Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...
مضمون نگار
موضوعات
کل مضامین
بولتے مضامین

حسد کا وبال، اسباب اور علاج

حسد کا وبال، اسباب اور علاج
عنوان: حسد کا وبال، اسباب اور علاج
تحریر: محمد توصیف رضا قادری
پیش کش: ام ماجد، فاؤنڈر نالج آف اسلام اکیڈمی

حسد نفسانی امراض میں سے ایک مرض ہے اور ایسا غالب مرض ہے جس میں حاسد اپنی ہی جلائی ہوئی آگ میں جلتا ہے، حتیٰ کہ حسد کا مرض بعض اوقات اتنا بگڑ جاتا ہے کہ حاسد محسود کو قتل کرنے جیسے انتہائی اقدام سے بھی دریغ نہیں کرتا، چنانچہ حضرت سیدنا آدم علیہ السلام کی تخلیق کے بعد سب سے پہلے حسد کرنے والا ابلیس ہے اور یہ حاسدین کا قائد ہے نیز حضرت آدم علیہ السلام کی اولاد میں حسد کی آگ میں جلنے والا قابیل ہے جس نے اپنے بھائی ہابیل کو قتل کر دیا۔

اسباب

حسد کے کل سات اسباب ہیں:

  1. عداوت اور بغض ہے جس سے کسی کو ایذا پہنچ جائے، پہلے تو وہ بدلہ لینے کی کوشش کرتا ہے اور مجبور ہو کر چاہتا ہے کہ اس پر غیبی مار پڑے، اس کی مصیبت سے خوش اور اس کے آرام سے ناخوش ہوتا ہے۔

  2. تکبر ہے کہ حاسد اپنی بڑائی کا خواہش مند ہے۔

  3. سرداری کی خواہش ہے کہ حاسد چاہتا ہے کہ سب میرے حاجت مند ہوں۔

  4. غصب ہے، حاسد دوسرے کو نعمت کا نااہل سمجھتا ہے، اس لیے چاہتا ہے کہ اس کے پاس نہ رہے۔

  5. حاسد دوسروں کے کمال میں اپنا زوال سمجھے کہ اگر کامیاب ہو گئے تو میں ناکام ہو جاؤں گا۔

  6. حاسد چاہتا ہے کہ میں اپنے کمال میں بے نظیر رہوں کہ میرے برابر کوئی دوسرا نہ نکلے اور

  7. حاسد کی کم ظرفی اور کمینہ پن یہ ہے کہ اس سے کسی کا خوشحال ہونا دیکھا نہیں جاتا۔

حسد کے تین درجے ہیں:

  1. حاسد دوسروں کی نعمت کا زوال چاہے کہ خواہ مجھے نہ ملے مگر اس کے پاس سے بھی جاتی رہے، اس قسم کا حسد مسلمانوں پر گناہِ کبیرہ ہے اور کافرِ فاسق کے حق میں حسد کرنا جائز ہے، مثلاً کوئی مالدار اپنے مال سے کفر یا ظلم کر رہا ہے، اس کے مال کی اس لیے بربادی چاہنا کہ دنیا اس کے کفر و ظلم سے بچے، جائز ہے۔

  2. حاسد دوسرے کی نعمت خود لینا چاہے کہ فلاں کا باغ یا اس کی جائیداد میرے پاس آ جائے یا اس کی ریاست کا میں مالک ہوں، یہ حسد مسلمانوں کے حق میں حرام ہے۔

  3. حاسد اس نعمت کے حاصل کرنے سے خود تو عاجز ہے، اس لیے آرزو کرتا ہے کہ دوسرے کے پاس بھی نہ رہے تاکہ وہ مجھ سے بڑھ نہ جائے، یہ بھی منع بلکہ ناجائز و گناہ ہے۔

ایک غلط فہمی کا ازالہ

بعض اوقات انسان اپنے فن، علم، حیثیت، عہدے، دین اور صلاحیتوں میں ممتاز ہوتا ہے، یگانۂ روزگار ہوتا ہے اور جب اسے معلوم ہوتا ہے کہ کسی اور علاقے یا جگہ میں اس کی طرح کا ایک اور انسان موجود ہے تو اس کے دل میں حاسدانہ جذبات نمو پانے لگتے ہیں، یا اس کا دل تنگ ہونے لگتا ہے اور وہ اس فرد کے مر جانے یا اس کی نعمت کے زائل ہو جانے کی تمنا کرنے لگتا ہے اور یہ جذبات حسد کا شاخسانہ ثابت ہوتے ہیں۔ حجۃ الاسلام امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

”ایک عالم دوسرے عالم سے تو حسد کرتا ہے لیکن کسی عبادت گزار سے حسد نہیں کرتا، اسی طرح ایک عبادت گزار دوسرے عبادت گزار سے تو حسد کرتا ہے لیکن عالم سے حسد نہیں کرتا، وعظ کرنے والا جتنا کسی دوسرے وعظ کرنے والے سے حسد کرتا ہے اتنا کسی فقیہ یا حکیم سے حسد نہیں کرتا کیونکہ ان دونوں کے درمیان ایک مقصد پر جھگڑا ہوتا ہے تو ان حسدوں کی اصل وجہ اور دشمنی کی بنیاد کسی ایک غرض پر اکٹھا ہونا ہے اور ایک غرض پر وہ دو آدمی جمع نہیں ہوتے جو ایک دوسرے سے دور ہوں بلکہ ان کے درمیان کسی قسم کی مناسبت ضروری ہے، اسی لیے ان دو آدمیوں کے درمیان حسد ہوتا ہے۔“ [احیاء علوم الدین، ج: 3، ص: 240]

حسد کے کئی علاج ہیں

  1. توبہ کیجیے کیوں کہ حسد نیکیوں کو کھا جاتا ہے، نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم حسد کی بیماری سے بہت بچو حسد انسان کی نیکیوں کو اس طرح کھا جاتا ہے جس طرح آگ لکڑی کو کھا جاتی ہے“۔ [سنن ابوداؤد، رقم الحدیث: 4903؛ مرقاۃ، جلد: 9، ص: 242]

  2. جن نعمتوں پر حسد ہے ان پر اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ وہ آپ کو بھی مل جائیں، حجۃ الاسلام امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ”تم نہ تو زوالِ نعمت کی تمنا کرو، اور نہ ہی اس کے وجود کو ناپسند جانو، البتہ تمہارے دل میں یہ چاہت ہو کہ تمہیں بھی اس قسم کی نعمت ملے، اس حالت کو رشک کہتے ہیں“۔ [احیاء علوم الدین للغزالی]

  3. محسود سے محبت کا اظہار کریں اور ہو سکے تو ان سے جلدی مل کر دل سے خوشی کا اظہار کریں، حدیثِ شریف میں ہے: ”ایک دوسرے سے حسد نہ کرو، ایک دوسرے سے دشمنی نہ کرو اور اللہ کے بندو! بھائی بھائی بن جاؤ اور کسی مسلمان کے لیے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ اپنے بھائی کو تین دن سے زیادہ چھوڑے رکھے“۔ [صحیح البخاری، رقم الحدیث: 6065]

  4. ممکن ہو تو محسود کے لیے کچھ تحفے تحائف کا بندوبست بھی کریں، حدیثِ شریف میں ہے: ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہدیہ کرو کہ اس سے حسد دور ہو جاتا ہے“۔ [بہارِ شریعت، حصہ 14، ص: 65]

  5. اگر پھر بھی افاقہ نہ ہو تو محسود سے مل کر اپنی کیفیت کا کھل کر اظہار کر دیں اور اس سے اپنے حق میں دعا کے لیے کہیں لیکن اس بات کا بھی خیال رکھیں کہ کہیں بات بگڑ نہ جائے، نیز دل ہی دل میں محسود (جس سے حسد کیا جائے) کے لیے سچی دعا کرتے رہیں کہ اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کے صدقے اس کو ان تمام امور میں مزید کامیابیاں عطا فرمائے۔

یہ پانچ ہدایات ہیں، اگر اس پر عمل کیا جائے تو یقیناً حسد جیسے مرض سے نجات مل سکتی ہے، اللہ تعالیٰ ہم سب کو حسد جیسے مرض سے محفوظ رکھے آمین بجاہ النبی المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم۔ [ماخوذ از: ماہنامہ سنی دنیا، بریلی شریف، نومبر 2023ء، ص: 8، 9]

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!