| عنوان: | اپریل فول کیا ہے؟ |
|---|---|
| تحریر: | مفتی عبد المالک مصباحی |
| پیش کش: | مظفر حسین شیرانی |
آج مسلمانوں میں غیروں کی نقالی کے سبب جہاں بہت سی برائیاں اور خرابیاں داخل ہو گئی ہیں، انہی میں سے ایک قبیح اور خطرناک بیماری ”اپریل فول“ بھی ہے، جو بہت سی خرابیوں اور حرام امور پر مشتمل ہے، مگر مغرب کی اندھی تقلید نے ہمارے نوجوانوں کو بالخصوص اس طرح سے مدہوش کر دیا ہے کہ نہ انہیں حلال و حرام کی تمیز ہے، اور نہ ہی اپنے باپ دادا کی تاریخ کا علم۔ یہی وجہ ہے کہ یہ ”اپریل فول“ میں بھی پیش پیش نظر آتے ہیں اور ”ویلنٹائن ڈے“ میں بھی سرگرمی سے حصہ لیتے ہیں۔ ”ہولی“ میں بھی بڑھ چڑھ کر مستی کرتے ہیں اور ”کرسمس“ منانے میں بھی کوئی جھجک محسوس نہیں کرتے ہیں۔ نوجوانو! ذرا قریب آؤ، اپنے کردار کا جائزہ لو اور اپنی تاریخ کا مطالعہ کرو۔
اپنی تاریخ کو جو قوم بھلا دیتی ہے
صفحۂ دہر سے وہ خود کو مٹا دیتی ہے
اپریل فول کا مطلب:
اپریل فول کا مطلب ہے دوسروں کے ساتھ عملی مذاق کرنا۔ اس مذاق کی نہ کوئی حد ہے، نہ کوئی انتہا۔ کوئی بھی کسی طرح کا مذاق کسی سے بھی کر سکتا ہے۔ اس کے لیے سال میں ایک تاریخ یکم اپریل (First April) مقرر کی گئی ہے۔ اپریل لاطینی زبان کے لفظ Aprire یا Aprilis سے ماخوذ ہے جس کا مطلب ہے پھولوں کا کھلنا، کونپلیں پھوٹنا۔
اپریل فول کی تاریخ:
تاریخ کی ورق گردانی سے پتہ چلتا ہے کہ اپریل فول (April Fool) منانے کے تعلق سے اہلِ علم کے درمیان متعدد روایتیں ملتی ہیں۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ فرانس میں سترہویں صدی تک سال کا آغاز اپریل سے ہوا کرتا تھا۔ نئے سال کی آمد کے موقع پر لوگ ایک دوسرے کو تحائف دیا کرتے تھے، جیسا کہ آج کل یکم جنوری (First January) کو ہوتا ہے مگر فرانس کے بادشاہ نے جب کیلنڈر کی تبدیلی کا حکم دیتے ہوئے یہ کہا کہ اب سال کی شروعات بجائے اپریل کے جنوری سے ہوا کرے گی، اور اس پر عمل بھی شروع کرا دیا، مگر ان دنوں چونکہ آج کی طرح میڈیا سروسز کا انتظام نہیں تھا، اس لیے دور دراز کے لوگوں کو اس حکم نامے کی اطلاع نہیں مل پائی، اس لیے بہت سے علاقوں میں اسی پرانی تاریخ ہی میں تحائف کا تبادلہ ہوا اور جن لوگوں نے پہلے ہی نئے سال کی تقریب منائی تھی، ان کا مذاق اڑایا اور اپریل فول کے نام سے ان پر طنز کرتے رہے۔ آہستہ آہستہ یہ روایت عام ہوئی، یہاں تک کہ پورے یورپ میں یہ دن بطور تہوار منایا جانے لگا۔
اس تعلق سے ایک روایت یہ بھی بیان کی جاتی ہے کہ قدیم رومی قوم موسمِ بہار کی آمد پر شراب کے دیوتا ”وینس“ کی پوجا کرتی اور شراب کے نشے میں مست ہو کر طرح طرح کی نازیبا حرکتیں کیا کرتی تھی، جس میں جھوٹ کا کثرت سے استعمال ہوتا، رفتہ رفتہ جھوٹ کی کثرت ”اپریل فول“ کا ایک اہم حصہ بن گئی۔
اس تعلق سے ایک اور نہایت تکلیف دہ اور اذیت آمیز تاریخ یہ بھی بیان کی جاتی ہے، جسے سننے کے بعد رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں اور غیرتِ ایمانی رکھنے والا دل لرزہ براندام ہو جاتا ہے کہ اسپین روئے زمین کا وہ خطہ ہے جہاں اسلام کے بطلِ جلیل حضرت طارق بن زیاد نے ساحلِ سمندر پر اتر کر یہ کہتے ہوئے اپنی کشتیوں کو نذرِ آتش کر دیا تھا کہ:
ہر ملک ملکِ ما است
کہ ملکِ خدائے ماست
(یعنی یا تو ہم اس ملک پر اسلامی پرچم لہرائیں گے، یا اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر دیں گے مگر کسی بھی حال میں واپس نہیں جائیں گے)۔ بالآخر ان جانبازوں کا جذبۂ سرفروشی کارگر ثابت ہوا، اور اسپین کی سرزمین پر ہلالی پرچم لہرانے لگا۔ یہاں مسلمانوں نے آٹھ سو سال تک بڑی شان و شوکت اور جاہ و جلال کے ساتھ حکمرانی کا فریضہ انجام دیا۔ اسی سرزمین پر مسلمانوں کی عظمت و شوکت کا ترانہ گنگنانے والی جامع قرطبہ قائم ہوئی جو صرف ایک عظیم الشان مسجد ہی نہیں، بلکہ اس وقت پوری دنیا میں ایک عظیم الشان یونیورسٹی کی حیثیت رکھتی تھی، مگر صدیوں بعد یہاں کے مسلمان جب عملی کوتاہی اور آپسی رسہ کشی کے شکار ہوئے تو عیسائیوں کو موقع ملا اور انہوں نے شہر پر چڑھائی کر کے مملکت کی اینٹ سے اینٹ بجا دی۔
مسلمانوں کے خون سے اسپین کی گلیوں میں نالے بہنے لگے، سڑکوں اور شاہراہوں پر خون کی اتنی بہتات تھی کہ دشمنوں کے گھوڑوں کی ٹانگیں تک ڈوب گئیں۔ انسانی خون کی اتنی ارزانی ہوئی کہ تاریخ اس کی مثال پیش کرنے سے قاصر ہے۔ کشت و خون کی ہولی کا سلسلہ کئی ہفتوں تک جاری رہا۔ بادشاہ ”فرڈینینڈ“ کو اس سے بھی تسلی نہ ہوئی تو اس نے اسپین کو مسلمانوں کے وجود سے خالی کرانے کے لیے یہ کہا کہ ”ملک میں جو بھی مسلمان کہیں بچے کھچے اور چھپے ہوئے ہیں، انہیں بحفاظت تمام اسلامی ملک میں بھیج دیا جائے گا، اس لیے فلاں تاریخ کو فلاں میدان میں سارے مسلمان جمع ہو جائیں“۔
یہ اعلان سن کر جہاں کہیں بھی مسلمان ڈرے سہمے چھپے تھے، وہ سارے نکل آئے کہ ہم اپنی جان بچا کر کسی اسلامی ملک میں چلے جائیں گے۔ عیسائی بادشاہ نے ساحلِ سمندر پر کشتیوں کا انتظام کیا تھا۔ مسلمان اپنی جان کی حفاظت دیکھتے ہوئے مستقبل کے منصوبے بناتے ہوئے سمندر میں چلے جا رہے تھے کہ ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت بادشاہ کے کارندوں نے کشتیوں میں جگہ جگہ سوراخ کر دیے اور خود باہر نکل آئے اور مسلمانوں کے ڈوبنے کا نظارہ کرنے لگے۔ تھوڑی دیر بعد کشتیاں پانی سے بھر گئیں اور مسلمانوں کی بھاری تعداد سمندر کی لہروں میں ہمیشہ ہمیش کے لیے خاموش ہو گئی۔ یہ یکم اپریل (First April) کی تاریخ تھی۔ مغربی دنیا اسی تاریخ کو یاد کر کے اپنے اوپر فخر کرتی ہے اور مسلمانوں کی موت پر گھی کے چراغ جلاتی ہے۔
اپریل فول کی شرعی حیثیت:
مغربی اقوام کا یہ جشنِ مسرت اسلامی نقطۂ نظر سے کئی خرابیوں اور برائیوں پر مشتمل ہے، اس لیے اپریل فول منانا جائز نہیں۔
-
اپريل فول میں جھوٹ کثرت سے بولا جاتا ہے، اور جھوٹ کے تعلق سے اللہ رب العزت کا ارشاد ہے:
لَعْنَةُ اللّٰهِ عَلَى الْكَاذِبِينَ
ترجمہ: جھوٹوں پر اللہ کی لعنت ہے۔ [سورۃ آل عمران: 61]
جھوٹوں کی برائی بیان کرتے ہوئے حضورِ اقدس صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں: ”قیامت کے روز 8 قسم کے لوگ اللہ عزوجل کے نزدیک سب سے برے ہوں گے: (1) جھوٹ بولنے والے۔ (2) تکبر کرنے والے۔ (3) وہ لوگ جو اپنے سینوں میں اپنے بھائیوں سے بغض چھپا کر رکھتے ہیں، اور جب وہ ان کے پاس آتے ہیں تو ان سے خوش اخلاقی سے پیش آتے ہیں۔ (4) وہ لوگ کہ جب انہیں اللہ عزوجل اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بلایا جاتا ہے تو ٹال مٹول کرتے ہیں اور جب شیطانی کاموں کی طرف بلایا جاتا ہے تو اس میں جلدی کرتے ہیں۔ (5) وہ لوگ جو کسی دنیوی خواہش کی تکمیل پر قدرت پاتے ہیں تو قسمیں اٹھا کر اسے جائز سمجھنے لگتے ہیں، اگرچہ وہ ان کے لیے جائز نہ ہو۔ (6) چغلی کھانے والے۔ (7) دوستوں میں جدائی ڈالنے والے۔ اور (8) نیک لوگوں کے لیے گناہ میں مبتلا ہونے کی تمنا کرنے والے۔ یہی وہ لوگ ہیں جنہیں اللہ عزوجل ناپسند کرتا ہے۔“ [معجم الکبیر، جلد: 16، ص: 39]
-
دھوکہ اور فریب: اپریل فول کے موقع پر لوگ ایک دوسرے کو دھوکہ اور فریب دے کر خوش ہوتے ہیں۔ حضورِ اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جس نے کسی مسلمان کے ساتھ بددیانتی کی یا اسے نقصان پہنچایا یا دھوکہ دیا وہ ہم میں سے نہیں۔“ [جامع الاحادیث للسیوطی، جلد: 5، ص: 190] حضورِ اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی ارشاد فرمایا کہ: ”مکر و فریب جہنم میں لے جانے والے ہیں۔“ [شعب الایمان، جلد: 4، ص: 327]
-
وقت کی بربادی: وقت دنیا کی بیش قیمت چیزوں میں سے ایک اور نہایت اہم ہے۔ اس کی بربادی اسلام میں کیسے صحیح ہو سکتی ہے؟
-
ایذائے مسلم: اپریل فول میں ایک آدمی جھوٹ بول کر یا دھوکہ دے کر دوسرے کو ذہنی اور بسا اوقات جسمانی تکلیف میں مبتلا کرتا ہے، اور یہ اسلامی نقطۂ نظر سے حرام ہے۔ مذکورہ بالا اسباب و علل کی بنیاد پر مسلمانوں کو ہر حال میں اپریل فول سے بچنا لازم و ضروری ہے۔
[ماخوذ از: ماہنامہ پیغامِ شریعت، (دہلی) اپریل 2019ء، ص: 10]
