| عنوان: | مفتیِ اعظم ہند کے تجدیدی کارنامے |
|---|---|
| تحریر: | مفتی محمد مقصود عالم فرحت ضیائی |
| پیش کش: | بنت محمد صدیق |
رگوں میں جس کی لہو کی جگہ تھا عشقِ نبی
بلالِ ہند سے وہ درسِ عشق لیتا رہا
مجدد کا لغوی معنی ”نیا کرنا“ ہے اور اصطلاحی معنی یہ ہے کہ دینِ اسلام کی ملاحت و جمال کی رعنائیوں کو مسخ کرنے والوں کی بیخ کنی کرے، درآمدہ خرابیوں کو نکال دے، گلشنِ اسلام میں تازگی پیدا کر کے اس میں نئی زندگی کی روح پھونک دے، لوگوں کو صراطِ مستقیم پر گامزن کرنے کے لیے اپنی پوری کوشش کو بروئے کار لائے اور اپنے منزلِ مقاصد کو پا لے۔
کوئی دور ایسا نہیں گزرا جہاں خیر و شر کا تصادم نہ رہا ہو، اس تقابل و تصادم کے باعث اسلامی معاشرے بھی اس سے متاثر ہوتے رہے جس کا ثمرہ یہ ہوتا رہا کہ اسلامی سماج میں فسق و فجور کی آلودگیاں پیدا ہوتی رہیں، عقیدہ و عمل میں خرابیاں در آتی رہیں، نئے نئے فتنوں کے دروازے وا ہوتے رہے، اسلامی تہذیب و تمدن میں فساد پیدا ہو جانے کے سبب خالص دین پر عاملین کی تعداد برائے نام رہ جاتی۔ ایسے ناگفتہ بہ حالات اور ناسازگار ماحول میں ببانگِ دہل کلمہِ حق بلند کرنے کے لیے کسی بے باک مردِ مجاہد کی ضرورت لابدی ہو جاتی ہے، طاغوتی طاقتوں کے کبر و نخوت کے شیش محل کو مسمار کرنے کے لیے کسی مردِ قلندر کی حاجت آن پڑتی ہے۔ قدرت کا نظام ہے کہ ایسی پر آشوب فضا میں اسلامی سرمایہ کے تحفظ اور امتِ مسلمہ کی اصلاح اور فلاح و بہبود کے لیے مصلحین کی ایک جماعت پیدا فرماتا ہے جو ہر صدی کے آخر میں مبعوث ہوتا ہے، اس کے چند خصوصی شرائط ہوتے ہیں، ان شرائط کے حاملینِ مصلحین کو مجدد کہا جاتا ہے۔ رسولِ مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمانِ عالیشان ہے:
إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ يَبْعَثُ لِهٰذِهِ الْأُمَّةِ عَلَى رَأْسِ كُلِّ مِائَةِ سَنَةٍ مَنْ يُجَدِّدُ لَهَا دِيْنَهَا.
”بے شک اللہ تعالیٰ ہر صدی میں ایک مجدد مبعوث فرماتا ہے جو دین کو ایک نئی آب و تاب دیتا ہے۔“ [مشکوٰۃ، ص: 36]
اس حدیث کے تحت ملا علی قاری علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:
أَيْ يُبَيِّنُ السُّنَّةَ مِنَ الْبِدْعَةِ وَيُكَثِّرُ الْعِلْمَ وَيُعِزُّ أَهْلَهٗ وَيَقْمَعُ الْبِدْعَةَ وَيَكْسِرُ أَهْلَهَا.
”سنت کو بدعت سے الگ واضح کرے گا اور علم کو خوب پھیلائے گا، اہلِ علم کو عزت دے گا اور بدعت کو مٹائے گا اور اہلِ بدعت کو ذلیل و رسوا کرے گا۔“ [مرقاۃ، ج: 1، ص: 3020]
حضرت علامہ عبد الرؤف مناوی علیہ الرحمہ نے فیض القدیر (ج: 2، ص: 357) پر، علامہ جلال الدین سیوطی علیہ الرحمہ مرقاۃ الصعود میں، علامہ بدر الدین ابدال علیہ الرحمہ رسالہِ مرضیہ میں اور جامع الاصول میں، امام احمد رضا علیہ الرحمہ نے فتاویٰ رضویہ میں، ملک العلماء نے ماہنامہ پاسبان الہ آباد احمد رضا نمبر میں اور علامہ عبد الحی لکھنوی نے مجموعہِ فتاویٰ میں بھی کچھ ایسا ہی لکھا ہے۔
مجدد کے شرائط کا خلاصہ یہ ہے کہ:
- ایک صدی کے آخر اور دوسری صدی کے آغاز میں موجود ہو اور اسی صدی میں علمی شہرت رکھتا ہو۔
- علومِ ظاہرہ و باطنہ کا عالم ہو اور عوام و خواص کا مرجع اور مشار الیہ ہو، دینی ضرورتوں کی تکمیل کے لیے لوگ ان کی طرف رجوع کرتے ہوں اور ان کی بات تسلیم کی جاتی ہو۔
- ان کی تقریر و تحریر، درس و تدریس، تصنیف و تالیف، تقویٰ و طہارت، علم و فضل، زہد و ورع سے نفع شائع و ذائع ہو۔
- سنت کو زندہ کرے اور بدعت کے خاتمے کی سعی میں لگا ہو۔
مرقاۃ الصعود، جامع الاصول، رسالہِ مرضیہ، مرقاۃ شرح مشکوٰۃ، مجموعہِ فتاویٰ، فتاویٰ شارح بخاری، فتاویٰ رضویہ، سراج المنیر، پاسبان الہ آباد کا امام احمد رضا نمبر، مراٰۃ المناجیح کتاب العلم (ج: 1، ص: 238) باب الثانی وغیرہا کتب میں شرائط مذکور ہیں۔
مفتیِ اعظم متقی عالم مرجع الخاص والعام کی ولادت 22 ذی الحجہ 1310ھ ہے اور وفاتِ پر ملال 14 محرم الحرام 1402ھ ہے جس سے واضح ہے کہ آپ نے دو صدی پائی، ایک صدی کے آخر اور دوسری صدی کے آغاز میں موجود رہے اور جس صدی میں پیدا ہوئے اسی صدی میں جہانِ علم و ادب میں بحیثیت مقتدیٰ و مرجع مشہور معروف ہوئے۔ شیخ الاسلام حضور مدنی میاں مدظلہ العالی فرماتے ہیں: ”جن کے جہاد بالقلم نے دینِ مصطفیٰ کو بھاری تباہی سے بچا لیا۔“ [استقامت کا مفتیِ اعظم نمبر 1983ء، ص: 123]
مزید فرماتے ہیں کہ: ”حضور مفتیِ اعظم ہند کے جرأت مندانہ اقدام نے دینِ مصطفیٰ کو بچا لیا جس سے دنیا پر ظاہر ہو گیا کہ مصطفیٰ رضا خان نام ہے دینِ محمدی کی حفاظت کے لیے خدائی انتخاب کا۔“ [المصدر السابق، ص: 128]
مزید فرماتے ہیں کہ: ”مفتیِ اعظم ہند کے ایک فتویٰ پر تصدیق فرماتے ہوئے ایک مرتبہ مخدومِ ملت حضور محدثِ اعظم ہند نے صرف ایک جملہ تحریر فرمایا تھا اور وہ یہ ہے: هٰذَا حُكْمُ الْعَالِمِ الْمُطَاعِ وَمَا عَلَيْنَا إِلَّا الِاتِّبَاعُ (یہ ایک عالمِ مطاع کا حکم ہے اور ہمارے لیے اتباع کے سوا کوئی چارہِ کار نہیں) جسے محدثِ اعظم ہند جیسی شخصیت کی زبان بھی عالمِ مطاع واجب الاتباع قرار دے۔“ [المرجع السابق: مئی، ص: 131]
مفتیِ اعظم ہند علیہ الرحمہ علومِ ظاہرہ اور باطنہ میں محققِ علی الاطلاق امام احمد رضا خان قادری فاضلِ بریلوی قدس سرہ کے امین و وارث، جانشین و مظہر اور عکسِ جمیل تھے، عوام و خواص کے مرجع اور مشار الیہ بھی رہے عوام و خواص دینی ضرورت کی تکمیل کے لیے آپ کی طرف رجوع فرماتے اور جو جواب آپ دیتے اسے تسلیم کیا جاتا۔
ان کی تقریر و تحریر، بیعت و ارادت، درس و تدریس، تصنیف و تالیف، زہد و تقویٰ، خشیت و ورع، علم و فضل سے عالمِ اسلام مستفیض و مستنیر ہوا اور آج بھی ہو رہا ہے، مفتیِ اعظم ہند کی زندگی کا پل پل احیائے دین و سنیت اور ردِ منکرات و بدعت میں گزری جو جگ ظاہر ہے۔ [جہانِ مفتیِ اعظم/ استقامت کا مفتیِ اعظم نمبر اور مجدد ابنِ مجدد کا مطالعہ مفید ہوگا]
مفتیِ اعظم ہند مجدد ابنِ مجدد قدس سرہ العزیز کی حیاتِ مستعار کے 92 سال کا اکثر حصہ تجدیدِ دین و ملت، احیائے سنت اور ردِ بدعت و منکرات سے عبارت ہے جس کا احاطہ اس مختصر سے مقالہ میں ممکن نہیں البتہ اجمالاً اور اختصاراً بیان کرنے کی سعی ہے 1910ء سے فتویٰ نویسی کا آغاز فرمایا اور پہلا فتویٰ رضاعت سے متعلق دیا اور اس کا سلسلہ تاحیات برقرار رہا، مفتیِ اعظم ہند کے فتوے لاکھوں میں ہیں دنیا کے اکثر علاقوں سے استفتاء ہوئے اور آپ نے اس کا مسکت اور دلائل و براہین سے مملو جواب دیا عوام سے زیادہ خواص کے سوال ہوتے رہے اسی کے مطابق مفصل جواب بھی دیے جاتے رہے۔
1910ء سے 1947ء تک یعنی تقریباً 37 سال تک باضابطہ منظرِ اسلام اور مظہرِ اسلام میں تعلیم دیا جس بحرِ بیکراں سے ہزاروں اجلہ علمائے اہلِ سنت و جماعت سیراب ہو کر نکلے برصغیر ہند و پاک کی اکثر درسگاہیں آپ کے تلامذہ و مستفدین سے مالامال ہیں سینکڑوں مفتیانِ کرام کو معرضِ وجود بخشا جس کا دبدبہ دار الافتاء میں اب تک نظر آتا ہے۔ مفتی شریف الحق امجدی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں کہ: ”گیارہ سال تین ماہ صحبتِ بابرکات میں رہا اور چوبیس ہزار مسئلے لکھے جس کی تصحیح کا کام مفتیِ اعظم ہند نے انجام دیا۔“ [جامع الاحادیث، ج: 1، ص: 463]
آپ سے علمائے عرب و عجم نے علمی استفادہ کیا اور سند و اجازت حاصل کی چالیس سے زیادہ علوم و فنون سے لوگوں کو سیراب فرمایا تقریباً چالیس تصانیف بطور یادگار چھوڑیں وعظ و نصیحت کے ذریعہ عالمی سطح پر لاکھوں گم گشتگانِ راہ کو منزلِ صواب پر گامزن فرمایا، آپ کی تبلیغِ جمیلہ سے متاثر ہو کر ایک کروڑ سے زائد لوگوں نے اسلام قبول کیا۔
1927ء میں نجدی حکومت نے جبریہ حج پر ٹیکس کا قانون نافذ کیا اس کے خلاف میدان میں اترے اور نجدی حکومت کو قانون واپس لینے پر مجبور کیا 1929ء میں حکومتِ ہند کی جانب سے مسلم پرسنل لا میں ترمیمی بل لایا گیا اور شریعت میں مداخلت کی ناپاک جرأت کی گئی، اس کے خلاف آواز بلند کی اور اس کو رد کرنے پر مجبور کر دیا 1928ء میں اخبارِ ہندو میں سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں نازیبا کلمات لکھے گئے، آپ نے اس کے خلاف احتجاج کیا 1927ء میں رنگیلا رسول نامی کتاب کے خلاف صف آراء ہوئے اور اس پر پابندی لگوانے میں کامیابی حاصل کی 1927ء میں رشی بدھانک نمبر شوارتری اخبار جو جبل پور سے نکلتا تھا جو آریہ سماج کا اخبار تھا اس میں توہینی کلمات چھپنے پر اس کے خلاف زبردست احتجاج کیا 1923ء میں شدھی تحریک کا فتنہ اٹھا تو آپ نے گیارہ ماہ تک گھر کو خیر آباد کہہ کر اس کے خلاف پورے ملک کا دورہ کیا اور پانچ لاکھ مسلمان جو مرتد ہو چکے تھے، ان کو کلمہ پڑھا کر پھر اسلام میں داخل کیا اور کثیر تعداد میں غیر مسلموں کو بھی صاحبِ ایمان بنایا۔
روسی تحریکِ اشتراکیت، مسجدِ شہید گنج لاہور کا فتنہ اٹھا تو آپ نے لسانی قلمی اور تحریکی جہاد فرمایا اور اس کا قلع قمع کیا، اپنی تنظیم کو دو حصوں میں منقسم فرمایا اور ایک حصے کو عوام الناس میں شریعت کی ذمہ داری سونپی اور دوسرے حصے کو ہندوؤں کے درمیان تبلیغ کے لیے خاص کیا، آپ کی اس متحرک و فعال ٹیم نے آریائی مبلغین کو دعوتِ مناظرہ دیا۔
بیعت و ارادت کا سلسلہ شروع کیا تو کروڑوں لوگ داخلِ سلسلہ ہوئے اور عشق و عرفان کے متوالے بنے بے شمار خلفا پیدا کیے اور انہیں رشد و ہدایت کے کام پر لگایا انجمن اظہارِ اسلام، جماعتِ انصارِ الاسلام، سنی جمیعۃ الاسلام، سنی تبلیغی سیرت جیسی تنظیمات و تحریکات کی قیادت فرمائی، 1963ء میں جماعتِ رضائے مصطفیٰ کی مستقل و دائمی سرپرستی قبول فرمائی 1976ء/ 1977ء میں نس بندی کے نفاذ کا حکم جاری ہوا اور پورے ملک میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی بے شمار کانگریسی ملاؤں نے جواز کا فتویٰ دے دیا اور بقیہ نے اپنے منہ پر سکوت کا تالا لگا لیا اس وقت آپ میدان میں اترے اور اس کے حرام ہونے کا فتویٰ جاری کیا اور اپنے قول پر ڈٹے رہے جس سے جبریہ نس بندی کا قانون واپس ہوا راجپوتوں کے علاقے میں مدرسہ کا جابجا قیام عمل میں لایا۔
تحریکِ صلوٰۃ کا آغاز فرمایا جابجا اجتماعات کے انعقاد کی بنیاد رکھوائی 1938ء میں جب عنایت اللہ مشرقی نے تحریکِ خاکسار کی بنیاد رکھ کر فتنہ پھیلانا شروع کیا تو اس کے خلاف نبرد آزما ہوئے اور اس تحریک کا وجود مٹا کر رکھ دیا 1937ء میں مظہرِ اسلام کی بنیاد رکھی، یادگارِ رضا رسالہ جماعتِ رضائے مصطفیٰ کے بینر تلے آپ کی سرپرستی میں بھی جاری رہا، 1934ء کو جب بہار میں خوفناک زلزلہ آیا، آپ ڈاکٹروں کی ٹیم اور رفاہِ عامہ کا ساز و سامان لے کر بنفسِ نفیس جائے واردات پر پہنچے اور لوگوں کی مدد فرمائی، بتاتے ہیں کہ دربھنگہ اور اس کے اطراف و اکناف میں 1600 مساجد تعمیر کروائیں۔
اس کے علاوہ بھی ہر جہت اور ہر سمت سے حضور مفتیِ اعظم ہند کے تجدیدی کارناموں کے نقوش تاریخ کے صفحات پر جابجا بکھرے ملتے ہیں، بلاشک و شبہ آپ اپنے دور کے مجدد تھے اور اکثر نے آپ کی مجددیت کو قبول کیا ہے جس کے لیے مجدد ابنِ مجدد اور پندرھویں صدی کا مجدد کون کا مطالعہ زیادہ مفید ہوگا۔
آپ نے بے شمار لوگوں کو ذرہ سے آفتاب بنایا، چنانچہ آپ کے جانشین وارثِ علومِ رضا حضور تاج الشریعہ علیہ الرحمہ کیا ہی خوب فرماتے ہیں:
مفتیِ اعظم کا ذرہ کیا بنا اختر رضا
محفلِ انجم میں اختر دوسرا ملتا نہیں
ربِ قدیر بطفیلِ نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہم لوگوں کو بھی انہی بزرگوں کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق بخشے، آمین بجاہِ سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم۔
[سنی دنیا / جون 2018ء، ص: 41]
