Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

ضیائے حدیث

ضیائے حدیث
عنوان: ضیائے حدیث
تحریر: حضرت علامہ ضیاء المصطفیٰ قادری امجدی صاحب قبلہ المعروف حضور محدثِ کبیر مدظلہ العالی
پیش کش: مولانا محمد احمد برکاتی
منجانب: فردوس فاطمہ قادریہ بنت غلام مرتضٰی شیخ

(8) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجُعْفِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ عَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ دِيْنَارٍ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْإِيْمَانُ بِضْعٌ وَسِتُّوْنَ شُعْبَةً وَالْحَيَاءُ شُعْبَةٌ مِنَ الْإِيْمَانِ

ترجمہ: حضرت ابو ہریرہ راوی ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایمان کی ساٹھ سے کچھ اوپر شاخیں ہیں اور حیا بھی انہیں میں سے ہے۔

تشریح: عبد اللہ بن محمد جعفی نے کہا ہمیں حدیث سنائی ابو عامر عقدی نے کہ ہمیں حدیث سنائی سلیمان بن بلال نے عبد اللہ بن دینار سے روایت کر کے وہ ابو صالح سے وہ حضرت ابو ہریرہ سے وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ آپ نے فرمایا: ”الْإِيْمَانُ بِضْعٌ وَسِتُّوْنَ شُعْبَةً وَالْحَيَاءُ شُعْبَةٌ مِنَ الْإِيْمَانِ“

ایمان کے ساٹھ سے زیادہ شعبے ہیں، بضع کا لفظ تین سے لے کر نو تک کے لیے آتا ہے، مطلب یہ ہوا کہ انہتر شعبے ہیں، یہاں پر ”بضع و ستون“ یا مسلم کی روایت میں ”بضع و سبعون“ وغیرہ آئے یہ تعداد کے لیے نہیں ہے بلکہ کثرت کے لیے ہے جیسے فرمایا:

اِنْ تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ سَبْعِيْنَ مَرَّةً فَلَنْ يَّغْفِرَ اللّٰهُ لَهُمْ [التوبۃ: 80]

کہ اگر آپ ان کے یعنی منافقین و مشرکین کے لیے ستر بار بھی استغفار کریں گے تو اللہ ان کی مغفرت نہ کرے گا، اس کا معنی یہ نہیں ہے کہ ستر بار میں تو مغفرت نہیں کرے گا اکہتر بار ہو جائے تو مغفرت فرمائے گا بلکہ کثیر تعداد میں بھی آپ کریں (تو بھی اللہ مغفرت نہیں فرمائے گا) کثرت مراد ہے، یہ تو عرف میں بھی ہوتا ہے جیسے کہتے ہیں ”پچاس مرتبہ کہہ دیا مانتے ہی نہیں“ اس سے بیانِ کثرت مقصود ہے، تو ”بضع و ستون“ سے یہاں تعداد مراد نہیں ہے کہ اس کو گنا جائے جیسے دمیاطی اور امام بیہقی وغیرہ نے شعب الایمان نام کی کتابیں لکھیں اور یہ اشارہ کیا کہ یہ اناسی ہو گئے مگر جتنے لوگوں نے بھی اس کو شمار کیا سب جمع کر لیں تو وہ کئی سو ہو جائیں کیونکہ جتنے محدثین ہیں بعض شعبوں پر تو ان کی روایتیں متفق ہیں اور بعض شعبے ان کے ایک میں الگ ہیں اور دوسرے میں الگ ہیں تو اگر سب جمع کر لیا جائے تو سیکڑوں ہو جائیں، لہٰذا یہاں پر گنتی مقصود نہیں ہے بلکہ مقصود بیانِ کثرت ہے۔

”والحياء شعبة من الإيمان“ اور حیا ایمان کا ایک عظیم شعبہ ہے، اس کو الگ بیان کیا یہ بتانے کے لیے کہ حیا ایک ایسا شعبہ ہے جس کا تعلق ہر شعبے سے ہے کہ اگر حیا ہوگی تو آدمی ہر نیک عمل کو کرے گا اور اگر حیا نہیں ہوئی تو ”إِذَا لَمْ تَسْتَحِي فَاصْنَعْ مَا تَشَاءُ“ حیا آدمی کو گناہوں سے روکتی بھی ہے اور نیکیوں کی ترغیب بھی دیتی ہے اس بنا پر حیا کو ایک الگ شعبہ کے طور پر بیان کیا گیا یہ تخصیص بعد العمیم ہوئی کہ ادھر بہت سے شعبے ہیں ان میں سے ایک خاص شعبہ کو الگ سے بیان کیا اس کی خصوصیت بیان کی۔

یہاں پر حیا سے حیاءِ لغوی مراد نہیں ہے یعنی ”انكسار النفس عما يعاب عليه عند الناس“ لوگوں کی نظر میں جو چیز عیب ہوتی ہے اس کے کرنے کا خیال آنے پر آدمی کے اوپر ایک کیفیتِ انکساری یعنی ترکِ فعل کے لیے ایک کیفیت پیدا ہوتی ہے اس کو حیا کہتے ہیں، وہ حیا یہاں پر مراد نہیں ہے بلکہ حیاءِ شرعی مراد ہے اس میں یہ ہونا چاہیے کہ عند اللہ جو عیب ہے اس پر انکسارِ نفس ہو۔

امام بخاری نے اجمالی طور پر ایمان کے شعبوں کو کثیر تعداد میں ہونے کا امور الایمان کے باب میں بیان کیا۔ اب ان چیزوں کو الگ ابواب میں بھی شمار کر رہے ہیں اس میں ایک شعبہ یہ ہے ”المسلم من سلم المسلمون“۔

(4) باب الْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُوْنَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ.
مسلمان وہ ہے کہ مسلمانوں کو اس کی زبان اور اس کے ہاتھ سے سلامتی حاصل ہو۔

(9) حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ أَبِي السَّفَرِ وَإِسْمَاعِيْلَ عَنِ الشَّعْبِيِّ عَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ عَمْرٍو عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُوْنَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ وَالْمُهَاجِرُ مَنْ هَجَرَ مَا نَهَى اللّٰهُ عَنْهُ قَالَ أَبُوْ عَبْدِ اللّٰهِ وَقَالَ أَبُوْ مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ عَنْ عَامِرٍ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللّٰهِ بْنَ عَمْرٍو يُحَدِّثُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ عَبْدُ الْأَعْلٰى عَنْ دَاوُدَ عَنْ عَامِرٍ عَنْ عَبْدِ اللّٰهِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔

ترجمہ: عبد اللہ بن عمرو بن العاص روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ (کے گزند) سے مسلمان محفوظ رہیں حقیقی مہاجر وہ ہے جو ان تمام چیزوں سے پرہیز کرے جن سے اللہ نے منع کیا ہے۔

تشریح: آدم بن ابی ایاس نے کہا ہمیں حدیث سنائی شعبہ نے اور انھوں نے دو بزرگوں سے روایت کی ایک عبداللہ بن ابی السفر سے اور ایک اسماعیل بن خالد سے اور ان دونوں حضرات نے عامر شعبی سے، امام عامر شعبی تابعین میں سے ہیں اور امامِ اعظم کے شیوخ میں ہیں، عامر شعبی نے عبداللہ بن عمرو سے روایت کی وہ فرماتے ہیں کہ نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مسلمان وہ شخص ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے مسلمان سلامت رہیں
یعنی زبان اور ہاتھ سے مسلمانوں کو کوئی اذیت نہ پہنچائے۔

یہاں پر یہ بتانا مقصود ہوا کہ اعمال دو طرح کے ہوتے ہیں کچھ تو فعلیِ ترکی اور فعلی میں وہ ہوتے ہیں جو آدمی کے دل کی قوت سے ادا ہوتے ہیں جیسے محبت نفرت ہمدردی وغیرہ یہ سب دل میں پیدا ہوتے ہیں اور دل سے وہ کام کیے جاتے ہیں کچھ کام آدمی اپنی قوتِ بدنی سے کرتا ہے کچھ وہ جو قوتِ لسانی سے کرتا ہے تو ان سب کو الگ الگ بیان کرنا چاہتے ہیں۔

یہاں پر ایک فعلِ ترکی بیان کیا کہ مسلمانوں کو اپنے ہاتھ اور اپنی زبان سے کوئی اذیت نہ پہنچنے دے یعنی لوگوں پر ظلم کرنے سے اپنے آپ کو بچائے۔

اس میں زبان کو مقدم رکھا گیا کہ اس کی ایذا قریب اور بعید، حاضر اور غائب سب کو یہاں تک کہ موجود اور معدوم سب کو پہنچتی ہے کہ آدمی مرے ہوئے آدمی کو جو دفن ہو گیا ہے اس کو نہ مار سکتا ہے نہ اس سے کوئی چیز چھین سکتا ہے البتہ اس کو گالی دے سکتا ہے، اس طرح پر وہ سلامت نہ رہا اور ہاتھ کی ایذا قریب ہی کے لوگوں کو ہو سکتی ہے دور کے لوگوں کو نہیں ہو سکتی تو یہاں پر ہاتھ ہی مراد نہیں ہے بلکہ قوت مراد ہے ”ایذا“ ہی سے مشتق ہوا ”تائید“ تقویت پہنچانا، اس میں یہ نہیں ہے کہ زبان اور ہاتھ سے تو اذیت نہ پہنچنے دے مگر پیر خوب چلائے یہ معنی نہیں ہے، بلکہ زبان سے بھی اور اپنی قوتِ بدنی سے بھی اس کو محفوظ رہنے دے۔

”والمهاجر“ اور مہاجر وہ ہے جو اللہ کے روکے ہوئے کاموں کو چھوڑ دے یعنی اللہ نے جن کاموں سے روک دیا ان کاموں سے باز رہے، یہاں پر مہاجر سے مراد یہ نہیں ہے کہ جو آدمی گناہوں سے پرہیز کرتا ہو وہ سب مہاجرین میں شامل ہو جائیں گے بلکہ مطلب یہ ہے کہ مہاجرِ کامل وہی ہے جو کہ ہجرت بھی کرے اور تمام منہیات سے پرہیز بھی رکھے۔

”قال أبو عبد الله“ امام بخاری کہتے ہیں عامر شعبی مدلس ہیں اور مدلس کا عنعنہ متصل کے حکم میں نہیں ہوتا تو ”عامر عن عبد اللہ“ یہ عنعنہ ہے، اس لیے امام بخاری کہتے ہیں کہ یہاں تو عنعنہ ہے مگر ابو معاویہ نے ہمیں حدیث سنائی داؤد بن ابی ہند سے روایت کر کے وہ عامر شعبی سے روایت کرتے ہیں انہوں نے کہا ”سمعت عبد الله بن عمرو“ تو ایک روایت سے سماع ثابت ہو گیا، اب یہ حدیث عنعنہِ تدلیس سے محفوظ ہو گئی تو عنعنہ میں عبد اللہ بن عمرو سے ان کا سماع اس حدیث میں ثابت ہے۔

”وقال عبد الأعلى“ اور جب عبد الاعلیٰ نے اس حدیث کو داؤد بن ہند سے روایت کیا ”عن عامر“ تو پھر یہ عنعنہ ہے، مطلب یہ ہے کہ کبھی کبھی اس روایت کو عنعنہ کرتے تھے اور کبھی ”سمعت“ کا لفظ بھی استعمال کرتے کہ ڈائریکٹ ان سے سنی بیچ میں کوئی راوی ان سے چھوٹ نہیں رہا ہے اس لیے یہ حدیث معتبر ہے۔

(8) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجُعْفِيُّ قَالَ ثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ قَالَ ثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ عَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ دِيْنَارٍ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْإِيْمَانُ بِضْعٌ وَسِتُّوْنَ شُعْبَةً وَالْحَيَاءُ شُعْبَةٌ مِنَ الْإِيْمَانِ۔

ترجمہ: حضرت ابو ہریرہ راوی ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایمان کی ساٹھ سے کچھ اوپر شاخیں ہیں اور حیا بھی انہیں میں سے ہے۔

تشریح: عبد اللہ بن محمد جعفی نے کہا ہمیں حدیث سنائی ابو عامر عقدی نے کہ ہمیں حدیث سنائی سلیمان بن بلال نے عبد اللہ بن دینار سے روایت کر کے وہ ابو صالح سے وہ حضرت ابو ہریرہ سے وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ آپ نے فرمایا: ”الْإِيْمَانُ بِضْعٌ وَسِتُّوْنَ شُعْبَةً وَالْحَيَاءُ شُعْبَةٌ مِنَ الْإِيْمَانِ“

ایمان کے ساٹھ سے زیادہ شعبے ہیں، بضع کا لفظ تین سے لے کر نو تک کے لیے آتا ہے، مطلب یہ ہوا کہ انہتر شعبے ہیں، یہاں پر ”بضع و ستون“ یا مسلم کی روایت میں ”بضع و سبعون“ وغیرہ آئے یہ تعداد کے لیے نہیں ہے بلکہ کثرت کے لیے ہے جیسے فرمایا:

اِنْ تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ سَبْعِيْنَ مَرَّةً فَلَنْ يَّغْفِرَ اللّٰهُ لَهُمْ [التوبۃ: 80]

کہ اگر آپ ان کے یعنی منافقین و مشرکین کے لیے ستر بار بھی استغفار کریں گے تو اللہ ان کی مغفرت نہ کرے گا، اس کا معنی یہ نہیں ہے کہ ستر بار میں تو مغفرت نہیں کرے گا اکہتر بار ہو جائے تو مغفرت فرمائے گا بلکہ کثیر تعداد میں بھی آپ کریں (تو بھی اللہ مغفرت نہیں فرمائے گا) کثرت مراد ہے، یہ تو عرف میں بھی ہوتا ہے جیسے کہتے ہیں ”پچاس مرتبہ کہہ دیا مانتے ہی نہیں“ اس سے بیانِ کثرت مقصود ہے، تو ”بضع و ستون“ سے یہاں تعداد مراد نہیں ہے کہ اس کو گنا جائے جیسے دمیاطی اور امام بیہقی وغیرہ نے شعب الایمان نام کی کتابیں لکھیں اور یہ اشارہ کیا کہ یہ اناسی ہو گئے مگر جتنے لوگوں نے بھی اس کو شمار کیا سب جمع کر لیں تو وہ کئی سو ہو جائیں کیونکہ جتنے محدثین ہیں بعض شعبوں پر تو ان کی روایتیں متفق ہیں اور بعض شعبے ان کے ایک میں الگ ہیں اور دوسرے میں الگ ہیں تو اگر سب جمع کر لیا جائے تو سیکڑوں ہو جائیں، لہٰذا یہاں پر گنتی مقصود نہیں ہے بلکہ مقصود بیانِ کثرت ہے۔

”والحياء شعبة من الإيمان“ اور حیا ایمان کا ایک عظیم شعبہ ہے، اس کو الگ بیان کیا یہ بتانے کے لیے کہ حیا ایک ایسا شعبہ ہے جس کا تعلق ہر شعبے سے ہے کہ اگر حیا ہوگی تو آدمی ہر نیک عمل کو کرے گا اور اگر حیا نہیں ہوئی تو ”إِذَا لَمْ تَسْتَحِي فَاصْنَعْ مَا تَشَاءُ“ حیا آدمی کو گناہوں سے روکتی بھی ہے اور نیکیوں کی ترغیب بھی دیتی ہے اس بنا پر حیا کو ایک الگ شعبہ کے طور پر بیان کیا گیا یہ تخصیص بعد العمیم ہوئی کہ ادھر بہت سے شعبے ہیں ان میں سے ایک خاص شعبہ کو الگ سے بیان کیا اس کی خصوصیت بیان کی۔

یہاں پر حیا سے حیاءِ لغوی مراد نہیں ہے یعنی ”انكسار النفس عما يعاب عليه عند الناس“ لوگوں کی نظر میں جو چیز عیب ہوتی ہے اس کے کرنے کا خیال آنے پر آدمی کے اوپر ایک کیفیتِ انکساری یعنی ترکِ فعل کے لیے ایک کیفیت پیدا ہوتی ہے اس کو حیا کہتے ہیں، وہ حیا یہاں پر مراد نہیں ہے بلکہ حیاءِ شرعی مراد ہے اس میں یہ ہونا چاہیے کہ عند اللہ جو عیب ہے اس پر انکسارِ نفس ہو۔

امام بخاری نے اجمالی طور پر ایمان کے شعبوں کو کثیر تعداد میں ہونے کا امور الایمان کے باب میں بیان کیا۔
اب ان چیزوں کو الگ ابواب میں بھی شمار کر رہے ہیں اس میں ایک شعبہ یہ ہے ”المسلم من سلم المسلمون“۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!