| عنوان: | ڈگریڈ (حوصلہ شکنی): ایک خاموش تباہی |
|---|---|
| تحریر: | محمد عاشق رضا برکاتی |
ڈگریڈ (Degrade) یعنی حوصلہ شکنی ایک ایسی خاموش تباہی ہے جو انسان کے اندر موجود اعتماد، ہمت اور خوابوں کو آہستہ آہستہ ختم کر دیتی ہے۔ اکثر لوگ تنقید، مذاق یا سچ کے نام پر ایسے الفاظ کہہ دیتے ہیں جو سننے والے کے دل پر گہرے زخم چھوڑ جاتے ہیں۔ ایک معمولی سا جملہ بھی کسی کی زندگی کی سمت بدل سکتا ہے، یا تو اسے آگے بڑھا دیتا ہے یا ہمیشہ کے لیے روک دیتا ہے۔
حوصلہ شکنی صرف زبان سے نہیں ہوتی بلکہ رویوں سے بھی ہوتی ہے۔ کسی کی کوشش کو حقیر سمجھنا، اس کی ناکامیوں کو بار بار یاد دلانا، یا اس کے خوابوں کا مذاق اڑانا سب ڈگریڈ کرنے ہی کی صورتیں ہیں۔ یہ وہ عمل ہے جو انسان کو خود پر شک کرنے پر مجبور کر دیتا ہے اور اس کی صلاحیتوں کو دبا دیتا ہے۔
یہ حقیقت ہے کہ ہر کامیاب انسان نے ابتدا میں مشکلات، ناکامیوں اور کمزوریوں کا سامنا کیا ہوتا ہے۔ اگر اس نازک مرحلے پر اسے حوصلہ دینے کے بجائے توڑ دیا جائے تو شاید وہ کبھی اپنی منزل تک نہ پہنچ پائے۔ حوصلہ افزائی انسان کو کھڑا کر دیتی ہے، جبکہ حوصلہ شکنی اسے اندر سے توڑ دیتی ہے۔
آج کی دنیا میں پہلے ہی دکھ، پریشانیاں اور دباؤ بہت زیادہ ہیں۔ ایسے ماحول میں اگر ہم ایک دوسرے کے لیے آسانی کے بجائے مزید بوجھ بن جائیں تو معاشرہ کبھی بہتر نہیں ہو سکتا۔ ایک سادہ سا جملہ، ”تم کر سکتے ہو“ کسی کو نئی زندگی دے سکتا ہے، جبکہ ”تم سے کچھ نہیں ہوگا“ جیسا جملہ کسی کی ساری ہمت چھین سکتا ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم دوسروں کی کمیوں کو اچھالنے کے بجائے انہیں سنبھالنے کا ہنر سیکھیں۔ جو ہار چکا ہو اسے طعنوں کی نہیں، سہارے کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہی رویہ انسانیت، اخلاق اور ایک صحت مند معاشرے کی پہچان ہے۔
آخر میں ہمیں یہ عہد کرنا چاہیے کہ ہم اپنے الفاظ اور رویوں سے لوگوں کو توڑنے والے نہیں بلکہ جوڑنے والے بنیں گے، کیونکہ حوصلہ دینے والے لفظ مضبوط انسان بناتے ہیں، اور مضبوط انسان ہی ایک مضبوط قوم کی بنیاد ہوتے ہیں۔
