Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...
مضمون نگار
موضوعات
کل مضامین
بولتے مضامین

فلسفۂ نماز! قرآن و حدیث کی روشنی میں

فلسفۂ نماز! قرآن و حدیث کی روشنی میں
عنوان: فلسفۂ نماز! قرآن و حدیث کی روشنی میں
تحریر: مفتی عبد المالک مصباحی
پیش کش: ام ماجد، فاؤنڈر نالج آف اسلام اکیڈمی

انسان جسم اور روح کے مجموعے کا نام ہے۔ جسم کی تقویت اور آرائش و زیبائش کے تو ہزاروں اسباب مہیا ہیں اور ہمہ وقت اس کا خیال ہے مگر جو اصلی چیز ہے یعنی روح اس کی صفائی اور تقویت کی کوئی پرواہ ہی نہیں جبکہ یہ انتہائی ضروری امر ہے۔ اس مقام پر پہنچ کر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر وہ کون سے اسباب اور وسائل ہیں جنہیں اپنا کر انسان اپنی روح کو مضبوط اور توانا بنا سکتا ہے؟

اس کا جواب یہ ہے کہ چونکہ روح غیر مرئی شے ہے (ایسی چیز جو دیکھی نہ جا سکے) اس لیے اس کی غذا بھی ایسی چیز ہی ہونی چاہیے جس کے اثرات غیر مرئی ہوں اور وہ ذکرِ الٰہی ہے۔ اور ذکرِ الٰہی کی کئی صورتیں ہیں مثلاً تسبیح، تلاوت، درود شریف کا ورد اور ذکر و اذکار وغیرہ اور ان تمام کے مجموعے کا نام نماز ہے اس لیے اسے افضل العبادۃ کے نام سے پکارا جاتا ہے۔ مخلوق کے خالق سے ملنے کا سب سے اہم اور آسان ذریعہ نماز ہے، جیسا کہ حدیث شریف میں فرمایا گیا ہے کہ بندہ جب سجدے کی حالت میں ہوتا ہے تو اس وقت وہ اللہ سے سب سے زیادہ قریب ہوتا ہے۔ [مسلم شریف]

اور اسی وجہ سے قرآن اور حدیث میں اس کی بڑی تاکید آئی ہے۔ اس کی اہمیت کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ قرآنِ مجید میں مختلف انداز میں سو سے زیادہ مقامات پر اس کی طرف توجہ دلائی گئی ہے اور احادیث تو بے شمار ہیں۔ چند آیات اور احادیثِ مبارکہ یہاں پیش کی جا رہی ہیں۔

نماز کی اہمیت قرآنِ پاک کی روشنی میں

نماز کو اللہ عزوجل اپنا ذکر قرار دیتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے:

وَأَقِمِ الصَّلَاةَ لِذِكْرِي

اور میری یاد کے لیے نماز قائم رکھ۔ [سورۃ طہٰ: 14]

نماز کی فرضیت کا تذکرہ کرتے ہوئے باری تعالیٰ کا فرمانِ عالیشان ہے:

إِنَّ الصَّلَاةَ كَانَتْ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ كِتَابًا مَوْقُوتًا

بیشک نماز مسلمانوں پر وقت باندھا ہوا فرض ہے۔ [سورۃ النساء: 103]

نماز برائیوں کو مٹا کر نیکیوں میں اضافہ کرتی ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

وَأَقِمِ الصَّلَاةَ طَرَفَيِ النَّهَارِ وَزُلَفًا مِنَ اللَّيْلِ إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ ذٰلِكَ ذِكْرَىٰ لِلذَّاكِرِينَ

اور نماز قائم رکھو دن کے دونوں کناروں اور کچھ رات کے حصوں میں، بیشک نیکیاں برائیوں کو مٹا دیتی ہیں۔ یہ نصیحت ہے نصیحت ماننے والوں کو۔ [سورۃ ھود: 114]

نماز کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس کی ادائیگی ایمان کی علامت ہے اور اسے چھوڑنا کفر کا شعار قرار دیا گیا ہے:

وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَلَا تَكُونُوا مِنَ الْمُشْرِكِينَ

اور نماز قائم رکھو اور مشرکوں سے نہ ہو۔ [سورۃ الروم: 31]

مومن کی صفات کا تذکرہ کرتے ہوئے اللہ رب العزت فرماتا ہے:

الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ وَيُقِيمُونَ الصَّلَاةَ وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنْفِقُونَ

وہ جو بے دیکھے ایمان لائیں، اور نماز قائم رکھیں اور ہماری دی ہوئی روزی میں سے ہماری راہ میں اٹھائیں۔ [سورۃ البقرہ: 3]

بے نمازیوں کو جہنم میں ڈالا جائے گا، وہ جب اس طرف بڑھ رہے ہوں گے تو پوچھنے والا پوچھے گا۔ کیوں؟ کس عمل کی بنیاد پر جہنم میں ڈالا جا رہا ہے؟ تو بے نمازی کہیں گے:

قَالُوا لَمْ نَكُ مِنَ الْمُصَلِّينَ

وہ بولیں گے ہم نماز نہ پڑھتے تھے۔ [سورۃ المدثر: 43]

بے نمازیوں کا جہنم میں کہاں ٹھکانہ ہو گا اس کی نشاندہی کرتے ہوئے باری تعالیٰ متنبہ کر رہا ہے:

فَخَلَفَ مِنْ بَعْدِهِمْ خَلْفٌ أَضَاعُوا الصَّلَاةَ وَاتَّبَعُوا الشَّهَوَاتِ فَسَوْفَ يَلْقَوْنَ غَيًّا إِلَّا مَنْ تَابَ

تو ان کے بعد ان کی جگہ وہ ناخلف آئے جنہوں نے نمازیں گنوائیں اور اپنی خواہشوں کے پیچھے ہوئے تو عنقریب وہ دوزخ میں غی کا جنگل پائیں گے۔ مگر وہ جو توبہ کر لیں۔ [سورۃ مریم: 59، 60]

نماز میں سستی کرنے والوں کا حال بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ خبردار کر رہا ہے:

فَوَيْلٌ لِلْمُصَلِّينَ الَّذِينَ هُمْ عَنْ صَلَاتِهِمْ سَاهُونَ

تو ان نمازیوں کی خرابی ہے جو اپنی نماز سے بھولے بیٹھے ہیں۔ [سورۃ الماعون: 4، 5]

ذکرِ الٰہی سے روکنے والی چیزوں کا تذکرہ نیز نہ ماننے کی صورت میں انجام سے باخبر کرتے ہوئے ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُلْهِكُمْ أَمْوَالُكُمْ وَلَا أَوْلَادُكُمْ عَنْ ذِكْرِ اللّٰهِ وَمَنْ يَفْعَلْ ذٰلِكَ فَأُولٰئِكَ هُمُ الْخَاسِرُونَ

اے ایمان والو! تمہارے مال نہ تمہاری اولاد کوئی چیز تمہیں اللہ کے ذکر سے غافل نہ کرے، اور جو ایسا کرے گا تو وہی لوگ نقصان اٹھانے والے ہیں۔ [سورۃ المنافقون: 9]

وَقُومُوا لِلّٰهِ قَانِتِينَ

اور کھڑے ہو اللہ کے حضور ادب سے۔ [سورۃ البقرہ: 238]

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا ارْكَعُوا وَاسْجُدُوا وَاعْبُدُوا رَبَّكُمْ وَافْعَلُوا الْخَيْرَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ

اے ایمان والو! رکوع اور سجدہ کرو اور اپنے رب کی بندگی کرو اور بھلے کام کرو اس امید پر کہ تمہیں چھٹکارا ہو۔ [سورۃ الحج: 77]

قَدْ أَفْلَحَ الْمُؤْمِنُونَ الَّذِينَ هُمْ فِي صَلَاتِهِمْ خَاشِعُونَ

بے شک مراد کو پہنچے ایمان والے جو اپنی نماز میں گڑگڑاتے ہیں۔ [سورۃ المؤمنون: 1، 2]

احادیثِ مبارکہ

عَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ، سَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّ الْعَمَلِ أَحَبُّ إِلَى اللّٰهِ تَعَالَى؟ قَالَ الصَّلَاةُ عَلَى وَقْتِهَا، قَالَ ثُمَّ أَيُّ؟ قَالَ بِرُّ الْوَالِدَيْنِ، قَالَ ثُمَّ أَيُّ؟ قَالَ الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللّٰهِ.

حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا، اللہ کے نزدیک کون سا عمل سب سے زیادہ محبوب ہے؟ فرمایا بروقت نماز ادا کرنا، ابنِ مسعود نے کہا پھر؟ فرمایا والدین کی اطاعت کرنا، ابنِ مسعود بولے اس کے بعد کون سا؟ فرمایا جہاد فی سبیل اللہ۔ [بخاری]

قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِكُلِّ شَيْءٍ عَلَمٌ وَعَلَمُ الْإِيمَانِ الصَّلَاةُ.

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر چیز کی ایک نشانی ہے اور ایمان کی نشانی نماز ہے۔

الصَّلَاةُ عِمَادُ الدِّينِ.

نماز دین کا ستون ہے۔

جُعِلَتْ قُرَّةُ عَيْنِي فِي الصَّلَاةِ.

میری آنکھوں کی ٹھنڈک نماز میں رکھی گئی ہے۔

فلسفۂ نماز

نماز صرف لب ہلانے اور اٹھک بیٹھک کا نام نہیں بلکہ اس میں دینی، دنیاوی، روحانی اور جسمانی ہر طرح کے فوائد پوشیدہ ہیں۔ سردست چند پیش ہیں:

ظاہری صفائی

ادائیگیِ نماز کے لیے سب سے پہلی شرط طہارت و پاکیزگی ہے۔ اس کے بغیر بندہ نماز میں داخل ہی نہیں ہو سکتا۔ ظاہری صفائی ستھرائی باطن کی صفائی کی طرف متوجہ کرتی ہے۔ صفائی اور ستھرائی سے جہاں انسان دیکھنے میں جاذبِ نظر لگتا ہے وہیں خود اس کی اپنی طبیعت پر مسرت اور نشاط آمیز رہا کرتی ہے جو دینی اور دنیاوی دونوں کاموں کی انجام دہی میں معاون ہوا کرتی ہے۔

باطنی صفائی

نماز باطن کو قوت و توانائی عطا کرنے کا سب سے اہم اور مضبوط ذریعہ ہے۔ روحانی کمزوریوں نے آج دنیا میں نہ جانے کتنی بیماریوں کو جنم دے دیا کہ ہر طرف ہاہا کار مچا ہوا ہے۔ اس پر قابو پانے کے لیے قرآنِ حکیم کا نسخہ، بے خطا بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

أَلَا بِذِكْرِ اللّٰهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ

ترجمہ: خبردار اللہ کے ذکر سے دلوں کو اطمینان حاصل ہوتا ہے۔ [سورۃ الرعد: 28]

اور حدیثِ پاک میں آیا ہے:

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ أَرَأَيْتُمْ لَوْ أَنَّ نَهَرًا بِبَابِ أَحَدِكُمْ يَغْتَسِلُ فِيهِ كُلَّ يَوْمٍ خَمْسًا مَا تَقُولُ ذٰلِكَ يُبْقِي مِنْ دَرَنِهِ؟ قَالُوا لَا يُبْقِي مِنْ دَرَنِهِ شَيْئًا، قَالَ فَذٰلِكَ مَثَلُ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ يَمْحُو اللّٰهُ بِهَا الْخَطَايَا.

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ سے دریافت فرمایا تم ایسے آدمی کے بارے میں کیا کہتے ہو جس کے گھر کے دروازے پر ایک نہر ہو اور وہ آدمی ہر دن اس نہر میں پانچ مرتبہ غسل کرتا ہو، کیا اس آدمی کے بدن پر کسی طرح کی کوئی گندگی باقی رہے گی؟ صحابہ نے عرض کیا، یا رسول اللہ! ایسے آدمی کے جسم پر کسی طرح کی گندگی باقی نہیں رہے گی۔ اس پر حضور نے ارشاد فرمایا، یہی مثال پنجوقتہ نمازوں کی ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے بندوں کے گناہ معاف فرما دیتا ہے۔ [بخاری و مسلم]

قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا صَلَّى يُنَاجِي رَبَّهُ فَلَا يَبْزُقَنَّ عَنْ يَمِينِهِ وَلٰكِنْ تَحْتَ قَدَمِهِ الْيُسْرَىٰ.

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی نماز پڑھتا ہے اس وقت وہ اپنے پروردگار سے مناجات کرتا ہے اسے چاہیے کہ اپنے داہنی طرف نہ تھوکے بلکہ اپنے بائیں پاؤں کے نیچے تھوکے۔ [بخاری]

حضورِ اقدس صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ موسمِ سرما میں مدینہ شریف سے باہر تشریف لے گئے، پت جھڑ کا موسم تھا درختوں کے پتے جھڑ رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک درخت کی دو ٹہنیوں کو پکڑا (انہیں ہلایا) پتے جھڑنے لگے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے ابوذر! حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا، یا رسول اللہ میں حاضر ہوں۔ آپ نے فرمایا دیکھو جب کوئی مسلمان نماز پڑھتا ہے اور اس کے ذریعے اللہ کی خوشنودی چاہتا ہے تو اس کے گناہ اسی طرح جھڑ جاتے ہیں جس طرح اس درخت کے پتے جھڑ رہے ہیں۔ [مسندِ امام احمد]

جسمانی قوت

نماز پڑھنے سے انسان جسمانی طور پر صحت مند اور توانا رہتا ہے۔ جدید میڈیکل سائنس نے تو اس بات کو بہت واضح طور پر ثابت کر دیا ہے کہ نماز میں جہاں روحانی فائدے ہیں وہیں جسمانی فائدے بھی بے شمار ہیں۔ نماز ایک ایسی ورزش ہے کہ جس سے انسان کے جسمانی اعضا بہت متوازن رہتے ہیں۔ قوی اعضا کے علاوہ نسوں پر بھی اس کے خوشگوار اثرات ہوتے ہیں۔ سائنس کی نظر میں ہلکی ورزش میں نماز کا طریقہ کار بتایا گیا ہے۔ روزانہ پانچ وقت اس ورزش کی وجہ سے اندرونی اعضا کھل کر حرکت کرتے رہتے ہیں۔ اٹھنے بیٹھنے، چلنے پھرنے حتیٰ کہ اس ورزش کا اثر آدمی کی بینائی پر بھی پڑتا ہے۔

تذکرۃ الواعظین میں لکھا ہے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نماز پڑھنے سے دس فائدے حاصل ہوتے ہیں۔ ان میں سے ایک یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ بدن تمام بیماریوں سے محفوظ رہتا ہے۔

روحانی قوت

نماز سے انسان کی روحانیت بلند ہوتی ہے۔ نماز کی کثرت بندے کو قدسی صفات بنا دیتی ہے۔ جیسا کہ حدیثِ قدسی ہے:

جب بندہ نوافل کی کثرت سے میرا قرب حاصل کرتا ہے تو میں اسے اپنا محبوب بنا لیتا ہوں پھر میں اس کے کان ہو جاتا ہوں جن سے وہ سنتا ہے، اس کی آنکھیں ہو جاتا ہوں جن سے وہ دیکھتا ہے، اس کے ہاتھ ہو جاتا ہوں جن سے وہ پکڑتا ہے، اس کے پاؤں ہو جاتا ہوں جن سے وہ چلتا ہے، اگر وہ مجھ سے کوئی سوال کرے تو میں اسے عطا کرتا ہوں اور اگر کسی چیز سے پناہ مانگے تو میں اس کی حفاظت کرتا ہے۔ [بخاری]

بندہ اپنی عبادات اور ریاضت سے جب یہ مقام حاصل کر لیتا ہے تو پھر دنیا کی تمام طاقتیں اس کے سامنے ہیچ ہو جاتی ہیں۔ اب وہ دنیاوی اسباب اور وسائل سے بے نیاز اور مستغنی ہو جاتا ہے۔ نماز اور دیگر عبادات کی کثرت جب بندے کے معمولاتِ زندگی بن جاتے ہیں تو رحمتِ خداوندی پکار پکار کر کہتی ہے:

ہم تو مائل بہ کرم ہیں کوئی سائل ہی نہیں
راہ دکھلائیں کسے رہروِ منزل ہی نہیں

تکرارِ عمل

نماز دن میں پانچ مرتبہ فرض ہے اور وہ بھی روزانہ، آخر اس تکرار کا فائدہ کیا ہے؟ اس تکرار کے فائدے کو آسانی سے سمجھنے کے لیے وہ حدیثِ پاک پیشِ نظر رکھنی پڑے گی جس میں فرمایا گیا ہے:

أَنْ تَعْبُدَ اللّٰهَ كَأَنَّكَ تَرَاهُ، فَإِنْ لَمْ تَكُنْ تَرَاهُ فَإِنَّهُ يَرَاكَ.

اللہ کی عبادت تم اس طرح کرو کہ تم اسے دیکھ رہے ہو اور اگر یہ قوت میسر نہ آئے تو یہ خیال تو ضرور جماؤ کہ اللہ تم کو دیکھ رہا ہے۔ [بخاری شریف، کتاب الایمان، حدیث: 47]

تو نماز روزانہ اور بار بار پڑھنے کا مقصد یہ ہے کہ بندے کے ذہن میں یہ بات اچھی طرح نقش کر جائے کہ خدا مجھے دیکھ رہا ہے۔ اور جب یہ بات منقش ہو جائے گی تو پھر بندہ گناہوں سے بچتا نظر آئے گا اور نماز کا یہی مطلوب بھی ہے جیسا کہ ارشادِ باری ہے:

إِنَّ الصَّلَاةَ تَنْهَىٰ عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ

بیشک نماز بے حیائی اور بری باتوں سے روکتی ہے۔ [سورۃ العنکبوت: 45]

بندہ جب نماز کا پابند ہو جاتا ہے تو اس کے ذہن میں یہ بات بیٹھ جاتی ہے کہ اللہ رب العزت مجھے دیکھ رہا ہے۔ اب جب بھی کوئی قدم اٹھاتا ہے تو اس سے پہلے وہ سوچتا ہے کہ آیا میرا یہ قدم اچھائی کی طرف اٹھ رہا ہے یا برائی کی طرف، اگر اسے محسوس ہو جاتا ہے کہ میرا قدم نیکی کی بجائے برائی کی طرف بڑھ رہا ہے تو فوراً اپنے قدم پیچھے ہٹا لیتا ہے کہ میرا رب مجھے دیکھ رہا ہے۔ اس طرح پنج وقتہ نماز کے خیال میں ڈوبے رہنے یا بلفظِ دیگر نماز کا پابند ہو جانے سے انسان گناہوں سے بچنے لگتا ہے۔

نماز کا فائدہ

حضرت امام غزالی اپنی مشہور کتاب ”مکاشفۃ القلوب“ میں فرماتے ہیں کہ بعض علماء کا بیان ہے اور حدیثِ پاک سے بھی ثابت ہے کہ جو نماز کی پابندی کرتا ہے اللہ تعالیٰ اسے پانچ چیزوں سے نوازتا ہے:

  1. اس سے تنگی ختم کر دی جاتی ہے۔
  2. اسے عذابِ قبر نہیں ہوگا۔
  3. نامۂ اعمال اسے دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا۔
  4. پل صراط سے وہ بجلی کی طرح گزرے گا۔
  5. جنت میں بلا حساب داخل ہوگا۔

ترکِ نماز کا وبال

نماز کے مذکورہ فوائد کے ہوتے ہوئے اس سے پہلو تہی کرنا، حتیٰ کہ چھوڑ دینا کتنا بڑا وبال ہوگا اس کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ چشم کشائی اور حصولِ عبرت کے لیے چند باتیں پیش ہیں:

حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نے کہا کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سات باتوں کی وصیت فرمائی: ”کسی کو اللہ کے ساتھ شریک نہ ٹھہراؤ چاہے تمہیں ٹکڑے ٹکڑے کر دیا جائے، یا جلا دیا جائے یا پھانسی پر لٹکا دیا جائے۔ جان بوجھ کر نماز نہ چھوڑو کیونکہ جس نے جان بوجھ کر نماز چھوڑ دی وہ دین سے نکل گیا“۔ [طبرانی]

جو شخص نماز ادا نہیں کرتا اس کا دین میں کوئی حصہ نہیں۔ اور جس نے وضو صحیح نہیں کیا اس کی نماز صحیح نہیں۔ [بزار]

جس کی ایک نماز فوت ہو گئی گویا اس کا گھرانا اور مال ہلاک ہو گیا۔ [بیہقی]

حاصلِ کلام یہ ہے کہ نماز بہت ہی اہم عبادت ہے۔ اس کا چھوڑنا دینی اور دنیاوی دونوں اعتبار سے نقصان دہ ہے۔ ہر حال میں اس کی حفاظت کرنی چاہیے۔ شیطان اس کی ادائیگی میں روڑے ڈالتا ہے۔ ہر طرح سے اس سے دور رکھنے کی کوشش کرتا ہے۔ مگر جن کے دل خوفِ الٰہی سے لبریز ہیں وہ شیطان کے ہر وار کو ناکام بنا کر اللہ کے محبوب بندوں میں اپنا نام لکھا لیتے ہیں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ ہر مسلمان کو نماز کا عادی بنائے، اور اپنے احکامات پر عمل کرنا آسان کر دے، منہیات سے بچنے کی توفیق مرحمت فرمائے۔ آمین ثم آمین بجاہِ سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!