| عنوان: | برصغیر اور جدید مسلکی اختلافات! ایک جائزہ |
|---|---|
| تحریر: | ڈاکٹر معین احمد خان قادری |
| پیش کش: | ناظم اسماعیلی |
رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ صحابۂ کرام کی مجلس میں ارشاد فرمایا کہ وہ زمانہ آ رہا ہے جب دنیا کی قومیں تم پر حملہ کرنے کے لیے ایک دوسرے کو اس طرح پکاریں گی جس طرح کھانے والے پیالے پر گرتے ہیں۔ صحابۂ کرام میں سے ایک نے عرض کیا: ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! کیا اس دنیا میں مسلمان کم ہو جائیں گے؟“ تو نبیِ کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، تم ان دنوں بہت زیادہ تعداد میں ہو گے لیکن تمہاری حالت ایسی ہو جائے گی جیسے سیلاب کے پانی کی سطح پر جھاگ اور خس و خاشاک ہوتا ہے، اللہ تعالیٰ دشمنوں کے دلوں سے تمہارا رعب اٹھا لے گا اور تمہارے دلوں میں کمزوری ڈال دے گا“۔ [ابو داؤد، جلد: 4، ص: 111، حدیث: 4297]
سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس حدیثِ مقدسہ کو مدِ نظر رکھ کر اگر ہم اسلام کی چودہ سو سالہ تاریخ کے اوراق کو الٹ پلٹ کر دیکھیں تو فوراً ہی یہ حقیقت واضح ہو جائے گی کہ اللہ کے اس دینِ حق کو صفحۂ ہستی سے مٹانے کے لیے ہر دور میں ناپاک سازشیں کی جاتی رہی ہیں۔ اسلام کے تناور درخت کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے صدیوں پرانے باہم دست و گریباں دشمن، ایک دوسرے کے دوست بن کر کندھے سے کندھا ملا کر اسلام کے خلاف صف آرا ہو گئے، لیکن:
جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا
(حق آیا اور باطل مٹ گیا، بیشک باطل کو مٹنا ہی تھا) [سورۃ الاسراء: 81]
قرآنِ مقدس کے اس فرمانِ عالیشان کے مطابق اسلام پہلے سے بھی زیادہ طاقتور بن کر ابھرا یعنی کہ ہر کربلا اس کے لیے ایک نئی زندگی ثابت ہوئی، لیکن گزشتہ صدیوں سے عالمِ اسلام جس بے سروسامانی و کسمپرسی کی زندگی گزار رہا ہے، وہ سبھی اہلِ علم ہی نہیں بلکہ عوام الناس کی بھی نظروں کے سامنے ہے۔
مشرق سے لے کر مغرب تک، شمال سے لے کر جنوب تک آج مسلمانانِ عالم کو اپنے ناپاک نرغے میں لینے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ آخر سوال پیدا ہوتا ہے کہ تقریباً ایک ہزار برس تک دنیا کی امامت کے فرائض انجام دینے والی قوم یکایک پچھلی صف کے بے ہنگم مقتدیوں میں کیوں تبدیل ہو کر رہ گئی؟
عروج و زوال قوموں کی زندگی کے لیے لازم و ملزوم کی حیثیت رکھتے ہیں، اگر تاریخِ عالم کے دامن کو ذرا پھیلا کر دیکھیں تو پتا چلتا ہے کہ کس طرح ایک قوم ترقی کی منازل کو طے کرتی ہوئی بامِ عروج کو پہنچتی ہے اور پھر وہی قوم اپنے لمحوں کی خطاؤں کی صدیوں تک سزا پاتے ہوئے زوال کے تاریک گڑھے میں جا گرتی ہے، عروج و زوال کا یہی اصول دیگر قوموں کی طرح قومِ مسلم پر بھی نافذ ہوا ہے، گر گر کے یہ قوم سنبھلی ہے اور سنبھل سنبھل کر یہ قوم گری ہے، لیکن تشویشناک اور قابلِ غور پہلو یہ ہے کہ ماضی کی تباہیاں اس کے لیے اتنی دیرپا ثابت نہیں ہوئیں، مثلاً 1258ء کو اسلامی تاریخ میں اس اعتبار سے بڑا ہی المناک تصور کیا جاتا ہے کہ اس سال چنگیز خاں کا پوتا ہلاکو خاں عباسی خلافت پر ایک خوفناک طوفان بن کر نازل ہوا، اور بغداد کی اینٹ سے اینٹ بجا دی، لیکن وہی سال اس نامور فرزندِ اسلام کا سنِ پیدائش بھی ہے جس کے نام کی نسبت سے ترک حکومت دولتِ عثمانیہ کہلائی اور پھر اسی بہادر سلطان نے اور اس کے وارثان نے نہ صرف اپنا کھویا ہوا وقار واپس لیا بلکہ ”ہلالی پرچم“ کو دجلہ و فرات کی وادیوں سے لے کر یورپ کی ”ڈینوب“ ندی کے پار اس کی وادیوں تک لہرا دیا۔
مطلب یہ کہ ماضی میں ناکامیوں و بے سروسامانیوں نے کبھی اس قوم کے حوصلے پست نہیں کیے بلکہ ہزیمتوں نے کبھی اس قوم میں محمد بن قاسم جیسے مدبر فوجی جرنیل کو پیدا کیا۔ [ماخوذ از: سنی ماہنامہ بریلی شریف، اپریل 2018ء، ص: 45]
