Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

قرآنیات (سلسلہ 06)

قرآن مجید میں مذکور پرندے (باز یا شکاری پرندے)
عنوان: قرآن مجید میں مذکور پرندے (باز یا شکاری پرندے)
تحریر: مفتی خالد ایوب مصباحی شیرانی
پیش کش: مظفر حسین شیرانی

باز یا شکاری پرندے:

سورہ مائدہ میں لفظ ”اَلْجَوَارِحِ“ کہہ کر شکاری جانوروں کے شکار کی حلت بیان ہوئی ہے اور مفسرین کے مطابق کلام الہٰی میں مذکور لفظ ”اَلْجَوَارِحِ“ میں عموم ہے یعنی کتے وغیرہ درندے ہوں یا شکرا، باز، شاہین وغیرہ پرندے دونوں قسم کے شکاری جانوروں کے شکار اپنی شرطوں کے ساتھ حلال ہیں۔

شرطیں یہ ہیں کہ یہ شکاری جانور سدھائے ہوئے ہوں یعنی ان کی تربیت کر دی گئی ہو، اس طرح کہ جو شکار کریں اسے خود نہ کھائیں، جب شکاری انھیں شکار کے لیے چھوڑے، چلے جائیں اور جب بلائے تو واپس آجائیں۔ ایسے شکاری جانوروں کو اصطلاح شریعت میں معلَّم (یعنی سکھایا ہوا) کہتے ہیں۔

آیت کریمہ یہ ہے:

یَسْــٴَـلُوْنَكَ مَا ذَاۤ اُحِلَّ لَهُمْؕ-قُلْ اُحِلَّ لَكُمُ الطَّیِّبٰتُۙ-وَ مَا عَلَّمْتُمْ مِّنَ الْجَوَارِحِ مُكَلِّبِیْنَ تُعَلِّمُوْنَهُنَّ مِمَّا عَلَّمَكُمُ اللّٰهُ٘-فَكُلُوْا مِمَّاۤ اَمْسَكْنَ عَلَیْكُمْ وَ اذْكُرُوا اسْمَ اللّٰهِ عَلَیْهِ۪-وَ اتَّقُوا اللّٰهَؕ-اِنَّ اللّٰهَ سَرِیْعُ الْحِسَابِ۔ [المائدة: 4]

اے محبوب! تم سے پوچھتے ہیں کہ اُن کے لیے کیا حلال ہوا؟ تم فرما دو کہ حلال کی گئیں تمھارے لیے پاک چیزیں اور جو شکاری جانور تم نے سدھا لیے جنھیں شکار پر دوڑاتے ہو اس علم کے مطابق جو تمھیں خدا نے دیا، اس میں سے انھیں سکھاتے ہو تو کھاؤ اس میں سے جو وہ شکار کر کے تمھارے لیے رہنے دیں اور اس پر اللہ کا نام لو اور اللہ سے ڈرتے رہو، بے شک اللہ کو حساب کرتے دیر نہیں لگتی۔

صراط الجنان میں بغوی کے حوالے سے اس آیت کا پس منظر یہ ہے:

یہ آیت حضرت عدی بن حاتم اور حضرت زید بن مہلہل رضی اللہ تعالی عنہما کے حق میں نازل ہوئیں، جن کا نام سرکارِ دوعالم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے ”زَيْدُ الْخَيْرْ“ رکھا تھا۔ ان دونوں صاحبوں نے عرض کیا: یا رسولَ اللہ! صلی اللہ تعالی علیہ وسلم ہم لوگ کتے اور باز کے ذریعے شکار کرتے ہیں تو کیا ہمارے لیے حلال ہے؟ اس پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی۔ [بغوی، سورة المائدة]

یوں تو ویکیپیڈیا کے مطابق پرندوں کی کوئی 10/ ہزار قسمیں بتائی جاتی ہیں، جن میں شکاری پرندوں کی بھی ٹھیک ٹھاک تعداد ہے، ظاہر ہے ان سب کی تفصیل بیان کرنا ممکن نہیں لیکن انسانی دنیا معزز شکاری پرندوں کے طور پر جن شکاری پرندوں کا استعمال کرتی اور جنھیں معلم بناتی رہی ہے، وہ مشہور پرندے عقاب اور شاہین وغیرہ ہیں۔ ہم یہاں بطور مشتے نمونہ از خروارے انھی دونوں اقبالی پرندوں کی خصوصیات بیان کر رہے ہیں:

عقاب (Eagle):

عقاب ایک عظیم الشان شکاری پرندہ ہے جو اپنی طاقت، نظر کی تیزی، اور شکار کے منفرد طریقوں کی وجہ سے مشہور ہے۔

  1. عقاب کی نظر انسان کے مقابلے 4 - 8 گنا تیز ہوتی ہے، جس کی وجہ سے یہ زمین پر چلنے والے شکار کو بلندی سے بخوبی دیکھ سکتا ہے۔
  2. عقاب کے پنجے اتنے مضبوط ہوتے ہیں کہ یہ اپنے جسم کے وزن سے تین گنا زیادہ وزن اٹھا سکتا ہے اور اسی وجہ سے یہ شکار کو بڑی مضبوطی سے پکڑنے میں ماہر ہوتا ہے۔
  3. عقاب کا طرز شکار یہ ہوتا ہے کہ یہ بلند پہاڑوں یا درختوں پر بیٹھ کر شکار کا جائزہ لیتا ہے اور حسب موقع تیزی سے جھپٹا مار کر اسے پنجوں سے قابو کر لیتا ہے۔
  4. عقاب فضا میں 10,000 فٹ سے زیادہ بلندی پر پرواز کر سکتا ہے۔
  5. یہ طویل فاصلوں پر مسلسل پرواز کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
  6. عقاب کی عمر 20 - 30 سال ہو سکتی ہے اور بعض اوقات یہ 70 سال تک بھی زندہ رہ سکتا ہے۔
  7. عقاب ماحولیاتی توازن برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے کیوں کہ یہ کم زور اور بیمار جانوروں کا شکار کرتا ہے۔

شاہین (Falcon):

شاہین ایک نہایت تیز رفتار اور شان دار شکاری پرندہ ہے، جو اپنے شکار کے لیے انتہائی مخصوص طریقے اپناتا ہے۔

  1. شاہین دنیا کا تیز ترین پرندہ ہے۔ یہ شکار کے وقت 390 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے جھپٹ سکتا ہے، یہ وہ رفتار ہے جس میں کوئی پرندہ اس کا مماثل نہیں۔
  2. شاہین بلندی سے شکار پر حملہ کرتا ہے، جسے ”stooping“ کہتے ہیں۔ یہ اپنے پروں کو خاص زاویے پر رکھ کر جھپٹتا ہے۔
  3. شاہین کے پروں کا انداز ایسا ہوتا ہے کہ یہ لمبی اور گہری پروازوں کے باوجود ہوا میں خود کو مکمل کنٹرول کر سکتا ہے۔
  4. شاہین شکار کو مارنے کے لیے اپنے پنجوں کی بجائے چونچ کا استعمال کرتا ہے اور شکار کی گردن یا سر کو نشانہ بناتا ہے۔
  5. شاہین کو شکاری پرندوں میں سب سے زیادہ تربیت یافتہ سمجھا جاتا ہے، اور اسے بازاری شکار کے لیے بہترین سمجھا جاتا ہے۔
  6. یہ پرندہ بہت ذہین ہوتا ہے اور شکار کے وقت اپنی حکمت عملی تبدیل کر سکتا ہے۔
  7. عرب دنیا میں شاہین پالنا اور اس سے شکار کرنا عزت اور حیثیت کی علامت سمجھا جاتا ہے۔

ہم نے ان دونوں پرندوں کو اقبالی پرندہ اس لیے کہا کہ شاعر قرآن، ترجمان مشرق، ڈاکٹر محمد اقبال (ولادت: 9/ نومبر 1877 – وفات: 21/ اپریل 1938) نے اپنی شاعری میں بلند ہمتی، خودی، غیرت مندی اور جہد مسلسل کے لیے بطور استعارہ دونوں پرندوں کے ناموں اور کاموں کا بکثرت استعمال کیا ہے، جسے پڑھنے سے جہاں ایک خاص قسم کا موٹیویشن ملتا ہے، وہیں ان پرندوں کو قدرت کی طرف سے ودیعت کردہ اوصاف کمال کی بھی خوب نشان دہی ہوتی ہے، پڑھیے:

اقبال کی نظم ”نصیحت“ میں ہے:

بچۂ شاہیں سے کہتا تھا عقابِ سال خورد
اے ترے شہپر پہ آساں رفعتِ چرخِ بریں

ہے شباب اپنے لہُو کی آگ میں جلنے کا نام
سخت کوشی سے ہے تلخِ زندگانی انگبیں

جو کبوتر پر جھپٹنے میں مزا ہے اے پِسَر!
وہ مزا شاید کبوتر کے لہُو میں بھی نہیں

نظم ”باغی مرید“ میں نا اہل پیروں کے متعلق ہے:

میراث میں آئی ہے انھیں مسندِ ارشاد
زاغوں کے تصّرف میں عقابوں کے نشیمن!

نظم چیونٹی اور عقاب کے مکالمے میں ہے:

چیونٹی

مَیں پائمال و خوار و پریشان و دردمند
تیرا مقام کیوں ہے ستاروں سے بھی بلند؟

عقاب

تُو رِزق اپنا ڈھُونڈتی ہے خاکِ راہ میں
مَیں نُہ سِپِہر کو نہیں لاتا نگاہ میں!

نظم ”ایک نوجوان کے نام“ میں ہے:

عقابی رُوح جب بیدار ہوتی ہے جوانوں میں
نظر آتی ہے اس کو اپنی منزل آسمانوں میں

نہ ہو نومید، نومیدی زوالِ علم و عرفاں ہے
اُمیدِ مردِ مومن ہے خدا کے راز دانوں میں

نہیں تیرا نشیمن قصرِ سُلطانی کے گُنبد پر
تو شاہیں ہے، بسیرا کر پہاڑوں کی چٹانوں میں

طویل نظم ”طلوع اسلام“ میں کہتے ہیں:

عقابی شان سے جھپٹے تھے جو، بے بال و پر نکلے
ستارے شام کے خُونِ شفَق میں ڈُوب کر نکلے

جبکہ شاہین کے لیے اقبال نے جداگانہ اشعار اور استعاروں کے علاوہ ایک مستقل نظم بھی لکھی ہے اور یہاں وہی کافی ہے، جس میں اس کی خوبیوں کی بھرپور ترجمانی ہو جاتی ہے اور آخری شعر میں تو گویا قلم توڑ دیا ہے، پوری نظم پڑھیے:

کِیا میں نے اُس خاک داں سے کنارا
جہاں رزق کا نام ہے آب و دانہ

بیاباں کی خلوت خوش آتی ہے مجھ کو
ازل سے ہے فطرت مری راہبانہ

نہ باد بہاری، نہ گُلچیں، نہ بُلبل
نہ بیماریِ نغمۂ عاشقانہ

خیابانیوں سے ہے پرہیز لازم
ادائیں ہیں ان کی بہت دلبرانہ

ہوائے بیاباں سے ہوتی ہے کاری
جواں مرد کی ضربتِ غازیانہ

حمام و کبوتر کا بھُوکا نہیں مَیں
کہ ہے زندگی باز کی زاہدانہ

جھپٹنا، پلٹنا، پلٹ کر جھپٹنا
لہُو گرم رکھنے کا ہے اک بہانہ

یہ پورب، یہ پچھم چکوروں کی دنیا
مِرا نیلگوں آسماں بیکرانہ

پرندوں کی دُنیا کا درویش ہوں مَیں
کہ شاہیں بناتا نہیں آشیانہ۔ (جاری ۔۔۔ )

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!