| عنوان: | علومِ اسلامیہ اور علومِ عصریہ کا امتزاج (قسط:اول) |
|---|---|
| تحریر: | طارق انور مصباحی |
| پیش کش: | ناہد فاطمہ قادریہ |
گلہائے رنگا رنگ سے ہے زینتِ چمن
اے ذوق اس جہاں کو ہے زیب اختلاف سے
- کیا دینی تعلیمات کے ساتھ علومِ عصریہ کی تعلیم بھی ضروری ہے؟
- کیا مدارسِ اسلامیہ کے قدیم نصاب و نظام میں تبدیلی آنی چاہیے؟
اس طرح کے سوالوں کا جواب یہ ہے کہ قدیم نظامِ تعلیم زمانہِ ماضی کے اعتبار سے بالکل صحیح و مفید تھا، لیکن وہ عہدِ حاضر کے تقاضوں کو پورا نہیں کرتا، اس لیے اس میں ترمیم و تبدیلی اور حذف و اضافہ کرنا ہمارے لیے زیادہ مفید ہے۔ جس طرح قدیم طرزِ تعلیم سے عصری تقاضوں کی تکمیل نہیں ہوتی، اسی طرح قدیم مفکرین کے اقوال سے استناد مناسب نہیں۔
(1) ہند و پاک کے مدارس میں داخلِ نصاب، عقائدِ اسلامیہ کی مشہور ترین منفرد کتاب شرح العقائد النسفیہ میں علامہ سعد الدین تفتازانی (722ھ - 792ھ) نے تحریر فرمایا:
اَلرِّسَالَةُ وَهِيَ سَفَارَةُ الْعَبْدِ بَيْنَ اللهِ وَبَيْنَ ذَوِي الْأَلْبَابِ مِنْ خَلِيْقَتِهٖ لِيُزِيْحَ بِهَا عِلَلَهُمْ فِيْمَا قَصَرَتْ عَنْهُ عُقُوْلُهُمْ مِنْ مَّصَالِحِ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ. [شرح العقائد النسفیہ، ص: 132]
(ترجمہ) رسالت یہ ہے کہ بندہِ مخصوص اللہ تعالیٰ اور اس کے باشعور بندوں کے درمیان دنیاوی اور اخروی مصلحتوں سے متعلق سفارت کاری کرے، تاکہ وہ بندگانِ خدا کی ان برائیوں کو دور کر سکے، جن کو سمجھنے سے ان بندوں کی عقلیں قاصر ہیں۔
(2) امام نجم الدین نسفی (461ھ - 537ھ) نے لکھا:
وَقَدْ أَرْسَلَ اللهُ تَعَالٰى رُسُلًا مِّنَ الْبَشَرِ إِلَى الْبَشَرِ مُبَشِّرِيْنَ وَمُنْذِرِيْنَ وَمُبَيِّنِيْنَ لِلنَّاسِ مَا يَحْتَاجُوْنَ إِلَيْهِ مِنْ أُمُوْرِ الدُّنْيَا وَالدِّيْنِ. [شرح العقائد النسفیہ، ص: 133]
(ترجمہ) اللہ تعالیٰ نے انسانوں میں سے کچھ کو (اہلِ ایمان و اہلِ طاعت کو جنت اور ثواب کی) خوشخبری سنانے والے اور (اہلِ کفر اور گنہگاروں کو جہنم اور عذاب سے) ڈرانے والے، اور ان کے دین اور دنیا سے متعلق ضرورت والے امور کو بیان کرنے والے بنا کر بھیجا ہے۔ (یعنی ان امور کی تعلیم دینے انہیں رسول بنا کر بھیجا ہے، تاکہ بندگانِ الٰہی دنیا و آخرت کی بھلائیاں پا سکیں)
(3) شاہ عبد العزیز محدث دہلوی (1159ھ - 1239ھ) نے لکھا:
فِي النَّبِيِّ مَصَالِحُ لَا تُحْصٰى. [میزان العقائد مع شرح العقائد النسفیہ، ص: 185]
(ترجمہ) نبی (کے بھیجنے) میں بے شمار مصلحتیں ہیں۔
المختصر حضرات انبیائے کرام و مرسلینِ عظام علیہم الصلوٰۃ والسلام، دین کی بات بھی بتائیں گے اور دنیا کی باتیں بھی وہی بتائیں گے۔ نبی و رسول صرف دین بتانے کے لیے نہیں آئے، بلکہ رب تعالیٰ کے بندوں کو جن جن چیزوں کی ضرورت تھی، وہ تمام باتیں حضرات انبیائے کرام علیہم السلام کے ذریعہ بتا دی گئیں، پس جو نبی کا نائب ہو، انہیں بھی دینی علم کے ساتھ دنیاوی علوم کی بھی جانکاری ہو، تاکہ وہ قوم کی ہر طرح کی قیادت و رہنمائی کر سکے۔ مذہبی رہنمائی ہو یا سیاسی رہنمائی، سماجی قیادت ہو یا اقتصادی قیادت، تاکہ وہ امتِ مسلمہ کے لیے مرجع و مرکز بن جائے اور لوگوں کو اعمالِ صالحہ و عقائدِ حقہ کی جانب راغب کر سکے اور اہلِ اسلام کو اسلامی احکام کا متبع بنا سکے۔
(4) ہندوستان میں اہلِ سنت و جماعت کی عظیم تعلیم گاہ الجامعۃ الاشرفیہ (مجوزہ عربک یونیورسٹی) مبارکپور کے بانی حافظِ ملت علامہ حافظ عبد العزیز محدث مرادآبادی (1894ء - 1972ء) نے 1972ء میں الجامعۃ الاشرفیہ کی نشاۃِ جدیدہ کے بعد نصابِ تعلیم میں دینیات کے ساتھ عصری تعلیمات کو بھی شامل کیا اور اسی مقصد کی تکمیل کے لیے جناب آفتاب احمد خاں عزیزی ایم اے، بی ایڈ لیکچرر جامعہ ملیہ اسلامیہ دہلی کو مبارکپور بلا لیا۔ یہ بات خود ماسٹر آفتاب احمد خاں عزیزی نے کلاس روم میں ہم لوگوں سے بیان کی تھی۔ بعض عصری مضامین مثلاً انگریزی، حساب، تاریخ وغیرہ داخلِ نصاب بھی ہیں حافظِ ملت علیہ الرحمۃ والرضوان کو تعمیری مشاغل سے اتنی فرصت میسر نہ آسکی کہ تعلیمی امور کی جانب مکمل طور پر مائل ہو سکیں، پھر قصبہ مبارکپور سے باہر جامعہ اشرفیہ کی تعمیرِ جدید کے بعد انہیں زیادہ مہلت نہ مل سکی۔ قریباً چار سال کے اندر ہی وہ واصل الی اللہ ہو گئے: جَزَاهُ اللهُ تَعَالٰى خَيْرَ الْجَزَاءِ - آمین۔
(5) ہندوستان میں مسلمانانِ اہلِ سنت کے اعتقادی و علمی مرکز خانقاہِ عالیہ رضویہ کی جانب سے قائم کردہ تعلیم گاہ مرکز الدراسات الاسلامیہ جامعۃ الرضا بریلی شریف میں دینی و دنیوی مخلوط تعلیم کا نظم ہے، جیسا کہ اس ادارہ کے مطبوعہ پراسپیکٹس (Prospectus) میں صراحت ہے، اس میں نصابِ تعلیم کا خاکہ بھی مرقوم ہے، پھر دیگر بڑی تعلیم گاہوں میں یہ نظام کیوں نہیں رائج کیا جاتا؟ تعجب ہے اور افسوس بھی۔
(6) اسلام کے قرونِ اولیٰ کی طرف نظر دوڑائیں۔ حضرات خلفائے راشدین رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین، طریقت کے شیخ شریعتِ اسلامیہ کے مفتی اور سلطنت و حکومت کے انتظام و انصرام کے اعتبار سے مسلمانوں کے بادشاہ ہوا کرتے تھے۔ میدانِ جہاد میں مسلمانوں کا سپہ سالار، سالار ہونے کے ساتھ ساتھ مذہبی پیشوا اور نمازوں کا امام بھی ہوتا تھا۔
(7) خلافتِ عباسیہ کے عہدِ وسطیٰ سے تفریق شروع ہوئی۔ مذہبی امور کے لیے ”شیخ الاسلام“ کا ایک عہدہ وضع کیا گیا۔ خلیفۃ المسلمین مسلمانوں کے سیاسی رہنما ہوتے اور شیخ الاسلام مذہبی قائدِ اعظم۔ اس تفریق کا نتیجہ یہ نکلا کہ علمائے دین رفتہ رفتہ سیاسی و ملکی امور سے دور ہونے لگے۔ امر و احکام روز بروز دین و شریعت سے غافل ہوتے گئے اور اسلام یوماً فیوماً زوال پذیر ہوتا گیا، یہاں تک کہ خلافتِ عثمانیہ ترکیہ کے عہدِ اخیر میں کچھ ایسے حضرات، حکومتِ اسلامیہ کے ذمے دار عہدوں پر فائز ہوئے جو یوروپ سے اعلیٰ تعلیم حاصل کر کے آئے تھے۔ انہیں نہ دین کا علم تھا، نہ ہی دین سے محبت۔ انہوں نے نصف دنیا پر حکومت کرتی ہوئی خلافتِ عثمانیہ کی بنیادوں کو ہلا کر رکھ دیا۔
(8) الحاصل خالص دنیاوی تعلیم بھی مسلمانوں کے لیے ضرر رساں ہے اور محض دینی تعلیم سے بھی ہماری ساری ضروریات کی تکمیل نہیں ہو سکتی۔ دنیا میں مغربی طرزِ تعلیم کے شیوع سے قبل مذہبی اور غیر مذہبی تعلیم کی تفریق و تقسیم نہیں تھی، بلکہ علمائے کرام مذہبی تعلیم کے ساتھ دیگر علوم و فنون سے بھی آراستہ ہوتے تھے۔
(9) آج مسلمانوں کے لیے یہی شکل زیادہ مفید ہے کہ جو ہمارے مذہبی قائد ہوں، وہی ہمارے سیاسی و سماجی قائد بھی ہوں۔ ہماری آنے والی نسلوں کو ایسی تعلیم و تربیت سے آراستہ کیا جائے کہ وہ مذہبی رہنمائی بھی کر سکیں اور سماجی و سیاسی قیادت کی قابلیت بھی ان کے اندر ہو، جیسا کہ بعض مدارس میں طلبہ کی تربیت اسی نہج پر کی جا رہی ہے، تاکہ مسلمانوں کے دونوں ہاتھوں میں سعادت مندیاں نظر آئیں۔ ایک ہاتھ میں دین ہو تو دوسرے ہاتھ میں دنیا۔ قرآن نے بھی یہی پیغام دیا۔ ارشادِ الٰہی ہے کہ بندہ اس طرح رب تعالیٰ سے دعا کرے:
رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ [سورۃ البقرۃ: 201]
امامِ علم و فن کی تحقیق
امامِ علم و فن حضرت علامہ خواجہ مظفر حسین رضوی (1934ء - 2013ء) نے تحریر فرمایا: ”اب مستقبل میں آنے والا مجددِ مائۃِ حاضرہ ایسا شخص ہوگا جو جملہ مروجہ علوم و فنون پر کامل دسترس رکھنے کے ساتھ ساتھ وہ عصری علوم و فنون کا بھی ماہر ہوگا۔ انہیں سائنس، الیکٹرانک، ہیئت و ہندسہ، خلائے بسیط، فلکیات و ارضیات وغیرہ پر بھی ویسا ہی ملکہِ راسخہ ہوگا، جس طرح دینیات کے اصول و فروع اور نئے مسائل کے استنباط پر انہیں مہارتِ تامہ ہوگی۔“ [تحقیقاتِ امامِ علم و فن، ص: 447، امام احمد رضا اکیڈمی بریلی]
عوام الناس کا نظریہ
صدر الشریعہ علامہ امجد علی اعظمی (1878ء - 1948ء) نے مسائلِ افتا کی بحث میں تحریر فرمایا:
”اس زمانہ میں کہ علمِ دین کی عظمت لوگوں کے دلوں میں بہت کم باقی ہے، اہلِ علم کو اس قسم کی باتوں کی طرف توجہ کی بہت ضرورت ہے، جن سے علم کی عظمت پیدا ہو۔ اس طرح ہرگز تواضع نہ کی جائے کہ علم و اہلِ علم کی وقعت میں کمی پیدا ہو۔ سب سے بڑھ کر جو چیز تجربہ سے ثابت ہوئی، وہ احتیاج ہے۔ جب اہلِ دنیا کو یہ معلوم ہوا کہ ان کو ہماری طرف احتیاج ہے، وہیں وقعت کا خاتمہ ہوا۔“ [بہارِ شریعت، ج: 2، ص: 73]
درسِ نظامی میں علومِ عصریہ کی شمولیت کا سیاسی فائدہ
تادمِ تحریر وقتاً فوقتاً اسلامی مدارس کی تعلیم پر سوالات اٹھائے جاتے ہیں کہ مدارسِ اسلامیہ میں آخر کیا تعلیم ہوتی ہے؟ اور اس سوال کا پس منظر یہ ہے کہ کسی بھی مذہب میں مذہبی تعلیمات اتنی وسیع ترین نہیں جو ایک انسان کے تمام امور کو محیط ہو، خواہ مذہبی امور ہوں، یا سیاسی معاملات، سماجی مسائل ہوں یا اخلاقی احکام لیکن اسلامی قوانین و اصول عالمِ انسانیت کے تمام اطراف و جوانب کو محیط ہے۔ اس لیے اس کی تعلیم و تربیت کے لیے قریباً دس سال صرف ہوتے ہیں۔ چونکہ دیگر مذاہبِ عالم نہ اپنے اندر اس قدر وسعت رکھتے ہیں، نہ ہی ان مذاہب کی تعلیمات کو سمجھنے یا پڑھنے کے لیے اتنی طویل مدت درکار ہوتی ہے، پس ایسی صورتِ حال میں مدارسِ اسلامیہ کی تعلیمات سے متعلق سوال ہونا ایک فطری امر ہے۔
حالیہ چند سالوں میں بعض اسلام کے نام لیواؤں کی طرف دہشت گردانہ امور منسوب ہوئے اور اسلام کے ازلی و ابدی دشمن یہود و نصاریٰ نے اس کو ہوا دینا شروع کیا اور مذہبِ اسلام کو دہشت گردی کا مذہب قرار دیا جانے لگا۔ تمام مسلمانوں کو حتیٰ کہ مذہبِ اسلام کو بھی دہشت گردی کا مذہب باور کرانے کی سازش ہوئی۔ اس ضمن میں ہند و پاک کے مدارسِ اسلامیہ پر بھی انگشت نمائی کی گئی اور یہ انگشت نمائی مدارسِ اسلامیہ کے لیے مستقبل میں بہت بڑا خطرہ ہے۔ ابھی صرف بنیادی اینٹ رکھی گئی ہے۔ خدا نہ کرے، اگر مسلمان نہ جاگیں گے تو ان مدارس پر تالا بھی ڈالا جا سکتا ہے۔ قانونی طور پر مدارس کی تعمیر پر پابندیاں بھی عائد کی جا سکتی ہیں، جس طرح ہندوستان کی بعض ریاستوں مثلاً گوا وغیرہ میں بلا پرمیشن مساجد کی تعمیر پر پابندی عائد ہو چکی ہے۔ برادرانِ وطن! جاگنے کی کوشش کریں۔
ابھی سے سوالات ہو رہے ہیں:
- مدارس میں کیا تعلیم دی جاتی ہے؟
- پڑھنے کے بعد بچوں کا ذریعہِ معاش کیا ہوگا؟
- دینی تعلیم پڑھ کر وہ کیا کریں گے؟
بھائیو! یاد کرو کہ بابری مسجد سے متعلق انگلینڈ کے نصاریٰ یعنی انگریزوں نے ایک جھوٹی بات گڑھ کر تاریخ کی بعض کتابوں میں لکھ دیا کہ بابری مسجد کی جگہ کبھی رام مندر تھا، اسے توڑ کر بابری مسجد تعمیر کی گئی تھی۔ انگریزوں کے صرف ایک جھوٹ کے سبب سال 1992ء میں بابری مسجد توڑ دی گئی اور ہندوستان کی دو بڑی قومیں آپس میں ایک دوسرے سے ٹکرا گئیں۔ سارا ہندوستان جل اٹھا اور کب تک اس کے برے اثرات پائے جائیں گے، یہ اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے، حالانکہ اس کشت و خون سے کچھ فائدہ نہیں۔
اگر ہندوستان کی دونوں بڑی قومیں یعنی مسلم اور ہندو نیک نیتی کے ساتھ ملک کی بھلائیوں کے لیے اپنی ذہنی قوت اور مال و دولت خرچ کریں تو ہندوستان پھر ”سونے کی چڑیا“ ہو سکتا ہے، جیسا کہ ہندوستان کے مسلم سلاطین کے عہد میں ہندوستان دنیا کا ایک طاقتور اور مالدار ملک تھا لیکن آج جبکہ ساری دنیا ترقی، دولت، معیشت، قوت، علم، سائنس، ٹیکنالوجی میں ایک دوسرے سے بازی لے جانے کی کوشش میں ہے۔ اس دولت و خوشحالی کے زمانہ میں بھی ہندوستانی معیشت کا حال یہ ہے کہ ہندوستان میں بھکاریوں کی تعداد کم نہ ہو سکی۔ باشندگانِ وطن بلاوجہ ایک دوسرے کا خون بہا رہے ہیں۔ یہود و نصاریٰ نہ مسلمانوں کے دوست ہیں، نہ ہندؤوں کے خیر خواہ ہیں، پھر ان کی پالیسیوں پر عمل کر کے یا ان کے اشاروں پر ہم اپنا ملک کیوں تباہ کریں؟ ایک شاعر نے کیا خوب کہا:
نہ ہندو کا، نہ مسلمان کا
خون بہے گا ہندوستان کا
مسلمانو! جس طرح بابری مسجد پر انگریزوں نے ایک شوشہ چھوڑا، پھر اسی چنگاری نے آتش فشاں پہاڑ کا روپ دھار کر پورے ملک کو خاکستر کر دیا تھا، اسی طرح مدارسِ اسلامیہ پر بھی ایک غلط ریمارک (Remark) پیش کیا جا چکا ہے کہ مدارسِ اسلامیہ دہشت گردی کا اڈہ ہیں۔ اس لیے اب مدارسِ اسلامیہ کے تحفظ و بقا کا سوال ہے۔ اسلامی تعلیمات کو مابعد نسلوں تک منتقل کرنے کا سوال ہے۔ روس میں کمیونزم (Communism) کی ترقی کے بعد اسلامی تعلیمات پر پابندی عائد ہوئی تو آج تک وہاں کے مسلمان اسلامی تعلیمات سے ناواقف ہیں۔ وہ صرف اتنا جانتے ہیں کہ ہم مسلمان ہیں۔ مذہبِ اسلام کے نام کے علاوہ ان کو قرآن کی بھی تعلیم نہیں ملتی کہ وہ نماز پڑھ سکیں یعنی حکومتی پابندیوں کے سبب وہ صرف نام کے مسلمان ہو کر رہ گئے۔ پس مدارسِ اسلامیہ کے نصابِ تعلیم میں تبدیلی کی کوشش کی جائے۔ جب مدارسِ اسلامیہ میں معتدبہ مقدار علومِ عصریہ کی ہوگی تو ہم بتا سکیں گے کہ ہمارے یہاں دینی تعلیم کے ساتھ فلاں فلاں مضامین کی تعلیم ہوتی ہے۔ پھر جب مدارسِ اسلامیہ کے فارغین سماج اور حکومت کے مختلف شعبہ جات میں پہنچیں گے اور ہندوستانی اقوام انہیں دیکھیں گی تو ان شاء اللہ تعالیٰ انہیں اسلام کی خوبیاں بھی سمجھ میں آجائیں گی، اور مدارسِ اسلامیہ کو بھی وہ صحیح ڈھنگ سے سمجھ سکیں گے۔
[ماہنامہ پیغامِ شریعت دہلی، جولائی 2016ء، ص: 8]
