا۔ جب کوئی ان چھوٹے چھوٹے بچوں اور بچیوں کو انتہائی سلیقہ کے ساتھ طلوع آفتاب سے بھی قریباً نصف گھنٹہ قبل مساجد کی جانب رواں دواں دیکھتا ہے تو فطری طور پر انتہائی مسرت و شادمانی محسوس کرتا ہے۔ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد مبارک طَلَبُ الْعِلْمِ فَرِيضَةٌ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ [سنن ابن ماجہ، باب فضل العلما] چودہ سو سال قبل کائنات انسانی کے گوش گزار ہوا تھا۔ آج تک کسی خوش اسلوبی کے ساتھ اس پر عمل ہو رہا ہے، یہ نظارہ ریاست کیرلا ہی میں دیکھنے کو ملتا ہے۔

اسی وقت کیرلا کے اقامتی مدارس و جامعات میں طلبا اپنے اپنے کلاس روم میں تلاوت قرآن کر رہے ہوتے ہیں۔ کلاس روم کی الماریوں میں بچوں کی درسی کتابوں کے علاوہ طلبا کی تعداد کے مطابق قرآن مجید کے نسخے بھی موجود ہوتے ہیں۔ دس منٹ تلاوت قرآن کے بعد طلبا کو اپنی ضروریات کی تکمیل کے لیے قریباً ایک ڈیڑھ گھنٹہ فرصت دی جاتی ہے۔ اس کے بعد کلاس کا آغاز ہوتا ہے۔ عمدہ نظام، تمام امور میں باضابطگی، طلبا و اساتذہ کی ضروریات کا خیال، خورد و نوش کا مناسب نظم، رہائش گاہ و کلاس روم میں خوش اسلوبی کا لحاظ جس قدر کیرلا کے مدارس میں دیکھنے کو ملتا ہے، دیگر ریاستوں کے مدارس و جامعات میں بھی وہی طریقہ کار آ جائے تو اسے ایک خوش آئند اور حسین انقلاب کا لقب دیا جا سکتا ہے۔ ہاں، اب کچھ تبدیلیاں بعض مدارس میں دیکھنے کو مل رہی ہیں لیکن وہ قلیل التعداد ہیں۔

پلی درس کا نصاب تعلیم، نظام تعلیم، امتحانات وغیرہ ”سمستھا کیرلا سنی جمعیۃ العلما“ کے زیر اہتمام ہیں۔ سمستھا کیرلا کی ذیلی کمیٹی جمعیۃ المعلمین، پلی درس کی نگرانی اور اس سے متعلق منصوبہ سازی کرتی ہے۔ نصابی کتابوں کی اشاعت سمستھا کیرلا کے زیر انتظام ہوتی ہے۔ ریاست بھر کے پلی درس میں کتابیں پڑھائی جاتی ہیں۔ اس طرح شعبہ نشر و اشاعت سے سمستھا کیرلا کو ہر سال ایک بڑی آمدنی حاصل ہوتی ہے، جو تنظیمی امور میں صرف ہوتی ہے۔

ریاست کیرلا میں عصری تعلیمات کے لیے بھی مسلمانوں کے پاس بہت سے اسکول و کالج ہیں۔ سمستھا کیرلا کے زیر اہتمام قریباً 65 دعوہ کالج ریاست کیرلا کے مختلف شہروں میں ہیں، جن میں دینی و عصری تعلیم کا مشترکہ انتظام ہے۔ کیا شمالی ہند میں بھی ایسا ماحول رونما ہو سکتا ہے؟ شاید موجودہ وقت میں اس کا مثبت جواب دینا مشکل ہے، اور ناامیدی بھی مومن کی شان نہیں۔ رب تعالی انقلاب آفریں شخصیات کو پیدا فرمائے، تاکہ ہماری امیدیں بر آئیں: آمین بجاہ النبی الکریم علیہ وعلی آلہ الصلوۃ والتسلیم۔

ایک زمانہ تھا کہ علوم اسلامیہ کے ساتھ علوم عصریہ کی قیادت و سیادت بھی مسلمانوں کے پاس تھی۔ آج عربی ممالک کے پاس دولت و ثروت ہے لیکن کام کے لیے انجینئر و سائنس داں یورپی ممالک سے منگوائے جاتے ہیں۔ اہل یورپ مسلم دانشوروں کے علوم و اکتشافات اور ایجادات و تحقیقات کو اپنا کر سب سے فائق و بالاتر ہو گئے، اور قوم مسلم ان کے دریوزہ گر ہو کر رہ گئی۔ جن علوم و فنون کے سبب آج اہل یورپ خود کو تمام اہل عالم سے زیادہ ترقی یافتہ سمجھتے ہیں، وہ علوم و اکتشافات قوم مسلم کے کاشت کردہ ہیں۔ زراعت ہم نے لگائی، فصل وہ کاٹ رہے ہیں۔

آج بھی ہمیں علوم شرعیہ کے ساتھ علوم حاضرہ کی جانب بھی متوجہ ہونا چاہیے۔ شمالی ہند کے مکاتیب میں دینی تعلیم کا نظم قوی و محکم نہیں ہے۔ مساجد و مکاتیب میں کلاس سسٹم قائم کر کے عمدہ دینی تعلیم کا نظم ہو۔ اسکول، کالج و یونیورسٹی میں عصری و اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کی بھی ترغیب دی جائے۔ ہمارے موجودہ نظام تعلیم کے سبب دینی تعلیم پانے والا عصری تعلیم سے محروم رہتا ہے، اور عصری تعلیم پانے والا دینی تعلیم سے محروم ہو جاتا ہے۔ گاؤں و شہر کے مکاتیب کے لیے باضابطہ نصاب تعلیم تشکیل دیا جائے۔ تعلیم مکمل کرنے والے طلبا و طالبات کو دینیات کا سرٹیفکیٹ بھی دیا جائے۔ مساجد میں ائمہ کرام کے ساتھ چند مدرسین کی بھی تقرری ہو۔

اسلامی تعلیمی بورڈ آف انڈیا

ریاست کیرلا کی مشہور و ممتاز تعلیم گاہ مرکز الثقافۃ السنیہ (کالیکٹ، کیرلا) کے زیر اہتمام ”اسلامک ایجوکیشنل بورڈ آف انڈیا“ (Islamic Educational Board of India - IEBI) شمالی ہند میں مکتب کی تعلیم کی اصلاح کے لیے کئی دہائیوں سے کوشش و کاوش میں مصروف ہے۔ اردو زبان میں ایک مستقل نصاب تعلیم اس نے ترتیب دیا ہے۔ اس سے استفادہ کیا جا سکتا ہے۔

ای میل: iebidelhi@gmail.com | ویب سائٹ: www.iebi.net
موبائل نمبر: 9868096462, 9633446063

یو پی اے حکومت (UPA Government) کی جانب سے قائم کردہ سچر کمیٹی (Sachar Committee) کی رپورٹ کے مطابق اقامتی مدارس میں صرف چار فیصد بچے تعلیم پاتے ہیں، لہذا باقی ماندہ 96 فیصد مسلم بچوں و بچیوں کے لیے بھی لائحہ عمل ترتیب دیا جائے۔ جو مسلم بچے اور بچیاں مدارس سے غائب ہیں، وہی اکثریت، بلکہ بھاری اکثریت میں ہیں۔ پس لامحالہ ان کے متعلق غور و خوض کرنا ایک لازمی امر ہے۔

کیرلا کے جس طریقہ تعلیم کا میں ذکر کر رہا ہوں، وہ دین و دنیا ہر اعتبار سے مناسب ہے، کیونکہ شمالی ہند کے اقامتی مدارس میں بھی طلبا کے لیے کسی ایسے علم و ہنر کا انتظام نہیں ہوتا کہ بعد فراغت طلبا گزر معاش کے لیے اسے اپنا سکیں۔ انجام کار گھوم پھر کر انہیں مساجد و مدارس کے دروازوں پر دستک دینا پڑتا ہے۔

غیر اقامتی مدارس کے نظم و نسق میں خرچ کم ہے اور فوائد کا دائرہ تمام مسلمین کو محیط ہے۔ اس کے انتظامات کے لیے بھی زیادہ بھاگ دوڑ نہیں کرنی پڑتی، بلکہ اہل محلہ کو ترغیب دی جائے۔ دینی تعلیم کے فروغ کے ساتھ قوم کی معاشی ترقی کے لیے بھی کوشش و کاوش کی جائے تاکہ مستقبل میں دینی و مذہبی امور کی تکمیل کے ذرائع مہیا ہو سکیں۔

اگر ہندوستانی مسلمان غربت و تنگدستی میں مبتلا ہو جائیں تو عظیم مدارس و جامعات پر تالے لگ جائیں۔ ۶ دسمبر ۱۹۹۲ء کو بابری مسجد کی شہادت کے بعد ممبئی اور ملک بھر میں فسادات ہوئے۔ نتیجہ کے طور پر اتر پردیش کے بہت سے عظیم مدارس میں جدید طلبا کا داخلہ بند ہو گیا تھا۔ مساجد و مدارس کی تعمیر، غربا و مساکین کی کفالت، ریلیف فنڈ، تعلیم و شادی وغیرہ کے لیے اہل حاجت کا تعاون، اسی طرح دیگر امور ضروریہ کی انجام دہی کے لیے دولت و ثروت کی ضرورت ہے یا نہیں؟ اگر علمائے کرام بھی جائز طریقوں پر حصول نعمت کی کوشش کریں تو کیا مضائقہ ہے؟ منفی خیالات میں تبدیلی لائی جائے۔ ہم اپنے خطابات میں غربت و تنگدستی کے فضائل اور دولت و ثروت کے مفاسد بیان کرتے رہیں، پھر مدارس و مساجد کی رسیدیں لے کر ارباب ثروت کے دولت کدوں پر دستک دیتے پھریں، معاملہ بالکل ناقابل فہم ہے۔

ضروری مقدار میں دینی تعلیم حاصل کرنا شرعاً فرض عین ہے، اور عہد حاضر میں معاشی ترقیات کے لیے عصری تعلیم حاصل کرنا لازم ہے پس دونوں رخ پر سنجیدگی سے غور و فکر کیا جائے۔ یک طرفہ جانا اور حالات حاضرہ سے آنکھیں بند کر لینا وقت کی مصلحت اور زمانہ کے تقاضوں کے خلاف ہے۔ وَاللّٰهُ الْهَادِي وَهُوَ الْمُسْتَعَانُ [حوالہ: ماہنامہ پیغام شریعت، ص: 66]

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!