Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...
مضمون نگار
موضوعات
کل مضامین
بولتے مضامین

نوکری کا بڑھتا رجحان اور تجارت سے دوری ایک لمحہِ فکر

نوکری کا بڑھتا رجحان اور تجارت سے دوری ایک لمحہِ فکر
عنوان: نوکری کا بڑھتا رجحان اور تجارت سے دوری ایک لمحہِ فکر
تحریر: حافظ محمد ہاشم قادری صدیقی
پیش کش: محمد سجاد علی قادری ادریسی

تمام تعریفیں اللہ رب العزت کے لیے ہیں جو سارے جہانوں کا پالنے والا ہے، اللہ پاک ہر مخلوق کو رزق عطا فرماتا ہے، اسی طرح انسانوں کو بھی زندہ رہنے کی بنیادی ضرورتوں میں ہوا، پانی کے ساتھ کھانا بھی انتہائی ضروری ہے، کھانے کے لیے اور زندگی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے انسان کو کچھ نہ کچھ کام کرنا بھی ضروری ہے، جس سے وہ روپے کما کر اپنی اور اپنے ذمے جو لوگ ہیں ان کی بھوک پیاس کے ساتھ ساتھ ان کی دیگر ضروریات پوری کرے۔

موجودہ دور میں انسانوں کے رہنے سہنے، کھانے پینے کے انداز بدل گئے ہیں، جس کے لیے کمانا اور ضروری ہو گیا ہے، حضرت انسان اس میں ایسا مشغول ہوتا جا رہا ہے کہ اس نے صرف کمانے کو ہی مقصدِ حیات بنا لیا ہے، جو کہ یقیناً نقصان دہ ہے، صوفیائے کرام فرماتے ہیں جو شخص اپنے آپ کو ہمہ تن اور ہر وقت دنیا کمانے میں مصروف رکھتا ہے، وہ بدنصیب ہے، اسی طرح جو شخص خدائے تعالیٰ پر توکل و اعتماد کے بہانے اپنے آپ کو آخرت کے لیے دن رات مصروف رکھتا ہے، وہ بھی کم نصیب ہے، دنیا میں رہو مگر دنیا کے ہو کر نہ رہ جاؤ۔

اعتدال یہ ہے کہ آدمی دنیا میں مصروف ہو کر کمائے، مگر آخرت کو بنانے میں بھی لگا رہے، یعنی دنیا کمانے میں بھی، آخرت کے کام بنانے میں بھی لگا رہے اور اس طرح زندگی گزارنا افضل عبادت اور جہاد بھی ہے، بڑے واضح انداز میں رحمتِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت موجود ہے کہ: ”ایک دن سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما تھے کہ ایک قوی نوجوان ادھر سے گزرا اور ایک دکان میں چلا گیا، صحابہ کرام رضوان اللہ عنہم اجمعین نے افسوس کیا، کہ اتنے سویرے سے راہِ خدا میں اس کو اٹھنا تھا؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایسا نہ کہو کیوں کہ اگر وہ اپنے آپ کو یا اپنے ماں باپ یا بیوی بچوں کو لوگوں سے بے پرواہ کرنے جا رہا ہے تو بھی وہ راہِ خدا میں ہے۔“ [کشف القلوب، ج: 2، ص: 82]

بھیک منگوں و محتاجوں سے پاک معاشرہ ہو

سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے بڑے واضح انداز میں کسبِ معاش (روزی کمانے) کے دونوں رخ کھول دیے، نوکری بھی کر سکتا ہے، اور تجارت بھی، کسبِ معاش پر سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے بڑا زور دیا ہے، محتاجی و بیکاری سے بچنے اور سماج و سوسائٹی کو بھیک منگوں و محتاجوں سے پاک رکھنے کے لیے حصولِ رزق کی کتنی اعلیٰ تعلیم دی ہے، ملاحظہ فرمائیے: حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ جو شخص مخلوق سے بے نیاز ہوا اور عزیز و اقارب و پڑوسیوں کے ساتھ صلہ رحمی میں لگا رہا، قیامت کے دن اس کا چہرہ چودھویں رات کے چاند کی طرح منور و تاباں ہوگا۔

دوسری حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سچا تاجر قیامت کے دن صدیقین و شہدا کے ساتھ اٹھایا جائے گا اور فرمایا: کہ ہنرمند و حرفت (کاریگر) والے مسلمان کو خدائے تعالیٰ دوست رکھتا ہے، پیشہ ور لوگوں کی کمائی سب چیزوں سے حلال ہے اگر وہ نصیحت بجا لائے۔

کسبِ معاش کی اہمیت و افادیت ہر دور میں مسلّم رہی ہے، کیوں کہ محتاجی و فقر کی حالت میں ایمان کی سلامتی خود ایک عظیم امتحان سے کم نہیں ہے۔

بھکاریوں کی دوڑ میں مسلمان آگے

مسلمانوں کی غریبی اور ان کے پچھڑے پن کو لے کر بڑی بڑی باتیں ہو رہی ہیں لیکن افسوس نہ حکومتیں اس معاملے میں سنجیدہ ہیں اور نہ مسلمان، ترقی کا زینہ تعلیم سے مسلمان ابھی تک پوری طرح جڑ نہیں سکے ہیں، ڈاکٹر و انجینئر بننے کے بجائے بھکاریوں کی صف میں مسلمان آگے نکل گئے ہیں تعلیم ہی انسان کو ہر طرح کی ترقی و سوجھ بوجھ سے آگے بڑھنے کا راستہ بتاتی ہے، اس سے ہم دور ہیں جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے علم حاصل کرنے کے لیے اگر چین بھی جانا پڑے تو جائیں، لیکن تعلیم میں ہی مسلمان بہت کمزور ہیں جس کی وجہ سے آج سب سے پچھڑی قوم مسلمان ہو گئی ہے۔

سچر کمیٹی کی سفارشات نہ لاگو ہوئیں اور نہ ہی لاگو ہونے کی امید ہے، مسلمان بھی ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے ہیں، حکومت کی طرف نظر اور آس لگائے ہوئے ہیں، خود کچھ کر گزرنے کی ہمت تو دور کی بات، سوچ وچار بھی نہیں کر رہے ہیں، سچر کمیٹی کی رپورٹ کا زخم ابھی تازہ ہی تھا کہ 2011ء کی مردم شماری کی رپورٹ نے ساری قلعی کھول دی، جب سچر کمیٹی کی رپورٹ سامنے آئی تو کئی مسلم طبقے آگے آئے اور مسلمانوں کے ضمیر کو جھنجھوڑا، مسلمان گہری نیند سے جاگے اور واویلا ہوا، اور پھر سو گئے اور اب 2011ء کی مردم شماری کی رپورٹ نے مسلمانوں کو سوچنے کے لیے مجبور کر دیا ہے، صرف حکومت کی جانب آس لگانے سے کچھ نہیں ہونے والا سر جوڑ کر بیٹھ کر حل نکالنا ہوگا، اس کے لیے علمائے کرام دانشور حضرات چھوٹے چھوٹے این جی او محلہ محلہ میٹنگ کریں، لوگوں کو سمجھائیں، چھوٹے پیمانے پر ہی شروعات کر دیں تو ضرور فائدہ ہوگا، ورنہ ابھی ہر چار بھکاریوں میں ایک مسلمان ہے، کوئی بعید نہیں، تعداد اور بڑھ جائے۔

واضح رہے 2011ء کی مردم شماری کی رپورٹ حال ہی میں جاری ہوئی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ آبادی میں ہر چار میں ایک بھکاری مسلمان ہے، پوری دنیا کی آبادی 1.42 ارب کے قریب ہے، جبکہ 3.7 لاکھ بھکاریوں میں پچیس فیصد مسلمان ہیں، 2011ء کی مردم شماری میں یہ بات سامنے آئی کہ حکومت کی متعدد پالیسیاں کدھر جا رہی ہیں، اور اس کا فائدہ کس قوم اور طبقے کو ہو رہا ہے، رپورٹ کے مطابق 72.89 کروڑ لوگ بے روزگار ہیں، جبکہ 3.7 لاکھ بھکاری ہیں، ان بھکاریوں میں مسلمان سب سے زیادہ ہیں، 92 ہزار 760 مسلمان بھکاری ہیں، اس رپورٹ میں یہ بات بھی آئی ہے کہ مسلم مردوں کے مقابلے میں عورتیں زیادہ بھیک مانگنے والوں میں شامل ہیں، جبکہ دیگر قوموں کا معاملہ اس کے برعکس ہے، اس میں عورتیں کم اور مرد زیادہ ہیں، کل مرد بھکاریوں کی تعداد 53.13 فیصد جبکہ عورت بھکاریوں کی تعداد 46.87 فیصد ہے، اس کے برعکس مسلمان ہیں 43.61 فیصد مرد اور عورتوں کا گراف 56.38 عورت بھکاریوں کی تعداد ہے۔

ٹاٹا انسٹیٹیوٹ آف سوشل سائنسز (Tata Institute of Social Sciences) کے فیلڈ ایکشن پروجیکٹ کوآرڈینیٹر (Field Action Project Co-ordinator) جناب محمد طارق صاحب نے بتایا کہ بھکاریوں کی تعداد زیادہ ہونے کی کئی وجوہات ہیں، حکومت کی جانب سے جو پالیسیاں لاگو کی گئیں، ان کا استعمال ٹھیک طور پر نہیں کیا گیا، پچھڑے علاقوں میں حکومت کی اسکیمیں پہنچائی نہیں جا سکیں اور وہاں کوئی کام نہیں ہو سکا، تلجہ کے ایک N.G.O کے محمد توصیف الرحمن کا کہنا ہے یہ مسئلہ آج کا نہیں بلکہ بہت پرانا ہے، اس معاملے میں کبھی کسی بھی پارٹی نے سوچا ہی نہیں، نظر بھی نہیں کی، اور سب سے بڑی بات خود مسلمانوں نے ہی نہ کچھ سوچا نہ کیا، مسلم علاقے میں گندگی کے ڈھیر رہتے ہیں، پورے بنگال میں 85 سے 90 ہزار کچرا اٹھانے والے لوگ ہیں جن کا کام روزانہ کچرا اٹھانا ہے، ان میں ساٹھ فیصد مسلمان ہیں، جن کی یومیہ آمدنی 80 سے 110 روپے ہوتی ہے، کلکتہ کے پارک سرکس، پگلا ہاٹ، نارکل ڈانگہ میں ایسے لوگ بھرے پڑے ہیں، ایک ایک گھر میں چھ سے دس افراد رہتے ہیں، تعلیم یافتہ نہیں ہونے کی وجہ سے یہ کہیں اور جگہ کام بھی نہیں کر سکتے، یہ مسئلہ برسوں سے چلا آ رہا ہے لیکن ان دنوں کارپوریشن کی جانب سے کمپیکٹر اسٹیشن بنا دیے گئے جس کی وجہ سے کچرے کے انبار کم ہو گئے ہیں، اس وجہ کر ان کا یہ کام بھی ان کے ہاتھوں سے نکلا جا رہا ہے، لہٰذا بھیک مانگنے کے سوا کوئی چارہ نہیں، انہوں نے کہا کہ آئندہ دنوں میں اس سے بھی بھیانک صورتِ حال ہوگی، رپورٹ لکھنے کے لیے ایک دفتر چاہیے۔ [Sunday Weekly Guldasta-e-Mashriq: Vol 11, Issue No. 33]

نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا کسبِ معاش

حضرت ابو طالب کی مالی حالت تسلی بخش نہ تھی، اہلِ عیال کی کثرت نے اس کمزوری کو مزید تکلیف دہ بنا دیا تھا، اس لیے حضور جب نو یا دس سال کے ہو گئے تو آپ نے بکریوں کے ریوڑ اجرت پر چرانے شروع کر دیے، تاکہ اپنے چچا کا ہاتھ بٹائیں، حضرت امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی صحیح بخاری میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے:

قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا بَعَثَ اللهُ نَبِيًّا إِلَّا رَاعِيَ غَنَمٍ وَقَالَ لَهٗ أَصْحَابُهٗ وَأَنْتَ يَا رَسُوْلَ اللهِ قَالَ وَأَنَا رَعَيْتُهَا لِأَهْلِ مَكَّةَ بِالْقَرَارِيْطِ.

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے کسی نبی کو مبعوث نہیں فرمایا مگر اس نے بکریوں کو چرایا ہے، اصحاب نے عرض کیا، یا رسول اللہ کیا آپ نے بھی؟ فرمایا: میں قراریط کے عوض اہلِ مکہ کی بکریاں چرایا کرتا تھا۔

قراریط یہ قیراط کی جمع ہے اور یہ دینار کے چھٹے حصے کی چوتھائی کو کہتے ہیں اور بعض نے کہا دینار کے بیسویں حصہ کو قیراط کہتے ہیں لیکن شیخ ابو زہرہ رحمۃ اللہ علیہ نے اس کا ایک اور مفہوم بیان کیا ہے، لکھتے ہیں، بکریوں کے دودھ کا حصہ جو حضور اجرت کے طور پر لیا کرتے تھے اور جو ابو طالب کے اہلِ عیال کے ساتھ آپ بھی غذا کے طور پر استعمال فرمایا کرتے تھے۔ [ضیاء النبی، ج: 20، ص: 103]

پیٹ کی بھوک اور پیاس مٹانے اور انسانی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے نوکری و تجارت کرنا اور حلال طریقہ سے روزی حاصل کرنا اسلام کے ایک اہم پیغام میں سے ہے، یاد رکھیں یہ دنیا دار العمل ہے، یہاں ہم سب کو کام کرنا ہے اور وہ کام کرنا ہے جو آخرت کی کھیتی بنائے، اس لیے ہمارے لیے از حد ضروری ہے کہ اپنے اہلِ عیال کے حصولِ رزق کے لیے محنت و مشقت کریں، چونکہ کسبِ حلال کرنا اور اپنی فیملی کی کفالت کرنا اور بچوں کو محتاجی و بیکاری سے بچانا سب سے بڑی عبادت ہے۔

لگی روزی نہ چھوڑیں

آج کل لگی روزی چھوڑنے کا رواج بنتا جا رہا ہے، بہتر سے بہتر کی تلاش میں لگی روزی چھوڑ دیتے ہیں، خواہ نوکری ہو یا تجارت موجودہ دور میں نوکری ملنا کتنا مشکل ہو گیا ہے، لکھنے کی ضرورت نہیں، گورنمنٹ نوکری (Government Service) میں تو مسلمانوں کے لیے دروازے بند ہو چکے ہیں پرائیویٹ سیکٹر (Private Sectors) میں بھی حد درجہ Competition ہے، اور سخت مقابلے بھی، جسے نوکری ملتی ہے، ان کو اتنی محنت کرنی پڑتی ہے وہی جانتے ہیں، اس کے علاوہ کب ہٹا دیا جائے گا کوئی ٹھیک نہیں، ہر وقت نکالے جانے کا ڈر لگا رہتا ہے، ڈور سے بندھی تلوار اوپر لٹکی رہتی ہے، کب ڈور ٹوٹی اور تلوار اوپر گری۔

آج نوجوانوں میں تجارت کی طرف دلچسپی نہ کے برابر ہے، جو کہ لمحہِ فکریہ ہے، حالانکہ اللہ کے رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے تجارت فرمائی، اور اس کی بے شمار فضیلتیں حدیث میں وارد ہیں، صحابہ کرام و بزرگانِ دین نے بھی تجارت (Business) کی اور خوب کمایا اور دل کھول کر اللہ کی راہ میں اور ضرورت مندوں پر خرچ کیا، نوکری میں محدود (Fixed) آمدنی ہوتی ہے جس سے ماہ کے آخر آتے آتے دن میں تارے نظر آنے لگتے ہیں، تجارت میں بہت برکت ہے، ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

رَبُّكُمُ الَّذِيْ يُزْجِيْ لَكُمُ الْفُلْكَ فِي الْبَحْرِ لِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ إِنَّهٗ كَانَ بِكُمْ رَحِيْمًا [سورۃ الاسراء: 66]

تمہارا رب وہ ہے جو سمندر میں تمہارے لیے کشتیاں رواں فرماتا ہے، تاکہ تم اس کا فضل (رزق) تلاش کرو، بیشک وہ تم پر بڑا مہربان ہے۔

اللہ کے رسول ارشاد فرماتے ہیں کہ تجارت کرو کیوں کہ رزق کے دس دروازے ہیں، دس حصے ہیں، نو حصے فقط تجارت میں ہیں، کتنی وافر مقدار میں روزی تجارت میں ہے، اس حدیث سے واضح ہوتا ہے کہ سوال کرنا، بھیک مانگنا انتہائی قبیح کام ہے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص اپنے اوپر سوال کا دروازہ کھولتا ہے، اللہ تعالیٰ اس پر مفلسی کے ستر دروازے کھول دیتا ہے۔ [بہارِ شریعت]

سوال ہر کسی کو حلال نہیں

آج کل ایک عام بلا پھیلی ہوئی ہے کہ اچھے خاصے تندرست ہیں، چاہیں تو کمائیں، چاہیں تو کما کر اوروں کو بھی کھلائیں مگر انہوں نے اپنے وجود کو بے کار کر رکھا ہے، کون محنت کر کے مصیبت جھیلے، اس محنت سے جو مل جائے، ناجائز طور پر سوال کرتے ہیں، بھیک مانگتے ہیں، مزدوری، نوکری چھوٹی موٹی تجارت کو ننگ و عار خیال کرتے ہیں اور بھیک مانگنے میں بے عزتی محسوس نہیں کرتے افسوس اور شرم کا مقام ہے، اللہ ہدایت دے۔

ہمارے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس پر فاقہ نہ گزرا اور اتنے بال بچے ہیں کہ جن کی طاقت نہیں اور سوال (بھیک مانگنے) کا دروازہ کھولا، اللہ ان پر فاقہ کا دروازہ کھول دے گا ایسی جگہ سے جو اس کے دل میں بھی نہیں۔ [شعب الایمان، الحدیث: 1739]

حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے ایک شخص کو دیکھا اور پوچھا تو کیا کام کرتا ہے؟ عرض کیا میں عبادت میں لگا رہتا ہوں، حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا روزی کہاں سے کھاتا ہے؟ عرض کیا میرا ایک بھائی ہے وہ مجھے روزی مہیا کرتا ہے، حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا تیرا بھائی تجھ سے زیادہ عابد ہے۔

متقیوں کے نزدیک رزقِ حلال کا حصول ایمان کا ایک حصہ ہے، فکرِ آخرت مومن کا عظیم سرمایہ ہے لیکن اس قدر اور اس حد تک نہیں کہ جہاں فکرِ آخرت حقوق العباد میں رکاوٹ بن جائے اور اس کے زیرِ کفایت بیوی، بچوں، ماں باپ اور رشتہ داروں کے سر پر محتاجی و تنگ دستی کے بادل چھا جائیں، کیوں کہ معاشی تنگی وقارِ انسانیت کے لیے سیاہ دھبہ ہے، جو لوگ بیوی بچوں کو چھوڑ کر تبلیغ کے نام پر تین دن، چالیس دن باہر چلے جاتے ہیں اور بیوی بچے کسمپرسی کی حالت میں بیماری و طرح طرح کی پریشانیاں جھیلتے رہتے ہیں، ان کو اس حدیث سے عبرت حاصل کرنا چاہیے۔

کمانے کی اہمیت ہر دور میں مسلّم رہی ہے، اسی لیے اللہ تبارک و تعالیٰ کسبِ معاش کے تعلق سے ارشاد فرماتا ہے:

وَلَقَدْ مَكَّنَّاكُمْ فِي الْأَرْضِ وَجَعَلْنَا لَكُمْ فِيْهَا مَعَايِشَ قَلِيْلًا مَّا تَشْكُرُوْنَ [سورۃ الاعراف: 10]

اور ہم نے ہی تم کو زمین دی اور اس میں تمہارے لیے روزی کے (ہر قسم کے) اسباب پیدا کیے، مگر تم بہت ہی کم شکر گزار ہو۔

دوسری جگہ ارشاد فرمایا: وَجَعَلْنَا النَّهَارَ مَعَاشًا اور ہم نے دن کو معاش بنایا، اللہ رب العزت نے حصولِ معاش کو نعمت قرار دیا ہے اور اس پر شکرِ الٰہی کا حکم بھی فرمایا:

وَجَعَلْنَا لَكُمْ فِيْهَا مَعَايِشَ وَمَنْ لَّسْتُمْ لَهٗ بِرَازِقِيْنَ [سورۃ الحجر: 20]

اور ہم نے اس میں تمہارے لیے روزی کے سامان کر دیے اور ان کے لیے بھی جن جن کے رزق دینے والے تم نہیں۔

مذکورہ بالا آیت میں رب تعالیٰ نے بندوں کو واضح انداز میں حصولِ رزق اور کسبِ معاش کی تعلیم دی ہے، تفسیر ابنِ عباس میں ہے کہ ہم نے زمین میں تمہارے لیے عیش و عشرت کی چیزیں مہیا کیں، پھل فروٹ، میوے، کھانے پینے کی چیزیں اور ان کو بھی رزق دیتا ہوں جن کو تم رزق نہیں دیتے، یعنی پرندے وغیرہ و دیگر حیوانات، سب کو روزی دیتا ہوں، یہاں تک کہ ماں کے رحم میں جو بچے ہوتے ہیں ان کو بھی رزق دیتا ہوں، حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ کسبِ معاش نہ چھوڑو اور یہ نہ کہو کہ حق تعالیٰ روزی دے گا، کیوں کہ حق تعالیٰ آسمان سے سونا چاندی نہیں بھیجتا، یعنی اس بات کی اسے قدرت ہے مگر کسی حیلے سے اللہ روزی عطا فرماتا ہے، حضرت عمر رضی اللہ عنہ خود فرماتے ہیں کہ مجھے وہ جگہ جہاں میری موت آئے، بہتر ہے اس سے کہ میں اپنے اہلِ عیال کے لیے تجارت کرتا رہوں، اپنے کجاوے فروخت کرتا رہوں، حضرت ابو ایوب رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ مجھ سے حضرت ابو قلابہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ بازار کو لازم کر لو، اس لیے کہ غنا عافیت کا نام ہے، یعنی لوگوں سے غنا میں عافیت ہے، جس میں اللہ کی عبادت اطمینان و سکون سے کی جائے۔

صالحین کرام صنعت و حرفت اور کسب و تجارت کو مقدم لازم سمجھتے، تاکہ لوگوں سے سوال (بھیک مانگنے) کی ذلت سے بچ جائیں، حضرت حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ سے کسی نے اس شخص کے بارے میں سوال کیا جو روزی کا محتاج ہے، اگر وہ جماعت کے ساتھ نماز کو جائے تو کیا اسے اس دن لوگوں سے سوال کرنے کی حاجت ہوگی؟ حضرت حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ نے جواب دیا وہ روزی کمائے اور تنہا نماز ادا کرے۔ [کشف القلوب، ج: 2، ص: 89]

حدیثِ پاک میں آیا ہے کہ لوگوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک آدمی کا ذکر کیا اور اس کی بہت تعریف کی اور سفر و حضر میں اس کی عبادت کا بیان کیا، حضور نے دریافت فرمایا: اس کو کھلاتا پلاتا کون ہے؟ اس کے جانوروں کو چارہ کون دیتا ہے؟ اور اسے کاروبار سے کس نے مستغنی کر رکھا ہے؟ لوگوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم لوگوں نے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم سب لوگ اس سے بہتر ہو۔ [تنبیہ المغترین]

حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے تھے کہ تم میں سے نیک وہ ہے جو آخرت و دنیا دونوں کا کام کرے، حضرت سلیمان دارانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے تھے کہ تو اپنے قدموں کو عبادت کے لیے کمر بستہ رکھے، اور کوئی دوسرا تمہاری خاطر مصیبت اٹھائے، یہ کوئی خوبی نہیں ہے، بلکہ خوبی یہ ہے کہ پہلے اپنی روٹی گھر میں جمع کر اور پھر نماز پڑھ، اس کے بعد پرواہ مت کر کہ کون دروازہ کھٹکھٹاتا ہے، برخلاف اس شخص کے جو گھر میں کھڑا نماز پڑھے اور آس پاس کھانے کو کچھ نہ ہو، پھر وہ شخص دروازہ کھٹکھٹائے تو دل میں یہ خیال کرے کہ کوئی روٹی لایا ہے، حضرت سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ اپنے دوستوں سے فرمایا کرتے تھے کہ روزی حاصل کیا کرو، کیوں کہ اکثر لوگ جو امراء کے دروازے پر جاتے ہیں وہ ضرورت کے لیے جاتے ہیں۔

اولادِ آدم کو ایک ہزار صنعتیں

حدیثِ پاک میں آیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو ایک ہزار صنعتیں (ہنر و تجارت) سکھلائی تھیں اور فرمایا کہ اپنی اولاد کو کہہ دو کہ ان کو سیکھ لیں اور ان سے اپنا پیٹ پالیں اور اپنے دین کو بیچ کر نہ کھائیں، حلال رزق کے جو بھی طریقے میسر آئیں، استعمال کریں، صرف نوکری، نوکری، نوکری کی طرف نہ بھاگیں، بے پناہ دباؤ اور بارہ سے چودہ گھنٹے سخت ڈیوٹی جواب دہی کے ساتھ خود سوچیں، تجارت میں بہت ہی زیادہ برکت ہے، سنت بھی ہے، اللہ کے رسول نے بھی تجارت کی، حضرت ابوطالب کی مالی حالت خوش کن نہ تھی، تنگ دستی کا اکثر سامنا آپ کو رہتا، آپ کو معلوم ہوا کہ حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا تجارتی قافلہ ملکِ شام جانے والا ہے اور حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کئی لوگوں کو اجرت دے کر بھیج رہی ہیں کہ وہ ان کا مال لے جائیں اور تجارت کریں، آپ جاؤ اور اپنی خدمت پیش کرو، حضور کی غیرت نے کسی کے پاس طالب اور سائل بن کر جانا گوارا نہ کیا اور اپنے چچا کو جواب دیا: ”شاید وہ خود ہی مجھے اس سلسلے میں بلاوا بھیجیں“، حضرت ابو طالب نے کہا کہ مجھے اندیشہ ہے کہ وہ کسی اور کو مقرر کر دے گی، پھر آپ ایک ایسی چیز کو طلب کریں گے جو پیٹھ پھیر چکی ہوگی، اس پر حضور نے خاموشی اختیار کر لی، اللہ کے کرم سے حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو اس گفتگو کا علم ہو گیا تو فوراً پیغام بھیجا اور کہا میں یہ ذمہ داری اس لیے آپ کے سپرد کرتی ہوں کہ میں نے آپ کی سچائی، دیانت داری اور خلقِ کریم کے بارے میں بہت کچھ سنا ہے، اگر آپ یہ پیشکش قبول فرما لیں تو جو معاوضہ میں دوسروں کو دیتی ہوں، اس سے دو گنا آپ کو دوں گی، حضور نے اس کا ذکر اپنے چچا سے کیا، آپ کے چچا نے مسرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا یہ رزق اللہ تعالیٰ نے اپنی بارگاہِ خاص سے آپ کی طرف بھیجا ہے، آپ نے پیشکش قبول فرمائی اور تجارت شروع کر دی، بے پناہ فائدہ حاصل ہوا، اور آپ تجارت فرمانے لگے۔

رزق کا ذریعہ منجانب اللہ ہے

جب اللہ تعالیٰ کسی شخص کے لیے حصولِ رزق کا ایک ذریعہ مقرر فرما دے اور اس کے ذریعہ سے اس کو رزق مل رہا ہو تو اس میں لگا رہے، بلاوجہ اس کو چھوڑ کر الگ نہ ہو، جیسے آج کل نوجوان بہتر اور زیادہ کے لالچ و چکر میں لگی روزی بھی گنوا دے رہے ہیں، بہت سے واقعات شاہد ہیں، اس میں دل جمعی سے لگا رہے، جب تک وہ خود اس کے ہاتھ سے نکل نہ جائے، یا ایسے ناموافق حالات پیدا ہو جائیں، جس سے آگے جاری رکھنا مشکل ہو جائے، جب اللہ تعالیٰ نے کسی ذریعہ سے رزق وابستہ کر دیا ہے تو یہ اللہ تعالیٰ کی عطا و رحمت ہے، اللہ نے ذریعہ لگا دیا یہ منجانب اللہ ہے، اب منجانب اللہ کو اپنی طرف سے بلاوجہ نہ چھوڑے۔

روزگار اور معیشت کا نظامِ خداوندی تعجب خیز ہے، جس کو ہماری عقل نہیں سمجھ سکتی، اللہ فرماتا ہے:

أَهُمْ يَقْسِمُوْنَ رَحْمَتَ رَبِّكَ نَحْنُ قَسَمْنَا بَيْنَهُمْ مَّعِيْشَتَهُمْ فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا [سورۃ الزخرف: 32]

کیا آپ کے رب کی رحمت کو یہ تقسیم کرتے ہیں؟ ہم نے ہی ان کی زندگانیِ دنیا کی روزی ان میں تقسیم کی ہے۔

جب اللہ نے انسانوں کی روزی کا نظام خود ہی بنایا ہے اور ہر ایک کے دل میں یہ ڈال دیا کہ تم یہ کام کرو تم وہ کام کرو، تمہارا رزق اسی ذریعہ سے وابستہ کر دیا تو اسی سے لگے رہو، بلاوجہ رزقِ حلال کو چھوڑ کر دوسری جانب نہ دوڑو، کیا معلوم کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے اسی میں کوئی مصلحت رکھی ہو، جب تک کہ کوئی حالات نہ پیدا ہو جائیں، اس سے پہلے خود سے رزق کا دروازہ بند نہ کرو، اللہ تعالیٰ ہم سب کو رزق کی تجارت کی اور لگی روزی کی اہمیت سمجھنے کی توفیقِ رفیق عطا فرمائے، آمین۔

[ماہنامہ سنی دنیا، فروری 2018ء، ص: 15 تا 20]

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!