Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...
مضمون نگار
موضوعات
کل مضامین
بولتے مضامین

تاج الشریعہ ایک ہمہ گیر شخصیت (قسط: اول)

تاج الشریعہ ایک ہمہ گیر شخصیت (قسط: اول)
عنوان: تاج الشریعہ ایک ہمہ گیر شخصیت (قسط: اول)
تحریر: مفتی محمد شاعر رضا
جامعۃ الرضا، بریلی شریف
پیش کش: محمد رفیع مرکزی

اللہ عزوجل جس کے ساتھ خیر کا ارادہ فرماتا ہے اسے دین کا فقیہ بنا دیتا ہے۔ یعنی دین کا فقیہ ہونا یہ مولیٰ تعالیٰ کے فضل و کرم سے ہے اور جو فقیہ ہو گیا گویا رب تبارک و تعالیٰ نے اس کے ساتھ خیر و بھلائی کا ارادہ فرما لیا۔ کہا جاتا ہے کہ محدث ہونا علم کا پہلا زینہ ہے، اور فقیہ ہونا اس کی آخری منزل ہے۔ علومِ اسلامیہ میں سب سے مشکل فن علمِ فقہ ہے کہ فقہ دراصل قرآن و حدیث کی تعلیمات کا نچوڑ ہے۔ علمِ فقہ اپنے اندر بے پناہ گیرائی و گہرائی اور وسعت و جامعیت رکھتا ہے۔ فقیہ ہونے کے لیے تیس بنیادی امور کا ہونا ضروری ہے جسے اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ نے اپنے رسالے ”إِبَانَةُ الْمُتَوَارِي فِي مُصَالَحَةِ عَبْدِ الْبَارِي“ میں تحریر فرمایا ہے۔ اور وہ یہ ہیں:

”فقہ یہ نہیں کہ کسی جزئیے کے متعلق کتاب سے عبارت نکال کر اس کا لفظی ترجمہ سمجھ لیا جائے، یوں تو ہر اعرابی، ہر بدوی فقیہ ہوتا کہ ان کی مادری زبان عربی ہے، بلکہ فقہ بعد ملاحظۂ اصولِ مقررہ، و ضوابطِ محررہ، و وجوہِ تکلم، و طرقِ تفاہم، و تنقیحِ مناط، و لحاظِ انضباط، و مواضعِ یسر و احتیاط، و تجنبِ تفریط و افراط، و فرقِ روایاتِ ظاہرہ و نادرہ، و تمیز در آیاتِ غامضہ و ظاہرہ، و منطوق و مفہوم، و صریح و مؤول، و جمہور و شاذ، و متصل و مرسل، و وزنِ الفاظِ مفتیین، و سبرِ مراتبِ ناقلین، و عرفِ عام و خاص، و عاداتِ بلاد و اشخاص، و حالِ زمان و مکان، و احوالِ رعایا و سلطان، و حفظِ مصالحِ دین، و دفعِ مفاسدِ مفسدین، و علمِ وجوہِ تجریح، و اسبابِ ترجیح، و مناہجِ توفیق، و مدارکِ تطبیق، و مسالکِ تخصیص، و مناسکِ تقیید، و مشارعِ قیود، و شوارعِ مقصود، و جمعِ کلام، و نقدِ مرام، فہمِ مراد کا نام ہے، کہ تطلعِ تام، و اطلاعِ عام، و نظرِ دقیق، و فکرِ عمیق، و طولِ خدمتِ علم، و ممارستِ فن، و تیقظِ وافی، و ذہنِ صافی، معتادِ تحقیق، مؤید بتوفیق کا نام ہے۔ اور حقیقتاً وہ نہیں مگر ایک نور کہ بمحض کرم اپنے بندے کے قلب میں القا فرماتا ہے۔ وَمَا يُلَقَّاهَا إِلَّا الَّذِينَ صَبَرُوا وَمَا يُلَقَّاهَا إِلَّا ذُو حَظٍّ عَظِيمٍ (یہ دولت نہیں ملتی مگر صابروں کو اور اسے نہیں پاتا مگر بڑے نصیب والا)۔“ [فتاویٰ رضویہ مترجم، ج: 16، ص: 376، 377، مطبع مرکزِ اہلِ سنت برکاتِ رضا، پوربندر، گجرات]

یہ تمام مذکورہ خصوصیات جس شخص کو حاصل ہوں حقیقت میں وہی فقیہ ہے، اور ان تمام خصوصیاتِ ضروریہ کا عطر مجموعہ استاذ المعظم و المکرم، سید المحققین، سلطان الفقہاء، حضور تاج الشریعہ، قاضی القضاۃ فی الہند، جانشینِ مفتیِ اعظم، فقیہِ اعظم، مفتیِ شرع، مرشدِ برحق حضرت العلام مفتی محمد اختر رضا قادری ازہری (أَدَامَ اللّٰهُ فُيُوضَهُ عَلَيْنَا وَعَلَىٰ سَائِرِ الْمُسْلِمِينَ) میں نمایاں ہیں۔ آپ اپنی نو بہ نو اور متعدد الجہات دینی و علمی، تدریسی و تبلیغی، تنظیمی و اخلاقی، سماجی و اصلاحی خدمات سے ایک دنیا کو روشناس اور منور فرما رہے ہیں۔ حضور تاج الشریعہ (بَرَكَاتُهُمُ الْعَالِيَةُ مَا دَامَتِ الْأَنْجُمُ) کے انمول کارنامے عالمِ اسلام پر مثلِ سراج چمک رہے ہیں جو تادمِ تحریر مسندِ افتا و قضا پر جلوہ بار ہو کر اپنی دینی و فقہی خدمات کی ضیابار کرنوں سے برصغیر ایشیا و یورپ، افریقہ و امریکہ وغیرہا میں علومِ اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی رضی اللہ عنہ کے گوہرِ نایاب سے تمام کو مستفید و مستنیر فرما رہے ہیں۔

آپ کی ذات بے داغ آئینہ ہے جس میں علوم و فنون کے ہزاروں جلوے نظر آتے ہیں۔ آپ بیک وقت محدث، مفسر، شارح، محشی، متکلم، اصولی، محقق، مصنف، مترجم، مدرس، ناقد، ادیب، شاعر، مرشد، خطیب، مفتیِ شرع اور فقیہ جیسے اوصاف و کمالات کے جامع و حامل ہیں، مگر ان تمام خوبیوں میں تفقہ فی الدین اور فتاویٰ نگاری آپ کا امتیازی وصف ہے۔ قارئین و ناظرین حضور تاج الشریعہ کی شانِ تفقہ یعنی فقہی بصیرت اور علمِ فتاویٰ میں گیرائی و گہرائی، تیقظ و بیدار مغزی و فقہی جزئیات کے استحضار کی جھلک دیکھنا چاہیں تو تصانیفِ تاج الشریعہ بالخصوص ”الْمَوَاهِبُ الرَّضَوِيَّةُ فِي الْفَتَاوَى الْأَزْهَرِيَّةِ“ المعروف بہ ”فتاویٰ تاج الشریعہ“ کا دلجمعی سے مطالعہ فرمائیں جس سے فقہ و فتاویٰ میں آپ کی جامعیت اور عظمت و رفعت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ میں حضرت علامہ مفتی عبد المنان کلیمی صاحب کے ایک مکتوب کا اقتباس ہدیۂ ناظرین کرتا ہوں جس سے حضور تاج الشریعہ مدظلہ العالی کی فقاہت و عظمت کا کچھ سراغ مل جائے گا۔ محترم کلیمی صاحب رقمطراز ہیں:

”حضور تاج الشریعہ کے فتاویٰ اور فقہی تحقیقات آج اکابر علمائے ہند و پاکستان کے نزدیک ناقابلِ انکار اور ایک مسلم الثبوت حقیقت ہیں۔ موصوف کی تحقیق کے جواہر پاروں میں موضوع سے متعلق دلائل کی کثرت، شکوک و شبہات کا ناقابلِ تردید حل اور اعتراضات کا شافی جواب بدرجۂ اتم ہمیں ملتے ہیں۔ جب ہم تاج الشریعہ، جانشینِ سرکار اعلیٰ حضرت امام احمد رضا فاضل بریلوی، حضرت علامہ ازہری صاحب قبلہ کی فقہی کاوش اور وقیع فتاویٰ کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہم اس نتیجے تک پہنچے بغیر نہیں رہتے کہ موصوف کی نوکِ قلم پر سرکار اعلیٰ حضرت کا علمی فیضان ہے اور موصوف خاندانی وجاہتِ اعلیٰ حضرت کی اہم ترین علمی و عملی یادگار اور مکمل مظہرِ اعلیٰ حضرت ہیں۔ راقم السطور نے تو بہت سارے اہلِ علم اور محققانہ قلم رکھنے والے مفتیانِ کرام سے یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ تحقیقاتِ علمی اور فقہ و افتا کے میدان میں بھی تاج الشریعہ سرکار اعلیٰ حضرت رضی اللہ عنہ کے سراپا جانشین ہیں۔“ [ماہنامہ سنی دنیا، بریلی شریف، شمارہ: جنوری 1986ء]

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!