| عنوان: | واقعہ معراج (نبی آخرالزماں صلی اللہ علیہ وسلم کا بے مثل اعجاز!) |
|---|---|
| تحریر: | ڈاکٹر غلام مصطفیٰ نجم القادری |
| پیش کش: | ام عروج فاطمہ بنت اکرام رضوی |
| منجانب: | جامعہ مصباح تاج الشریعہ، ردولی شریف، بہار |
واقعہ معراج: نبی آخرالزماں صلی اللہ علیہ وسلم کا بے مثل اعجاز!
وہ سرور کشور رسالت جو عرش پر جلوہ گر ہوئے تھے
نئے نرالے طرب کے ساماں عرب کے مہمان کے لیے تھے
حضور سرور کونین صلی اللہ علیہ وسلم کے خصائص میں اہم خصوصیت، فضائل میں بڑی فضیلت، اور معجزات میں عظیم معجزہ یہ واقعہ معراج ہے۔ یہ وہ شرف ہے جس سے کسی نبی کو مشرف، اور یہ وہ کرامت ہے جس سے کسی رسول کو مکرم نہ فرمایا گیا۔ جس مقام بلند تک آپ کی رسائی ہوئی اور جو کچھ آپ کو وہاں دکھایا گیا اور آپ نے بے تکلف بصر دیکھا، کوئی ہستی نہ وہاں پہنچی اور نہ کسی نے دیکھا، کسی کو بھی اس اعزاز سے سرفراز نہیں کیا گیا۔ احادیث صحیحہ اور اخبار صریحہ جو اس باب میں ہیں ان سے واضح ہے کہ بحالت بیداری جسم کے ساتھ آپ نے یہ سفر فرمایا، اور غایت سفر پر اپنے خدا کا دیدار فرمایا۔ یوں تو ٣٤ مرتبہ آپ معراج کی سعادت سے نوازے گئے مگر ان میں صرف یہی ایک معراج ہے جو بیداری اور جسم کے ساتھ ہوئی، باقی سب عالم خواب میں۔ معراج پہلے خواب میں اس لیے واقع ہوئی تاکہ بیداری میں اس سے کماحقہ لطف اندوز ہونے کی قوت و استعداد حاصل ہو جائے۔ معراج محمدی کے صدقے میں آج ہر انسان فخر کے ساتھ یہ کہہ سکتا ہے کہ ہماری نوع انسانی کا ایک فرد اتنا عظیم المرتبت ہوا ہے جو عالم بالا کی رفعتوں کو پامال کرتا ہوا عرش معلی سے بھی ماورا پہنچ گیا، لہذا آسمانوں اور اس پر جگمگاتے سیاروں کا سفر یہ کوئی نیا تجربہ نہیں ہے، سب سے پہلے محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم نے وہاں جا کر وہاں جانے کا راستہ کھول دیا ہے۔
ڈاکٹر محمد اقبال کہتے ہیں
سبق ملا ہے یہ معراج مصطفی سے ہمیں
کہ عالم بشریت کی زد میں ہے گردوں
معراج کب ہوئی:
اعلان نبوت کا بارہواں سال، رجب کی ٢٧ ویں رات تھی، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ام ہانی بنت ابوطالب کے گھر میں محو خواب ہیں کہ جبرئیل امین کو حکم ہوتا ہے اے جبرئیل اس رات آسمانوں کو سجا دو… نور کی چادریں بچھا دو… سب کے سب صف بہ صف کھڑے ہو جاؤ… اور تم خادمانہ لباس پہن لو اور ستر ہزار فرشتوں کو ساتھ لے لو… اس لیے آج رات حبیب کو قریب بلانے کا ارادہ ہے۔
حضرت رضا بریلوی فرماتے ہیں
وہاں فلک پر یہاں زمین میں، رچی تھی شادی مچی تھی دھومیں
ادھر سے انوار ہنستے آتے ادھر سے نفحات اٹھ رہے تھے
یہ چھوٹ پڑتی تھی ان کے رخ کی، کہ عرش تک چاندنی تھی چھٹکی
وہ رات کیا جگمگا رہی تھی جگہ جگہ نصب آئینے تھے
جبرئیل امین کی حاضری:
ستر ہزار فرشتوں اور ایک براق کے ساتھ حضرت جبرئیل امین حاضر دربار رسالت ہوئے۔ حضور کو خواب استراحت میں دیکھ کر حیران ہو رہے ہیں کہ جگائیں تو کیسے جگائیں؟ کہ رب کی طرف سے حکم آتا ہے ”يا جبرئيل قبل قدميه“ اے جبرئیل ان کے قدم ناز کو چومو!… حکم ملتے ہی جبرئیل امین اپنی کافوری آنکھیں اور ہونٹ سرکار کے پائے مبارک سے ملنے لگے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہوئے اور رب کا بشارت آگیں پیغام سنایا کہ رب تبارک و تعالی آپ کے شوق ملاقات میں منتظر ہے۔ یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دیدار الہی کے جو راستے حضرت کلیم پر بند تھے وہ پیارے حبیب آپ کے لیے کھول دیئے گئے ہیں۔
حضرت رضا بریلوی فرماتے ہیں
یہی سماں تھا کہ پیک رحمت خبر یہ لایا کہ چلئے حضرت
تمہاری خاطر کشادہ ہیں جو کلیم پر بند راستے تھے
شق صدر اور غسل:
تجلی حق کا سہرا سر پر سجانے سے پہلے حضرت جبرئیل امین نے قلب انور کو شق کیا۔ سونے کے طشت میں آپ کو آب زمزم سے غسل دیا۔ اور علم و حلم، ایقان و ایمان سے مزید معمور کرکے پھر سینہ اطہر میں رکھ کر برابر کر دیا۔ علمائے سیر نے لکھا ہے کہ شق صدر چار بار ہوا ہے۔ سب سے پہلے عہد طفولیت میں، دوسری مرتبہ بلوغت کے وقت، تیسری مرتبہ بعثت کے وقت، اور چوتھی مرتبہ سفر معراج کے وقت۔ اس وقت حکمت یہ تھی کہ کمال نظافت و صفا کے ساتھ عالم ملکوت کا سفر کریں اور دیدار الہی کے شرف سے ممتاز ہونے کے لیے آپ مستعد ہو جائیں۔ اور آب زمزم سے قلب مبارک کو دھونے میں راز یہ تھا کہ آب زمزم دل کو تقویت دیتا ہے۔ دل قوی ہو جائے تاکہ عالم لاہوت و جبروت کا مشاہدہ سہل الحصول ہو جائے۔ پھر جبرئیل امین نے آپ کو آب کوثر سے غسل دیا۔
حضرت رضا بریلوی فرماتے ہیں
وہی تو اب تک چھلک رہا ہے، وہی تو جوبن ٹپک رہا ہے
نہانے میں جو گرا تھا پانی، کٹورے تاروں نے بھر لیے تھے
آب وضو حوران جنت کے رخسار کا غازہ:
اس غسل شریف میں حضور نے جو وضو فرمایا، جبرئیل کو حکم ہوا کہ وضو کا پانی لے لو اور میکائیل کے سپرد کر دو، پھر یہ پانی رضوان جنت تک پہنچا دیا جائے تاکہ رضوان جنت اس پانی کو حوران جنت میں تقسیم کر دیں، چنانچہ ایسا کیا گیا، حوران جنت کو حکم ہوا کہ یہ پانی اپنے اپنے منہ پر مل لو، ملتے ہی ان کا حسن و بانکپن دوبالا ہو گیا۔ غسل شریف کے بعد حضور کو حلہ بہشتی پہنایا گیا۔ سر اقدس پر عمامہ باندھا گیا۔ ایک نورانی چادر حضور کو اوڑھائی گئی۔ ستر ہزار فرشتوں کے انبوہ میں حضور نے تیاری فرمائی。
حضرت رضا بریلوی فرماتے ہیں
تجلیٔ حق کا سہرا سر پر، صلوٰۃ و تسلیم کی نچھاور
دو رویہ قدسی پرے جما کر کھڑے سلامی کے واسطے تھے
مسجد حرام سے روانگی:
شب اسری کے دولہا، محرم راز کبریا، حضور احمد مجتبی، محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم انوکھی آن بان اور نرالی شوکت و شان کے ساتھ مسجد حرام سے روانہ ہو رہے ہیں۔ سواری کے لیے وہ براق برق رفتار انتظار میں ہے جس کا ایک قدم حد نگاہ پر پڑتا ہے۔ مگر حضور توقف فرما رہے ہیں، جبرئیل نے سبب پوچھا تو آپ نے فرمایا آج تو میرے لیے جنتی براق موجود ہے، حشر کے دن میری امت پل صراط سے کیسے گزرے گی، اسی وقت اللہ تعالی کی طرف سے یہ بشارت دی گئی کہ اے محبوب آپ امت کی فکر ہرگز نہ کیجئے، ہم آپ کی امت کو پل صراط سے یوں گزار دیں گے کہ انہیں خبر بھی نہیں ہو گی۔
حضرت رضا بریلوی فرماتے ہیں
ابھی نہ آئے تھے پشت زیں تک، کہ سر ہوئی مغفرت کی شلک
صدا شفاعت نے دی مبارک گناہ مستانہ جھومتے تھے
اس پروانہ بشارت کے بعد حضور علیہ السلام براق پر سوار ہوئے۔ جبرئیل نے رکاب تھامی، اسرافیل نے زین سنبھالا، فرشتوں کی صلوٰۃ و سلام کی صداؤں سے پوری فضا گونج اطھی。
مقامات مقدسہ کی سیر:
جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری نخلستان میں پہنچی تو جبرئیل نے عرض کیا حضور یہاں دوگانہ پڑھئے، یہ زمین یثرب ہے جسے بعد میں مدینہ منورہ کہا جائے گا۔ حضور نے وہاں دو رکعت نماز ادا فرمائی۔ بیت اللحم، طور سینا وغیرہ متبرک مقامات کے دلکشی نظارہ سے آگے بڑھے ہی تھے کہ حضرت موسی علیہ السلام کی قبر انور آ گئی، حضور علیہ السلام موسی علیہ السلام کی قبر مبارک کے پاس اترے اور وہاں بھی دو رکعت نماز ادا فرمائی۔
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میں معراج کی رات سرخ ٹیلے سے گزرا تو میں نے دیکھا کہ موسی علیہ السلام اپنی قبر میں کھڑے ہو کر نماز پڑھ رہے ہیں، انہوں نے عرض کی ”میں گواہی دیتا ہوں یقینا آپ اللہ کے رسول ہیں“۔ یاد رہے کہ عالم برزخ کی عبادت صرف لذت عبادت کے حصول کے لیے ہے۔ یہ عبادت انبیا علیہ السلام کا خاصہ ہے۔
امام عبدالوہاب شعرانی فرماتے ہیں ”صحیح حدیثوں میں آیا ہے کہ حضور علیہ السلام اپنی قبر انور میں زندہ ہیں، اور اذان و اقامت کے ساتھ نماز ادا فرماتے ہیں۔ جس طرح آپ نے معراج کی رات کے حوالے سے موسی علیہ السلام کی خبر دی ہے۔“
تو زندہ ہے واللہ تو زندہ ہے واللہ
میری چشم عالم سے چھپ جانے والے
یہاں سے جب آگے بڑھے تو یکایک ایک حسین عورت بناؤ سنگھار کرکے سامنے آ گئی، مگر حضور علیہ السلام نے توجہ نہ فرمائی۔ اس کے بعد ایک بوڑھے مرد نے آپ کو پکارا، مگر حضور علیہ السلام نے اس کی طرف بھی التفات نہ فرمایا، اس موقع پر جبرئیل نے عرض کی حضور وہ جو حسین عورت تھی وہ دنیا تھی، اگر حضور اس کی طرف متوجہ ہو جاتے تو حضور کی ساری امت دنیا کی طرف راغب ہو جاتی۔ اور وہ بڈھا شیطان تھا اگر اس کی آواز پر جواب دیتے تو آپ کی ساری امت اس کے دام فریب میں پھنس جاتی۔
مشاہدات:
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور کا گزر ایک ایسی قوم پر ہوا جن کے سروں کو پتھروں سے کچلا جاتا ہے، جبرئیل نے بتایا کہ یہ وہ لوگ ہیں جو نماز کے وقت سوتے رہتے تھے۔ پھر آپ نے دیکھا کہ کچھ لوگ ہیں جو جنگل کی گھاس، کانٹے، انگارے، سب کچھ کھا رہے ہیں، جبرئیل نے بتایا کہ یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے مالوں کی زکوٰۃ ادا نہیں کرتے تھے۔ حضور آگے بڑھے تو دیکھا کہ ایک قوم کی زبان اور ہونٹ قینچیوں سے کاٹے جا رہے ہیں، جبرئیل نے عرض کیا کہ حضور یہ وہ لوگ ہیں جو غیبت و شکایت کرتے اور فتنہ و فساد برپا کرتے تھے۔ اور آگے بڑھے تو دیکھا کہ ایک گروہ ہے جن کے پیٹ گنبد کی طرح پھولے ہوئے ہیں اور اندر سانپ بچھو پھرتے دکھائی دیتے ہیں، جبرئیل نے بتایا یہ لوگ سود خور ہیں، یہ روایت بہت طویل ہے ہم نے صرف چند مشاہدات کا ذکر کیا ہے۔
بیت المقدس:
حضور صلی اللہ علیہ وسلم بیت المقدس پہنچے، براق کو مسجد کے دروازے کے حلقے سے باندھا، مسجد میں داخل ہوئے اور دو رکعت تحیۃ المسجد ادا فرمایا۔ یہاں تمام انبیا حضرت آدم سے لے کر حضرت عیسی علیہم السلام تک کی ارواح مقدسہ متمثل ہو کر حاضر ہیں۔ خدا کی حمد و ثنا اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر صلوٰۃ و سلام کی نغمگی سے فضائیں وجد میں ہیں۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی افضلیت کا خطبہ پڑھا جا رہا ہے۔ حضرت جبرئیل علیہ السلام نے مقام صخرہ پر اذان دی، پھر اقامت کہی، یہاں پر بعض علما نے بڑا لطیف و لذیذ نکتہ بیان فرمایا ہے۔ ”انبیائے کرام علیہم السلام میں سے سب اس خیال میں تھے کہ شاید ہمیں امامت کا حکم ملے، یہ بھی ان کو یاد تھا کہ امام وہ ہوتا ہے جو سب سے زیادہ علم والا ہو، حضرت آدم علیہ السلام کا خیال تھا کہ میں علم میں زیادہ ہوں، کیوں کہ مجھے اللہ تعالی نے سب اشیا کا علم دیا ہے اور فرمایا ہے ”وعلم آدم الأسماء كلها“ اور آدم ثانی حضرت نوح علیہ السلام کا خیال تھا کہ مجھے علم زیادہ ہے کیوں کہ میں اپنی قوم کی قیامت تک کی نسل کا علم رکھتا ہوں کہ ان میں کوئی مسلمان پیدا نہ ہو گا جیسا کہ قرآن مجید میں ہے ”إنك إن تذرهم يضلوا عبادك ولا يلدوا إلا فاجرا كفارا“ حضرت ابراہیم علیہ السلام کا خیال تھا کہ مجھے علم زیادہ ہے کیوں کہ میں آسمانوں کو اور جو کچھ ان میں ہے سب کو دیکھا ہے، اور زمینوں کو بھی دیکھا، جیسا کہ قرآن پاک میں ہے ”وكذلك نري إبراهيم ملكوت السماوات والأرض“ حضرت موسی علیہ السلام کا خیال تھا کہ میرا علم زیادہ ہے، کیوں کہ فرعون کے گھر دودھ کی مدت میں، میں نے اپنی والدہ کو پہچان لیا اور دوسری دائیوں کا دودھ نہیں پیا، جیسا کہ قرآن مجید میں ہے ”وحرمنا عليه المراضع من قبل“ حضرت عیسی علیہ السلام کا خیال تھا کہ میرا علم زیادہ ہے کیوں کہ میں اپنی قوم کے اندرونی حالات سب کچھ بتا دیتا تھا، جیسا کہ قرآن پاک میں ذکر ہے ”وأنبئكم بما تأكلون وما تدخرون في بيوتكم“۔ اتنے میں جبرئیل امین آگے بڑھے حضور فرماتے ہیں جبرئیل نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے آگے کر دیا، تو نماز میں نے پڑھائی۔ گویا جبرئیل نے عرض کی… ”آنچہ خوباں ہمہ دارند تو تنہا داری“
حضرت رضا بریلوی فرماتے ہیں
نماز اقصی میں تھا یہی سر، عیاں ہوں معنی اول آخر
کہ دست بستہ ہیں پیچھے حاضر جو سلطنت آگے کر گئے تھے
حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی، کبیر العلما شیخ عماد الدین بن کثیر کے حوالے سے تحریر فرماتے ہیں کہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے قبل از عروج اور از عروج، جاتے، آتے دونوں حالتوں میں انبیا علیہم السلام کے ساتھ نماز ادا کی۔
عروج آسمانی:
مسجد اقصی کی امامت سے فراغت کے بعد بلندی کا سفر شروع ہوا۔ یہ سماں بھی عجائب و غرائب کا مرقع تھا۔ آنکھ جھپکنے میں آسمان اول آ گیا۔ حضرت آدم علیہ السلام نے آپ کو خوش آمدید کہا۔ دوسرے آسمان پر حضرت عیسی و یحیی علیہم السلام نے آپ کو معراج کی مبارکباد دی۔ تیسرے آسمان پر حضرت یوسف علیہ السلام سے ملاقات ہوئی۔ چوتھے آسمان پر حضرت ادریس علیہ السلام نے ہدیہ تبریک پیش کیا۔ پانچویں آسمان پر حضرت ہارون علیہ السلام نے خوش آمدید کہا۔ چھٹے آسمان پر حضرت موسی علیہ السلام سے ملاقات ہوئی۔ حضرت موسی علیہ السلام سے حضور رخصت ہونے لگے تو وہ اس امید سے کہ یہ وقت نہایت ہی مسعود و محمود ہے، شاید اللہ تعالی اس گھڑی کی سعادت اندوزی سے میری امت پر رحمت و شفقت فرمائے، یہ سوچ کر اشکبار ہو گئے۔ ساتویں آسمان پر حضرت ابراہیم سے مبارکبادیاں وصول کرتے ہوئے سدرۃ المنتہی تک پہنچ گئے۔
یہاں پر یہ چیز بھی یاد رکھنے کی ہے کہ ابھی ابھی انبیائے کرام مسجد اقصی میں اقتدا فرما رہے تھے اور ابھی حسب مراتب مختلف آسمانوں پر جلوہ افروز ہیں، جبکہ براق کی تیز رفتاری کا عالم یہ تھا کہ جہاں تک نظر پہنچتی ہے وہاں پر اس کا پہلا قدم پہنچتا تھا، معلوم ہوا کہ روح کی سرعت پرواز کے آگے براق بھی عاجز ہے۔ لہذا خاصان خدا کی ارواح اگر چشم زدن میں عالم کی سیر کر لے، عقیدت مندوں کے خیر و صلاح کی متعدد مجالس کو حاضری کے شرف سے مکرم کر دے تو اس میں تعجب کیا ہے؟
حب رسول، بندگی کا اصل الاصول:
یوں تو واقعہ معراج خود ہی ایک انتہائی محیر العقول واقعہ ہے۔ اس پر مستزاد اس کے دامن میں بعض ایسے نوادرات ہیں جن میں ہر ایک میں عبرت و عظمت کے کئی پہلو نمایاں ہیں۔ صرف ایک واقعہ ہم نذر ناظرین کر رہے ہیں۔
ایک مرتبہ جبرئیل امین حضور کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی آج ایک عجیب بات عرض کرنے حاضر ہوا ہوں۔ یارسول اللہ! آپ کے معراج کو جانے سے پہلے کا واقعہ ہے کہ آسمان پر میں نے ایک بڑا عزت و وقار کا مالک فرشتہ دیکھا تھا۔ یہ فرشتہ مرصع تخت پر بیٹھا تھا اور اس کے ارد گرد ستر ہزار فرشتے قلعہ بنائے تشریف فرما تھے۔ ہمہ دم یہ سب ذکر حق میں مشغول رہتے تھے۔ مگر ایک بار کوہ قاف سے جب ہمارا گزر ہوا تو ہم نے دردناک آواز سنی، جہاں سے آواز آ رہی تھی میں وہاں گیا تھا، تو حضور کیا بتاؤں میں نے کیا دیکھا اور کیسے دیکھا؟ یارسول اللہ! یہ وہی فرشتہ جو ستر ہزار فرشتوں کا امام بن کر تخت زریں پر جلوہ گر تھا۔ آج وہی تنہا ہے اور زار و قطار رو رہا ہے۔ کوئی پرسان حال نہیں ہے۔ رب بے نیاز سے اپنی غلطی کی معافی مانگ رہا ہے۔ حضور جب میں اس کے پاس پہنچا اور اس انقلاب و تنزل کا سبب پوچھا تو وہ بولا… لیلۃ المعراج کو میں اپنے تخت پر بیٹھا ذکر حق میں محو تھا کہ میرے آگے سے حضور سرور کونین صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری کا گزر ہوا، میں یاد حق میں ایسا خود رفتہ تھا کہ حضور کی تعظیم کے لیے کھڑا نہیں ہو سکا، بس پھر کیا تھا اپنی جلالیت میں رب ذوالجلال آ گیا۔ اور میری ساری عبادت کی عدم قبولیت کا اعلان فرما دیا۔ اور مجھے یہ کہہ کر نکل جانے کا حکم دے دیا کہ مجھے اس عبادت کی کوئی ضرورت نہیں ہے جس عبادت کے جسم میں میرے محبوب کی تعظیم و محبت کی روح شامل نہ ہو۔ اے جبرئیل! اس دن سے خدا نے معتوب فرما کر مجھے میرے تخت عزت سے اتار کر یہاں پھینک دیا ہے۔ اب ہر وقت اس سے معافی مانگ رہا ہوں مگر تاحال میری توبہ قبول نہیں ہوئی ہے۔ اے جبرئیل تو ہی میرے لیے دعا کر! کہ خدا مجھے معاف کر دے۔ یارسول اللہ مجھے بڑا رحم آیا اور میں نے اللہ سے بصد عجز و نیاز اس کی معافی کے لیے دعا کی۔ حضور! آپ کے صدقے میں خدا کا دریائے رحم و کرم جوش میں آیا اور میری دعا قبول ہوئی اور مجھ سے ارشاد ہوا کہ اس معتوب فرشتے سے کہو اگر تم اپنی معافی کی قبولیت چاہتے ہو تو میرے محبوب پر درود کا ورد کرو، یارسول اللہ! رب کا پیغام میں نے اس تک پہنچا دیا۔ چنانچہ اس نے بڑے ذوق و شوق سے حضور پر درود پڑھنا شروع کیا اور اللہ نے اس کو معاف کر دیا۔ آج میں نے پھر اسے اپنے اسی نورانی تخت پر موجود دیکھا ہے، اب وہ اکثر و بیشتر حضور ہی پر درود و سلام کی نذر گزار رہا ہے۔ اسی لیے حضرت رضا بریلوی فرماتے ہیں
ثابت ہوا کہ جملہ فرائض فروع ہیں
اصل الاصول بندگی اس تاجور کی ہے
سدرۃ المنتہی:
یہ وہ جگہ ہے جہاں مخلوق کے اعمال اور ان کے علوم ختم ہو جاتے ہیں۔ سب کی انتہا یہی ہے۔ اس سے آگے کسی مخلوق نے تجاوز نہیں کیا، بجز سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم کے۔ حضرت جبرئیل بھی اس جگہ رک گئے۔ حضور نے جبرئیل سے دریافت فرمایا، جدا ہونے کا یہ کون سا مقام ہے؟ جبرئیل نے عرض کیا
اگر یکسر موئے برتر پرم
فروغ تجلی بسوزد پرم
اگر ایک بال کے برابر بھی آگے بڑھوں تو میرے بال و پر جل جائیں گے۔ حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے جبرئیل سے فرمایا اگر کوئی حاجت ہو تو کہو، جناب باری میں پیش کر دوں گا۔ جبرئیل نے عرض کیا میری تمنا ہے کہ روز قیامت میرے بازوؤں کو اللہ تعالی اور کشادہ فرما دے تاکہ پل صراط سے اپنے بازوؤں کے ذریعے آپ کی امت کو گزار سکوں۔ جبرئیل کی عرض لے کر حضور آگے بڑھ گئے۔ جبرئیل علیہ السلام براق سمیت سدرۃ المنتہی پر رہ گئے۔
حضرت رضا بریلوی فرماتے ہیں
چلا وہ سرور جہاں خراماں، نہ رک سکا سدرہ سے بھی داماں
پلک جھپکتی رہی وہ کب کے سب این و آں سے گزر چکے تھے
سدرۃ المنتہی سے اوپر کی سیاحت کے لیے ایک نورانی مرکب ”رفرف“ آیا۔ حضور پرنور اس مرکب نور پر سوار ہوئے۔ مگر یہ رفرف بھی بہت سے نورانی حجابات اور روحانی مقامات طے کرا کے رخصت ہو گیا۔ اب وہ وقت تھا کہ بظاہر کوئی رہبر و رہنما نہیں ہے۔ تاجدار کونین، بارگاہ رب ذوالجلال میں اکیلے جا رہے ہیں۔
حضرت رضا بریلوی فرماتے ہیں
سراغ این و متی کہاں تھا، نشان کیف و الی کہاں تھا
نہ کوئی راہی نہ کوئی ساتھی نہ سنگ منزل نہ مرحلے تھے
بڑی بڑی نشانیاں:
حوض کوثر ۱: حضرت انس رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے کہ حضور علیہ السلام جب ساتویں آسمان سے نکلے تو ایک نہر ملاحظہ فرمائی، جو یاقوت و زمرد کے سنگ ریزوں پر جاری ہے۔ اس کا پانی دودھ سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ شیریں ہے۔ جبرئیل نے عرض کیا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ حوض کوثر ہے جسے اللہ تعالی نے آپ کو عطا فرمایا ہے۔ ”إنا أعطيناك الكوثر“
ساری کثرت پاتے یہ ہیں
(رضا بریلوی)
بیت المعمور ۲: اس کے بعد بیت المعمور نمودار ہوا اور اس سے پردہ اٹھایا گیا۔ بیت المعمور وہ مسجد ہے جو خانہ کعبہ کے محاذ و مقابل ہے۔ یہ وہ گھر ہے جسے آدم علیہ السلام کے لیے زمین پر اترنے کے بعد بھیجا گیا، پھر آدم علیہ السلام کے بعد اٹھا لیا گیا۔ آسمان پر اس کی قدر و منزلت ایسی ہی ہے جیسے زمین پر خانہ کعبہ کی، فرشتے اس کا طواف کرتے اور اس کی طرف نماز پڑھتے ہیں۔ آپ نے دیکھا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام بیت المعمور سے ٹیک لگائے بیٹھے ہیں۔ کچھ اور بلندی پہ گئے تو حضور کے ملاحظہ میں جنت و دوزخ (۳) لائی گئی، ان صفات و لوازم کے ساتھ جو کتاب و سنت میں مزکور ہیں، چناچہ آپ نے جنت کو رحمت الہی کا مظہر اور دوزخ کو غضب الہی کی جگہ دیکھا۔
عرش معلی ۴: جب سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم عرش پر پہنچے تو عرش نے دامن جلال تھام کر زبان حال سے عرض کیا اور کہا، اے محمد! صلی اللہ علیہ وسلم آپ ہی ہیں کہ جن کو حق تعالی نے اپنے جلال احدیت کا مشاہدہ کرایا اور جمال صمدیت سے مطلع فرمایا۔ یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب پرورگار نے مجھے پیدا فرمایا تو میں اس کے ہیبت و جلال سے کانپنے لگا، پھر میرے پایہ پر لکھا لا الہ الا اللہ تو ہیبت سے میں اور لرزنے لگا، پھر جب لکھا محمد رسول اللہ تو میرا قلق ٹھہر گیا۔ آپ کا اسم گرامی میرے دل کے چین کا سبب اور میرے سر کے اطمینان کا باعث ثابت ہوا۔ مجھ پر آپ کے اسم گرامی کی برکت رونما ہوئی۔ میں اپنی خوش نصیبی پر جتنا ناز کروں کم ہے کہ آپ نے آج اپنے قدوم میمنت لزوم سے مجھے مشرف فرمایا۔
یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ تو سارے جہان کے لیے رحمت ہیں، یقینا آپ کی اس رحمت میں میرا بھی حصہ ہو گا، اے میرے حبیب میرا حصہ یہ ہے کہ آپ میری برات کی گواہی دے دیں، عرش کی عرض پر آپ نے عرش کی جانب توجہ و التفات کی نظر ڈالی。
حضرت رضا بریلوی فرماتے ہیں
جھکا تھا مجرے کو عرش اعلی، گرے تھے سجدے میں بزم بالا
یہ آنکھیں قدموں سے مل رہا تھا وہ گرد قربان ہو رہے تھے
اور اس فقیر راقم الحروف نے اپنی ایک نعت میں عرض کیا ہے
سوا میرے مصطفی کے کوئی بزم انبیا میں
سر عرش جلوہ فرما نہ ہوا نہ ہے نہ ہو گا
قرب و حضوری:
اب وہ ساعت سعید آئی ہے جس کے لیے یہ سارا اہتمام شوق کیا گیا تھا۔ محب و محبوب کی قربت کی گھڑی آ رہی ہے۔ فراق و وصال کے گلے ملنے کا مبارک وقت آ رہا ہے۔ بصد انداز یکتائی راز و نیاز کی باتوں کا لمحہ آ رہا ہے۔ بغایت شان زیبائی بزم کونین کا نوشہ مسند نشین عزت و کرامت ہونے کو تیار ہے۔ اس وقت حق تعالی کی جلالت و عظمت کی وجہ سے ایک قسم کی حیرت و دہشت پیش آئی کہ یار غار حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی آواز میں ندا آئی ”قف يا محمد فإن ربك يصلي“ اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ٹھہرئے، بے شک آپ کا رب آپ پر رحمت نازل فرما رہا ہے۔ آپ کو اس آواز سے انس و طمانیت حاصل ہوئی۔ پھر حضرت حق جل مجدہ کی جناب سے ندا آئی ”ادن يا خير البرية ادن يا أحمد ادن يا محمد“ اے ساری مخلوق سے افضل قریب ہوئیے، اے احمد قریب ہوئیے، اے محمد قریب ہوئیے۔ حضرت رضا بریلوی فرماتے ہیں
بڑھ اے محمد قریں ہو احمد قریب آ سرور ممجد
نثار جاؤں یہ کیا ندا تھی یہ سماں تھا یہ کیا مزے تھے
تبارک اللہ شان تیری تجھی کو زیبا ہے بے نیازی
کہیں تو وہ جوش لن ترانی کہیں تقاضے وصال کے تھے
حضور فرماتے ہیں پھر میرے رب نے مجھے اتنا قریب فرمایا اور میں اتنا نزدیک ہو گیا کہ خود فرمایا ”ثم دنا فتدلى فكان قاب قوسين أو أدنى“ پھر وہ جلوہ نزدیک ہوا، پھر خوب اتر آیا، تو اس جلوہ اور محبوب میں دو ہاتھ کا فاصلہ رہا بلکہ اس سے بھی کم۔ بارگاہ رب میں حضوری پر محبوب رب نے تین باتیں عرض کیں ”التحيات لله والصلوات والطيبات“ تو تین اللہ تعالی نے بھی فرمائیں ”السلام عليك أيها النبي ورحمة الله وبركاته“ حضور علیہ السلام نے اس سلام رحمت و برکت میں اپنی امت کو بھی شامل فرماتے ہوئے کہا ”السلام علينا وعلى عباد الله الصالحين“ فرشتوں نے امت پر یہ پناہ شفقت دیکھ کر بیک زبان کہا ”أشهد أن لا إله إلا الله وأشهد أن محمدا عبده ورسوله“۔ مولانا سید سلیمان ندوی لکھتے ہیں
”پھر شاید مستور ازل نے چہرہ سے پردہ اٹھایا اور خلوت گاہ زار میں ناز و نیاز کے وہ پیغام عطا ہوئے جن کی لطافت و نزاکت بار الفاظ کی متحمل نہیں ہو سکتی، ”فأوحى إلى عبده ما أوحى“۔ حضور صاحب تاج معراج صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں پھر میرے رب نے اپنا دست قدرت میرے دونوں شانوں کے درمیان بے کیف رکھا، میں نے اس کی ٹھنڈک اپنے سینہ میں محسوس کی، اس وقت مجھے تمام اولین و آخرین کے علوم حاصل ہو گئے۔ اس کے بعد حق تعالی نے ارشاد فرمایا، جبرئیل کی حاجت پیش کیجئے، عرض کی خداوند تو خوب جانتا ہے۔ فرمان باری ہوا میں نے ان کی حاجت قبول فرمائی، لیکن ان لوگوں کے حق میں جو تمہیں چاہتے، دوست رکھتے، اور تمہاری صحبت میں رہتے ہیں۔ (عام ازیں کہ صحبت جسمانی ہو یا روحانی)“
حضرت رضا بریلوی فرماتے ہیں
اٹھے جو قصر دنی کے پردے کوئی خبر دے تو کیا خبر دے
وہاں تو جائی نہیں دوئی کی نہ کہ وہ بھی نہ تھے، ارے تھے
حجاب اٹھنے میں لاکھوں پردے، ہر ایک پردے میں لاکھوں جلوے
عجب گھڑی تھی کہ وصل و فرقت جنم کے بچھڑے گلے ملے تھے
ادھر سے تھیں نذر شہ نمازیں ادھر سے انعام خسروی میں
سلام و رحمت کے ہار گندھ کر گلوئے پرنور میں پڑے تھے
کلیم و حبیب میں فرق:
باوجودیکہ بے شمار آیات و کرامات کے ظہور ہوئے مگر کسی ایک جانب توجہ التفات نہ فرمائی، چنانچہ حق تعالی نے فرمایا ”ما زاغ البصر وما طغى“ نہ آنکھ جھپکی، نہ بے راہ ہوئی۔ جب حضرت موسی علیہ السلام مرتبہ کلام پر فائز ہوئے تو انہوں نے دیدار الہی کی خواہش ظاہر کی، حالانکہ یہ ایک قسم کی مدہوشی و سرخوشی تھی، کیوں کہ مقام قرب میں ادب کی رعایت دور ہو جاتی ہے۔ علما ارشاد فرماتے ہیں موسی علیہ السلام کے لیے طلب، سوال، اور انسباط دیدار الہی مانع رہا، بے ہوش ہو جانا یہ ان کی بے تابی اور جلد بازی کی جزا تھی، مگر شیخ عبدالحق محقق دہلوی فرماتے ہیں، موسی علیہ السلام کی ناکامی کی اصل وجہ یہ تھی کہ ابھی سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم نے دیدار نہیں کیا تھا، پہلے وہ دیکھ لیں، پھر کوئی دیکھے۔ اب چاہے جو معنوی توجیہ بیان کی جائے ہمارے حضور پر الطاف و عنایات کا جو تسلسل ہے وہ کسی پر نہیں۔ اسی لیے ہم دیکھتے ہیں کہ حضور کے لیے پہلے سے بہت زبردست تیاری کروائی گئی، ٣٣ مرتبہ پہلے خواب میں دولت معراج پانا۔ آغاز سفر پر شق صدر ہونا۔ سینہ بے کینہ کو صبر و تحمل کا گنجینہ بنا دینا۔ یہ سب کیا تھا صرف اس لیے کہ بے تکلف اور بے توقف آپ آیات بینات اور دیدار حق کی تجلیات کے متحمل ہو سکیں۔ لہذا جب مقام قرب پر فائز ہوئے تو اس کے حقوق کی ایسی رعایت فرمائی کہ مراتب و درجات کے تمام منازل طے ہوتے چلے گئے۔ ان میں سب سے بلند و بالا، اعلی و اولی، اللہ تقدس و تعالی کا دیدار ہے۔ چنانچہ حق تعالی نے فرمایا ”ما كذب الفؤاد ما رأى“ جو کچھ آنکھ نے دیکھا، دل نے اسے نہ جھٹلایا۔ جو کچھ بصیرت نے پایا بصارت نے اس کا ادراک کیا۔ اور جو کچھ آنکھ نے دیکھا دل نے اس کی تصدیق کی، نتیجہ یہ کہ بارگاہ رب سے ایسے کمال سے مشرف ہوئے کہ ثقلین ہی نہیں، ہر فرد کونین پر سبقت لے گئے۔ جب آپ مرتبہ قاب قوسین او ادنی پر فائز ہوئے تو آپ نے امت کی فکر میں امت کے احوال پیش کئے۔ ارشاد ہوا میں ان پر رحمت نازل کروں گا۔ دنیا میں ان کے گناہوں کو چھپاؤں گا۔ اور آخرت میں تمہیں اس کا شفیع بناؤں گا۔
حضرت رضا بریلوی فرماتے ہیں
شفیع امت، نبی رحمت، رضا پہ للہ ہو عنایت
اسے بھی خلعتوں سے حصہ جو خاص رحمت کے واں بٹے تھے
نماز تحفہ معراج:
آپ کے صدقے میں اللہ تعالی نے آپ کی امت کو بھی سعادت معراج سے مکرم فرمایا۔ امت کی وہ معراج ”الصلوة معراج المؤمنين“ نماز مومن کی معراج ہے۔ پچاس نمازوں کا تحفہ لے کر حضور علیہ السلام واپس تشریف لا رہے ہیں، راستے میں موسی علیہ السلام نے عرض کی، آپ کی امت اتنی نمازیں نہیں پڑھ سکے گی، واپس جائیے اور کم کرائیے۔ حضور علیہ السلام جاتے رہے، آتے رہے، پانچ پانچ کم ہوتی رہیں آخر میں پانچ رہ گئیں، تو اللہ تعالی نے فرمایا، میرے محبوب یہ خیال نہ کرنا کہ نمازیں کم کی ہیں تو ثواب بھی کم کر دیا ہے، نہیں! بلکہ جو بھی پانچ پڑھے گا اسے پچاس ہی کا ثواب ملے گا۔
واپسی:
الغرض حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جملہ عروج و بلندیاں حاصل فرما کر اور اسرار و غیوب سے مطلع ہو کر، آسمانوں سے واپس زمین بیت المقدس پر نزول فرمایا۔ اور براق پر سوار ہو کر پھر وہاں سے مکہ معظمہ کی جانب روانہ ہوئے، اور صبح صادق سے پہلے اسی مقام پر تشریف لے آئے جہاں سے آپ نے سفر شروع فرمایا تھا، آ کر جو ملاحظہ فرمایا تو وضو کا پانی ہنوز بہہ رہا تھا۔ بستر مبارک گرم تھا۔ اور زنجیر ہل رہی تھی۔
زنجیریں ہلتی رہی بستر بھی رہا گرم
تاعرش گئے محمد اور چلے آئے محمد
حضرت رضا بریلوی فرماتے ہیں
خدا کی قدرت کہ چاند حق کے، کروڑوں منزل میں جلوہ کرکے
ابھی نہ تاروں کی چھاؤں بدلی، کہ نور کے تڑکے آ لیے تھے
سفر کی اس تیزی و سبک روی سے کوئی اس خیال کے بھنور میں نہ پھنس جائے کہ اتنی جلدی میں کیا دیکھا اور سنا ہو گا؟ یہ تو بس جانا اور آنا ہوا، پیر کرم شاہ ازہری ”لنريه من آياتنا“ کے تحت لکھتے ہیں ”ان کلمات سے اس سفر کی غرض و غایت بیان فرمائی کہ یہ سفر یوں نہیں تھا کہ بھاگم بھاگ کرتے ہوئے حضور گئے ہوں اور اسی عجلت سے واپس آ گئے ہوں، نہ کچھ دیکھا نہ کچھ سنا، بلکہ صحیفہ کائنات کے ہر ہر صفحہ پر، گلشن ہستی کی ہر ہر پتی پر اللہ تعالی کی عظمت، علم اور حکمت کے جتنے کرشمے تھے سب بے نقاب کرکے اپنے محبوب کو دکھا دئے“۔ امام اہل سنت، اعلی حضرت محدث بریلوی کے پیر و مرشد سید الاتقیا، سند الاصفیا، شیخ المشائخ حضرت سید آل رسول مارہروی رضی اللہ عنہ نے فلسفہ معراج کی گتھیوں میں الجھے ایک شخص کے ذہن میں اپنے کشف و کرامت کے ذریعہ بڑی آسانی سے واقعہ معراج کو اتار دیا تھا۔
منقول ہے کہ ایک صاحب جو آپ کے مرید خاص تھے، وہ ایک مرتبہ سوچنے لگے کہ معراج شریف چند لمحوں میں کس طرح ہو گئی؟ آپ اس وقت وضو فرما رہے تھے، فورا اس سے کہا کہ میاں اندر سے ذرا تولیہ لاؤ، موصوف جب اندر گئے تو ایک کھڑکی نظر آئی، اس جانب نگاہ دوڑائی تو دیکھتے ہیں کہ پر فضا باغ ہے، یہاں تک کہ اس کی سیر کرتے ہوئے ایک عظیم الشان شہر میں پہنچ گئے۔ وہاں انہوں نے کاروبار شروع کیا، شادی بھی کی، اولاد بھی ہوئی، یہاں تک کہ بیس سال کا عرصہ گزر گیا، جب اک بیک حضرت نے آواز دی تو وہ گھبرا کر کھڑکی میں آئے اور تولیہ لیے ہوئے دوڑے تو دیکھتے ہیں کہ ابھی وضو کے قطرات حضرت کے چہرہ مبارکہ پر موجود ہیں، اور آپ بیٹھے ہوئے ہیں، دست مبارک بھی تر ہیں، وہ انتہائی حیران و ششدر ہوئے تو حضور نے تبسم آمیز لہجے میں فرمایا کہ میاں وہاں بیس برس رہے۔ شادی بھی کی، اور یہاں ابھی تک وضو خشک نہیں ہوا ہے، اب تو معراج کی حقیقت کو سمجھ گئے ہو گے۔ سچ ہے
نہ کتابوں سے نہ کالج کے ہے در سے پیدا
دین ہوتا ہے بزرگوں کی نظر سے پیدا
تصدیق صدیق:
اس حیرت زا اور مسرت فزا واقعہ کا ذکر حضور نے سب سے پہلے ام ہانی کی کیا۔ انہوں نے عرض کیا اس کا ذکر عام نہ کیا جائے، لوگ انکار کریں گے، مگر حضور علیہ السلام نے فرمایا، میں حق بات کہنے سے کبھی باز نہیں رہ سکتا، چاہے کوئی تصدیق کرے یا نہ کرے۔ ابوجہل نے جب یہ واقعہ سنا تو صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچا اور کہا، کیا تو نے کچھ سنا ہے محمد کیا کہتے ہیں؟ اور کیا یہ بات تسلیم کی جا سکتی ہے کہ اتنی جلدی بیت المقدس، تمام آسمانوں اور مکان و لامکاں کا سفر کر لیا جائے، حتی کہ بستر بھی گرم، اور زنجیر بھی ہلتی رہے۔ صدیق اکبر نے فرمایا! تسلیم تو نہیں کی جا سکتی لیکن اگر میرے آقا نے فرمایا ہے تو ضرور سچ فرمایا ہے چوں کہ ان کی زبان پر جھوٹ کا گزر نہیں، اس لیے میں بھی تصدیق کرتا ہوں۔ رب تعالی کو حضرت ابوبکر کی یہ تصدیق اتنی پسند آ گئی کہ ”صدیق اکبر“ کے معزز لقب سے سرفراز فرما دیا۔ صدیق اکبر نے بلا چوں و چرا سرتسلیم خم کرکے ثابت کر دیا کہ
پروانے کو ہے چراغ تو بلبل کو پھول بس
صدیق کے لیے ہے خدا کا رسول بس
جشن معراج النبی صلی اللہ علیہ وسلم:
خوشی میں چہرے کا ٹمٹما اٹھنا، پیشانی پر آثار مسرت کا ہویدا ہو جانا، اور دل کا خوشیوں سے لبریز ہو کر چشم سے قطرہ انسباط کا چھلکانا انسانی فطرت میں داخل ہے۔ فطرت کسی بند کی پابند نہ کل تھی اور نہ آج ہے۔ اسی لیے اسلام بھی فطرت کی تنکیر و تحدید کا قائل نہیں ہے، بلکہ اسلام فطرت کی تہذیب و تادیب کا داعی و عامل ہے۔ یہ انسانی فطرت ہے کہ اسے جب کوئی اہم و اعظم عہدہ و مرتبہ ملتا ہے تو نہ صرف یہ کہ وہ خود خوشیوں کے رنگ میں شرابور ہو جاتا ہے بلکہ اپنے دوست و آشنا، اعزا و اقربا، خویش و احبا کو برابر کا شریک مسرت دیکھنا چاہتا ہے۔ اگر اظہار خوشی کے اس نشاط انگیز ماحول میں کوئی منہ بسورے، چہرہ بگاڑے، اور دوسروں کو بھی خوش ہونے سے روکے تو یہ جرات و حرکت دوستی کے پر فضا اور نوبہار ماحول کو مکدر اور تلخ بھی کرتی ہے اور ایسی سوچ کے بطن سے نفرت کے جذبات جنم لیتے ہیں۔
واقعہ معراج نبی الانبیا، سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے مسرت و سعادت کا وہ تمغہ افتخار اور طرہ امتیاز ہے کہ جس نعمت بے بہا کے لیے انبیا علیہم السلام آرزوئیں کرکے رہ گئے مگر وہ نعمت نہ ملنی تھی نہ ملی۔ ذرا سوچئے اس وقت ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کیسی مسرت حاصل ہوئی ہو گی جب آپ ستر ہزار فرشتوں کے جلو میں جنتی براق پر مسجد حرام سے چلے ہوں گے۔ بیت المقدس میں تمام انبیا و مرسلین کے امام بنے ہوں گے۔ مختلف آسمانوں پر متنوع انداز سے انبیا نے آپ کا استقبال کیا ہو گا۔ سدرۃ المنتہی پر سردار ملائکہ بلبل سدرہ حضرت جبرئیل امین کے بازوئے پرواز بھی تھک گئے ہوں گے اور آپ فاتحانہ شان سے سرشار تن تنہا روانہ ہوئے ہوں گے۔ اور سب سے بڑھ کر، سب سے افضل، سب سے بلند اور سب سے اعلی و اولی، دنیا و آخرت کی سب سے بڑی سعادت بارگاہ رب ذوالجلال کی حاضری اور دولت دیدار کی سرفرازی سے آپ مالامال ہوئے ہوں گے۔ بے شمار انعام و اکرام کے ساتھ امت کی نجات اخروی کے لیے نماز جیسی عظیم الشان عبادت تحفہ میں آپ کو ملی ہو گی۔ نبی محترم و مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس خوشی و مسرت کا اندازہ نہ لگایا جا سکا ہے نہ لگایا جا سکتا ہے۔ اب ایسے باوقار سدابہار موقع پر امت کا یہ ایمانی و اخلاقی حق بنتا ہے کہ جس شب حضور اس دولت امتیاز سے ممتاز فرمائے گئے اس شب کو یاد رکھئے۔ محافل معراج منعقد کرے۔ چراغاں کرے۔ اپنے گھر کے در و دیوار کو سجائے۔ جلسہ کا اہتمام کرکے واقعہ معراج یعنی اپنے نبی کا بے مثل اعجاز علمائے حق کی زبانی سنے۔ کثرت سے درود و سلام کی نذر گزارے۔ نوافل ادا کرے۔ بزم حمد و نعت آراستہ کرے۔ گویا کہ اظہار خوشی کے جتنے مستحسن ذرائع ہیں سب کا استعمال کرکے اپنے پیارے نبی کی پیاری خوشی میں شریک ہونے کی سعادت حاصل کرے۔ ایسے حسین و زریں موقع پر چہرہ بگاڑنا، منہ بسورنا، شرک شرک رٹنا، بدعت بدعت چلانا، نہ خود اظہار مسرت کرنا، اور نہ دوسرے کی خوشی کو برداشت کرنا یہ وہ غیر مناسب حرکت و عمل ہے جو نہ صرف یہ کہ ایمانی تقاضوں کو پورا نہیں کرتا بلکہ یہ حرکتیں غیر منصفانہ، عاقبت نااندیشانہ ہیں، اور غیر مومنانہ ہونے کے ساتھ محسن انسانیت کی احسان کشی کے مترادف بھی ہے۔ ہر کلمہ خواں کو ہر لمحہ یہ بات یاد رکھنی لازمی ہے کہ اللہ کی خوشی کی تحصیل کا ذریعہ صرف محبوب خدا صلی اللہ علیہ وسلم کی رضا اور خوشنودی کی تحصیل میں ہے۔ ڈاکٹر محمد اقبال نے آخری بات کہہ دی ہے
نبی سے ہٹ کر کبھی کسی کو خدا ملا ہے نہ مل سکے گا
خدا کے بندے نبی کا ہو کر، خدا خدا کر خدا خدا کر
لہذا ان تمام کام و اقدام کو گلے لگانا ضروری ہے جس سے حضور کی خوشی حاصل ہوتی ہو۔ جس سے محبت و اطاعت کا جذبہ نشونما پاتا ہو۔ اور ان تمام خیالات و حرکات سے دور رہنا ضروری ہے جن سے ناراضگی کا گمان بھی پیدا ہوتا ہو۔ اس لیے کہ اللہ تبارک و تعالی کو اپنے محبوب کی ناراضگی قطعا گوارا نہیں ہے، اسے تو اپنے محبوب کی خوشی ہی خوشی مطلوب ہے۔ کیا خوب فرمایا حضرت رضا بریلوی نے
خدا کی رضا چاہتے ہیں دو عالم
خدا چاہتا ہے رضائے محمد صلی اللہ علیہ وسلم
کتب حوالہ
- تفسیر روح البیان… علامہ اسماعیل حقی
- مدارج النبوہ… شیخ عبدالحق محدث دہلوی
- سیرہ الرسول… پیر کرم شاہ ازہری
- سیرہ النبی… سید سلیمان ندوی
- سیرہ المصطفی… مولانا عبدالمصطفی اعظمی
- آنا جانا نور کا… مولانا ابوالنور بشیر
- تذکرہ مشایخ قادریہ رضویہ… مولانا عبدالمجتبی
