Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...
مضمون نگار
موضوعات
کل مضامین
بولتے مضامین

فتنۂ ارتداد! حقیقت یا فسانہ

فتنۂ ارتداد! حقیقت یا فسانہ
عنوان: فتنۂ ارتداد! حقیقت یا فسانہ
تحریر: غلام مصطفیٰ رضوی
پیش کش: ناظم اسماعیلی

حوصلوں کا مر جانا موت سے سخت ہے۔ آج مسلم بچیوں کے ارتداد کا خوب ڈھنڈورا پیٹا جا رہا ہے۔ نفسیاتی طور پر پوری قوم اس منجدھار میں ہے کہ مسلم بچیاں ارتداد کے دلدل میں دھنستی جا رہی ہیں۔ یہی پروپیگنڈہ مہم بچیوں میں بے یقینی، سرپرستوں میں بے چینی اور معاشرے میں نامرادی، شکست خوردہ فضا ہموار کرنے کا سبب بن رہی ہے۔ قوم خود کو نیم جاں محسوس کر رہی ہے۔ پروپیگنڈے میں ہم، سوشل میڈیا، سبھی شامل ہیں، گویا اس طرح کا ماحول بچیوں کے لیے مشرکین کی سمت ترغیب کا سبب بن رہا ہے۔

فتنۂ ارتداد کسی قدر ہوا ہے، گرچہ یہ حقیقت ہے کہ مشرکین کے دہشت گرد ونگ نے مسلمانوں کے خلاف سخت سازشیں رچی ہیں۔ سیم و زر کے ذریعے مسلم بچیوں کو ورغلانے سے لے کر محبت کا جال بننے والے غنڈوں کی مالی و قانونی مدد تک کے معاملات منظم سازش کا پتہ دیتے ہیں۔ جس کا زیادہ تر دائرہ کالجز، ہاسٹل، یونیورسٹیوں تک کشادہ ہے۔ آزاد خیال، ماڈریٹ اور فیشن ایبل گھرانوں کی بعض لڑکیاں اس کی لپیٹ میں آ رہی ہیں، لیکن یہ بھی کم قیامت نہیں کہ ہمارے معاشرے کی ایک لڑکی غیر مسلم یعنی مشرک سے شادی کرے، ایسا ایک دو واقعہ ہی ہم مسلمانوں کے لیے کسی چیلنج سے کم نہیں!

نقصانات

پھر دہشت گرد تنظیموں کے سازشی پیار، محبت اور عشق کے جھانسے میں آ کر ان نقصانات سے گزرنا پڑے، يہ بھی سوچنے اور غور کرنے کا مقام ہے:

  1. ایمان گنوا بیٹھنا۔
  2. مشرک سماج میں چار دن کے پیار کے بعد ذلت و رسوائی کی زندگی گزارنا، ہر ہر لمحہ گھٹ گھٹ کر جینا۔
  3. نسب اور خاندان کی پاکیزگی سے محروم ہو جانا۔
  4. مشرکین کے یہاں چھوت چھات، اچھوت، کمتر، نجس اور ذلیل سلوک سے دوچار ہونا۔
  5. ہوس پوری ہونے کے بعد بے گھر کر دیا جانا، یا پھر طرح طرح کے ظلم و ستم کا نشانہ بنایا جانا۔
  6. خودکشی پر مجبور کر دیا جانا، نہیں تو قتل کا اندیشہ لاحق ہونا۔
  7. مرتد ہونے تک خوب میٹھے میٹھے خواب میں مست ہونا، مرتد ہونے کے بعد نچلے درجے کی ذلت کا شکار ہو جانا۔
  8. ہر لمحہ دکھ، درد اور تکلیف میں گزرنا۔ نہ سکون نہ چین۔ نہ آبرو کی حفاظت نہ تقدسِ نسواں۔
  9. اذیت ناک زندگی جس کے تصور سے ہی انسانیت لرز اٹھے۔ یہ سب مشرکین کے گندے معاشرے کا تعفن اور ان کے منصوبے کا حصہ ہے۔
  10. جب عزت گنوا کر والدین کے یہاں آنا چاہیں تو والدین کا رویہ بھی منفی ہونا فطری ہے۔

ایسے میں معاشرے کا انہیں اپنانا مشکل ہوتا ہے۔ گرچہ ایسے ماحول سے لوٹنے والی بچیوں کو اپنانا اور ان کی اصلاح کی کوشش کرنا ہمارے معاشرے کی ذمہ داری ہے۔

لمحۂ فکریہ

  1. جو غنڈے مسلم بچیوں کے چہرے سے نقاب نوچنے کی کوشش کریں وہ بچیوں کے ہمدرد کیسے ہو سکتے ہیں؟
  2. شرابی ظالم ہوتا ہے، جن کے یہاں شراب عام ہو، وہ بچیوں پر کس قدر ظلم کرتے ہوں گے!
  3. جن کا معاشرہ ان کی عورتوں کے لیے وبالِ جان ہو وہ کیونکر مسلم بچیوں کی تکریم کریں گے؟
  4. جہاں خاندانی نظام تباہ ہو اور درندگی کی حد تک بچیوں کا استحصال ہو وہاں مسلم بچی کیونکر امن سے رہ سکے گی؟
  5. جہاں عورتیں رسوائی و ظلم کی چکی میں پس رہی ہوں وہاں مہذب سماج کی خاتون کس طرح محفوظ رہے گی؟ [ماخوذ از: ماہنامہ سنی دنیا، بریلی شریف، جون 2023ء، ص: 41]
جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!