| عنوان: | ارض اقصیٰ پر اسرائیل کا شیطانی رقص |
|---|---|
| تحریر: | غلام مصطفیٰ رضوی |
| پیش کش: | بنت شیخ ریاض |
کیا تم نے قیامت بپا دیکھی ہے؟ کیا تم نے موت رقصاں دیکھی ہے؟ کیا تم نے مٹتی عمارتیں، ملبوں میں بدلتے آشیانے، لرزتی دیواریں، گرتی چھتیں، دھنستے کوچے دیکھے ہیں؟ ہاں! یہ سب مناظر دنیا اب بھی دیکھ رہی ہے، آج بھی دیکھ رہی ہے، حسرتوں کی شامیں ہیں، صبح کا انتظار ہے، ہر طرف لاشے ہی لاشے ہیں، عزیزوں کے جنازے ہیں، بچیاں بھی شہید، بچے بھی شہید، نوجوان بھی شہید، نو عمر بچے بھی شہید، یہ الم کی داستاں فلسطین میں مشاہدہ ہو رہی ہے، وہی غزہ جسے دنیا کی حکومتوں نے فراموش کر دیا ہے۔
اسرائیل کے جنگی جہاز فضا میں بلند ہو رہے ہیں، بم برسا رہے ہیں، نہتوں پر، بچوں پر، شیر خواروں پر، سینکڑوں ننھے ننھے بچے (7 اکتوبر 2023ء سے اب تک) مسل دیے گئے، کیوں انہیں نشانہ بنایا جا رہا ہے؟ کیوں بچوں کو ٹارگٹ کیا جا رہا ہے؟ کیوں کہ ننھی کلیاں اسرائیل کے نزدیک ”دہشت گرد“ ہیں، فلسطینیوں کی نسل کشی کا یہ سنہرا موقع ہے، جس کا پورا فائدہ اسرائیل اٹھا رہا ہے اور دنیا دیکھ رہی ہے، اس جرم میں وہ بھی شریک ہیں جو اسرائیل کے ساتھ کھڑے ہیں۔ کینیڈا و فرانس بھی شریک ہیں، امریکہ و برطانیہ بھی شریک ہیں۔ ہاں! تماشائی بنے عرب ممالک بھی فلسطینیوں کے قتلِ عام میں شریک ہیں، سعودی عرب بھی ان نہتوں، ننھے منے بچوں کی موت کا ذمہ دار ہے۔
شب کی تاریکی چھائی ہوئی تھی، غزہ کی وادیاں کھنڈرات میں بدل چکی تھیں، بم دھماکوں سے پورا ماحول دہل رہا تھا، شیطانی درندوں کے لب مسرتوں سے سرشار تھے، دہشت گرد ”اسرائیل“ بہت مسرور تھا، کیوں کہ جنہیں وہ گزشتہ 70 سالوں سے مسل رہے تھے، اب ان کی نسلیں قریب الختم تھیں، شیطان کو یورپ و امریکہ سے تازہ دم کمک مل رہی تھی۔
شبِ دیجور تھی، بجلیاں کب کی کٹ چکی تھیں، نہ غذا نہ دوا، پانی بھی قریب الختم، زندگی کی آسائشوں سے محروم بچے بچیاں، آسمان کی طرف امید سے تک رہے تھے، یتیمی کا عالم، موت سروں پر رقصاں، ہاسپٹل زخمیوں سے پر، دواؤں کا فقدان، مدد کی آس و امید میں فلسطینی منتظر تھے۔
دائیں بائیں بم گرتے، چیخیں بلند ہوتیں، کئی پیاسے جامِ شہادت نوش کر جاتے، اتنے میں ایک عمارت ملبے میں بدل گئی، عزیز شہید ہو گئے، ایک بچہ زخموں سے نڈھال ہو گیا، ہاسپٹل لے جایا گیا، شیطان کے بم بردار جہاز کو یہ گوارا نہ ہوا کہ بچہ بچ جائے، ہاسپٹل پر بمباری کی گئی اور ننھا ”دہشت گرد“ ہلاک ہو گیا، یہ شیطان کی فتح ہے، یہی شیاطینِ یورپ کے جشن کی حقیقت ہے، یہی گودی میڈیا کا آتنک واد کے خلاف کامیابی کا تمغہ ہے، ابلیسی فکر کا منشا ہے۔
مسلمانوں پر عرصۂ حیات تنگ کر دیا گیا، انہی کی زمین، فلسطین جو نکہتوں کی سرزمین ہے، برکتوں کی سرزمین ہے، جہاں ختم المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم شبِ معراج تشریف لائے، یوں ارضِ مقدس قدمِ نازِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم سے باریاب ہوئی۔ اسی زمین پر عثمانی سلطنت کے زوال کے بعد برطانیہ نے قبضہ جمایا، یہودیوں کو لا بسایا، احسان کا بدلہ احسان فراموشی سے دیا گیا، فلسطینیوں پر زمین تنگ کر دی، عربوں کی پیٹھ میں اسرائیلی خنجر پیوست کر کے غاصبانہ قبضہ کر لیا گیا، جو شیطانی رقص ظلم کی صورت میں شروع ہوا، 1948ء سے لگاتار اب تک جاری ہے، دنیا عیش و طرب میں مگن ہے۔
فلسطینی بچے شہیدوں کے لہو کی سرخی دیکھتے ہوئے جوان ہوئے، وہ بھی شہید ہوئے، یتیم ہوئے، خواتین بیوہ ہوئیں، کئی نسلیں ظلم سہتے سہتے گزر گئیں، امریکی شیطان اسرائیل کے ساتھ کھڑا ہوا ہے، لاشیں مسلمانوں کی گرتی ہیں؛ لیکن اس میں امریکہ کا بھی حصہ ہوتا ہے، ہر بے حس مقتدرہ کا حصہ ہوتا ہے۔
کیا قافلۂ عرب میں کوئی صلاح الدین ایوبی کا پرتو نہیں؟ بلیک گولڈ نے عربوں کو نواز دیا، دولت کی ریل پیل ہے، عشرت کدے آباد ہیں، شراب و شباب کے دور جاری ہیں، یورپ و اسرائیل اسلحے بنا رہے ہیں، اہلِ عرب عیش خانے تعمیر کر رہے ہیں، کاش! بلیک گولڈ سے دفاعی سامان تیار کیے ہوتے تو سرحدوں پر یہودیوں کے بمبار جہاز ہجوم کیے ہوئے نہ ہوتے، بیت المقدس کے صحن خونِ مسلم سے لالہ زار نہ بنتے، اسرائیل کے وجود کے لیے سازشوں کی وہ بساط آراستہ کی گئی، جس کے زیرِ اثر عراق تباہ کر دیا گیا، شام و یمن تاراج کیے گئے، لیبیا اجاڑا گیا، سب ایک ایک کر کے مٹا دیے گئے، جو بچ گئے وہ نحیف و ناتواں ہیں، کاش! عربوں کے یہاں اسلحے بنائے جاتے تو فلسطینی مسلمانوں کے دست و بازو سلامت رہتے، شجاعت کی داستانیں شہدا کے لہو سے لکھی جاتیں۔
پوری اسلامی دنیا نے فلسطین کو تنہا چھوڑ دیا ہے؛ لیکن اللہ تعالیٰ کی مدد ان کے ساتھ ہے، ایک آواز فضا میں گونج رہی ہے، کان لگا کر سنیے، کیسی طاقتور آواز ہے، ایمان کی حرارت شریانوں میں دوڑ جاتی ہے:
وَأَنْتُمُ الْأَعْلَوْنَ إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ
ترجمہ: تم ہی غالب آؤ گے اگر ایمان رکھتے ہو۔ [سورۃ آل عمران: 139]
عزیمتوں کی داستانیں سنگلاخ وادیوں میں رقم کی جاتی ہیں، غزہ ایسی ہی وادی ہے، جہاں لہو خیزی سے چمن آباد ہو رہا ہے، ایک نسل مٹ رہی ہے، ایک چمن اجڑ رہا ہے؛ لیکن قبلے کا تقدس آباد ہو رہا ہے، ارضِ اقصیٰ کی حفاظت کے قافلے آگ کے دریا عبور کر رہے ہیں، پوری راہ سنگلاخ ہے، جہاں ہر قدم پر ننھے ننھے بچوں کی لاشیں ہیں، جہاں ہر طرف بچیوں اور نوجوانوں کی لاشیں ہیں، جہاں اب بھی حیات کے دیے بجھائے جا رہے ہیں، جہاں اب بھی تابکاری کے اثرات ہیں، بموں کی بوچھاڑ ہے، چاروں طرف عرب ممالک ہیں، بے حسی کی چادر تنی ہوئی ہے، رات اندھیری ہے، صبح کب طلوع ہوگی! آہ! کب سے انتظار ہے:
سونا جنگل رات اندھیری چھائی بدلی کالی ہے
سونے والوں جاگتے رہیو، چوروں کی رکھوالی ہے
ظلم ایک دن ڈوب جائے گا، لیکن آپ مظلوم کے ساتھ کھڑے تو ہو جائیں، اقتدار کی کرسی سدا نہیں رہتی، وہ کرسی جو فلسطینی مسلمانوں کے لہو میں تیر رہی ہے، جب ہوائے مخالف چلے گی سب تہس نہس ہو جائے گا، پھر روزِ آخر جب نمودار ہوگا، ہر ظالم کیفرِ کردار کو پہنچے گا، مظلوم سرخرو ہوگا، صہیونیوں کی شامِ غم نمودار ہوگی، کب! لہو خیزی کی شب کے خاتمے پر!!!! [ماخوذ از: ماہنامہ سنی دنیا، بریلی شریف، نومبر 2023ء، ص: 28]
