Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...
مضمون نگار
موضوعات
کل مضامین
بولتے مضامین

اسلام کمزور نہیں، آپ کا مطالعہ کمزور ہے

اسلام کمزور نہیں، آپ کا مطالعہ کمزور ہے
عنوان: اسلام کمزور نہیں، آپ کا مطالعہ کمزور ہے
تحریر: مولانا محمد امثل حسین گلاب مصباحی
پیش کش: بشیر مدنی

دہلی کا جو لال قلعہ ہے، اس میں کچھ چیزیں سنا کر کچھ چیزوں کا تصور کرایا جاتا ہے، میں آپ کو کچھ چیزیں بتا کر کچھ چیزوں کا تصور کرانا چاہتا ہوں۔ آپ تیار ہیں، تو ذیل کے ناموں کا تصور کریں۔ کل، فرعون، نمرود، شداد، قارون، ہامان، ابو جہل، ابو لہب، عتبہ، شیبہ، یہودی، نصرانی، عیسائی، اور آج، ڈی ایم، سی ایم، پی ایم، ای وی ایم، بندھن، گٹھ بندھن، مہا گٹھ بندھن۔ تصور ہو گیا؟ اب ذیل کا شعر پڑھیں اور تصدیق کریں۔

کچھ بات ہے کہ ہستی مٹتی نہیں ہماری
صدیوں رہا ہے دشمن دورِ زماں ہمارا

اسلام دینِ فطرت ہے۔ اس کے تمام احکام و فرامین فطرتِ سلیمہ کے عین مطابق، اور اس کے جملہ اصول و ضوابط فطرتِ سلیمہ کے عین موافق ہیں۔ اسلام ہی ایک ایسا دین ہے، جو زندگی کے تمام شعبہ جات میں مکمل رہنمائی کرتا ہوا نظر آتا ہے۔ زندگی کا کوئی شعبہ ایسا نہیں ہے، جس میں اسلام کے واضح احکام اور روشن تشریحات موجود نہ ہوں۔ ولادت سے لے کر وراثت تک، بلکہ قبلِ ولادت سے لے کر بعدِ تجہیز و تکفین تک کے جملہ مسائل اور ان کا حل، جملہ ضروریات اور ان کی تکمیل کی چیزیں، سب کچھ اسلام نے ایسے واضح انداز میں بیان کر دیا ہے، کہ جس کی کسی بھی مذہب میں نظیر نہیں۔

آج جو لوگ بھی دینِ اسلام پر اعتراض کر رہے ہیں، یا تو وہ دل سے اندھے ہیں، یا پھر انھوں نے کتابوں کا مطالعہ نہیں کیا ہے۔ اگر دل اندھا نہیں ہوتا، تو حق ضرور تسلیم کرتے، یا اگر کتابوں کا مطالعہ کیا ہوتا، تو کم از کم بے جا اعتراض نہیں کرتے اور بے محل الزام نہیں لگاتے۔

ہم نے رمضان المبارک کے موقع پر اپنی قسط وار تین تحریروں میں واضح کیا تھا کہ کس کس ڈھنگ سے اسلام اور مسلمانوں کو بدنام کیا گیا، اور کس کس رنگ سے اسلام اور مسلمانوں پر الزام لگایا گیا۔ آج سوشل میڈیا اور خصوصاً نیوز چینلوں کے پروگرام میں غیروں کو چھوڑیے، خود ہماری قوم کے کچھ ضمیر فروشوں کی زبان سے خود ہمارے دین پر جو اعتراض کرایا جا رہا ہے، خواہ بول کر ہو یا چپ رہ کر، سوالاً ہو یا جواباً ہو، اپنوں سے ڈیبیٹ کر کے ہو یا غیروں سے بحث کر کے ہو، وہ آپ پر مخفی نہیں ہوگا۔ ہم دوسروں سے کیا شکوہ گلہ کریں، اپنے ان لوگوں سے، جو چند سکوں کے عوض اپنی عزت و ناموس اور غیرت تک کو حرص و ہوس کی نیلام گاہوں میں فروخت کر دیتے ہیں، درخواست کرتے ہیں کہ مسئلہ صرف یہی نہیں ہے کہ آپ اپنی عزت و ناموس فروخت کر دیتے ہیں، مسئلہ یہ بھی ہے کہ لوگ اسلام کو شک کی نگاہ سے دیکھنے لگتے ہیں۔ آپ سے پوچھا گیا: آپ کہتے ہیں کہ اسلام ساڑھے چودہ سو سال پہلے آیا، اسلام چودہ سو سال پرانا ہے، تو اس کا مطلب اسلام کا اس سے پہلے وجود نہیں تھا، اور اس سے پہلے جتنے لوگ بھی آئے تھے، سب - معاذ اللہ - غیر مسلم تھے؟ آپ نے اس پر تشفی بخش نہ دلیلِ نقلی پیش کی اور نہ دلیلِ عقلی، ٹھیک ہے اپنوں کے دلوں میں کوئی شک نہ ہوا ہوگا، مگر غیروں کے دلوں میں تو شک پیدا ہوا نا، جس پر انھوں نے جم کر تالیاں اور تھالیاں بجائیں۔ آپ سے سوال ہوا کہ اسلام امن کا داعی ہے، تو پھر حکمِ جہاد کیوں ہے؟ آپ نہ تو دلیلِ نقلی سے اسے خاموش کر سکے اور نہ ہی دلیلِ عقلی سے اسے لاجواب کر سکے، اس پر غیروں کے دلوں میں اسلام کے تعلق سے شک پیدا ہوا، جس پر انھوں نے تالیاں بھی بجائیں اور تھالیاں بھی بجائیں، اس طرح کئی ایک سوالات پر آپ کے غیر تشفی بخش جوابات نے اسلام کے تئیں کتنوں کے دلوں میں یا تو شک پیدا کر دیے یا ان کا شک مزید بڑھ گیا۔ خدارا، نیوز چینل پر جا کر اسلام کی طرف سے جواب دینے سے پہلے، آپ اسلام کو اچھی طرح سے پڑھیں، آپ نے اسلام کی طرف سے تشفی بخش جوابات دے کر کتنوں کو خاموش کیا ہے، یہ بھی اہلِ نظر کی نظروں میں ہے، اور آپ کے غیر تشفی بخش جوابات سے کتنوں کے دلوں میں شک پیدا ہوا ہے، وہ بھی اہلِ فہم پر روشن ہے۔ وہاں جا کر احقاقِ حق نہیں کر سکتے، ابطالِ باطل نہیں کر سکتے۔ پھر گئے تھے کیوں، یا جاتے کیوں ہیں؟ جتنی بڑی چادر ہے، اتنا ہی پاؤں پھیلائیے۔

سنیے! دلیل، باطل کے پاس نہیں ہوتی، یا اس کے پاس جھوٹی دلیل ہوتی ہے، یا اس کی دلیل کمزور ہوتی ہے، یا اس کی اپنی دلیل نہیں ہوتی، اسلام مذہبِ حق ہے، یہ دینِ اکبری نہیں، دینِ الٰہی ہے، اس کے پاس صرف دلیل نہیں، دلائلِ قاطعہ اور براہینِ قاطعہ ہیں، صرف حجت نہیں، حججِ بالغہ اور حججِ باہرہ ہیں، اس کے پاس جھوٹی دلیل نہیں ہے، اس کی دلیل اپنی دلیل ہے، اس کے دلائل کمزور نہیں ہیں، اس کے دلائل تو پتھر کے جگر سے بھی زیادہ مضبوط ہیں، پتھر کی مضبوطی کے باوجود، اس کے جگر میں سوراخ کیا جا سکتا ہے، مگر اسلام کی دلیل کا جگر اتنا مضبوط ہے کہ اس میں رخنہ نہیں ڈالا جا سکتا۔ اور سنیے! ارے خاموش وہ رہے، جس کے پاس دلیل نہیں، متفکر وہ رہے، جس کا دین باطل ہے، تشفی بخش جواب وہ نہیں دیتا، جس کا مطالعہ وسیع نہیں ہوتا۔ اسلام دینِ الٰہی ہے، اس کے ماننے والوں کو نہ تو متفکر ہونے کی ضرورت، اور نہ ہی کسی مذہب سے دلیل اخذ کرنے کی حاجت۔

اسلام کے پاس ایک نہیں دو قسم کی دلیلیں ہیں۔ جن لوگوں نے کتابوں کا مطالعہ کیا ہے، ان کے لیے اسلام کے پاس دلیلِ نقلی بھی ہے، اور جن کے دل اندھے ہیں، ان کے لیے اسلام کے پاس دلیلِ عقلی بھی ہے۔ آپ کا مطالعہ محدود اور کمزور ہو سکتا ہے، مگر اسلام کا حوالہ محدود اور کمزور نہیں۔ آپ کی فکر مذموم ہو سکتی ہے، مگر اسلام کا ذکر معیوب نہیں ہو سکتا۔

اسلام امن کا داعی ہونے کے باوجود وقتِ ضرورت حکمِ جہاد کا قول کرتا ہے، اس پر اسلام کے پاس دلیلِ نقلی بھی ہے اور دلیلِ عقلی بھی ہے۔ مگر آپ نے اسلام کا مطالعہ کیا ہوتا تب نہ جواب دیتے۔ اللہ تعالیٰ موجود ہے۔ اس پر اسلام کے پاس دلیلِ نقلی بھی ہے اور دلیلِ عقلی بھی ہے۔ اللہ تعالیٰ ایک ہے، ازلی ہے، ابدی ہے، قادر ہے، حی ہے، تمام صفاتِ کمالیہ کا جامع ہے، ایک گونہ نقص سے بھی پاک ہے، وہی معبودِ برحق ہے، ان سب پر اسلام کے پاس دلیلِ نقلی بھی ہے اور دلیلِ عقلی بھی ہے، اسلام کے تمام اصول و ضوابط فطرتِ سلیمہ کے عین مطابق ہیں، اس پر اسلام کے پاس دلیلِ نقلی بھی ہے اور دلیلِ عقلی بھی ہے۔ شراب ممنوع ہے، جوا ممنوع ہے، بدکاری ممنوع ہے، فتنہ و فساد ممنوع ہے، ان سب پر اسلام کے پاس دلیلِ نقلی بھی ہے اور دلیلِ عقلی بھی ہے۔ داڑھی رکھنا، عورتوں کا باحجاب رہنا، نکاح کا اختیار مرد و عورت دونوں کے ہاتھوں میں دینا، طلاق کا اختیار صرف مرد کے ہاتھ میں دینا، خلع کی صورت میں عورت کے پاس بھی ایک آپشن کا ہونا، ایک مرد کے لیے چار عورتوں سے اور ایک عورت کے لیے صرف ایک مرد سے نکاح کرنا، میت کے ترکہ سے بیٹی کی بہ نسبت بیٹے کا دوگنا حصہ پانا، بغیر نکاح کے مرد و زن کے اختلاط سے روکنا اور عورتوں کا تنہا یا غیر محرم کے ساتھ بازار یا سفر پر جانے سے منع کرنا، ان سب پر اسلام کے پاس دلیلِ نقلی بھی ہے اور دلیلِ عقلی بھی ہے۔ مگر آپ نے اسلام کا مطالعہ کیا نہیں، اور اسلام پر ہونے والے اعتراضات کا جواب دینے کے لیے ڈیبیٹ میں چلے گئے، سوشل میڈیا پر آ گئے، نیوز چینل کھول لیے، فیس بک پر لائیو آ گئے۔ ہزاروں کی محفل میں فیس بک وغیرہ پر لائیو آ کر لوگوں کے سوالات کے جوابات دینے لگے۔ اپنی بھی بے عزتی کرائی اور اسلام کو بھی مشکوک نظر کیا، اگر بیان دیتے وقت سر پر ٹوپی اور چہرے پر داڑھی تھی، تو ہمارے علمائے کرام کی بھی بدنامی ہوئی۔ سیر و تفریح سے فرصت مل جائے، تو اسلام کا ضرور مطالعہ کیجیے گا، ہوٹل میں بیٹھنے، بازار میں گھومنے اور دلہن کی طرح سونے سے فرصت ملے، تو اسلام کا ضرور مطالعہ کیجیے گا، چار پانچ ہزار کے چکر میں اپنا ضمیر فروخت مت کیجیے، اور مذہبِ مہذب کا مذاق مت اڑائیے۔ دلیلِ نقلی نہیں دینے آتی تو مثلاً ہدایہ اور فتاویٰ رضویہ وغیرہ کا مطالعہ کیجیے، اور دلیلِ عقلی نہیں دینے آتی تو مثلاً علامہ فضلِ حق خیر آبادی اور خواجۂ علم و فن حضرت خواجہ مظفر حسن کو پڑھیے۔

ایک سال قبل فاروق عبداللہ سے پوچھا گیا تھا کہ آپ بھارتی ہیں کہ نہیں؟ اس پر جو انھوں نے جواب دیا تھا، میں نے آج تک کسی سیاسی آدمی کی زبان سے ایسا دنداں شکن جواب دیتے نہیں سنا، یقیناً وہ جواب لاجواب تھا، سائل کی بولتی بند ہو گئی تھی، اور شرم سے پانی پانی ہو گیا تھا، جواب ایسے دیا جاتا ہے، اور اپنے سیاسی آدمی کو چاہیے کہ وہ بھی جواب یوں ہی دیا کرے۔ یہ اور بات ہے کہ وہ جواب ۹۸ فی صد انگریزی زبان میں تھا جس کی وجہ سے وہ مشہور نہ ہو سکا۔

بہر حال، اسلام کے پاس یہودیوں کے اعتراضات کے بھی تشفی بخش جوابات ہیں، نصاریٰ اور جتنے بھی غیر مسلم ہیں، اسلام کے پاس ان سب کے تمام اعتراضات کے تشفی بخش جوابات ہیں۔ بس آپ اپنا مطالعہ وسیع کیجیے، علمائے کرام کی صحبت اختیار کیجیے، ان سے رابطہ رکھیے، ان سے جا کر پوچھیے، یہ تو ہو سکتا ہے کہ اسی وقت جواب نہ ملے، دو چار دن، ہفتہ دس روز لگ جائے، مگر یہ نہیں ہو سکتا ہے کہ اسلام اور علمائے اسلام کسی بھی مسئلہ میں آپ کو بے یار و مددگار چھوڑ دیں یا یہ کہیں کہ اس کا اسلام کے پاس جواب نہیں ہے، کسی دوسرے دین میں اس کا جواب تلاش کرو۔ نہیں ہرگز نہیں۔ علمائے کرام اور فقہائے عظام نے قرآن سے استنباط و استخراج اور حدیث سے استدلال و احتجاج کر کے قیامت تک اسلام پر ہونے والے تمام سوالات اور جملہ اعتراضات کے پہلے ہی جوابات دے دیے ہیں، ان سب پر اللہ تعالیٰ کی خوب رحمتیں نازل ہوں۔

آپ کتابوں کا مطالعہ تو کریں، پھر دیکھیں کیسے نہ تشفی بخش جواب ملتا ہے۔ آپ کو اسلام پر ہونے والے ہر ہر اعتراض کا مدلل جواب ملے گا۔ آپ ”أَجْوِبَةُ الْأَسْئِلَةِ التَّشْكِيْكِيَّةِ“ کا مطالعہ کیجیے، ”تَعَدُّدُ الزَّوْجَاتِ“ کا مطالعہ کیجیے، ”الْمُخْتَارُ فِيْ الرَّدِّ عَلَى النَّصَارَى“ کا مطالعہ کیجیے، ”الْأَجْوِبَةُ الْفَاخِرَةُ عَنِ الْأَسْئِلَةِ الْفَاجِرَةِ فِيْ الرَّدِّ عَلَى الْمِلَّةِ الْكَافِرَةِ“ کا مطالعہ کیجیے، ”الرُّدُوْدُ الْمُسْكِتَةُ عَلَى الِافْتِرَاءَاتِ الْمُتَهَافِتَةِ“ کا مطالعہ کیجیے، ”إِعْلَاءُ الْبُخَارِيِّ“ کا مطالعہ کیجیے، ”الرَّدُّ عَلَى شُبُهَاتِ الْمُعَاصِرِيْنَ“ کا مطالعہ کیجیے، ”إِجَابَاتٌ عَلَى بَعْضِ الشُّبُهَاتِ“ کا مطالعہ کیجیے، ”شُبُهَاتُ النَّصَارَى حَوْلَ الْإِسْلَامِ“ کا مطالعہ کیجیے، ”سَابِغَاتٌ“ کا مطالعہ کیجیے، ”شُمُوْعُ النَّهَارِ“ کا مطالعہ کیجیے، ”شُبُهَاتٌ حَوْلَ الْإِسْلَامِ“ کا مطالعہ کیجیے، ”شُبُهَاتٌ حَوْلَ الْحِجَابِ“ کا مطالعہ کیجیے، ”كَشْفُ الشُّبُهَاتِ“ کا مطالعہ کیجیے، ”الرَّدُّ عَلَى الشُّبُهَاتِ“ کا مطالعہ کیجیے، ”مَوْسُوْعَةُ بَيَانِ الْإِسْلَامِ الرَّدُّ عَلَى الِافْتِرَاءَاتِ وَالشُّبُهَاتِ“ کا مطالعہ کیجیے، جس میں دو سو علما کی تحقیقات ہیں، ”شُبُهَاتٌ وَرُدُوْدٌ“ کا مطالعہ کیجیے، ”الشُّبُهَاتُ وَالِاتِّهَامَاتُ الْبَاطِلَةُ“ کا مطالعہ کیجیے، ”السَّيْفُ الصَّقِيْلُ فِيْ الرَّدِّ عَلَى شُبُهَاتِ الْيَهُوْدِ وَالْمَسِيْحِيِّيْنَ“ کا مطالعہ کیجیے، ”شُبُهَاتٌ حَوْلَ قَضَايَا الْمَرْأَةِ الْمُسْلِمَةِ وَالرَّدُّ عَلَيْهَا“ کا مطالعہ کیجیے، ”شُبُهَاتٌ حَوْلَ حُقُوْقِ الْإِنْسَانِ فِيْ الْإِسْلَامِ“ کا مطالعہ کیجیے، ”الشُّبُهَاتُ الثَّلَاثُوْنَ“ کا مطالعہ کیجیے، ”الْقُرْآنُ وَنَقْضُ مَطَاعِنِ الْبُرْهَانِ“ کا مطالعہ کیجیے، ”الْإِعْلَامُ بِمَا فِيْ دِيْنِ النَّصَارَى مِنَ الْفَسَادِ وَالْأَوْهَامِ“ کا مطالعہ کیجیے، ”الرَّدُّ الْجَمِيْلُ لِإِلَهِيَّةِ عِيْسَى بِصَرِيْحِ الْإِنْجِيْلِ“ کا مطالعہ کیجیے، ”الْمَنَارَاتُ السَّاطِعَةُ فِيْ ظُلُمَاتِ الدُّنْيَا الْهَالِكَةِ“ کا مطالعہ کیجیے، ”الْأَقْوَالُ الْجَلِيَّةُ فِيْ بُطْلَانِ كُتُبِ الْيَهُوْدِيَّةِ وَالنَّصْرَانِيَّةِ“ کا مطالعہ کیجیے، ”أَدِلَّةُ الْيَقِيْنِ“، ”تَنْوِيْرُ الْأَفْهَامِ“ اور ”مَقَالَةٌ فِيْ الْإِسْلَامِ“ کا مطالعہ کیجیے، ”نَاصِرُ الدِّيْنِ عَلَى الْقَوْمِ الْكَافِرِيْنَ“ کا مطالعہ کیجیے، ”حُجِّيَّةُ السُّنَّةِ وَدَحْضُ الشُّبُهَاتِ الَّتِيْ تُثَارُ عَلَيْهَا“ کا مطالعہ کیجیے، ”الْقَوْلُ الْمُبِيْنُ“ اور ”إِظْهَارُ الْحَقِّ“ کا مطالعہ کیجیے، ”تَنْزِيْهُ الْقُرْآنِ الْكَرِيْمِ عَنْ دَعَاوَى الْمُبْطِلِيْنَ“ کا مطالعہ کیجیے، ”شُبُهَاتٌ زَائِغَةٌ حَوْلَ سُوَرِ الْقُرْآنِ الْكَرِيْمِ“ کا مطالعہ کیجیے، ”شُبُهَاتٌ حَوْلَ الْجِهَادِ فِيْ الْإِسْلَامِ“ کا مطالعہ کیجیے، ”فِتْنَةُ الشُّبُهَاتِ وَفِتْنَةُ الشَّهَوَاتِ“ کا مطالعہ کیجیے، ”مَوْسُوْعَةُ مَحَاسِنِ الْإِسْلَامِ وَرَدُّ شُبُهَاتِ اللِّئَامِ“ کا مطالعہ کیجیے، صدر الافاضل نعیم الدین مراد آبادی کی ”احقاقِ حق“ کا مطالعہ کیجیے، رفیقانِ گرامی سید مفتی گلزار مہتاب مصباحی اور مولانا عبد المجید مصباحی کی ”ردِ نصاریٰ“ کا مطالعہ کیجیے۔

مطالعہ کیجیے گا تب نہ جواب دیجیے گا، بغیر مطالعہ کے ڈیبیٹ میں جائیے گا، تو اپنی بھی عزت خراب ہوگی، اور اپنوں کی بھی۔ اس لیے پہلے مطالعہ کریں۔ جب آپ کا مطالعہ وسیع ہوگا، حصولِ علم کے لیے جنونِ شوق ہوگا، اور ان مطالعہ کردہ بحثوں کا استحضار ہوگا، تو آپ دلیلِ نقلی صاحبِ ہدایہ کی طرح دیں گے اور یہ مخالفین کے لیے دنداں شکن جواب ہوگا، اور دلیلِ عقلی علامہ فضلِ حق خیر آبادی کی طرح دیں گے، اور یہ معترضین کے لیے منہ توڑ جواب بنے گا۔

اللہ تعالیٰ اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کے صدقے اور اپنے محبوب کے محبوبوں کے صدقے ہمارے اسلام اور ہم اہلِ اسلام کی حفاظت فرمائے، اسلام اور مسلمانوں کے تعلق سے اہلِ باطل کے دلوں میں جو شکوک و شبہات پیدا ہو گئے ہیں، ان سب کو دور فرما دے اور ان میں حقائق کا ظہور فرما دے۔ آمین

[سہ ماہی سنی پیغام، نیپال، جنوری تا مارچ ۲۰۲۱ء، ص: ۳۷، ۳۸، ۳۹،]

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!