Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

موجب قربانی کون؟

موجب قربانی کون؟
عنوان: موجب قربانی کون؟
تحریر: محمد سلمان العطاری
منجانب: لباب اکیڈمی

مذہب اسلام میں قربانی ایک اہم عبادت ہے جو اللہ عزوجل کی رضا کے لیے کی جاتی ہے۔ اس کی بنیاد حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اس عظیم قربانی پر ہے جب انہوں نے اللہ پاک کے حکم پر اپنے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو قربان کرنے کا عزم کیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی اس اطاعت کو پسند فرمایا اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی جگہ ایک مینڈھا بھیج دیا۔

قربانی کیا ہے؟ مخصوص جانور کو ایامِ مخصوصہ میں بہ نیت تقرب ذبح کرنا ہے۔ قربانی امت محمدیہ کے لیے ایک نعمت عظمیٰ کے طور پر باقی رکھی گئی ہے چنانچہ من جانب اللہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا گیا۔ ارشاد فرمایا: فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ تم اپنے رب کے لیے نماز پڑھو اور قربانی کرو۔

نبی پاک صاحب لولاک صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جس نے خوشیِ دل سے طالب ثواب ہوکر قربانی کی وہ آتشِ جہنم سے حجاب ہو جائے گی“۔

شرائط قربانی:

  1. اسلام
  2. اقامت یعنی مقیم ہونا
  3. مالک نصاب
  4. حریت یعنی آزاد ہونا
  5. بالغ

مالک نصاب سے کیا مراد ہے؟ مالک نصاب ہونے سے مراد یہ ہے کہ اس شخص کے پاس ساڑھے باون تولے چاندی یا اتنی مالیت کی رقم یا اتنی مالیت کا تجارت کا مال یا اتنی مالیت کا حاجتِ اصلیہ کے علاوہ سامان ہو۔ حاجتِ اصلیہ کیا ہے؟ عند الفقهاء الكرام رحمهم الله السلام: حاجت اصلیہ وہ اشیاء ہیں جن کی عموماً انسان کو ضرورت ہوتی ہے اور ان کے بغیر گزر اوقات میں شدید تنگی و دشواری محسوس ہوتی ہے۔

ایک ضروری امر ذہن نشین رہے: زکوٰۃ اور قربانی کے نصاب میں فرق ہے۔ قربانی کے نصاب میں مالِ نامی (بڑھنے والا) ہونا اور سال کا گزرنا شرط نہیں ہے، جبکہ یہ دونوں مذکورہ وصف زکوٰۃ میں شرط ہیں۔

استطاعت (مالک نصاب) کے باوجود قربانی نہ کرنے والے کے متعلق پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا: ”جس شخص کو قربانی کرنے کی استطاعت ہو پھر بھی قربانی نہ کرے تو وہ ہماری عیدگاہ کے قریب نہ آئے“۔

مذکورہ بالا شرائط قربانی جس جس میں پائی جائیں گی اس پر قربانی واجب ہو جائے گی۔ قربانی واجب ہونے کی جو شرائط ہیں ان کا ایامِ نحر میں بالاستیعاب پایا جانا ضروری نہیں۔ بلکہ ایام نحر کے کسی بھی حصے میں اگر کوئی شرائطِ قربانی سے متصف ہوا تو قربانی اس پر واجب ہو جائے گی۔ ایام نحر (قربانی) دسویں ذی الحجہ کے طلوع صبح صادق سے بارہویں کے غروب آفتاب تک ہیں۔

اپنے گھر کی خبر لے پیارے! مندرجہ بالا تمام تحریروں سے یہ حقیقت اظہر من الشمس ہے کہ جس شخص میں قربانی کی شرائط پائی جائیں، اس پر قربانی واجب ہو جاتی ہے، لیکن افسوس کہ علم دین سے دوری اور لاپرواہی کے سبب ہمارے معاشرے میں ایک غلط رواج رائج ہو چکا ہے، اکثر گھروں میں ایک فرد کی جانب سے قربانی کر دی جاتی ہے، حالانکہ اسی گھر میں کئی افراد ایسے ہوتے ہیں جو مالک نصاب ہوتے ہیں (یعنی ان پر شرعی طور پر قربانی واجب ہوتی ہے)۔ ہم یہ سمجھ لیتے ہیں کہ ایک قربانی پورے گھر کے لیے کافی ہے جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہے اگر کسی گھر میں دو، تین، یا چار افراد ایسے ہوں جو شرعی لحاظ سے قربانی کے اہل (مالک نصاب) ہیں تو ان سب پر الگ الگ قربانی واجب ہوگی۔ ایک قربانی کو سب کی طرف سے کافی سمجھ لینا درست نہیں۔

تفہیمِ فہم کے لیے ایک سوال و جواب پیش کر رہا ہوں جو فقیہ ملت مفتی جلال الدین امجدی علیہ الرحمہ نے اپنی کتاب ”فتاویٰ فیض الرسول“ کی ج: 2، ص: 438، پر نقل فرمایا ہے۔

آپ علیہ الرحمہ سے کسی سائل نے سوال کیا کہ ایک شخص چار بھائی ہیں اور ان کا باپ نہیں ہے لہذا تو بڑا بھائی مالک ہے۔ تو آیا قربانی چاروں کے نام سے واجب ہوگی یا صرف بڑے بھائی کے نام سے؟

الجواب! اگر چاروں بھائی ایک ہی میں ہیں اور چاروں بھائیوں کا مشترکہ مال چار نصاب پورا نہیں ہے تو کسی پر بھی قربانی واجب نہیں۔ اور اگر چار نصاب پورا ہے تو ہر بھائی پر قربانی واجب ہے اس لیے کہ اس صورت میں ان میں کا ہر ایک مالک نصاب ہے اور بڑا بھائی مالک بمعنی انتظام کار ہے نہ کہ حقیقی مالک۔

پیارے قارئین کرام! خدارا اپنے اپنے گھروں کا سنجیدگی سے جائزہ لیجیے۔ دیکھیں کہ ہمارے گھر کے کتنے افراد ایسے ہیں جو مالک نصاب ہیں جس پر قربانی واجب ہے اس کی طرف سے الگ قربانی کرنا ضروری ہے۔ اس سے غفلت و عدم توجہی کے سبب ہم غیر دانستہ طور پر گناہ میں ملوث ہو کر غضب الہی کے مستحق بن جاتے ہیں، اس لیے یہ ایک اہم دینی فریضہ ہے اس کو معمولی نہ سمجھا جائے۔

خداوند متعال ہمیں علم دین سیکھنے، اس پر عمل کرنے اور دوسروں تک پہنچانے کی توفیق بخشے آمين ثم آمين يا رب العالمين بجاه خاتم النبيين صلی اللہ علیہ وسلم۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!