Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...
مضمون نگار
موضوعات
کل مضامین
بولتے مضامین

الحق المبین، ایک مطالعہ (قسط اول)

الحق المبین، ایک مطالعہ (قسط اول)
عنوان: الحق المبین، ایک مطالعہ (قسط اول)
تحریر: مفتی محمد راحت خان رضوی
پیش کش: محمد سجاد علی قادری ادریسی

یہ کتاب شیخ الاسلام والمسلمین، قاضی القضاۃ فی الہند حضور تاج الشریعہ حضرت علامہ اختر رضا خاں قادری ازہری دامت برکاتہم العالیہ کی عربی تصنیف ہے، ”المجمع الرضوی“ بریلی شریف سے شائع ہوئی ہے، سنِ اشاعت تفصیلِ طبع میں کہیں بھی درج نہیں ہے۔ یہ کتاب اڑتالیس (48) صفحات پر مشتمل ہے، صفحہ 45 سے صفحہ 48 تک آپ نے اپنے جدِ امجد اعلیٰ حضرت امام احمد رضا قادری محدثِ بریلوی قدس سرہ کا مختصر اور جامع تعارف پیش فرمایا ہے۔ جس میں آپ نے اعلیٰ حضرت امام احمد رضا قدس سرہ کے تعلق سے بنیادی معلومات مثلاً سنِ ولادت، نام و نسب، تعلیم و تربیت، سلسلۂ بیعت و طریقت اور دینی و قلمی خدمات وغیرہ کا ذکر کرتے ہوئے حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے ان کے اندازِ غلامی کا ذکر فرمایا ہے۔ مذکورہ تعارف کے بعد مقامِ مصنف و مؤلف میں حضور تاج الشریعہ کا نامِ مبارک ہے، اس کے بعد تاریخ 25 رمضان المبارک 1425ھ درج ہے اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ کتاب لگ بھگ 1425ھ میں شائع ہوئی۔

مذکورہ کتاب حضور تاج الشریعہ نے وہابیوں کی دروغ گوئی اور بہتان تراشی کو بے نقاب کرنے کے لیے تحریر فرمائی ہے کیونکہ وہابیوں کی یہ عادتِ مذمومہ کوئی نئی نہیں بلکہ ان کے اکابرین دروغ گوئی اور تقیہ میں ماہر تھے، یہاں پر ان کی تقیہ بازی کی ایک مثال پر اکتفا کرتا ہوں:

مجلسِ میلاد شریف وہابیہ کے یہاں ہر حال میں ممنوع و بدعت ہے، اس کا کرنے والا گناہ گار، حرام کار، بدعتی و بدمذہب ہے بلکہ وہابیہ کے پیشواؤں نے محفلِ میلاد شریف کو ہندوؤں کا سا سوانگ بتایا، کنہیا کے جنم سے بھی بدتر ٹھہرایا ہے، مگر طمع و لالچ کی وجہ سے ان کے پیشوا و حکیم الامت نے تقیہ و دھوکہ کر کے محفلِ میلاد شریف میں شرکت کی بلکہ بارہا خود پڑھی۔ جب گنگوہی کو یہ خبر پہنچی کہ تھانوی نے یہ بدعت اختیار کی، شرک میں مبتلا ہوا۔ جسے ”براہین قاطعہ“ مصنفہ گنگوہی از نام انبیٹھوی اور فتاویٰ رشیدیہ میں ہر حال میں کنہیا کے جنم سے بدتر ٹھہرایا ہے۔ گنگوہی نے تھانوی کو لکھا، تھانوی نے کئی جوابی خط لکھے ہیں ان میں سے ایک ملاحظہ ہو:

”میں (اشرف علی تھانوی) نے دیکھا وہاں (کانپور میں) بدون شرکتِ ان مجالس (میلاد شریف) کے کسی طرح قیام ممکن نہیں، ذرا انکار سے وہابی کہہ دیا، درپے تذلیل و توہین زبانی و جسمانی کے ہو گئے، اور حیلہ و بہانہ ہر وقت ممکن نہیں یہ تو ممکن ہے اور کرتا بھی ہوں کہ فیصدی نوے موقع پر عذر کر دیا اور دس جگہ شرکت کر لی اور شرکت بھی اس نظر کہ ان لوگوں کو ہدایت ہوگی۔“ [تذکرۃ الرشید، جلد اول، ص: 118، مطبوعہ ادارہ اسلامیات، لاہور]

سببِ تصنیف

متحدہ عرب امارات کا حکومتی ترجمان روزنامہ ”الاتحاد“ دبئی مشہور اخبار ہے۔ یہ اخبار ابوظہبی سے عربی زبان میں 1961ء سے شائع ہوتا ہے جس کو (www.alittihad.ae) ویب سائٹ پر پڑھا جا سکتا ہے اور جمعہ کے روز اس اخبار کا ”الہدیٰ“ نام سے ایک خصوصی ضمیمہ شائع ہوتا ہے۔

دیوبندیوں نے مذکورہ مذمومہ روش کو اپناتے ہوئے روزنامہ ”الاتحاد“ دبئی کے خصوصی ضمیمہ ”الہدیٰ“ میں ایک مضمون رمضان المبارک 1404ھ کو شائع کیا، جس میں اعلیٰ حضرت امام احمد رضا قادری بریلوی قدس سرہ اور دیگر علمائے اہلِ سنت و جماعت کے خلاف زہر افشانی کی۔ جس کے متعلق آپ یوں رقمطراز ہیں:

فَقَدْ مَرَّتْ بِنَظَرِي كَلِمَةٌ مُؤْلِمَةٌ فِي مَجَلَّةِ الْهُدَىٰ الصَّادِرَةِ مِنْ أَبُوظَبِي مَلْأَى بِأَكَادِيبَ وَافْتِرَاءَاتٍ عَلَى أَهْلِ السُّنَّةِ وَإِمَامِ أَهْلِ السُّنَّةِ مَوْلَانَا أَحْمَدَ رِضَا خَانَ قُدِّسَ سِرُّهُ، وَلَا شَكَّ أَنَّ كُلَّ هٰذِهِ الْأَكَادِيبِ إِنَّمَا تَلَقَّتْهُ الْمَجَلَّةُ مِنْ أُنَاسٍ مِنَ الْهِنْدِ هِمَّتُهُمُ الِافْتِرَاءُ عَلَى أَهْلِ السُّنَّةِ وَالْجَمَاعَةِ وَعُلَمَائِهَا، لَاسِيَّمَا إِمَامُ أَهْلِ الْإِسْلَامِ شَيْخُ الْمُسْلِمِينَ الْعَلَّامَةُ أَحْمَدُ رِضَا خَانَ أَكْرَمَ اللّٰهُ مَثْوَاهُ فِي دَارِ الْمُقَامَةِ.

[الحق المبین، ص: 3]

ترجمہ: ابوظہبی سے نکلنے والے ”الہدیٰ“ نامی میگزین کا تکلیف رساں مضمون میری نظر سے گزرا، جو اہلِ سنت و جماعت اور امامِ اہلِ سنت مولانا احمد رضا قدس سرہ پر اکاذیب و اتہامات سے بھرا ہوا ہے۔ یقیناً میگزین نے یہ سارے اکاذیب چند ایسے ہندوستانی افراد سے حاصل کیے ہیں جن کا مقصد اہلِ سنت و جماعت اور علمائے اہلِ سنت خصوصاً امامِ اہلِ اسلام، شیخ المسلمین، علامہ احمد رضا خان (أَكْرَمَ اللّٰهُ مَثْوَاهُ فِي دَارِ الْمُقَامَةِ) پر بہتان تراشی کرنا ہے۔

اس مضمون کے اندر ہم (اہلِ سنت و جماعت) کو بدنام کرنے کی کتنی گندی و گھناؤنی، رذیل و جھوٹی اور ناکام و انہونی کوشش کی گئی اس کا اندازہ اس اخبار کی عبارت سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے:

ظَهَرَتْ فِي الْبِلَادِ بِدْعَةٌ جَدِيدَةٌ مِنْ بِدَعِ الطَّوَائِفِ الْخَارِجَةِ عَنِ الْإِسْلَامِ وَالْمُسْلِمِينَ وَهِيَ الْبَرِيلَوِيَّةُ.

[ایضاً]

ترجمہ: ملک میں بریلویت نامی ایک نیا بدعتی فرقہ ظاہر ہوا ہے، جس کا تعلق اسلام اور مسلمانوں سے خارج بدعتی فرقوں سے ہے۔

حضور تاج الشریعہ دامت برکاتہم العالیہ نے مذکورہ تحریر کے جواب میں یہ مضمون لکھنے کے بعد اس کو روزنامہ ”الاتحاد“ کے ایڈیٹر و مالکان کو بھیجا۔ جو آپ کے ہاتھ سے لکھی ہوئی تحریر میں فل اسکیپ 28 صفحات پر مشتمل ہے، اس کے آخر میں قاضی عبد الرحیم بستوی قدس سرہ کے تصدیقی دستخط موجود ہیں۔ الحمد للہ! اس تحریر کا عکس بھی راقم السطور کے پاس موجود ہے۔

تاج الشریعہ فرماتے ہیں کہ اہلِ سنت و جماعت کی نسبت ”بریلوی“ یہ ہندوستانی دیوبندیوں کے مقابلے میں ہے، جن لوگوں نے ہم پر اسلام اور جماعتِ مسلمین سے خارج ہونے کا دعویٰ کیا ہے حقیقت میں وہی اسلام اور جماعتِ مسلمین سے خارج ہیں۔ ہم اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس (اسلام و مسلمین سے خارج ہونے کی) تہمت سے بری ہیں، بریلویت کوئی نیا دین یا نئی جماعت نہیں بلکہ یہ جماعتِ اہلِ سنت ہی ہے۔ حقیقتِ حال یہ ہے کہ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا قادری بریلوی نے دینِ متین کی نشر و اشاعت اور بدعات و منکرات، گمراہوں و بدمذہبوں خصوصاً دیوبندیوں اور قادیانیوں کا ردِ بلیغ فرمایا۔ قادیانیت کے رد پر اعلیٰ حضرت قدس سرہ کے مدلل و مبرہن مندرجہ ذیل رسائل ہیں:

  1. السُّوءُ وَالْعِقَابُ عَلَى الْمَسِيحِ الْكَذَّابِ
  2. قَهْرُ الدَّيَّانِ عَلَى مُرْتَدِّ قَادِيَانَ
  3. الْجُرَازُ الدَّيَّانِي عَلَى الْمُرْتَدِّ الْقَادِيَانِي
  4. الصَّارِمُ الرَّبَّانِي عَلَى إِسْرَافِ الْقَادِيَانِي
  5. جَزَاءُ اللّٰهِ عَدُوَّهُ بِإِبَائِهِ خَتْمَ النُّبُوَّةِ

اعلیٰ حضرت امام احمد رضا محدثِ بریلوی قدس سرہ نے جن باطل و بدعتی فرقوں کا رد فرمایا انہوں نے آپ پر بہتان تراشیاں کیں، خاص کر دیوبندیوں نے نئی جماعت ہونے کا الزام لگایا اور اہلِ سنت و جماعت کے عقائد و نظریات رکھنے والے لوگوں کو شہرِ بریلی کی جانب منسوب کر کے بریلوی کہنا شروع کر دیا۔

ایک غلط فہمی کا ازالہ

ماضیِ قریب میں کچھ لوگوں نے یہ ناکام کوشش کی کہ اہلِ سنت و جماعت کو ”بریلوی“ کہنا درست نہیں ہے اور درجِ ذیل عبارت سے استدلال کرتے ہوئے حضور تاج الشریعہ دامت برکاتہم العالیہ کا بھی یہی موقف ہونا ظاہر کیا۔ لہٰذا اس مقام پر عبارت کا خلاصہ اور ان کے شبہات کا ازالہ ضروری ہے، الحق المبین کی عبارت یوں ہے:

زَعَمَ قَائِلُ هٰذِهِ الْكَلِمَةِ مَا نَصُّهُ: ظَهَرَتْ فِي الْبِلَادِ بِدْعَةٌ جَدِيدَةٌ مِنْ بِدَعِ الطَّوَائِفِ الْخَارِجَةِ عَنِ الْإِسْلَامِ وَالْمُسْلِمِينَ وَهِيَ الْبَرِيلَوِيَّةُ. وَرَدًّا عَلَيْهِ نَقُولُ: نِسْبَتُنَا أَهْلَ السُّنَّةِ وَالْجَمَاعَةِ إِلَى ”الْبَرِيلَوِيَّةِ“ دَيْدَنُ الدِّيُوبَنْدِيَّةِ مِنْ أَهْلِ الْهِنْدِ، وَالَّذِي اتَّهَمُونَا مِنَ الْخُرُوجِ عَنِ الْإِسْلَامِ وَالْمُسْلِمِينَ هُمْ أَحَقُّ بِهِ وَأَجْدَرُ وَهٰذِهِ التُّهْمَةُ بِهِمْ أَلْصَقُ وَنَحْنُ بِحَمْدِ اللّٰهِ عَنْ هٰذِهِ التُّهْمَةِ بُرَاءُ وَلَا نَدِينُ ”الْبَرِيلَوِيَّةَ“ وَلَا مِلَّةً جَدِيدَةً غَيْرَهَا، إِنَّمَا نَدِينُ الْمِلَّةَ السَّمْحَاءَ الْبَيْضَاءَ الَّتِي لَيْلُهَا كَنَهَارِهَا وَلَمْ نَزَلْ مِنْ أَهْلِ السُّنَّةِ وَفِي أَهْلِ السُّنَّةِ، وَمَعَ أَهْلِ السُّنَّةِ عَنْ بَكْرَةِ أَبِينَا، وَاللّٰهُ عَلَى مَا نَقُولُ وَكِيلٌ.

[ایضاً]

ترجمہ: مقالہ نگار نے لکھا ہے: ملک میں بریلویت نامی ایک نیا فرقہ نمودار ہوا ہے، جس کا تعلق اسلام اور مسلمانوں سے خارج بدعتی فرقوں سے ہے۔ میں (حضور تاج الشریعہ) اس کے جواب میں کہتا ہوں: ہم اہلِ سنت و جماعت کو بریلویت کی جانب منسوب کرنا دیوبندیوں کا کام ہے، اسلام اور مسلمانوں سے خارج ہونے کی جو تہمت انہوں (دیوبندی وغیرہ) نے ہم (اہلِ سنت و جماعت) پر لگائی ہے اس (اسلام اور مسلمانوں سے خارج ہونے) کے اصل مستحق وہ (دیوبندی) خود ہیں، نیز یہ (اسلام اور مسلمانوں سے خارج ہونے) کی تہمت انہیں (دیوبندیوں) پر خوب چسپاں ہے۔ ہم بحمد اللہ! اس (اسلام اور مسلمانوں سے خارج ہونے) کی تہمت سے بری ہیں، نہ ہمارا دین (اس قسم کی اسلام اور مسلمانوں سے خارج ہونے والی) بریلویت ہے اور نہ کوئی دوسری نئی ملت، ہمارا دین وہ آسان روشن ملت ہے جس کی شب (روشنی میں) دن کی طرح ہے۔ ہم اپنے آبا و اجداد سے اہلِ سنت سے ہیں، اہلِ سنت میں ہیں اور اہلِ سنت کے ساتھ ہیں اور ہماری اس بات پر اللہ تعالیٰ کا ذمہ ہے۔

  1. جو لوگ بریلوی کہنے سے منع کرتے ہیں ان کی مستدل عبارت کے پہلے اقتباس کا جائزہ:

    زَعَمَ قَائِلُ هٰذِهِ الْكَلِمَةِ مَا نَصُّهُ: ظَهَرَتْ فِي الْبِلَادِ بِدْعَةٌ جَدِيدَةٌ مِنْ بِدَعِ الطَّوَائِفِ الْخَارِجَةِ عَنِ الْإِسْلَامِ وَالْمُسْلِمِينَ وَهِيَ الْبَرِيلَوِيَّةُ.

    (مقالہ نگار نے لکھا ہے: ملک میں بریلویت نامی ایک نیا فرقہ نمودار ہوا ہے، جس کا تعلق اسلام اور مسلمانوں سے خارج بدعتی فرقوں سے ہے۔)

    جو لوگ بریلوی کہنے کو منع کرتے ہیں ان میں سے بعض لوگ استدلال میں اس عبارت کو پیش کرتے ہیں کہ حضور تاج الشریعہ نے الحق المبین میں لکھا ہے کہ: ”ملک میں بریلویت نامی ایک نیا فرقہ نمودار ہوا ہے، جس کا تعلق اسلام اور مسلمانوں سے خارج بدعتی فرقوں سے ہے۔“

    مذکورہ عبارت کو حضور تاج الشریعہ کی جانب منسوب کرنا تقیہ و دھوکہ اور الزامات و تہمت کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہے، یہ عبارت دیوبندیوں کی ہے حضور تاج الشریعہ نے ”الہدیٰ“ میگزین سے رد کرنے کے لیے نقل فرمائی ہے اور اس کا تفصیلاً رد بھی فرمایا ہے جو اسی اقتباس کے بعد یوں مذکور ہے:

    وَرَدًّا عَلَيْهِ نَقُولُ: نِسْبَتُنَا أَهْلَ السُّنَّةِ وَالْجَمَاعَةِ إِلَى الْبَرِيلَوِيَّةِ دَيْدَنُ الدِّيُوبَنْدِيَّةِ مِنْ أَهْلِ الْهِنْدِ، وَالَّذِي اتَّهَمُونَا مِنَ الْخُرُوجِ عَنِ الْإِسْلَامِ وَالْمُسْلِمِينَ هُمْ أَحَقُّ بِهِ وَأَجْدَرُ وَهٰذِهِ التُّهْمَةُ بِهِمْ أَلْصَقُ وَنَحْنُ بِحَمْدِ اللّٰهِ عَنْ هٰذِهِ التُّهْمَةِ بُرَاءُ، وَلَا نَدِينُ الْبَرِيلَوِيَّةَ.

    (میں اس کے جواب میں کہتا ہوں: ہم اہلِ سنت و جماعت کو بریلویت کی جانب منسوب کرنا دیوبندیوں کا کام ہے، اسلام اور مسلمانوں سے خارج ہونے کی جو تہمت انہوں (دیوبندی وغیرہ) نے ہم (اہلِ سنت و جماعت) پر لگائی ہے اس (اسلام اور مسلمانوں سے خارج ہونے) کے اصل مستحق وہ (دیوبندی) خود ہیں، نیز یہ (اسلام اور مسلمانوں سے خارج ہونے) کی تہمت انہیں (دیوبندیوں) پر خوب چسپاں ہے۔ ہم بحمد اللہ! اس (اسلام اور مسلمانوں سے خارج ہونے) کی تہمت سے بری ہیں، نہ ہمارا دین (اس قسم کی اسلام اور مسلمانوں سے خارج ہونے والی) بریلویت ہے۔)

    لہٰذا مذکورہ اقتباس سے بریلوی نہ کہنے پر استدلال کرنا، پھر اسی کو حضور تاج الشریعہ کی جانب منسوب کرنا سفاہت، بے وقوفی اور جہالت و نادانی کے سوا کیا ہو سکتا ہے۔

  2. مخالفین کے مستدل دوسرے اقتباس کا جائزہ:

    نِسْبَتُنَا أَهْلَ السُّنَّةِ وَالْجَمَاعَةِ إِلَى الْبَرِيلَوِيَّةِ دَيْدَنُ الدِّيُوبَنْدِيَّةِ مِنْ أَهْلِ الْهِنْدِ.

    (ہم اہلِ سنت و جماعت کو بریلویت کی جانب منسوب کرنا دیوبندیوں کا کام ہے۔)

    مذکورہ عبارت سے یہ تو واضح ہوتا ہے کہ اہلِ سنت و جماعت کو بریلوی کہنا یہ دیوبندیوں کا طریقۂ کار ہے یعنی دیوبندی سنیوں کو بریلوی کہتے ہیں لیکن سنیوں نے اپنی نسبت کو امامِ عشق و محبت اعلیٰ حضرت امام احمد رضا قدس سرہ کے مبارک شہر کی جانب کبھی بھی معیوب اور مبغوض نہیں سمجھا بلکہ اس پر اور خوش ہوئے، فخر محسوس کیا، اپنے آپ کو بریلوی کہلانا خوب پسند کیا بلکہ دیوبندیوں کے مقابلے میں اپنے آپ کو خود بھی ”بریلوی“ ہی کہا اور معاملہ یہاں تک پہنچ گیا کہ اگر عوام و خواص میں سے کوئی بھی سنی اور غیر سنی کے درمیان امتیاز کے لیے سوال کرنا چاہتا ہے تو وہ پوچھتا ہے کہ بریلوی ہے یا نہیں؟ اگر کوئی اپنے آپ کو صرف سنی کہے تو ذہن میں یہ سوال ہوتا ہے کہ دیوبندی بھی اپنے آپ کو سنی کہتے ہیں تو مجبوراً یہ سوال کرنا پڑتا ہے کہ دیوبندی ہو یا بریلوی؟ جب بریلوی کہہ دے تب دل مطمئن ہو جاتا ہے کہ یہ جملہ معمولاتِ اہلِ سنت کو ماننے والا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ صلاۃ و سلام، قیام و فاتحہ کرتے دیکھا تو غیروں نے کہا بریلوی ہے، اختیارِ مصطفیٰ، علمِ غیبِ مصطفیٰ، نورانیتِ مصطفیٰ وغیرہ کے قائل مسلمان کو جب غیروں نے دیکھا تب کہا یہ بریلوی ہے گویا کہ لفظِ بریلوی اہلِ سنت و جماعت کے لیے عَلم و نام ہو گیا، اسی کو حضور تاج الشریعہ نے یوں بیان کیا ہے:

    فَصَارَ الْبَرِيلَوِيَّةُ عَلَمًا وَلَقَبًا عَلَى أَهْلِ السُّنَّةِ وَالْجَمَاعَةِ.

    [الحق المبین، ص: 4]

    یہاں تک کہ لفظ ”بریلوی“ اہلِ سنت و جماعت کے لیے پہچان و عَلم بن گیا۔ لہٰذا اس اقتباس سے بھی مخالفین کا استدلال درست نہیں ہے۔

  3. وَالَّذِي اتَّهَمُونَا مِنَ الْخُرُوجِ عَنِ الْإِسْلَامِ وَالْمُسْلِمِينَ هُمْ أَحَقُّ بِهِ وَأَجْدَرُ وَهٰذِهِ التُّهْمَةُ بِهِمْ أَلْصَقُ، وَنَحْنُ بِحَمْدِ اللّٰهِ عَنْ هٰذِهِ التُّهْمَةِ بُرَاءُ، وَلَا نَدِينُ الْبَرِيلَوِيَّةَ.

    (اور اسلام اور مسلمانوں سے خارج ہونے کی جو تہمت انہوں (دیوبندی وغیرہ) نے ہم (اہلِ سنت و جماعت) پر لگائی ہے اس (اسلام اور مسلمانوں سے خارج ہونے) کے اصل مستحق وہ (دیوبندی) خود ہیں، نیز یہ (اسلام اور مسلمانوں سے خارج ہونے) کی تہمت انہیں (دیوبندیوں) پر خوب چسپاں ہے۔ ہم بحمد اللہ! اس (اسلام اور مسلمانوں سے خارج ہونے) کی تہمت سے بری ہیں، نہ ہمارا دین (اس قسم کی اسلام اور مسلمانوں سے خارج ہونے والی) بریلویت ہے۔)

    بعض لوگوں نے ”وَلَا نَدِينُ الْبَرِيلَوِيَّةَ“ سے بریلوی نہ کہنے پر استدلال کیا ہے حالانکہ حضور تاج الشریعہ نے یہاں پر اس طرح کا بریلوی ہونے کا انکار کیا ہے کہ جو صورت وہابیوں نے مسخ کر کے پیش کی اور مسخ شدہ صورت کو بریلویت کا نام دیا تو آپ نے اسی کے رد میں فرمایا کہ اگر تم اس مسخ شدہ صورت کو بریلویت کا نام دیتے ہو تو ہمارا دین ایسی بریلویت نہیں ہے جو کہ اسلام اور جماعتِ مسلمین سے خارج ہو۔ لہٰذا اس اقتباس سے بھی استدلال کرنا درست نہیں ہے۔

مذکورہ تمہیدی گفتگو فرمانے کے بعد دیوبندیوں کی جانب سے لگائے گئے الزامات کا جواب دینے سے پہلے قاسم نانوتوی کی تحذیر الناس، رشید احمد بنام خلیل احمد کی براہین قاطعہ، اشرف علی تھانوی کی حفظ الایمان اور اشرف السوانح، ان چار کتابوں سے ان کی چار کفریہ اور گمراہ کن عبارتوں کو ذکر کرنے کے بعد ان عبارتوں کی قباحت و شناعت سے آگاہ فرما کر دیوبندیوں کی حقیقت کو آشکارا کیا ہے، اور یہ بھی واضح فرمایا ہے کہ دیوبندیوں کے ان عقائدِ کفریہ خبیثہ کی وجہ سے علمائے حرمین شریفین اور اعلیٰ حضرت کے ہم عصر دیگر علمائے کرام جب ان کے گمراہ کن عقائد پر مطلع ہوئے تو انہوں نے ان کے کفر بلکہ جو مطلع ہونے کے بعد ان کے کفر و عذاب میں شک کرے اس کے بھی کفر کا فتویٰ دیا ہے۔ ان تمام اکابر علمائے کرام کے فتاویٰ کے مجموعے کو ”حسام الحرمین“ میں جمع کیا گیا ہے۔ جن اکابر علمائے کرام نے دیوبندیوں کے کفر کا فتویٰ دیا ہے انہی میں سے مفتیِ مدینہ منورہ شیخ سید احمد آفندی برزنجی قدس سرہ بھی ہیں جنہوں نے اپنی کتاب ”غایۃ المامول“ میں بیان کیا ہے، اس کو یہاں اختصار کے ساتھ مفہوماً ذکر کیا جاتا ہے:

”ہندوستانی علمائے کرام میں سے ایک صاحب آئے جن کو احمد رضا خاں کہا جاتا ہے، جب میری ان سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے بتایا کہ ہندوستان میں کچھ کافر و گمراہ فرقے ہیں مثلاً غلام احمد قادیانی، یہ مماثلتِ مسیح، وحی و نبوت کا قائل ہے۔ انہی فرقوں میں سے امیریہ، نذیریہ اور فرقہ قاسمیہ ہیں جن کا دعویٰ یہ ہے کہ اگر حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے زمانے میں کوئی نبی فرض کیا جائے یا اس کے بعد کوئی نیا نبی پیدا ہو تو اس سے حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے آخری نبی ہونے میں کچھ فرق نہیں پڑے گا۔ انہی فرقوں میں سے فرقہ وہابیہ کذابیہ، اس فرقے سے متعلق رشید احمد گنگوہی کے متبعین ہیں جو اللہ تعالیٰ کو بالفعل جھوٹا کہنے والے کی تکفیر نہیں کرتا، اسی نے شیطان کے لیے وسعتِ علم کو ثابت ہونے کا دعویٰ کیا ہے اور حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے اس کی نفی کی ہے۔ اشرف علی تھانوی بھی انہی میں سے ہے جس نے کہا ہے: اگر حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم پر علمِ غیب کا اطلاق درست ہو تو سائل سے سوال یہ ہے کہ اس سے بعض علومِ غیبیہ مراد ہیں یا کل؟ اگر بعض مراد ہوں تو اس میں حضور ہی کی کیا تخصیص ہے، ایسا علم تو زید و عمر بلکہ ہر صبی و مجنون بلکہ جمیع حیوانات و بہائم کو بھی حاصل ہے۔ انہوں نے (اعلیٰ حضرت قدس سرہ) ایک رسالہ ”المعتمد المستند“ ان کے رد پر لکھا ہے اس کے خلاصے کو مجھے دکھایا کہ جس کے اندر ان کے کفریہ اقوال کے ساتھ ان کا مختصر رد تھا، مجھ سے اس پر تقریظ و تصدیق مانگی تو میں نے ان کے لیے تقریظ و تصدیق لکھی جس کا خلاصہ یہ ہے: اگر یہ مقالاتِ شنیعہ ان سے ثابت ہوں تو وہ کافر و گمراہ ہیں کیونکہ یہ تمام اقوال خارقِ اجماعِ امت ہیں اور اسی کے ضمن میں ہم نے بعض دلائل کو بھی ان کے اقوال کے رد میں ذکر کیا ہے۔“

ان تمام باتوں کی وضاحت فرمانے کے بعد حضور تاج الشریعہ نے رسالہ ”الہدیٰ“ کا رد فرمایا ہے۔ ان کی تردید میں آپ نے اپنے معتقدات کی وضاحت اس انداز سے کی ہے کہ پہلے دیوبندیوں کے ہم (اہلِ سنت و جماعت) پر لگائے گئے بہتان و الزام کو بیان کیا ہے پھر اس کے خلاف اپنے عقیدے کو اہلِ سنت اور جماعتِ مسلمین کے موافق اپنی کتب خصوصاً اعلیٰ حضرت امامِ اہلِ سنت قدس سرہ کی تحریرات سے ثابت فرمایا ہے، جس کی تائید میں آپ نے اکابر علمائے اہلِ سنت کے افکار و نظریات سے استدلال کرنے کے ساتھ ساتھ یہ بھی ثابت کیا ہے کہ ہمارے جن معتقدات کو دیوبندیوں نے کفر و شرک ہونے کا الزام دیا ہے حالانکہ ایسے افکار و نظریات خود ان کے اکابر و بزرگ اور پیشوا بھی رکھتے ہیں جن پر یہ حکمِ کفر و شرک نہیں لگاتے۔ چونکہ یہ رد عربی زبان میں ہے اور خصوصیت سے اہلِ عرب پر ہی دیوبندیوں کے مکر و فریب کو واضح کرنے کے لیے آپ نے اس کو تصنیف فرمایا ہے اس وجہ سے یہ طریقہ اختیار کیا ہے کہ جہاں پر ان کے مسلم پیشواؤں کی عبارتوں کا ذکر کیا ہے تو عربی کتابوں سے ہی استدلال کیا ہے تاکہ ان کی عربی عباراتِ شنیعہ کے ذریعے ان کی حقیقت اہلِ عرب پر خوب روشن ہو جائے۔ اب اس حوالے سے بھی کچھ مثالیں ذکر کی جاتی ہیں کہ جس میں ان کے الزام و بہتان، کذب و افترا کی وضاحت کے ساتھ ان کا رد کیا گیا ہے، چند مثالیں تفصیل کے ساتھ ملاحظہ ہوں:

پہلا بہتان

دیوبندیوں کی جانب سے ہم پر یہ الزام لگایا گیا کہ ہم معاذ اللہ! یہ اعتقاد رکھتے ہیں کہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم بشر نہیں ہیں۔

جواب و رد

تاج الشریعہ فرماتے ہیں کہ ہم یہ کہہ ہی نہیں سکتے کہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم بشر نہیں ہیں۔

مَا يَكُونُ لَنَا أَنْ نَتَكَلَّمَ بِهٰذَا سُبْحَانَكَ هٰذَا بُهْتَانٌ عَظِيمٌ

[سورۃ النور: 16]

اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خاں اور تمام علمائے اہلِ سنت میں سے کوئی بھی حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے بشر ہونے کا منکر نہیں ہے اور ہم ان کی اقتدا و پیروی کرتے ہیں اور ان کے عقیدے کے مطابق یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم بشر ہیں لیکن ہماری طرح بشر نہیں ہیں بلکہ وہ خیرِ بشر ہیں، ساری مخلوق سے افضل ہیں اور ہم اس کی تکفیر کرتے ہیں جو سرے سے سرکار صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی بشریت کا منکر ہو۔

ہمارے امام اعلیٰ حضرت امام احمد رضا قدس سرہ نے اپنے فتاویٰ میں اس کی تصریح فرمائی ہے، ملاحظہ ہو:

”جو یہ کہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کے بندے نہیں، وہ قطعاً کافر ہے، اور جو مطلقاً حضور سے بشریت کی نفی کرے وہ کافر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

قُلْ سُبْحَانَ رَبِّي هَلْ كُنْتُ إِلَّا بَشَرًا رَسُولًا

[سورۃ الاسراء: 93]

اور جو یہ کہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی صورتِ ظاہری بشری ہے، حقیقتِ باطنی بشریت سے ارفع و اعلیٰ ہے یا یہ کہ حضور اوروں کی مثل بشر نہیں، وہ سچ کہتا ہے۔“ [فتاویٰ رضویہ، جلد ششم، ص: 67]

اور کنز الایمان میں:

قُلْ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِثْلُكُمْ (الآیۃ)

[سورۃ الکہف: 110]

کے تحت آپ نے فرمایا: ”تم فرما دو ظاہری صورتِ بشری میں تم جیسا ہوں“۔ [کنز الایمان]

دیوبندیوں نے استدلال میں اس کو پیش کیا ہے کہ اعلیٰ حضرت قدس سرہ نے حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے بشریت کی نفی کی ہے۔ حالانکہ مذکورہ عبارت میں حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے بشریت کی نفی نہیں ہے بلکہ اس سے تو اس مثلیت کی نفی ہوتی ہے کہ جس سے غیرِ نبی کا نبی سے برابر ہونے کا وہم ہو، تو آپ کے ترجمے سے اس بات کا افادہ ہوتا ہے کہ وہ ظاہراً ہماری طرح بشر ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ وہ ہم سے ممتاز ہیں۔

حضور تاج الشریعہ نے دیوبندیوں پر ایرادات قائم فرمائے ہیں کہ اگر انبیائے کرام کو ہماری طرح بشر نہ کہنے کی وجہ سے معاذ اللہ! اعلیٰ حضرت امام احمد رضا قدس سرہ کو کافر کہا جائے تو دیوبندیوں کی جماعت ایسے نظریات کے حامل دیگر لوگوں کو بھی کافر کہے گی؟ آپ کی طرف سے قائم کردہ ایرادات اختصار کے ساتھ پیش ہیں:

وَلَئِنْ كَانَ هٰذَا الْقَوْلُ كُفْرًا فَهَلْ يَجْتَرِئُ أُولٰئِكَ الطَّائِفَةُ أَنْ يُكَفِّرُوا الْقَاضِيَ الْعَلَّامَةَ الْإِمَامَ عِيَاضَ الْمَالِكِيَّ الْقَائِلَ فِي الشِّفَاءِ عَنِ الْأَنْبِيَاءِ عَلَيْهِمُ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ.

اگر اس (مذکورہ) قول کو کفر کہا جائے تو کیا یہ (دیوبندیوں کی) جماعت اس بات کی ہمت رکھتی ہے کہ حضرت علامہ قاضی عیاض مالکی (قدس سرہ) کو کافر کہے کہ جنہوں نے شفا شریف میں انبیائے کرام علیہم الصلاۃ والسلام کو یہ کہا ہے:

”انبیائے کرام علیہم الصلاۃ والسلام اپنے ظواہر و اجسام اور اپنی ساخت کے ساتھ ان اوصافِ بشریت سے متصف ہیں اور جو انسانوں پر بیماری اور موت وغیرہ عارض ہوتی ہے ظاہراً انبیائے کرام کو بھی عارض ہوتی ہے لیکن ان کا باطن بشری اوصاف سے اعلیٰ اور ملأِ اعلیٰ سے متعلق ہے اور تغیر و آفات سے محفوظ رہنے میں ملائکہ کی صفات کے مشابہ ہے، غالب یہی رہتا ہے کہ نہ تو ان کو عجزِ بشریت لاحق ہوتی ہے اور نہ ہی وصفِ ضعفِ انسانیت سے متصف ہوتے ہیں۔ تو انبیائے کرام اجسام و ظاہر کے اعتبار سے بشر کے ساتھ ہیں اور باطن و ارواح کے اعتبار سے ملائکہ کے ساتھ ہیں۔“

دوسرا ایراد یوں فرماتے ہیں:

أَمْ يَتَجَاسَرُونَ عَلَىٰ أَنْ يَرْمُوا بِالْكُفْرِ الْعَلَّامَةَ مَوْلَانَا الشِّهَابَ أَحْمَدَ الْخَفَاجِيَّ الْمِصْرِيَّ الْقَائِلَ فِي نَسِيمِ الرِّيَاضِ شَرْحِ شِفَاءِ الْقَاضِي عِيَاضٍ.

کیا علامہ مولانا حضرت امام شہاب احمد خفاجی مصری (قدس سرہ) کو بھی یہ (دیوبندی) کافر کہہ پائیں گے کہ جنہوں نے ”نسیم الریاض شرح شفا قاضی عیاض“ میں فرمایا، جس کا حاصل یہ ہے:

”بیشک انبیائے کرام علیہم الصلاۃ والسلام کے باطن اور ان کی روحانی قوت ملکوتی ہے، اسی وجہ سے وہ زمین کے مشرق و مغرب کو دیکھتے ہیں، آسمان کی باتوں کو سنتے ہیں، جب حضرت جبریل علیٰ نبینا وعلیہ افضل الصلوات والتسلیمات نزول کا ارادہ کرتے ہیں تو ان کو خوشبو سے پہچان لیتے ہیں جیسا کہ یعقوب علیہ السلام نے حضرت یوسف علیہ السلام کی خوشبو کو محسوس کر لیا اور اسی وجہ سے ہمارے نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم آسمان پر تشریف لے گئے۔“

شفا شریف سے ہی اس حدیث:

تَنَامُ عَيْنِي وَلَا يَنَامُ قَلْبِي

کو ذکر کر کے آپ نے یوں استدلال فرمایا ہے:

وَهٰذَا دَلِيلٌ عَلَىٰ أَنَّ ظَاهِرَهُ صَلَّى اللّٰهُ تَعَالَىٰ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَشَرِيٌّ وَبَاطِنَهُ مَلَكِيٌّ (إلخ)

اور یہ اس بات پر واضح دلیل ہے کہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا ظاہر بشری ہے اور باطن ملکوتی ہے۔

دیوبندیوں پر ایراد قائم کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ کیا دیوبندی تمام مسلمانوں کی تکفیر سے خوش ہوں گے؟ کیوں کہ تمام مسلمانوں کا اس بات پر اجماع ہے کہ انبیائے کرام اپنے ظاہر کے ساتھ بشر ہیں اور باعتبارِ باطن جنسِ بشر سے اعلیٰ ہیں جیسا کہ امامِ ہمام قاضی عیاض اور امام شہاب الدین قدس سرہما کے اقوال گزرے۔ آپ نے اپنے مذہب کو اجماعِ امت سے بھی ثابت فرمایا ہے۔

دیوبندیوں کے پیشوا اسماعیل دہلوی نے انبیائے کرام کی توہین کرتے ہوئے کہا ہے ”انبیائے کرام بشر اور عاجز بندے ہیں“۔ اسی سے دیوبندیوں نے دل میں یہ راسخ کر لیا کہ اس آیت میں عام لوگوں سے مطلقاً مماثلت ہے صرف ظاہر کے اعتبار سے ہی نہیں۔ حالانکہ ان کے پیشوا کے اس قول سے انبیائے کرام کی شان میں توہین و تنقیص ہوتی ہے اور یہ پہلے کے کافروں کی کہی ہوئی بات ہے جس کو قرآن نے حکایت کے طور پر یوں بیان کیا ہے:

قَالُوا إِنْ أَنْتُمْ إِلَّا بَشَرٌ مِثْلُنَا

[سورۃ ابراہیم: 10]

اس کے بعد دہلوی کے مذکورہ قول کی قباحت و شناعت کو مدلل و جامع انداز میں بیان فرمایا ہے۔ (جاری...)

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!