Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

صلح کلیت: تعارف، نقصانات اور تدارک (قسط: اول)

صلح کلیت: تعارف، نقصانات اور تدارک (قسط: اول)
عنوان: صلح کلیت: تعارف، نقصانات اور تدارک (قسط: اول)
تحریر: ڈاکٹر غلام مصطفیٰ نجم القادری
پیش کش: بنت اسلم برکاتی

میرے آقا سرورِ کونین صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلام کے جسم میں جب سے اپنی وجاہت کی روح پھونکی ہے، اس کے چہرے پر اپنے پیار کا غازہ ملا ہے اور اس کی پیشانی پر خدا کی پسندیدگی کا جھومر سجایا ہے، تب سے اس کے عروج و اقبال کا جوبن، اس کی واقعیت، قطعیت، جامعیت، ہمہ گیریت اور اثر پذیریت مخالفین کی نظر میں کھٹک رہی ہے۔ اس کی ترقی روکنے، اس کے عروج کے سامنے بند باندھنے کی کیا کیا سازشیں نہ ہوئیں، مگر یہ خدا کا دین تھا، چمکتا، مسکراتا، سلطنتِ دل پر حکومت کرتا اور اکنافِ عالم میں چھاتا ہی چلا گیا۔

ہر دور میں اس طرح کی مشکلات و مصائب کا سامنا ہوتا رہا۔ مگر یہ بھی زمینی حقیقت ہے کہ جب جب اسے بیخ و بن سے اکھاڑ پھینکنے کی سازش ہوئی، کوئی مردِ مومن پردہِ غیب سے اٹھا اور کشتی کی رفتار اور تیز کر دی۔ یہ بھی جگ ظاہر سچائی ہے کہ اسلام کو جتنا نقصان اپنوں سے پہنچا ہے، غیروں سے نہیں۔ اسلام صاف ستھری شبیہ کا مالک مذہب ہے۔ اس میں اپنوں اور بیگانوں میں تمیز کے لیے محکم اصول ہیں اور اسلام اس پر بھرپور توجہ دیتا ہے کہ اس کی شبیہ کو کسی طرح کا بھی کوئی صدمہ پہنچنے نہ پائے۔ جو اس کے علم بردار ہیں، اس کی اپنی پہچان اور ان کی ذات کا تشخص و عرفان سلامت رہے اور وہ دور سے پہچانے جائیں۔ جس طرح نور اور ظلمت الگ الگ ہیں، حق اور باطل میں کوئی یگانگت نہیں ہے، رات اور دن کا سفر جدا جدا ہے، ایسے ہی ایمان اور کفر، اسلام اور نفاق میں اصلاً اختلاط کی گنجائش کا بھی دھبہ نہ لگنے پائے۔

یہ خالص سونا ہے، معمولی سی ملاوٹ بھی اسے برداشت نہیں ہے۔ یہ اپنی بقا کے لیے اپنے دامن میں بعض قانون ایسے نرم و نازک رکھے ہوئے ہے کہ پھولوں کی نزاکت بھی قربان۔ اسی وجہ سے کسی درد مند آنکھ کے آنسو کا قطرہ زمین پر گرنے سے پہلے ہی اپنے دامن میں چن لیتا ہے اور بعض قانون ایسے فولادی رکھے ہوئے ہے کہ خاندان کے خاندان لٹ جانے پر بھی پیشانی پر کوئی بل نہیں۔

شفافیت اس کی شان اور بے مثلی اس کی جان ہے۔ اسلام کے یہی اوصاف غیروں کی آنکھ میں کانٹا بن کے چبھتے رہے ہیں اور آج بھی چبھ رہے ہیں۔ یوں تو ہر دور میں داخلی و خارجی ریشہ دوانیاں اس سے محاذ آرا ہوئیں۔ تاہم میں سمجھتا ہوں دورِ حاضر کا جو فتنہ اس کی شبیہ بگاڑنے کے درپے ہے وہ ہے ”فتنہِ صلح کلیت“ اس لیے ہم اسے تعارف، نقصانات اور تدارک تین حصوں میں تقسیم کر کے ہر ایک پر قدرے تفصیل سے روشنی ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں۔

تعارف:

صلح کلی کوئی مستقل مذہب نہیں ہے بلکہ ہر اس شخص کو کہتے ہیں جو بد مذہبوں، بے دینوں پر رد و تردید سے اپنی ناراضگی ظاہر کرے اور کہے کہ ہمیں کیا ضرورت ہے کہ ہم خواہ مخواہ بدمذہبوں، بے دینوں کا رد کر کے دنیا میں برے بنیں؟ خلاصہ یہ کہ جو سب کو اچھا سمجھے، سب کو ساتھ لے کر چلنے کی حمایت کرے، سب کے ساتھ تال میل رکھے، موجودہ اصطلاح میں وہ صلح کلی ہے۔

ہمیں افسوس ہے کہ ہندوستان میں سب سے پہلے جس شخص نے صلح کلیت کی بنیاد رکھی، وہ اکبر بادشاہ ہے۔ ہندو، مسلم، سکھ، عیسائی سب کو خوش رکھنے کی منحوس پالیسی کو روبہِ عمل لانے کے لیے چاروں دھرم سے جو قانون اچھا اور آسان لگا، اسے لے کر دینِ الٰہی کے نام سے اس نے نئے دین یعنی صلح کلیت کو نافذ کرنا چاہا۔

مذہبی تسلط کے نقطہِ نظر سے ہندوستان کی تاریخ کا یہ بڑا منحوس دن تھا، ورنہ تو یہ وہ ملک ہے کہ حضرت امیر خسرو نے اس کی فکری شفافیت کو دیکھ کر مچلتے ہوئے کہا تھا کہ خدا کا شکر ہے کہ ہم اس ملک کے رہنے والے ہیں، جس ملک کے دریا کی مچھلی بھی سنی ہے۔ دینِ الٰہی تو دو مردِ درویش حضرت مجدد الف ثانی اور حضرت شیخ محقق دہلوی کی فقیرانہ سوز و ساز اور مجاہدانہ للکار کی وجہ سے اپنے منطقی انجام کو پہنچ گیا، مگر صلح کلیت کی روح کہیں نہ کہیں دبی چنگاری کی طرح سلگتی رہی۔

زمانے نے کروٹ لی، اسی سرزمین پر جب انگریزوں کے ناپاک قدم آئے اور اس نے اپنے دلی عزائم کو زمین پر اتارنا چاہا، تو اپنے اہداف کی تحصیل کے لیے اس نے کیا سوچا کیا کِیا؟ پوری تاریخ کے سمندر کو ایک شعر کے کوزے میں جس طرح ڈاکٹر اقبال نے سمویا ہے، یہ انہی کا حصہ ہے، وہ کہتے ہیں:

وہ فاقہ کش جو موت سے ڈرتا نہیں ذرا
روحِ محمد اس کے بدن سے نکال دو

یہ روحِ محمد کیا ہے؟ یہ عشقِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم ہے۔ یہ مسلمانوں کی حیات کے لیے سرمایہِ حیات بھی ہے اور آبِ حیات بھی۔ یہ قوم زندہ اسی دولت کی بدولت ہے۔ انگریزوں نے اپنے منصوبے کی تکمیل کے لیے مسلم قوموں سے چند افراد کو چنا، سبز باغ دکھائے اور شیشے میں اتارا۔ پھر ان لوگوں نے دنیاوی عز و جاہ کے لالچ میں وہ وہ کِیا کہ جس کو سن، دیکھ اور پڑھ کر آج بھی حساس دل لرز اٹھتا ہے۔

ہندوستانی سیاسی تاریخ کا ایک بڑا مشہور نام ہے سر سید احمد خاں۔ سنیے! کس طرح یہ صاحب انگریزوں کے خواب کی تعبیر بن کر اٹھے، سُر میں سُر ملا کر ان کی بولی بولنے لگے۔ ”حیاتِ جاوید“ حصہ دوم، صفحہ 256 میں حالی پانی پتی نے سر سید کے عقائد و خیالات تحریر کیے ہیں۔ ان میں سے بطورِ نمونہ دو چار ہم پیش کر رہے ہیں:

  1. اجماعِ امت حجتِ شرعی نہیں۔
  2. تقلیدِ ائمہ واجب نہیں۔
  3. قرآن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی معجزے کے صادر ہونے کا ذکر نہیں۔
  4. فرشتوں کا الگ کوئی وجود نہیں۔
  5. مرنے کے بعد اٹھنا، حساب کتاب، میزان، پل صراط، جنت دوزخ وغیرہ وغیرہ سب مجاز پر محمول ہیں نہ کہ حقیقت پر۔

سر سید کے ان جیسے نظریات کی وجہ سے کسی نے مولوی اشرف علی تھانوی سے پوچھا: سر سید کی وجہ سے ہندوستان میں گڑبڑی پھیلی، لوگوں کے عقائد خراب ہوئے۔ جواب میں مولوی تھانوی نے فرمایا: گڑبڑ کیا معنی؟ اس شخص کی وجہ سے ہزاروں لاکھوں مسلمانوں کے ایمان تباہ اور برباد ہو گئے، ایک بڑا گمراہی کا پھاٹک کھول گیا۔ [الیومیہ، جلد: 5، ص: 84، ملفوظ: 151]

دبستانِ سید میں جو نام سب سے نمایاں ہے اور جسے سر سید کے دست و بازو بننے کا شرف حاصل ہے، وہ ہیں مسٹر الطاف حسین۔ الطاف حالی نے اپنی شعر و شاعری کے بل پر مسلمانوں میں انگریزی تعلیم کی طرف رغبت دلانے اور یورپین تہذیب پھیلانے میں کھل کر بھرپور کوشش کی اور ایک نیا مذہب چکڑالوی کا سنگِ بنیاد بھی رکھا۔

چکڑالوی کا عقیدہ یہ ہے کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی ہمیں کوئی ضرورت نہیں۔ (معاذ اللہ) مسٹر حالی اپنی مشہور کتاب ”مسدسِ حالی“ میں صفحہ 17 پر لکھتے ہیں:

نہیں بندہ ہونے میں کچھ مجھ سے کم تم
کہ بے چارگی میں برابر ہیں ہم تم

مجھے حق نے دی ہے بس اتنی بڑائی
کہ بندہ بھی ہوں اس کا اور ایک ایلچی بھی

دیکھیے کس بے دردی سے حالی نے عظمت و شانِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے کس قصرِ رفیع پر کاری ضرب لگانے کی مذموم سعی کی ہے۔ پہلے شعر کے پہلے مصرعے میں امتی کو نبی کے برابر کر دیا، حالانکہ چہ نسبت خاک را با عالمِ پاک؟ دوسرے مصرعے میں سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے اختیارات و تصرفات کا کھلم کھلا انکار کر کے کس غیرت فروشی سے حضور جانِ نور صلی اللہ علیہ وسلم کو بے چارہ کہہ دیا۔ دوسرے شعر میں بڑائی کی بات بھی کی تو بس اتنی کہ قاصد و سفیر بنا کر چھوڑ دیا۔ (معاذ اللہ) کیا نبی کے حق میں امتی کی ایسی ہی بولی ہوتی ہے؟ ضرور۔

کوئی معشوق ہے اس پردہِ زنگاری میں

حاصلِ گفتگو یہ ہے کہ سر سید کی طرح مسٹر حالی نے بھی مسلمانوں میں مذہبی اختلاف کی آگ بھڑکا کر انہیں ٹکڑے ٹکڑے کر دیا اور انگریز کی خطرناک پالیسی کو کامیاب بنایا۔ سر سید احمد خاں کے دوسرے توانا بازو مولوی شبلی اعظم گڑھی ہیں، جو یورپین چمک دمک سے مرعوب ہو کر انگریزی تہذیب، انگریزی تمدن اور انگریزی تعلیم کو عام کرنے کے لیے یوں نغمہ سرائی نہیں بلکہ ہرزہ سرائی کرتے ہیں:

سیارے ہیں اب نئی چمک کے
وہ ٹھاٹ بدل گئے اب فلک کے

تقویمِ کہن سے ہاتھ اٹھائیں
تہذیب کے دائرے میں آئیں

اس فیض سے ہم بھی بہرہ ور ہوں
ہم بھی اس کان کے گہر ہوں
[مثنوی صبحِ امید، شبلی اعظم گڑھی]

ماضی کی دلخراش تاریخ کا آئینہ ہم نے اس لیے دکھایا ہے کہ اکبر بادشاہ کی صلح کلیت کو نئی زندگی دینے میں یہی حضرات اور کچھ ان کے معاونین کا اہم رول ہے۔ ندوہ لکھنؤ، اکبر بادشاہ کے اسی دینِ الٰہی کا نیا ایڈیشن ہے۔ اکبر بھی چاہتا تھا کہ مسلک سے اوپر اٹھ کر سب کو خوش رکھیں، سب کو ساتھ لے کر چلیں اور سب کے ساتھ میل جول رہے اور ندوہ کی بھی یہی فکری اساس ہے۔

حضرت مفتی محمد ضیاء الدین پیلی بھیتی ان حقائق سے یوں پردہ اٹھاتے ہیں: دار الندوہ لکھنؤ، اسے مولوی شبلی، مولوی محمد علی کان پوری جیسے چند نیچری لیڈروں اور مولویوں نے قائم کیا۔ ندوی مذہب کا حاصل اور نچوڑ یہ ہے کہ جو شخص اسلام کا کلمہ پڑھتا ہو، خواہ اللہ تعالیٰ کو چھوٹا کہے یا قرآنِ مجید کو ناقص جانے، قیامت کا اقرار کرے یا انکار کرے، جنت دوزخ، حساب وغیرہ کو مانے یا نہ مانے۔۔۔ غرض کچھ بھی عقیدہ رکھے، بس کلمہ پڑھے، تو ندوہ کے نزدیک وہ مسلمان اور ندوہ کا ممبر ہے۔ [اعلامِ ضروری، ص: 6]

بتائیے ندوہ اکبر بادشاہ کے دینِ الٰہی کا چربہ ہے کہ نہیں؟ اور یہ صلح کلیت نہیں تو اور کیا ہے؟ اسی لیے مولوی انور شاہ کشمیری صدر مدرس دیوبند، ندوہ کے روحِ رواں شبلی نعمانی کے تعلق سے لکھتے ہیں: ”میں شبلی نعمانی کی بدعقیدگی اور بدمذہبی لوگوں کے سامنے اس لیے ظاہر کرتا ہوں کہ دینِ اسلام میں کافر کے کفر کو چھپانا جائز نہیں۔“ [مشکلات القرآن، ص: 32]

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!