| عنوان: | مضمون: پیشہ ورانہ تعلیمات (قسط: اول) |
|---|---|
| تحریر: | طارق انور مصباحی |
| پیش کش: | مدحت فاطمہ ضیائی |
| منجانب: | مجلس القلم الماتریدی انٹرنیشنل اکیڈمی، مرادآباد |
یوروپین اقوام نے مسلم دانشوروں کے علوم و اکتشافات اور ایجادات و تحقیقات کو اپنا کر آسمانوں پر کمندیں ڈال دیں، اور ہم اپنی وراثت بھی کھو بیٹھے۔ ان علوم و فنون سے ہماری بیگانگی نے ہمیں بہت نقصان پہونچایا۔ شاعر مشرق ڈاکٹر اقبال (1876ء - 1938ء) نے اس پر اظہار افسوس کرتے ہوئے فرمایا:
مگر وہ علم کے موتی، کتابیں اپنے آبا کی
جو دیکھیں ان کو یورپ میں تو دل ہوتا ہے سیپارا
گنوا دی ہم نے جو اسلاف سے میراث پائی تھی
ثریا سے زمیں پر آسماں نے ہم کو دے مارا
علوم دینیہ کی تحصیل و تعلیم دینی و شرعی احکام پر عمل کے لیے ہے۔ اس علم کو بطور معاش استعمال کرنا جائز نہیں تھا، اور اب بھی تعلیم دین پر اجرت کا جواز محض ضرورت کے سبب ہے۔ اب ہمیں معیشت کے لیے کچھ راہوں کی تلاش کرنی ہوگی۔ عہد حاضر میں اکثر معاشی امور کا مدار و مبنیٰ عصری علوم ہیں، پس ہم عصری تعلیم سے روگردانی نہیں کر سکتے۔ علوم شرعیہ کی تحصیل کا مقصد رضائے الہی ہے، نہ کہ تحصیل مال۔
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ تَعَلَّمَ عِلْمًا مِمَّا يُبْتَغَى بِهِ وَجْهُ اللَّهِ لَا يَتَعَلَّمُهُ إِلَّا لِيُصِيْبَ بِهِ عَرَضًا مِنَ الدُّنْيَا، لَمْ يَجِدْ عَرْفَ الْجَنَّةِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ. [سنن ابی داؤد، باب طلب العلم لغیر اللہ تعالیٰ — المستدرک علی الصحیحین، کتاب العلم — سنن ابن ماجہ، باب الانتفاع بالعلم والعمل بہ — شعب الایمان للبیہقی، ج: 2، ص: 282 — صحیح ابن حبان، ج: 1، ص: 279 — مسند احمد بن حنبل، ج: 14، ص: 169 — مصنف ابن ابی شیبہ، ج: 6، ص: 188]
ترجمہ: حضرت تاجدار کائنات نے ارشاد فرمایا: ایسا علم جس سے رب تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کی جاتی ہے، اس علم کو جو شخص محض دنیاوی مال پانے کے لیے حاصل کرے، وہ جنت کی خوشبو نہیں پائے گا۔
علوم اسلامیہ کی تحصیل کا مقصد رضائے الہی کا حصول ہے۔ اگر علوم شرعیہ کے حصول کا یہ مقصد ہو کہ علوم دینیہ کو تحصیل معاش کا ذریعہ بنایا جائے تو یہ ایک غیر مستحسن طرز فکر ہے۔ حضور اقدس کے ارشاد مبارک طَلَبُ الْعِلْمِ فَرِيْضَةٌ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ [سنن ابن ماجہ، باب فضل العلماء] کی بجا آوری کے قصد سے علم دین کی تحصیل ہو، اور معاش و گزر اوقات کے لیے دیگر علوم و فنون کی جانب پیش قدمی کی جائے۔
اگر دنیاوی علوم کے حصول میں بھی یہ نیت صادقہ شامل ہو کہ اس کے ذریعہ ہم اپنی معاش کا بھی انتظام کریں اور اسلام و اہل اسلام کی بھی خدمات سر انجام دیں تو یہ عزم خیر بھی رضائے خداوندی کا موجب ہوگا۔ اس نقطہ نظر کے موافق تعلیمی مسائل کے مضامین میں طلبائے مدارس کی رہنمائی ان علوم و فنون کی جانب کی جارہی ہے، جو ان کے لیے ذریعہ معاش بن سکیں۔ امامت و تعلیم دین کی اجرت کا جواز محض بوجہ ضرورت ہے۔ تراویح، قرآن خوانی، تسبیح و تہلیل و غیرہا کی اجرت آج تک ناجائز ہی ہے۔ فَاعْتَبِرُوْا يَا أُولِي الْأَبْصَارِ۔
فضلائے مدارس اور قوم مسلم کی معاشی بہتری کی خاطر میں نے پروفیشنل ایجوکیشن کا موضوع (Topic) شروع کر دیا ہے۔ چونکہ یہ ایک وسیع باب ہے، اس لیے محررین و قلم کاران سے عرض ہے کہ اس موضوع پر خامہ فرسائی کر کے ہمارا قلمی تعاون فرمائیں، تاکہ نسل جدید صحیح جہات کا تعین کر سکے۔ اسی طرح خطباء و مقررین سے بھی التماس ہے کہ قوم کو دینیات کے ساتھ دیگر عصری تقاضوں کی جانب بھی راغب فرمائیں۔ اگر مذہبی رسائل و جرائد اور دینی و ملی اسٹیجوں سے قومی اصلاحات کا سلسلہ شروع ہوتا ہے تو قوم پر اس کے قومی اثرات مرتب ہوتے ہیں، کیونکہ قوم ایسے امور کو موافق شرع سمجھتی ہے، نیز اگر یہ اصلاحات علماء مشائخ کی زبان و قلم سے جاری ہوں تو ایسی تحریر و تقریر قوم کے لیے سند کا درجہ رکھتی ہے۔ ہندوستان ایک جمہوری ملک ہے۔ جمہوری ملک میں اپنے حقوق کی حصولیابی کے لیے جد و جہد کرنی ہوتی ہے۔ قوم کو سیاسی امور کی جانب بھی ترغیب دی جائے۔ علمائے کرام اپنی عالمانہ حیثیت اور قائدانہ منصب یعنی دونوں رتبوں کا لحاظ کرتے ہوئے اسلام و اہل اسلام کی خدمات سر انجام دیں۔ گرچہ بحکم شرع ان کی ذمہ داریاں مذہبی امور (Religious Affairs) سے متعلق ہیں، لیکن غیر مذہبی امور (Unreligious Matters) میں بھی قوم کی قیادت و رہنمائی امر حسن ہے، کیونکہ احادیث مبارکہ میں خیر خواہی مسلمین کا حکم علی الاطلاق جاری ہوا ہے: واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب والیہ المرجع والمآب۔
میں نے قوم و ملت کے لیے مفید سمجھ کر ان موضوعات کا انتخاب کیا ہے۔ اگر دربار الہی میں میرے افکار و نظریات امت مسلمہ کے لیے فائدہ بخش اور خیر آور ہیں تو رب تعالیٰ مستفیدین کے لیے حصول مقاصد کو سہل فرما دے، اور مزید نفع بخش مضامین کی جانب میری رہنمائی فرمائے (آمین)۔
ہمارا نظریہ ہے کہ فضلائے مدارس اور اطفال مسلمین حکومتی و غیر حکومتی اعلیٰ محکمہ جات تک رسائی حاصل کریں۔ صرف اتنا مطالبہ ہے کہ جہاں کہیں بھی رہیں، مذہب و مسلک اور قوم و ملک کی بھلائی و خیر خواہی کا جذبہ قائم رکھیں اور حتی الامکان عملی اقدام کریں۔ دنیا میں آنے کا اصل مقصد اللہ و رسول کی رضا جوئی ہے، اور کچھ نہیں۔ رب تعالیٰ ہر ایک کو مَنْ جَدَّ، وَجَدَ کا تحفہ عطا فرمائے: آمین بجاہ النبی الامین صلوات اللہ تعالیٰ علیہ وسلامہ فی کل آن وحین۔
ہندوستان ایک جمہوری و سیکولر ملک (Democratic & Secular Country) ہے۔ دستور ہند میں اس کا نام بھی ہندوستان نہیں، بلکہ انڈیا اور بھارت تحریر کیا گیا ہے۔ ملک کو بھارت نام دینے پر بھی بعض لوگ خفا ہیں۔ دستور ہند کا سب سے پہلا جملہ ہے: ”انڈیا یعنی بھارت ریاستوں کی ایک یونین ہوگا۔“
"India, that is Bharat, shall be a Union of States." [The Constitution of India, p. 2]
جن علوم و فنون کے سبب آج اہل یورپ خود کو تمام اہل عالم سے زیادہ ترقی یافتہ سمجھتے ہیں، وہ ہماری وراثت ہیں۔ آج بھی ہمیں علوم شرعیہ کے ساتھ علوم حاضرہ کی جانب متوجہ ہونا چاہئے۔ اگر غفلت شعاری قائم رہی تو اغیار افسر ہوں گے اور ہم چپراسی۔ افراد غیر انجینئر ہوں گے اور ہم مزدور۔ سکھوں کی تعداد مسلمانوں سے بہت کم ہے لیکن ایک سکھ ڈاکٹر منموہن سنگھ کو دو بار وزیر اعظم کے عہدہ پر سرفراز کیا جا چکا ہے اور ابھی ایک سکھ جسٹس جگدیش سنگھ کھیہر (Jagdish Singh Khehar) کو سپریم کورٹ کا چیف جسٹس (4 جنوری 2017ء تا 27 اگست 2017ء) مقرر کیا گیا ہے۔
مسلمان ملک کی دوسری اکثریت (Second Majority) ہے۔ ہم میں سے کوئی آج تک وزیر اعظم نہ ہو سکا، بلکہ کشمیر کے علاوہ دیگر ریاستوں میں چیف منسٹر بھی چند ہی ہوئے، مثلاً مجاہد آزادی مسٹر عبدالغفور (1918ء- 2004ء) (سابق چیف منسٹر آف بہار - مدت وزارت علیا: جولائی 1973ء تا اپریل 1975ء — متوطن: گوپال گنج، بہار) اور سی ایچ محمد کویا (1927ء - 1983ء) (سابق چیف منسٹر آف کیرلا مدت وزارت علیا: 12 اکتوبر 1979ء تا یکم دسمبر 1979ء)۔
ہم نے سیاست و حکومت سے دوری اختیار کی تو محکومیت و غلامی ہماری مقدر بن گئی۔ جب ہم قلیل التعداد تھے تو گیارہ سو سال تک یہاں حکمراں رہے۔ آج تو ہماری بڑی تعداد ہے۔ اب قوم مسلم کو اقلیت (Minority) کی بجائے دوسری اکثریت (2nd Majority) کہنا مناسب ہے۔ آزاد ہندوستان کی ستر سالہ تاریخ میں قوم مسلم کے صرف چار افراد صدر جمہوریہ ہوئے، اور صرف چار اشخاص سپریم کورٹ آف انڈیا کے چیف جسٹس ہوئے۔ تفصیل حسب ذیل ہے:
صدور جمہوریہ
- (صدر سوم) ڈاکٹر ذاکر حسین (1897ء - 1969ء) — مدت: 13 مئی 1967ء تا 3 مئی 1969ء (عہد صدارت میں موت ہوئی)
- (صدر پنجم) محمد ہدایت اللہ (1905ء - 1992ء) — مدت: 20 جولائی 1969ء تا 24 اگست 1969ء (کارگزار صدر، سابق چیف جسٹس آف انڈیا)
- (صدر ہفتم) فخر الدین علی احمد (1905ء - 1977ء) — مدت: 24 اگست 1974ء تا 11 فروری 1977ء (عہد صدارت میں موت ہو گئی)
- (صدر چہاردہم) اے پی جے عبدالکلام (1931ء - 2015ء) — مدت: 25 جولائی 2002ء تا 25 جولائی 2007ء
چیف جسٹس آف انڈیا
- (گیارہواں چیف جسٹس) محمد ہدایت اللہ (1905ء - 1992ء) — مدت: 25 فروری 1968ء تا 16 دسمبر 1970ء (ایک ہزار پچیس دن - 1025)
- (پندرہواں چیف جسٹس) مرزا حمید اللہ بیگ (1913ء - 1988ء) — مدت: 28 جنوری 1977ء تا 21 فروری 1978ء (تین سو نواسی دن - 389)
- (چھبیسواں چیف جسٹس) عزیز مشبر احمدی (1932ء - تادم تحریر) — مدت: 25 اکتوبر 1994ء تا 24 مارچ 1997ء (آٹھ سو اکیاسی دن - 881)
- (انتالیسواں چیف جسٹس) التمش کبیر (1948ء - تادم تحریر) — مدت: 29 ستمبر 2012ء تا 18 جولائی 2013ء (دو سو برانوے دن - 292)
افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ جب کوئی مسلمان کسی اہم عہدہ پر فائز ہوتا ہے تو اسلامی علوم و شرعی احکام سے لاعلمی کی بنیاد پر وہ اسلام اور اسلامی قوانین کا شایان شان احترام نہیں کر پاتا، بلکہ بسا اوقات وہ خود ہی اسلامی قوانین و اصول پر تنقید کر دیتا ہے۔ کیرلا میں دینی تعلیم عام ہے۔ جب انڈین یونین مسلم لیگ (IUML) کے رہنما سی ایچ محمد کویا کیرلا کے چیف منسٹر ہوئے تو انہوں نے چند ماہ کی حکومت میں ہی مسلمانوں کی بے مثال خدمات انجام دیں۔ اس قلیل مدت میں انہوں نے حکومتی تعلیم گاہوں، اسکولوں اور کالجوں میں عربی زبان کا ایک شعبہ قائم کیا۔ عربی تعلیم کے لیے بہت سے مسلم علماء و فضلاء حکومتی اسکول و کالج میں معلم مقرر ہوئے۔ اس طرح مسلم طلباء کے لیے اسکولوں اور کالجوں میں بھی عربی تعلیم کا نظام قائم ہو گیا۔
شمالی ہند کے بعض مسلم عہدیداران، اسلام و مسلمین کی مخالفت کرتے ہیں، تاکہ انہیں سیکولر (Secular) کا لقب مل سکے۔ شاید ہندوستان میں سیکولرزم (Secularism) کا مفہوم ”اسلام کی مخالفت“ ہے۔ مذکورہ بالا افراد کا شمار مسلمانوں میں ہوتا ہے لیکن مسائل شرعیہ سے ناواقفیت کے سبب بعض مذکورین سے بعض خلاف شرع قول و عمل بھی صادر ہوئے ہیں، اور بعض نے عمدہ کارنامے بھی انجام دیے ہیں۔ مکتب کی تعلیم میں اصلاح کی سخت ضرورت ہے۔ شمالی ہند کے مکاتیب میں دینی تعلیم کا نظم قوی و مستحکم نہیں ہے۔ کیرلا کے پلی درس (Palli Dars) کی طرح مساجد و مکاتیب میں کلاس سسٹم قائم کر کے عمدہ دینی تعلیم کا نظم ہو۔ کیرلا میں سنی جمعیت العلماء (سمستھا کیرلا) کے زیر اہتمام باضابطہ مکتب کی تعلیم کے امتحانات منعقد ہوتے ہیں۔ مکتب میں اسکول کی طرح سلسلہ وار کلاسوں کا نظم ہے۔ ایک مستقل نصاب تعلیم ہے۔ شمالی ہند کے اقامتی مدارس اپنے علاقوں میں اصلاح مسلمین اور عام مسلم بچوں و بچیوں میں تعلیم دین کے فروغ و اشاعت کے لیے منصوبہ سازی کریں۔ اسکول، کالج، یونیورسٹی میں عصری و اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کی بھی ترغیب دی جائے۔
ہم نے ایسا نظام قائم کر رکھا ہے کہ دینی تعلیم پانے والا عصری تعلیم سے محروم رہتا ہے، اور عصری تعلیم پانے والا دینی تعلیم سے محروم۔ گاؤں و شہر کے مکاتیب کے لیے باضابطہ نصاب تعلیم تشکیل دیا جائے۔ تعلیم مکمل کرنے والے طلباء و طالبات کو دینیات کا سرٹیفکیٹ بھی دیا جائے، مساجد میں ائمہ کرام کے ساتھ چند مدرسین کی بھی تقرری ہو۔ اسی طرح ائمہ کرام و مدرسین کا مشاہرہ بھی عہد حاضر کے تقاضوں کو مد نظر رکھتے ہوئے متعین کیا جائے۔ جس طرح دیگر ضروریات کے لیے رقم خرچ کی جاتی ہے، اسی طرح خوش طبعی کے ساتھ مساجد و مکاتیب کے لیے بھی رقم دی جائے۔ جو راہ خدا میں دے دیا، وہی ذخیرہ آخرت ہے۔
جاری۔۔۔۔ [ماہنامہ پیغام شریعت دہلی، نومبر 2016، تعلیمی مسائل، قسط ہشتم، ص: 55 تا 58]
