Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

رمی، قربانی اور حلق میں ترتیب کا مسئلہ، ایک علمی جائزہ

رمی، قربانی اور حلق میں ترتیب کا مسئلہ، ایک علمی جائزہ
عنوان: رمی، قربانی اور حلق میں ترتیب کا مسئلہ، ایک علمی جائزہ
تحریر: محمد ابرار عالم مصباحی
پیش کش: لباب اکیڈمی

حج ۲۰۲۶ء کے موقع پر سعودی عرب کی طرف سے حاجیوں کے لئے بعض نئے ضابطے نافذ کئے گئے جن میں ایک اہم تبدیلی یہ ہے کہ اس سال کوئی بھی حاجی نجی طور پر یا اپنے ٹور آپریٹرز کے ذریعے قربانی نہیں کر سکے گا، بلکہ سب کی قربانیاں سرکاری نظام کے تحت انجام دی جائیں گی۔

اس نئی صورت حال کی وجہ سے فقہ حنفی پر عمل کرنے والے حاجیوں کو عملی طور پر کچھ پیچیدگیاں پیش آ سکتی ہیں۔ مثلاً رمی کرنے کے بعد وہ حلق کرا لے جب کہ ابھی اس کی قربانی نہیں ہوئی تھی، یا اس کے رمی کرنے سے پہلے ہی اس کی قربانی ہوگئی وغیرہ یعنی ترتیب کی رعایت ایک مشکل مسئلہ ہو جائے گا۔ اس لئے برصغیر کے اکابر مفتیانِ عظام نے اپنے اپنے طور پر حاجیوں کے لئے شرعی رہنمائی فراہم کی، اللہ کریم ان سب کو جزائے خیر عطا فرمائے۔

تاہم افسوس کی بات یہ ہے کہ ان سب کے درمیان بعض حلقوں سے احناف کے موقف کہ ”ان امور میں ترتیب واجب ہے“ پر دلخراش تنقیدیں بھی کی گئیں۔ حالانکہ یہ موقف محض رائے نہیں، بلکہ مضبوط شرعی دلائل پر قائم ہے۔ اس لئے مناسب معلوم ہوا کہ اس مسئلے کی حقیقت کو قرآن و احادیث کی روشنی میں نہایت اختصار مگر وضاحت کے ساتھ پیش کیا جائے تاکہ عام مسلمان بھی اختلاف کی نوعیت اور ہر موقف کے دلائل کو سمجھ سکیں۔

بے شک اللہ ہی خیر کی توفیق بخشنے والا ہے۔

حج میں رمی، قربانی اور حلق کے درمیان ترتیب واجب ہے یا نہیں؟

حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں:

وَقَفَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ بِمِنًى لِلنَّاسِ يَسْأَلُونَهُ، فَجَاءَهُ رَجُلٌ فَقَالَ: لَمْ أَشْعُرْ فَحَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَذْبَحَ، فَقَالَ: اذْبَحْ وَلَا حَرَجَ. ثُمَّ جَاءَ آخَرُ فَقَالَ: لَمْ أَشْعُرْ فَذَبَحْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ، فَقَالَ: ارْمِ وَلَا حَرَجَ. قَالَ: فَمَا سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ شَيْءٍ قُدِّمَ وَلَا أُخِّرَ إِلَّا قَالَ: افْعَلْ وَلَا حَرَجَ

ترجمہ: حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حجۃ الوداع میں منیٰ میں لوگوں کے لیے کھڑے تھے اور لوگ مسائل پوچھ رہے تھے۔ ایک شخص نے عرض کیا: میں نے لاعلمی میں قربانی سے پہلے حلق کر لیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اب قربانی کر لو، کوئی حرج نہیں۔ پھر دوسرے شخص نے کہا: میں نے لاعلمی کی وجہ سے رمی سے پہلے قربانی کر لی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اب رمی کر لو، کوئی حرج نہیں۔ راوی کہتے ہیں: جس چیز کے بارے میں بھی تقدیم و تاخیر کے ساتھ سوال کیا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کر لو، کوئی حرج نہیں۔ [صحیح مسلم، کتاب الحج، باب من حلق قبل النحر او نحر قبل الرمی، حدیث: ۱۳۰۶]

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ:

سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَمَّنْ حَلَقَ قَبْلَ أَنْ يَذْبَحَ وَنَحْوَهُ، فَقَالَ: لَا حَرَجَ، لَا حَرَجَ

ترجمہ: حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے اس شخص کے بارے میں پوچھا گیا جس نے قربانی سے پہلے حلق کرا لیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: کوئی حرج نہیں ہے، کوئی حرج نہیں ہے۔ [صحیح بخاری، کتاب الحج، باب الذبح قبل الحلق، حدیث: ۱۷۲۱]

انہیں احادیث کی بنیاد پر امام مالک، سفیان ثوری، امام اوزاعی، امام شافعی، امام احمد، امام اسحاق اور امام ابویوسف و امام محمد وغیرہ کہتے ہیں کہ جس نے حج میں قربانی سے پہلے حلق کرا لیا اس پر دم یا کفارہ کچھ بھی لازم نہیں آئے گا۔ یعنی ان کے یہاں رمی، قربانی اور حلق کے درمیان ترتیب واجب نہیں بلکہ سنت ہے۔ جیسا کہ حدیث پاک سے ظاہر ہے۔ اور یہی موجودہ اہلِ حدیث کا بھی موقف ہے۔

احناف کا نظریہ اور ان کے دلائل:

احناف کے نزدیک رمی، قربانی اور حلق میں ترتیب واجب ہے، اگر کسی شخص نے رمی سے پہلے قربانی کر لی یا قربانی سے پہلے حلق کر لیا تو ترکِ واجب کی وجہ سے اس پر دم لازم ہوگا۔ جیسا کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود اور عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہم فرماتے ہیں کہ:

مَنْ قَدَّمَ شَيْئًا مِنْ حَجِّهِ أَوْ أَخَّرَهُ فَلْيُهْرِقْ لِذَلِكَ دَمًا

جس شخص نے حج کے اعمال میں سے کسی عمل کو آگے پیچھے کیا (یعنی ترتیب بدل دی)، تو اس پر اس کی وجہ سے ایک دم (قربانی) لازم ہے۔ [مصنف ابن ابی شیبہ، کتاب المناسک، باب فی الرجل یحلق قبل ان یذبح، حدیث: ۱۵۱۸۸]

قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

وَلَا تَحْلِقُوا رُءُوسَكُمْ حَتَّى يَبْلُغَ الْهَدْيُ مَحِلَّهُ

اور تم اپنے سر نہ منڈاؤ یہاں تک کہ قربانی اپنی جگہ پر پہونچ جائے۔ (یعنی قربانی ہوجائے) [سورہ بقرہ، آیت: ۱۹۶]

اس آیتِ کریمہ میں واضح طور سے قربانی سے پہلے حلق سے منع کر دیا گیا، اس سے معلوم ہوا کہ شریعت نے پہلے قربانی اور اس کے بعد حلق کی ترتیب مقرر فرمائی ہے۔

نیز ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَرِيضًا أَوْ بِهِ أَذًى مِنْ رَأْسِهِ فَفِدْيَةٌ مِنْ صِيَامٍ أَوْ صَدَقَةٍ أَوْ نُسُكٍ

جو شخص بیمار ہو یا اس کے سر میں کوئی تکلیف ہو [جس کی وجہ سے وہ قربانی سے پہلے ہی حلق کرا لے] تو روزے یا صدقہ یا قربانی کا فدیہ دے۔ [سورہ بقرہ، آیت: ۱۹۶]

اس آیتِ کریمہ میں اس شخص کا حکم بیان کیا گیا جو بیماری یا کسی اور مجبوری کی وجہ سے قربانی سے پہلے حلق کرا لے تو اس پر فدیہ لازم کیا گیا کہ وہ تین روزے رکھے یا چھ مساکین کو صدقہ دے یا پھر قربانی کرے۔ تو وہ شخص جس نے بغیر کسی عذر اور مجبوری کے قربانی سے پہلے حلق کرا لیا تو اس پر بدرجہ اولیٰ دم لازم ہوگا۔ اور یہی امامِ اعظم ابو حنیفہ کا موقف ہے۔

ان دلائل سے واضح ہوا کہ امامِ اعظم ابوحنیفہ کا نظریہ قرآن و حدیث کے بالکل موافق ہے۔

احادیث ”لا حرج“ کا جواب

اب رہی یہ بات کہ حجۃ الوداع میں جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ لوگوں نے سوال کیا کہ ”میں نے قربانی سے پہلے حلق کرا لیا“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”کوئی حرج نہیں ہے، اب قربانی کر لو“ اس کا کیا جواب ہے؟

علامہ بدر الدین عینی لکھتے ہیں:

ثُمَّ أَجَابَ أَبُو حَنِيفَةَ عَنْ حَدِيثِ الْبَابِ وَنَحْوَهُ أَنَّ الْمُرَادَ بِالْحَرَجِ الْمَنْفِيِّ هُوَ الْإِثْمُ وَلَا يَسْتَلْزِمُ ذَلِكَ نَفْيَ الْفِدْيَةِ. وَقَالَ الطَّحَاوِيُّ: هَذَا ابْنُ عَبَّاسٍ أَحَدُ مَنْ رَوَى عَنِ النَّبِيِّ أَنَّهُ مَا سُئِلَ يَوْمَئِذٍ عَنْ شَيْءٍ قُدِّمَ وَلَا أُخِّرَ مِنْ أَمْرِ الْحَجِّ إِلَّا قَالَ: لَا حَرَجَ. فَلَمْ يَكُنْ مَعْنَى ذَلِكَ عِنْدَهُ عَلَى الْإِبَاحَةِ فِي تَقْدِيمِ مَا قَدَّمُوا وَلَا تَأْخِيرِ مَا أَخَّرُوا مِمَّا ذَكَرْنَا أَنَّ فِيهِ الدَّمَ، وَلَكِنْ مَعْنَى ذَلِكَ عِنْدَهُ عَلَى أَنَّ الَّذِي فَعَلُوهُ فِي حَجَّةِ النَّبِيِّ كَانَ عَلَى الْجَهْلِ بِالْحُكْمِ فِيهِ كَيْفَ هُوَ، فَعَذَرَهُمْ لِجَهْلِهِمْ، وَأَمَرَهُمْ فِي الْمُسْتَأْنَفِ أَنْ يَتَعَلَّمُوا مَنَاسِكَهُمْ

پھر امام ابو حنیفہ نے اس باب کی حدیث اور اس جیسی دوسری احادیث کا یہ جواب دیا کہ وہاں جس ”حرج“ کی نفی کی گئی ہے، اس سے مراد گناہ کی نفی ہے، اور اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ فدیہ بھی ساقط ہو جائے۔ [جیسے مجبوری کی صورت میں قربانی سے پہلے حلق کرا لینے میں حرج نہیں ہے، لیکن فدیہ ساقط نہیں ہوگا۔ ابرار]

اور امام طحاوی نے فرمایا: یہ ابن عباس رضی اللہ عنہما ہیں، جو ان لوگوں میں سے ہیں جنہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا کہ اُس دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے حج کے کسی ایسے عمل کے بارے میں سوال نہیں کیا گیا جسے آگے یا پیچھے کر دیا گیا ہو، مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی حرج نہیں۔ لیکن ابن عباس رضی اللہ عنہما کے نزدیک اس کا یہ مطلب نہیں تھا کہ اعمالِ حج کو آگے پیچھے کرنا مطلقاً جائز ہے، یا ان صورتوں میں دم واجب نہیں ہوگا جن کا ہم ذکر کر چکے ہیں، بلکہ ان کے نزدیک اس کا مطلب یہ تھا کہ جن لوگوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حج میں ایسا کیا، انہوں نے یہ حکم نہ جاننے کی وجہ سے کیا تھا، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے جہل کی بنا پر انہیں معذور قرار دیا، اور آئندہ کے لیے انہیں حکم دیا کہ اپنے مناسکِ حج سیکھیں۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!