| عنوان: | توسل اور ندا بالغیب (قسط اول) |
|---|---|
| تحریر: | مولانا حکیم سید شاہ تقی حسن بلخی فردوسی |
| پیش کش: | قافیہ نوری بنت محمد ظہیر رضوی |
| منجانب: | امجدی گلوبل اکیڈمی |
آئیے آپ کو آواز سے متعلق ایک ایسا نظریہ (تھیوری) سناؤں جو آج اور اب ان فلسفیوں، سائنٹسٹ لوگوں کا نظریہ ہے۔ مگر ایک مردِ مومن آج سے سات آٹھ سو سال قبل جس کو اپنی کتاب میں لکھ گیا ہے۔
أما الحروف اللفظية فإنها تشكل في الهواء ولهذا متصل بالسمع على صورة ما نطق به المتكلم وهذه الحروف لا يزال الهواء يمسك عليها بشكلها
اور چند سطر کے بعد فرماتے ہیں:
والجو كله مملوء من كلام العالم يراه صاحب الكشف صورة قائمة [فتوحات مکیہ، جلد اول، علامہ شیخ اکبر ابن عربی]
ترجمہ: متکلم جو کچھ بولتا ہے وہ ہوا (فضا) سے زائل نہیں ہوتا بلکہ وہ سب منطوق و ملحوظ فضا میں سماعت کے لائق ہی رہتا ہے جس کو اسی حالت میں فضائے بسیط روکے ہوئے ہے اور امانت رکھے ہوئے ہے۔ ساری فضا ان بولے ہوئے کلاموں سے معمور ہے جس تک صاحبِ طاقت و صلاحیت کی رسائی ممکن ہے۔
اور اسی پر اس وقت یہ آواز کی نقل و حرکت کی بنیاد قائم ہے۔
اور قطعا بعید نہیں کہ مستقبل قریب میں ہماری کھوئی ہوئی آواز فضا سے واپس لائی جا سکے گی۔ حاشا و کلا نہیں! یہ مسلماتِ مذہبی و معتقداتِ دینیہ سے اس کا کوئی بھی تصادم نہیں بلکہ اس سے اور ان شاء اللہ تائید ہی حاصل ہوگی اور قرآن کی اس آیت مَا يَلْفِظُ مِنْ قَوْلٍ إِلَّا لَدَيْهِ رَقِيبٌ عَتِيدٌ [ق: 18] کے متعلق یہ نہیں کہا جا سکے گا کہ ”پکڑے جاتے ہیں فرشتوں کے لکھے پر ناحق، آدمی کوئی ہمارا دمِ تحریر بھی تھا۔“
اب ان تصریحات کے بعد یہ سوال تو پیدا ہی نہیں ہوتا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تک میری آواز و صدا کا پہنچنا محال یا خارج از عقل ہے اور اس قدر مسافت و بعدِ مکانی کے بعد آپ تک میری آواز کیسے پہنچ سکتی ہے؟ ہاں یہ سوال ضرور رہ جاتا ہے اور غالباً یہی کہا بھی جاتا ہے کہ بعدِ وفات آپ میں سننے کی طاقت بھی باقی ہے یا نہیں اور آپ اب بعد از وفات اس لائق بھی رہے یا نہیں کہ آپ کی ذاتِ مقدس کو مخاطب بنایا جا سکے۔ چونکہ یہ شبہ اور خیال بہت زیادہ مسئلہِ حیات النبی علیہم السلام سے متعلق ہے اور اس مسئلہ پر عزیز محترم مولانا شاہ عون احمد صاحب قادری سلمہ اللہ تعالیٰ کی کتاب ”نعمت کبریٰ“ موجود ہے۔ اور عزیز موصوف نے اس مسئلہ پر سیر کن اور تشفی بخش کتاب لکھ دی ہے۔ اس لیے مزید اس مسئلہ پر قلم اٹھانے کی ضرورت نہیں ہے۔ میں اب اس موقع پر ایک دوسرے رخ سے کچھ عرض کرنے کی جرات چاہتا ہوں اور سبیلِ تنزل بہ تسلیم کر لینے کے بعد بھی کہ نعوذ باللہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا جسمِ مقدس مزار شریف میں باقی نہ سہی مگر جمیع فرقِ اسلامیہ کا یہ تو مسلمہ و متفقہ عقیدہ ہے کہ مرنے کے بعد روح باقی رہتی ہے اور وہ نہیں مرتی اور اسی معنی میں اسے ابدی کہتے ہیں۔ جسم باقی نہ سہی روح باقی رہتی ہے۔ اور سماعت و بصارت، علم وغیرہ کا تعلق چونکہ اسی سے ہے اس لیے میری مخاطبت بھی اس سے سمجھی جانی چاہیے۔ پھر کوئی استحالہ ہی باقی نہیں رہتا۔ فرقِ اسلامیہ کیا دیگر مذاہب کے یہاں بھی یہی عقیدہ پایا جاتا ہے افلاطون کہتا ہے کہ نیک آدمیوں کی روح خبیث روحوں میں جا ملتی ہے اور ابدی عذاب میں مبتلا ہو جاتی ہے۔ [ملل والخل، ج: 2، ص: 33، 34]
بلکہ اس لامذہبیت کے دور میں بھی یورپ کے فلاسفر اور عقلا جو ہر چیز کو تجربہ و مشاہدہ کی عینک سے دیکھنے کے خوگر ہیں وہ بھی اب تجربہ کے بعد کہہ اٹھے کہ روح جسم سے جداگانہ ایک چیز ہے اور اس کے قوی اور ادراکات بالکل الگ ہیں۔ روح سینکڑوں کوس سے بغیر حواس کی وساطت کے ایک چیز کو دیکھ سکتی ہے، سن سکتی ہے، روح واقعاتِ آئندہ کا ادراک کر سکتی ہے، روح کوسوں تک اپنا اثر پہنچا سکتی ہے۔ 1865ء میں جو بمقامِ لندن اس خصوص میں پہلی کانفرنس ہوئی تھی اس کے بعد بھی متعدد ممالک میں اس مسئلہ پر متعدد کانفرنسیں ہوتی رہیں اور ریسرچ ہوتا رہا اور یورپ کے یہ عقلا اس نتیجہ پر پہنچے جو میں نے پہلے عرض کیا ہے۔ جس کی کچھ تفصیل معہ حوالہ جات اور ان مفکرین کے ناموں کے علاوہ شبلی نعمانی مرحوم نے اپنی کتاب ”الکلام حصہ دوم“ میں دے دی ہے وہاں دیکھا جا سکتا ہے۔ ان سترہ اجلاس کے متعلق جو اس وقت تک ہو چکے تھے حوالہ دیتے ہوئے علامہ شبلی مرحوم لکھتے ہیں کہ ان سینکڑوں شہادتوں کو اگر نقل کیا جائے تو ایک ضخیم کتاب تیار ہو سکتی ہے۔
ممکن ہے کہ آپ یہ فرمائیں کہ یہ تو یونان و یورپ کے مفکرین و فیلسوفوں کا خیال یا نظریہ ہے۔ علمائے اسلام اور متکلمین کا اس بارے میں شاید یہ خیال نہ ہو تو میں عرض کروں گا کہ ان لوگوں کے افکار و خیالات معلوم کرنا چاہتے ہوں تو کتاب الروح ابن قیم کی، شرح الصدور علامہ سیوطی کی، کتاب من عاش بعد الموت ابن ابی الدنیا کی ملاحظہ فرما لی جائے۔ یوں تو شیخ الاشراق، غزالی، رازی، ابن عربی، بو علی سینا وغیرہ نے بھی اس مسئلہ پر بہت کچھ لکھا ہے اگر ان شہادتوں اور حوالوں کو نقل کیا جائے تو یہ مقالہ بہت طویل ہو جائے گا۔ اس لیے اسے تو قلم انداز کرتا ہوں۔ ہاں مشتِ نمونہ از خروارے دو تین حوالوں پر اکتفا کروں گا۔ سب سے پہلے یہ ملاحظہ فرمائیے کہ مرنے کے بعد روح کا تعلق اس عالم سے قائم بھی رہتا ہے یا نہیں۔ ملاحظہ ہو ”حجۃ اللہ البالغہ“ از شاہ ولی اللہ صاحب محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ۔
باب اختلاف احوال الناس في البرزخ (یہ مضمون عالمِ برزخ کے احوال میں اور ارواحِ نسائی کے ذکر میں ہے)
فإذا ما انقطعت العلاقات ورجع إلى مزاجه فلحق بالملائكة وصار منهم وألهم كإلهامهم وسعى فيما يسعون فيه وفي الحديث رأيت جعفر بن أبي طالب ملكا يطير في الجنة مع الملائكة بجناحين وربما اشتغل هؤلاء بإعلاء كلمة الله ونصر حزب الله وربما كان لهم لمة (نزول) خير بابن آدم وربما اشتاق بعضهم إلى صورة حسية اشتياقا شديدا ناشئا من أصل جبلته فقرع ذلك بابا من المثال واختلطت قوة منه بنسمة هوائية وصار كالجسد النوراني وربما اشتاق بعضهم إلى مطعوم ونحوه فأمد فيما اشتهى قضاء شوقه الخ
ترجمہ: پس جب وہ مر جاتا ہے اور سب علاقے جسمانی ٹوٹ جاتے ہیں اور اپنی اصلی طبیعت کی طرف رجوع کرتا ہے (یہاں سے ارواحِ طبیعات کا صرف ذکر ہے) تب ملائکہ میں مل کر انہیں میں کا ہو جاتا ہے۔ اور انہیں کے الہامات اس کو ہونے لگتے ہیں اور انہیں کا کام کرنے لگتا ہے۔ حدیث میں آیا ہے کہ جعفر بن ابی طالب کو فرشتوں کی صورت میں اور دو بازوؤں سے جنت میں اڑتے دیکھا ہے اور کبھی اس صنف کے لوگ اعلاءِ کلمۃ اللہ اور مددِ حزب اللہ میں مصروف ہو جاتے ہیں اور کبھی ابنِ آدم کے دل پر نیکی کے خیالات القا کرتے ہیں اور کبھی ان میں سے بعض لوگ اپنے جبلی شوق سے صورتِ جسمانی کی طرف نہایت شائق ہوتے ہیں۔ تو مثال کا دروازہ کھل کر ان کی روح ہوائی میں ایک نوع کی قوت پیدا ہو جاتی ہے۔ تب وہ ایک نورانی جسم سا بن جاتا ہے اور کبھی یہ لوگ کھانے وغیرہ کی چیزوں کی طرف رغبت کرتے ہیں تو ان کو وہاں سے ایسی چیز میں ان کی خواہش پوری کرنے کو ملتی ہیں۔ [ترجمہ از مولانا عبد الحق دہلوی صاحب تفسیر حقانی]
شاہ ولی اللہ صاحب محدث دہلوی رحمہ اللہ اسی کتاب کے دیباچہ میں لکھتے ہیں کہ:
بينا أنا جالس ذات يوم بعد صلاة العصر متوجها إلى الله تعالى إذ ظهرت روح النبي وغشيتني من فوقي بشيء إلى أنه ثوب ألقي إلي ونفث في روعي (أنفي)
ایک دن میں بعد نمازِ عصر مراقب بیٹھا تھا کہ یکایک نبی علیہ الصلوۃ والسلام کی روحِ مبارک مجھ پر طاری ہوئی اور ایک کپڑا سا مجھ پر ڈالا گیا اور الہام ہوا۔
اب کچھ اقتباس انہیں کی کتاب ”فیوض الحرمین“ سے پیش کرتا ہوں۔ اصل کتاب عربی اس وقت میرے پاس موجود نہیں ہے۔ اس لیے اس کا وہ ترجمہ جو مولانا پروفیسر محمد سرور صاحب نے جامعہ نگر دہلی سے طبع کرایا ہے اس سے نقل کرتا ہوں۔
(آٹھواں باب، ص: 111) (مشاہدہ) تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ انسانوں کی روحیں جب اپنے بدنوں سے جدا ہوتی ہیں تو اس سے ایک تو ان کی بہیمی قوت میں قدرے کمی ہو جاتی ہے اور دوسرے ان کی ملکی قوت اور ترقی کر جاتی ہے اور نیز ان روحوں نے اس دنیا کی زندگی میں جو کمالات حاصل کیے تھے۔ وہ کمالات ان روحوں کے ساتھ بدن چھوڑنے کے بعد مستقل طور پر ملحق ہو جاتے ہیں۔
نواں باب (ص: 116) میں مدینہ منورہ میں داخل ہوا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے روضہِ مقدسہ کی زیارت کی تو میں نے آپ کی روحِ مقدس کو ظاہر و عیاں دیکھا اور عالمِ ارواح میں بلکہ عالمِ محسوسات سے قریب جو عالمِ مثال ہے میں نے اس میں آپ کی روح کو دیکھا چنانچہ اس وقت میں سمجھا کہ عوام مسلمانوں کا یہ جو کہنا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نمازوں میں تشریف لاتے ہیں اور نمازیوں کے امام بنتے ہیں اور اسی قبیل کی جو وہ باتیں کہتے ہیں وہ سب اس نازک مسئلہ کے متعلق ہیں۔
آگے پھر لکھتے ہیں کہ بعد ازاں میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بلند مرتبہ اور مقدس قبر کی طرف بار بار توجہ کی تو آپ میرے مبارک دکھاتے ہیں جو آپ کی اس دنیا کی زندگی میں تھی اور آپ مجھے اپنی یہ صورت اس حالت میں دکھاتے رہے تھے۔ جبکہ میری تمام توجہ آپ کی روحانی زیارت کی طرف تھی نہ کہ آپ کی جسمانیت کی طرف۔ اس سے میں نہ یہ سمجھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ خصوصیت ہے کہ آپ کی روح جسمانی شکل میں صورت پذیر ہو سکتی ہے۔ چنانچہ یہی وہ حقیقت ہے جس کی طرف آپ نے اپنے اس ارشاد میں اشارہ فرمایا ہے۔ بیشک انبیا کو اوروں کی طرح موت نہیں آتی۔ وہ اپنی قبروں میں نمازیں پڑھتے اور حج کرتے ہیں اور انہیں وہاں زندگی نصیب ہوتی ہے۔
الغرض اس حالت میں میں نے آپ پر درود بھیجا تو آپ نے مسرت کا اظہار فرمایا اور مجھ سے خوش ہوئے اور میرے سامنے ظہور فرمایا۔ آپ کا اس طرح لوگوں کے سامنے آنا اور آپ کی روح کا فضا میں جاری و ساری رہنا بیشک نتیجہ ہے آپ کی اس خصوصیت کا کہ آپ سب حیاتوں کے لیے باعثِ رحمت بن کر مبعوث ہوئے تھے۔
بارہواں باب (ص: 142) مدینہ منورہ میں قیام کے دوران میں بالجملہ میرے ساتھ یہ اکثر ہوا کہ جب بھی میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر کی طرف متوجہ ہوا میں نے آپ کو حاضر و ظاہر پایا。
سولہواں باب (ص: 161) میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حضور میں کھڑا ہوا اور میں نے آپ کو سلام عرض کیا اور بڑی عاجزی سے میں نے آپ کی بارگاہ میں ہاتھ پھیلائے。
سترہواں باب (ص: 163) رسول صلی اللہ علیہ وسلم کہ تم نے مجھے خود بنفسِ نفیس سلوک کے راستہ پر چلایا اور اپنے مبارک ہاتھوں سے میری تربیت فرمائی چنانچہ میں آپ کا اویسی اور براہِ راست آپ کا شاگرد ہوں اور اس معاملے میں میرے اور آپ کے درمیان اور کوئی واسطہ نہیں。
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اپنی روحِ اقدس کے دیدار سے مشرف فرمایا (پھر آگے لکھتے ہیں) اسی ضمن میں مجھے یہ معلوم ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی روح تو محسوسات تک کو بھی خوب جانتی ہے۔
چوبیسواں باب (ص: 187) میں نے معلوم کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت اور ان سے توسل علمائے حدیث اور جو لوگ ان کے زمرے میں ہیں ان کے لیے ہے۔
(جاری...)
