Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...
مضمون نگار
موضوعات
کل مضامین
بولتے مضامین

ائمہ دین کی نعت گوئی

ائمہ دین کی نعت گوئی
عنوان: ائمہ دین کی نعت گوئی
تحریر: حضرت علامہ شرف قادری
پیش کش: محمد سجاد علی قادری ادریسی

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اللہ تعالیٰ نے انسان کو اتنی نعمتیں عطا فرمائی ہیں کہ انھیں شمار نہیں کیا جا سکتا۔ ان نعمتوں کا تقاضا ہے کہ بندہ اسے وحدہٗ لا شریک مانے، اس کی عبادت کرے، اس کی بارگاہ میں سراپا سپاس ہو اور ہمہ وقت اس کے ذکر میں مصروف رہے۔ اگر انسان اپنی زندگی کا ایک ایک لمحہ اس کی یاد اور اطاعت میں صرف کر دے اور ہر آن زبانِ شکر بن کر ہر وقت اس کا شکر ادا کرنے میں مصروف ہو جائے تو بھی اس ربِ کریم کا حقِ شکر ادا نہیں کر سکتا۔

اللہ تعالیٰ کی معرفت اور رازِ توحید سے ہمیں کس نے آشنا کیا؟ موت و حیات، خیر و شر اور دنیا و آخرت کا فلسفہ کس نے بتایا؟ کیا ہم اس کریم ہستی کا شکریہ ادا کر سکتے ہیں؟ نہیں، ہرگز نہیں۔ ہماری سعادت اور فیروز بختی یہی ہے کہ ہم اللہ کریم جل شانہٗ کے آخری نبی اور حبیبِ مکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے نقشِ قدم پر چلیں، آپ کے بتائے ہوئے راستے، صراطِ مستقیم پر گامزن رہیں اور اللہ تعالیٰ کی محبت کے ساتھ ساتھ ہادئِ برحق، محسنِ اعظم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی محبت و عقیدت اپنے دل و دماغ میں راسخ کر لیں، اور اس محبت کا نور اس قدر پھیلائیں کہ غیر مسلم حلقہ بہ گوشِ اسلام ہو جائیں اور معصیت کی زندگی بسر کرنے والے تقویٰ و طہارت کا پیکر بن جائیں۔

اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا اور نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی مدح و نعت ہر مسلمان کا وظیفہ اور وجہِ سکونِ قلب ہے۔ مخلوق میں سے کوئی بھی اللہ تعالیٰ کی کما حقہ حمد نہیں کر سکتا، اور اللہ تعالیٰ کے شاہکارِ اعظم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی نعت کا حق ادا کرنا بھی کسی مخلوق کے بس کی بات نہیں۔ ربِ کائنات نے تمام دنیا کے ساز و سامان کو قلیل فرمایا ہے، وہ اپنے حبیبِ مکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے بارے میں فرماتا ہے:

وَ إِنَّكَ لَعَلٰى خُلُقٍ عَظِيْمٍ [القلم: 4]
”اے حبیب! بے شک آپ عظیم خلق کے مرتبے پر فائز ہیں۔“

اس ذاتِ اقدس کے مقام و مرتبہ اور عظمتِ اخلاق کے بیان کا حق کون ادا کر سکتا ہے؟

اے رضا! خود صاحبِ قرآن ہے مداحِ حضور
تجھ سے کب ممکن ہے پھر مدحتِ رسول اللہ کی

ائمۂ دین کو دینی امامت کا منصب اس لیے حاصل ہوا کہ انھوں نے دینِ مصطفیٰ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا پیغام تحریر و تقریر کے ذریعے عوام و خواص تک پہنچایا اور لوگوں کے دلوں میں عظمتِ خداوندی اور رفعتِ مصطفائی کی عقیدت راسخ کی۔ مصنفین، اور خاص طور پر ائمۂ دین—مفسرین، محدثین اور فقہاء—نے اپنی کتابوں کے آغاز کو جہاں اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا سے بابرکت بنایا، وہاں نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی بارگاہ میں ہدیۂ صلوٰۃ و سلام پیش کرتے ہوئے آپ کے اوصافِ حمیدہ اور شمائلِ مبارکہ کے بیان سے سعادت حاصل کی۔ مفسرین نے قرآنِ پاک کی تفسیر کرتے ہوئے مختلف آیات کے تحت بارگاہِ رسالت، علیٰ صاحبہا الصلوٰۃ والسلام، میں گلہائے عقیدت پیش کیے، جن کے مطالعہ سے مشامِ جاں معطر ہو جائے۔ محدثین نے اس عنوان پر مستقل کتابیں تحریر کیں، مثلاً:

  • دلائل النبوۃ: امام ابو نعیم
  • دلائل النبوۃ: امام بیہقی
  • خصائصِ کبریٰ: امام جلال الدین سیوطی
  • حجۃ اللہ علی العالمین: امام یوسف بن اسماعیل نبہانی

حدیث کے شارحین نے اپنی شروحات میں، سیرت نگاروں نے کتبِ سیرت میں، اور صوفیاء نے کتبِ تصوف میں اللہ تعالیٰ کے حبیبِ پاک صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی بارگاہِ حسن و ناز میں اپنی اپنی بساط کے مطابق ہدیۂ عقیدت و نیاز پیش کیا ہے۔ یہ سب نعت ہی کے تو انداز ہیں۔

منظوم نعت پیش کرنے والے صحابۂ کرام سے لے کر آج تک کے اہلِ محبت شمار سے باہر ہیں، اور سچی بات تو یہ ہے کہ بے شمار جہانوں میں سے نعت کا اپنا ایک جہان ہے، جس میں صحابۂ کرام بھی ملیں گے، امام زین العابدین، امام ابو حنیفہ، سیدنا غوث الاعظم، علامہ بوصیری، شیخ سعدی، مولانا جلال الدین رومی، مولانا جامی، حکیم خاقانی، قدسی، نظامی گنجوی، امیر خسرو، اور دورِ آخر میں شاہ ولی اللہ محدث دہلوی، آزاد بلگرامی، احمد شوقی، علامہ محمد فضل حق خیر آبادی، علامہ یوسف بن اسماعیل نبہانی اور اعلیٰ حضرت امام احمد رضا بریلوی رحمہم اللہ تعالیٰ بھی ملیں گے۔

علامہ یوسف نبہانی کا عظیم الشان کارنامہ یہ ہے کہ انھوں نے نثری گلہائے نعت ”جواہر البحار“ کی چار جلدوں میں اور منظوم قصائدِ نعت ”المجموعة النبهانية“ کی چار جلدوں میں جمع کر دیے ہیں۔ یہ دونوں کتابیں عربی میں ہیں، البتہ ”جواہر البحار“ کا ترجمہ ضیاء القرآن پبلی کیشنز، لاہور نے چار جلدوں میں شائع کیا ہے۔

حوالہ: [مقالات شرف قادری]

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!