| عنوان: | رسوماتِ محرم اور ان کے احکام (قسط:دوم) |
|---|---|
| تحریر: | ڈاکٹر فیض احمد چشتی |
| پیش کش: | بنت محمد صدیق |
محترم قارئینِ کرام! یہ شرعی مسئلہ ہے شرعی مسئلے کو شریعت کی روشنی میں دیکھیں، اسے کسی تعصب کی نذر نہ کریں، باقی احترامِ دس محرم الحرام مدِ نظر رہے کیونکہ اس دن اہلِ بیتِ اطہار اور سیدنا امام حسین علیہم السلام اور آپ کے رفقا رضی اللہ عنہم کی عظیم شہادتیں ہوئی ہیں۔ جس چیز کے بارے میں کوئی مخصوص حکم نہ ہو تو وہ کام اصل کے اعتبار سے مباح ہوتا ہے اور علمائے کرام کے مابین یہ متفق علیہ قاعدہ ہے کہ عادات میں جب تک حرمت کی دلیل نہیں ملتی تو اصل جواز ہی ہے، چنانچہ کتاب و سنت، اجماع، یا قیاس اور آثار وغیرہ میں ایسی کوئی بات نہیں ملتی جو ماہِ محرم میں نکاح وغیرہ سے مانع ہو، اس لیے اباحتِ اصلیہ کی بنا پر ماہِ محرم یا کسی بھی ماہ میں نکاح جائز ہے۔
محرم الحرام میں شادی بیاہ و دیگر تقریبات کو ممنوع اور باعثِ نحوست سمجھنا (غلط ہے)، حالانکہ بعض روایات کے مطابق حضرت علی اور سیدہ فاطمہ زہرا رضی اللہ عنہا کا نکاح محرم الحرام میں ہی ہوا تھا، بعض لوگ محرم الحرام میں شادی کرنے کو برا تصور کرتے ہیں اور اسے بدشگونی (اپنے حق میں برا) قرار دیتے ہیں، اسی طرح دیگر جائز کاموں کو ناجائز سمجھنا یا غیر شرعی رسومات کا اچھا شگن سمجھنا یعنی اپنے حق میں بہتر جاننا، ایسے لوگوں کے لیے سخت وعیدیں وارد ہوئی ہیں، چنانچہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین بار ارشاد فرمایا کہ بدشگونی شرک (یعنی مشرکوں جیسا کام) ہے اور ہمارے ساتھ اس کا کوئی تعلق نہیں، اللہ تعالیٰ اسے توکل کے ذریعے دور کر دیتا ہے۔ [سنن ابو داؤد، کتاب الطب، باب في الطيرۃ، ج: 4، ص: 23، الحدیث: 3910]
ایک اور روایت میں ہے: جس نے بدشگونی لی اور جس کے لیے بدشگونی لی گئی وہ ہم میں سے نہیں (یعنی ہمارے طریقے پر نہیں)۔ [معجم کبیر، ج: 18، ص: 162، حدیث: 355]
اس بارے میں علمائے کرام کا کم از کم اجماعِ سکوتی ہے، کہ ہمیں صحابہِ کرام رضی اللہ عنہم، تابعین، ائمہِ کرام علیہم الرحمہ اور ان کے علاوہ دیگر متقدمین یا متاخرین میں سے کوئی بھی ایسا عالم نہیں ملا جو اس ماہ میں شادی، بیاہ اور منگنی کو حرام یا کم از کم مکروہ ہی سمجھتا ہو۔ لہٰذا اگر کوئی منع کرتا ہے تو اس کی تردید کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ اس کے پاس کوئی دلیل نہیں ہے اور علمائے کرام میں سے کوئی بھی اس کے موقف کا قائل نہیں ہے، ہاں احترامِ دس محرم الحرام مدِ نظر رہنا چاہیے۔
امیر المؤمنین حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی حضرت فاطمۃ الزہراء رضی اللہ عنہا سے شادی اسی ماہِ مبارک میں ہوئی، اگرچہ اس قول کے علاوہ دیگر اقوال بھی ملتے ہیں۔ [تاریخ مدینۃ دمشق لابن عساکر، ج: 3، ص: 128، دار الفکر]
حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ اور حضرت سیدہ فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنہا کا نکاح سنہ 2 ہجری میں ہوا؛ البتہ اس میں اختلاف ہے کہ مہینہ کون سا تھا، تو اس میں تین طرح کے اقوال ملتے ہیں: محرم الحرام، صفر المظفر اور ذوالحجہ! ابن عساکر اور طبری رحمہما اللہ نے محرم الحرام کے مہینے میں نکاح ہونے کی روایت کو ترجیح دی ہے۔
ماہِ محرم کو ماتم اور سوگ کا مہینہ قرار دینا جائز نہیں، حدیث میں ہے کہ عورتوں کو ان کے خویش و اقارب کی وفات پر تین دن ماتم اور سوگ کرنے کی اجازت ہے اور اپنے شوہر کی وفات پر چار ماہ دس دن سوگ منانا ضروری ہے، دوسرا کسی کی وفات پر تین دن سے زائد سوگ منانا جائز نہیں، حرام ہے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:
لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ تُحِدَّ عَلَى مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلَاثِ لَيَالٍ إِلَّا عَلَى زَوْجٍ أَرْبَعَةَ أَشْهَرٍ وَعَشْرًا
ترجمہ: جو عورت خدا اور قیامت کے دن پر ایمان رکھے، اس کے لیے جائز نہیں کہ کسی کی موت پر تین رات سے زیادہ سوگ کرے؛ مگر شوہر اس سے مستثنیٰ ہے کہ اس کی وفات پر چار ماہ دس دن سوگ کرے۔ [بخاری، ج: 2، ص: 803، پ: 22]
ماہِ محرم الحرام میں شادی وغیرہ کرنے کو نامبارک اور ناجائز سمجھنا سخت گناہ اور اہلِ سنت و جماعت کے عقیدے کے خلاف ہے، اسلام میں جن چیزوں کو حلال اور جائز قرار دیا گیا ہو، اعتقاداً یا عملاً ان کو ناجائز اور حرام سمجھنے میں ایمان کے ضائع ہونے کا خطرہ ہے، مسلمانوں کو چاہیے کہ روافض اور شیعہ سے پوری احتیاط برتیں، ان کی رسومات سے علیحدہ رہیں، ان میں شرکت حرام ہے۔
قاضی ثناء اللہ پانی پتی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں: ”مسلم را تشبہ بہ کفار و فساق حرام است“ یعنی: مسلمانوں کو کفار و فساق کی مشابہت اختیار کرنی حرام ہے۔ [ما لا بد منہ، ص: 131]
امام اہلِ سنت امام احمد رضا خان قادری رحمۃ اللہ علیہ سے ایک سوال ہوا کہ اہلِ سنت جماعت عشرہِ محرم الحرام کو نہ تو دن بھر روٹی پکاتے ہیں اور نہ جھاڑو دیتے ہیں، کہتے ہیں کہ بعدِ دفنِ تعزیہ روٹی پکائی جائے گی۔ (2) ان دس دن میں کپڑے نہیں اتارتے ہیں۔ (3) ماہِ محرم میں بیاہ شادی نہیں کرتے ہیں۔ (4) ان ایام میں سوائے امام حسن و امام حسین رضی اللہ عنہما کے کسی کی نیاز فاتحہ نہیں دلاتے ہیں، آیا یہ جائز ہے یا نہیں؟
ارشاد فرمایا: پہلی تینوں باتیں سوگ ہیں اور سوگ حرام ہے اور چوتھی بات جہالت ہے، ہر مہینہ، ہر تاریخ میں ہر ولی کی نیاز اور ہر مسلمان کی فاتحہ ہو سکتی ہے، واللہ تعالیٰ اعلم۔
اسی طرح اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان بریلوی علیہ الرحمہ نے ایک سوال کے جواب میں محرم الحرام میں امامِ عالی مقام کے نام کا فقیر بن کر بھیک مانگنا یا اپنے بچوں کو فقیر بنا کر بھیک منگوانے کو بھی ناجائز و حرام قرار دیا ہے۔ [فتاویٰ رضویہ، ج: 24، ص: 102]
مذکورہ دلائل سے یہ بات خوب سمجھ آتی ہے کہ جو رسومات شریعت کے دائرے میں ہیں، انہیں کرنے میں کوئی حرج نہیں جبکہ جو دائرہِ شریعت سے باہر ہوں ان کا کرنا شریعت کو ناپسند بلکہ بعض اوقات ناجائز و حرام تک پہنچ جاتا ہے، مسلمان کو چیزوں پر نہیں بلکہ اللہ کریم پر بھروسا رکھنے کا حکم ہے، اسی طرح محرم الحرام کے حوالے سے جن فرسودہ رسومات و توہمات کو بیان کیا گیا، اللہ پاک ہمیں ان سے کوسوں دور رکھے اور شہیدانِ کربلا کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے، آمین۔
مجموعی اعتبار سے یہ منظوم سوانحِ اعلیٰ حضرت کامیاب ترین سوانح ہے اور اردو کے منظوم سوانحی ادب میں امتیازی حیثیت کی حامل ہے، زبان، بیان، مواد، ہیئت، اسلوب، فصاحت و بلاغت، نفاست و لطافت، سلاست، شعریت، معنویت، روانی، سادگی، صفائی، برجستگی، شیفتگی، پاکیزگی وغیرہ سارے ادبی، شعری اور فنی محاسن اس میں موجود ہیں، اللہ رب العزت اپنے حبیبِ پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے صدقے، شاعرِ ذی وقار حضرت مولانا محبوب گوہر اسلام پوری صاحب کو جزائے خیر سے نوازے اور انہیں اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خاں قادری برکاتی محدث بریلوی علیہ الرحمہ کے علمی و ادبی و روحانی فیوض و برکات سے مالا مال فرمائے، آمین۔
[سنی دنیا، جولائی 2024ء، ص: 18]
