Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...
مضمون نگار
موضوعات
کل مضامین
بولتے مضامین

سیرت و فضائل حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا

سیرت و فضائل حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا
عنوان: سیرت و فضائل حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا
تحریر: علامہ سید اولاد رسول قدسی
پیش کش: بنت تنویر عطاریہ

1. حبیبِ خدا صلی اللہ علیہ وسلم کی محبوب ترین زوجہ

سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی ازواجِ مطہرات میں حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا کے بعد سب سے زیادہ محبت حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے تھی۔ جیسا کہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اسلام میں سب سے پہلی محبت جو پیدا ہوئی، وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے ہے۔ ایک مرتبہ صحابۂ کرام نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ! آپ کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب کون ہے؟ تو آپ نے ارشاد فرمایا: ”عائشہ“۔ لیکن حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی روایت مذکورہ روایت کے معارض ہے، کیوں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے جب پوچھا گیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں محبوب ترین کون تھا؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”فاطمہ زہرا“۔ ان دونوں روایتوں میں (ازواج میں حضرت عائشہ اور اولاد میں حضرت فاطمہ) تطبیق بڑی آسانی سے دی جا سکتی ہے۔ حضرت مسروق جب بھی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے کوئی حدیث روایت کرتے تو یوں فرماتے: ”حَدَّثَتْنِي الصِّدِّيقَةُ بِنْتُ الصِّدِّيقِ حَبِيبَةُ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ“۔ اور کبھی فرماتے: ”حَدَّثَتْنِي حَبِيبَةُ اللّٰهِ امْرَأَةٌ مِنَ السَّمَاءِ“۔

2. والہانہ محبت اور قلبی تعلق

سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا: ”عائشہ! تم مجھ سے کب ناراض رہتی ہو اور کب خوش رہتی ہو، میں جان لیتا ہوں“۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ”وہ کیسے؟“ تو سرکار صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم خوش رہتی ہو تو کہتی ہو: ”لَا وَرَبِّ مُحَمَّدٍ!“ اور جب تم ناراض رہتی ہو تو کہتی ہو: ”لَا وَرَبِّ إِبْرَاهِيمَ!““۔ حضرت عائشہ بے قرار ہو گئیں اور فرمانے لگیں: ”وَلٰكِنْ لَا أَهْجُرُ إِلَّا اسْمَكَ“ یعنی میں نہیں چھوڑتی مگر صرف آپ کے نام کو۔ آپ خود فرماتی ہیں کہ سرکار صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ فعل فقط میرے ساتھ مختص تھا کہ ہم ایک ہی برتن سے غسل کرتے تھے اور اثنائے غسل سرکار مجھ سے سبقت فرماتے تو میں عرض کرتی: ”حضور! کچھ پانی میرے لیے تو چھوڑیے“۔

3. ولادت اور پاکیزہ تربیت

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی ولادتِ باسعادت حضرت صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ کے کاشانۂ نور میں ہوئی۔ آپ کی تربیت گاہ اس قدر بلند و بالا تھی کہ جہاں آفتابِ نبوت کی نوری شعاعیں سب سے پہلے جلوہ افروز ہوئیں۔ یہی وجہ ہے کہ آپ فرماتی ہیں: ”جب میں نے آنکھیں کھولیں تو اپنے گھر میں چاروں طرف اسلام کی تابانیاں دیکھیں“۔ جس کی پیدائش و پرورش اس مقدس ہستی کے گھر میں ہوئی جسے دنیا ”أَفْضَلُ الْبَشَرِ بَعْدَ الْأَنْبِيَاءِ“ کہتی ہے، ان کی شان میں کچھ لکھنا آفتاب کے سامنے چراغ دکھانے کے مترادف ہوگا۔

4. عہدِ طفولیت اور فہم و فراست

عہدِ طفولیت ہی سے آپ کے روئے انور سے زہد و ورع، حزم و تقویٰ اور اعلیٰ فہم و فراست کی قندیلیں فروزاں رہتی تھیں۔ آپ کی ذکاوت و فطانت کا اندازہ اس واقعے سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے کہ سنِ طفولیت میں آپ ایک مرتبہ گڑیا کھیل رہی تھیں۔ گڑیوں میں ایک ایسا گھوڑا تھا جس کے دو بازو بنے ہوئے تھے۔ ناگاہ ادھر سے نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ہوا تو آپ نے اس بازو والے گھوڑے کو دیکھ کر فرمایا: ”عائشہ! کیا گھوڑے کے بھی بازو ہوتے ہیں؟“ تو اس پر حضرت عائشہ نے بڑی متانت و سنجیدگی سے برملا جواب دیا: ”کیا سرکار (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نہیں سنا کہ حضرت سلیمان علیہ السلام کے گھوڑے کے بازو تھے؟“ اتنا سننا تھا کہ سرکار صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسکرا پڑے، یہاں تک کہ آپ کے دندانِ مبارک کشادہ ہو گئے۔

5. قوتِ حافظہ اور علمِ حدیث

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی زیرکی، دانائی اور قوتِ حافظہ کا یہ عالم تھا کہ آپ بچپن ہی سے احکام مستنبط فرماتی تھیں اور تمام واقعات کو من و عن محفوظ کر لیتی تھیں۔ آپ خود فرماتی ہیں: ”جب مکہ میں یہ آیت بَلِ السَّاعَةُ مَوْعِدُهُمْ... إِلَخْ [سورۃ القمر: 46] نازل ہوئی تو اس وقت میں کھیل میں مشغول تھی“۔ ہجرت کے وقت آپ نہایت قلیل عمر کی تھیں مگر اس کے باوجود ہجرت کے سارے واقعات آپ کو ازبر تھے۔ یہی سبب ہے کہ آپ سے زیادہ کسی صحابی سے ہجرت سے متعلق تمام واقعات کماحقہ منقول نہیں ملتے۔

6. نکاح اور خوابِ بشارت

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی شادی چھ سال کی عمر میں حضور سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم سے وقوع پذیر ہوئی اور 2ھ میں مدینۂ طیبہ میں آپ کا زفاف عمل میں آیا۔ یہ آپ کی مابہ الامتیاز خصوصیت تھی کہ آپ کے نکاح سے پہلے نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو عالمِ رؤیا میں دیکھا کہ ایک فرشتہ ریشمی پارچے میں لپیٹ کر کوئی چیز سرکار صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پیش کر رہا ہے؛ تو آپ نے دریافت فرمایا کہ اس میں کیا ہے؟ تو فرشتے نے جواب دیا کہ اس میں آپ کی زوجہ کی تصویر ہے۔ جب آپ نے اس پارچے کو کھولا تو دیکھا وہ تصویر کسی اور کی نہیں بلکہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی۔ بخاری و مسلم سے مروی ہے کہ سرکارِ ابد قرار صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ عائشہ سے فرمایا: ”میں نے تمہیں نکاح سے پہلے تین رات متواتر خواب میں دیکھا“۔

7. نو خصوصیاتِ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا

”عین الاصابہ“ میں علامہ جلال الدین سیوطی علیہ الرحمہ حضرت عائشہ صدیقہ کے مناقب میں ارشاد فرماتے ہیں کہ حضرت عائشہ بطورِ تحدیثِ نعمت فرمایا کرتی تھیں کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے میرے اندر ایسی نو خصوصیتیں ودیعت فرمائی ہیں جو کسی اور زوجہ میں نہیں پائی جاتیں:

  1. ایک یہ کہ فرشتے نے عالمِ رؤیا میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو نکاح سے پہلے میری صورت دکھائی۔
  2. دوسری یہ کہ جب میں چھ سال کی تھی تو سرکار صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے شرفِ زوجیت سے نوازا۔
  3. تیسری یہ کہ نو سال کی عمر میں مَیں کاشانۂ نبوت میں داخل ہوئی۔
  4. چوتھی یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جملہ ازواجِ مطہرات کے مابین میں ہی باکرہ تھی۔
  5. پانچویں یہ کہ جب سرکار صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے بستر پہ ہوتے تو اس وقت بھی وحی کا نزول ہوتا۔
  6. چھٹی یہ کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبوب ترین بیوی ہوں۔
  7. ساتویں یہ کہ میری براءت میں خداوندِ قدوس نے قرآن پاک میں اٹھارہ آیتیں نازل فرمائیں۔
  8. آٹھویں یہ کہ میں نے حضرت جبریل علیہ السلام کو اپنے ماتھے کی آنکھ سے دیکھا ہے۔
  9. نویں یہ کہ سرکار صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میری گود میں سر رکھ کر داعیِ اجل کو لبیک کہا۔

8. علمی مقام اور فقہ و اجتہاد

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا، جنہوں نے نو سال کی مدت حضرت ”ثَانِيَ اثْنَيْنِ“ کی آغوشِ تربیت میں گزاری اور 18 سال حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبتِ بافیض سے سرفراز رہیں، تو پھر ان کے فضائل و مناقب کا احاطہ کرنا کوئی آسان امر نہیں۔ احادیث کی کتابوں میں آپ کے بے شمار اوصاف و کمالات ستاروں کی مانند تابندہ و رخشندہ نظر آتے ہیں۔ نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عائشہ صدیقہ کی فضیلت سے متعلق ارشاد فرمایا: ”فَضْلُ عَائِشَةَ عَلَى النِّسَاءِ كَفَضْلِ الثَّرِيدِ عَلَى سَائِرِ الطَّعَامِ“ (یعنی حضرت عائشہ کی فضیلت عورتوں پر ایسی ہے جیسے ثرید کی فضیلت تمام کھانوں پر)۔ دوسرے مقام پر سرکار صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے علم و فن کی خوبی بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ”خُذُوا ثُلُثَيْ دِينِكُمْ مِنْ هٰذِهِ الْحُمَيْرَاءِ“ (یعنی تم اپنے دو تہائی دین کو اس حمیرا، یعنی عائشہ سے حاصل کرو)۔ سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشادِ گرامی پر اکابر صحابہ، حتیٰ کہ حضرت ابوبکر و عثمان جیسے مہتم بالشان خلفا نے بھی عمل کیا۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت علی کے عہدِ خلافت تک حضرت عائشہ باقاعدہ منصبِ افتا پر فائز رہیں۔

9. تابعین کی گواہی اور وسعتِ علمی

چنانچہ حضرت قاسم، جو اجلۂ تابعین میں سے ہیں، فرماتے ہیں: ”كَانَتْ عَائِشَةُ قَدِ اسْتَقَلَّتْ بِالْفَتْوَىٰ فِي خِلَافَةِ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ وَهَلُمَّ جَرًّا إِلَىٰ أَنْ مَاتَتْ يَرْحَمُهَا اللّٰهُ تَعَالَىٰ“ (یعنی حضرت عائشہ، حضرت ابوبکر، حضرت عمر اور حضرت عثمان کے ادوارِ خلافت سے تادمِ حیات مستقلاً منصبِ افتا پر فائز رہیں۔ اللہ ان پر رحمتوں کی بارش فرمائے)۔ علامہ جلال الدین سیوطی علیہ الرحمہ اپنی مایہ ناز تصنیف ”عین الاصابہ“ میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے مناقب میں فرماتے ہیں، عن عروہ: ”قَالَ مَا رَأَيْتُ أَحَدًا أَعْلَمَ بِالْحَلَالِ وَالْحَرَامِ وَالشِّعْرِ وَالطِّبِّ مِنْ عَائِشَةَ“ (یعنی حضرت عروہ سے روایت ہے، فرمایا کہ میں نے حلال و حرام اور شعر و طب میں حضرت عائشہ سے بڑھ کر کسی کو جاننے والا نہ دیکھا)۔ ایسے ہی حضرت مسروق سے روایت ہے، فرماتے ہیں: ”وَاللّٰهِ لَقَدْ رَأَيْتُ الصَّحَابَةَ يَسْأَلُونَ عَائِشَةَ عَنِ الْفَرَائِضِ“ (یعنی بخدا! میں نے صحابہ کو حضرت عائشہ سے مسائلِ فرائض پوچھتے ہوئے دیکھا ہے)۔ حضرت عطا فرماتے ہیں: ”كَانَتْ عَائِشَةُ أَفْقَهَ النَّاسِ وَأَعْلَمَ النَّاسِ وَأَحْسَنَ النَّاسِ رَأْيًا فِي الْعَامَّةِ“ (یعنی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا لوگوں میں سب سے بڑی فقیہ، عالم اور رائے عامہ میں احسن تھیں)۔ حضرت زہری فرماتے ہیں: ”لَوْ جُمِعَ عِلْمُ النَّاسِ كُلِّهِمْ ثُمَّ عِلْمُ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَكَانَتْ عَائِشَةُ أَوْسَعَهُمْ عِلْمًا“ (یعنی اگر تمام لوگوں کے علم کو جمع کیا جائے پھر ازواجِ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے علم کو، تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا علم سب سے زیادہ وسیع ہوگا)۔ مذکورہ روایتوں سے یہ بات مترشح ہو گئی کہ حضرت عائشہ کا سینہ علم و معرفت کا لازوال گنجینہ تھا جس کا اعتراف صحابۂ کرام نے بھی کیا ہے۔

10. تجسسِ علم اور جذبۂ عمل

یہ آپ کی خوش بختی تھی کہ آپ کا حجرۂ مبارک مسجدِ نبوی کے عین متصل تھا۔ اس سے بڑا فائدہ یہ ہوتا تھا کہ سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کے مابین صحنِ مسجد میں جو کچھ بھی پند و نصیحت فرماتے، آپ بغور سنتیں اور محفوظ فرما لیتیں۔ اس کے علاوہ یہ بھی آپ کی عادتِ کریمہ تھی کہ نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں بلا جھجھک مسائل دریافت کرتیں اور جب تک کما حقہ تشفی نہ ہو جاتی، خاموش نہ رہتیں۔ ایک مرتبہ سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے ذہن میں یہ بات آئی کہ شریعت نے فرائض سے متعلق عورت و مرد کے مابین کوئی امتیاز نہیں رکھا، تو پھر عورتوں پر جہاد کیوں نہیں؟ آپ نے سرکارِ ابد قرار صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کیا: ”حضور! کیا عورتوں پر جہاد فرض نہیں؟“ تو سرکار صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، بلکہ عورتوں کے لیے حج ہی جہاد ہے“۔ آپ کی جستجوئے علم کا یہ عالم تھا کہ آپ مسائلِ شرعیہ کی عقدہ کشائی کو مقدم اور بہت ہی اہم سمجھتی تھیں، خواہ کیسا ہی موقع رہا ہو، آپ سرکار صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں بلا تامل مسائلِ شرعیہ پیش کرتی تھیں۔

11. ایلا کا واقعہ اور بارگاہِ الٰہی میں التجاء

سرکار صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایلا کے سلسلے میں ایک ماہ تک اپنی ازواجِ مطہرات کے قریب نہ جانے کا عہد فرمایا تھا۔ جب مہینہ اختتام کو پہنچا تو سوئے اتفاق کہ وہ مہینہ انتیس (29) دن کا تھا۔ جب سرکار صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سب سے پہلے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لائے تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ”سرکار! آپ نے تو ایک ماہ تک کے لیے ایلا فرمایا تھا، مگر آج انتیسواں دن ہے؟“ سرکار صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تبسم ریز ہوئے اور فرمایا: ”عائشہ! کیا مہینہ انتیس دن کا نہیں ہوتا؟“ حالانکہ فطرت کا تقاضا یہ تھا کہ انتہائی کیف و انبساط کے زریں موقع پر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو یہ سوال نہیں کرنا چاہیے تھا لیکن آپ کی جستجوئے علم کا ذوقِ نمو تھا جو بغیر استفسار کے سیراب نہیں ہوتا تھا۔ اسی طرح ایک مرتبہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے تہجد کی نماز سے فراغت حاصل کی اور وتر پڑھے بغیر استراحت فرمانے لگے، تو حضرت عائشہ نے عرض کیا: ”سرکار! وتر پڑھے بغیر آپ آرام فرمانے لگے؟“ سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جواب دیا: ”عائشہ! کیا تمہیں معلوم نہیں کہ نبی کی آنکھیں سو جاتی ہیں مگر دل جاگتا رہتا ہے؟“ اسی طرح حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی موقع سے فرمایا: ”مَنْ حُوسِبَ عُذِّبَ“ (یعنی جس کا حساب کیا گیا وہ عذاب میں مبتلا ہو گا)۔ حضرت عائشہ نے فوراً فرمایا: ”یا رسول اللہ! آپ تو یہ ارشاد فرما رہے ہیں مگر حق تعالیٰ تو فرماتا ہے: فَسَوْفَ يُحَاسَبُ حِسَابًا يَسِيرًا [سورۃ الانشقاق: 8]، جب حساب آسان ہوگا تو پھر عذاب کا نزول کیسے ہو سکتا ہے؟“ سرکار صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ یہ ”پیشی“ ہے، ”حساب“ نہیں۔ ایسے ہی سرکار صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک بار فرمایا کہ کوئی شخص جنت میں داخل نہ ہوگا مگر خداوندِ قدوس کی رحمت سے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: ”حضور! کیا آپ بھی؟“ آپ نے فرمایا: ”ہاں، میں بھی خداوندِ قدوس کی رحمت ہی سے جنت میں داخل ہوں گا مگر اللہ تبارک و تعالیٰ نے مجھے اپنی رحمت میں چھپا لیا ہے“۔

12. بے مثال سخاوت اور خدمتِ خلق

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا سرکار صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں بلا جھجھک مسائل کرید کرید کر پوچھنا اور مسائل کی تہہ تک پہنچ کر ہمیں باخبر کرنا، بلاشبہ پوری ملتِ اسلامیہ پر ایک احسانِ عظیم ہے؛ ورنہ ہم بیشتر مسائل سے ناواقف رہ جاتے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے اندر خداوندِ قدوس نے اپنی عطائے خاص سے گوناگوں محیر العقول ایسی صفات ودیعت فرمائی تھیں کہ آپ ہر میدان میں یکتائے روزگار نظر آتی تھیں۔ ام المؤمنین کی شانِ سخاوت بھی دیکھیں۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: ”یا رسول اللہ! بار بار دل میں یہ آرزو مچل رہی ہے کہ میں جنت میں بھی آپ کی رفاقت سے شرف یاب رہوں“۔ سرکار صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم اس بلند مرتبے تک پہنچنا چاہتی ہو تو میری ان دو باتوں پر عمل کرتی رہنا: ایک یہ کہ کل کے لیے کھانا بچا کر نہ رکھنا، اور دوسری بات یہ کہ اس کپڑے کو بے کار نہ سمجھنا جو پیوند کے قابل ہو“۔ تاریخ شاہد ہے کہ آپ ان ارشادات پر تادمِ حیات کاربند رہیں۔ حضرت عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ کو اس وقت ستر ہزار درہم صدقہ کرتے دیکھا جبکہ آپ کی قمیص میں جابجا پیوند لگے ہوئے تھے۔ اسی طرح ایک مرتبہ حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے آپ کو ایک لاکھ درہم بھیجے تو آپ نے فوراً پوری رقم غرباء میں تقسیم فرما دی، حتیٰ کہ افطار کے لیے بھی کچھ نہ رکھا حالانکہ اس دن آپ روزے سے تھیں۔ کنیز نے عرض کیا کہ ایک درہم روٹی کے لیے بچا لی ہوتیں، تو فرمایا: ”تم نے پہلے کیوں نہ یاد دلایا؟“ آپ نے پوری رقم راہِ خدا میں تقسیم فرما کر بے مثال سخاوت کا دائمی نقش چھوڑ دیا۔

13. دنیا سے بے زاری اور تنفر

چنانچہ آپ نے وصال کے وقت بطریقِ الحاح فرمایا: ”کاش خداوندِ قدوس نے مجھے درخت بنا دیا ہوتا اور میں کاٹ دی جاتی تاکہ مجھے کوئی یاد ہی نہیں کرتا“۔ پھر کبھی فرماتیں: ”کاش میں پیدا ہی نہ ہوئی ہوتی“۔ یہ آپ کی دنیا سے سخت ترین بے زاری کی بین دلیل ہے۔ سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد آپ نے چالیس سال عالمِ بیوگی میں گزارے، مگر اس طویل عرصے میں ایک لمحہ بھی ایسا نہیں ملتا جو آپ کی تبلیغِ دین اور خدمتِ خلق سے خالی رہا ہو۔ حج کے ایام میں بھی آپ تبلیغ و ترویج کے اہم فرائض بحسن و خوبی انجام دیتیں۔

14. امر بالمعروف و نہی عن المنکر

ایک مرتبہ حج کے زمانے میں ایک ایسی عورت پر آپ کی نظر پڑی جس نے صلیب کے نقش و نگار والی چادر پہن رکھی تھی۔ آپ نے فرمایا: ”للہ! یہ چادر اتار پھینکو۔ تمہارا یہ فعل اسلام کے مقدس اصول سے سخت انحراف پر دال ہے“۔ دراصل آپ کا یہ وصفِ خاص تھا کہ جب کسی کو غیر شرعی امور کا مرتکب دیکھتیں تو فوراً متنبہ فرماتیں۔ آپ کی حیاتِ طیبہ ”امر بالمعروف و نہی عن المنکر“ کی جیتی جاگتی تفسیر تھی اور آپ تازیست اس حدیث پر عمل پیرا رہیں: ”مَنْ رَأَى مِنْكُمْ مُنْكَرًا فَلْيُغَيِّرْهُ بِيَدِهِ، فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِلِسَانِهِ، وَمَنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِقَلْبِهِ، وَذٰلِكَ أَضْعَفُ الْإِيمَانِ“ (یعنی اگر تم میں سے کوئی برائی دیکھے تو اسے ہاتھ سے روکے، اگر طاقت نہ ہو تو زبان سے اور اگر اتنی بھی قوت نہ ہو تو کم از کم دل سے برا جانے)۔ آپ نے کبھی بھی اخفائے حق نہیں فرمایا بلکہ ہمیشہ بھلائی کی تعلیم دیتی رہیں۔

15. توہمات اور رسوماتِ بد کا خاتمہ

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی بارگاہ میں ایک لڑکی گھنگھرو پہن کر آئی تو آپ نے فرمایا: ”میرے پاس گھنگھرو پہن کر نہ آیا کرو۔ تمہیں نہیں معلوم کہ سرکار صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جس گھر یا قافلے میں گھنٹہ بجتا ہو وہاں فرشتے نہیں آتے؟“ اسی طرح مدینہ میں ایک رسم تھی کہ جب بچہ پیدا ہوتا تو اس کے سر کے نیچے استرا باندھ دیا جاتا تاکہ بچہ بھوت پریت سے محفوظ رہے۔ ایک عورت اپنے بچے کو آپ کی خدمت میں لائی تو اس کے سر کے نیچے بھی استرا بندھا ہوا تھا۔ آپ نے فرمایا: ”اسے اتار پھینکو! کیا تمہیں نہیں معلوم کہ سرکار نے شگون سے منع فرمایا ہے؟“

16. حیاتِ عائشہ رضی اللہ عنہا: ایک لازوال درس

حقیقت یہ ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے فضائل و مناقب اس قدر کثیر ہیں کہ اس کا بالکلیہ احاطہ کرنا ناممکن ہے۔ اختصاراً یہ کہا جا سکتا ہے کہ آپ کی مقدس زندگی پوری دنیائے اسلام کے لیے ایک لازوال درس ہے اور آپ نے ثابت کر دکھایا کہ عورت پردے میں رہ کر بھی علم و فن اور فضل و کمال حاصل کر سکتی ہے اور تبلیغ و اشاعت کی اہم ذمہ داریاں نبھا سکتی ہے۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!