Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...
مضمون نگار
موضوعات
کل مضامین
بولتے مضامین

اولاد کی تربیت و اصلاح میں عورت کا کردار (قسط اول)

< اولاد کی تربیت و اصلاح میں عورت کا کردار (قسط اول)
عنوان: اولاد کی تربیت و اصلاح میں عورت کا کردار (قسط اول)
تحریر: محسن رضا ضیائی
پیش کش: ناہد فاطمہ قادریہ

اللہ تعالیٰ نے اس روئے بسیط پر ہر نسل و نوع کی مخلوق کو پیدا فرمایا، جس میں انسان کو سب میں معزز و مکرم بنا کر تمام مخلوقاتِ عالم پر شرف و فضیلت بخشی۔ لیکن کرۂ ارض پر بسنے والے تمام انسانوں میں ایک ایسی عظیم اور ممتاز ہستی کو بھی شرفِ ورود عطا کیا، جسے ”عورت“ کہا جاتا ہے۔ یوں تو اس کے از روئے مقام مختلف نام ہیں، اگر کسی کی زوجیت میں ہو تو بیوی، بچے کو جنم دے تو ماں اور بہن، بیٹی اور بہو اس طرح کے دیگر ناموں سے بھی جانی جاتی ہے۔ عورت کا دنیا میں پہلا روپ ہی رحمت ہے جو بیٹی بن کر تمام خاندان والوں کے قلوب پر راج کرتی ہے تو وہی بہن بن کر بھائی کے رشتے کا حق نبھاتی ہے، اسی طرح بابل کے گھر سے رخصت ہو کر سسرال جا کر اپنے رفیقِ حیات کے ساتھ دائمی زندگی کا عہد پورا کرتی ہے، گویا وہ اپنے ہر کردار و ادا سے گوناگوں روپ دھارن کر لیتی ہے۔

عورت کا مقام و مرتبہ:

یہ بھی ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ توالد و تناسل اور افزائشِ نسل کے لامتناہی سلسلے کا انحصار بھی عورت ہی پر مرکوز ہے۔ دنیا میں عورت ہی ایک ایسی ہستی ہے جس کے وجود سے قوم و نسل کا دوام و بقا ہے۔ عورت محض مردانہ جنسی اشتہا کی تسکین ہی نہیں بلکہ فروغِ انسانیت کا عظیم سبب بھی ہے۔ اسی لیے ہر لحاظ سے عورت کا مقام و مرتبہ نہایت ہی بلند و بالا ہے، جس سے کوئی بھی انکار نہیں کر سکتا۔

قرآنِ مجید میں کئی ایک آیات ایسی ہیں جو عورت کے مقام و مرتبے کو ایک دلکش، دلنشین اور عمدہ انداز میں پیش کرتی ہیں، جس سے اس کے بلند اخلاق و کردار، عظمت و تقدس اور نسوانی صفات و خصوصیات کا پورے طور پر پتہ چلتا ہے۔ عورتوں میں بھی کئی ایک درجات ہیں جس میں سب سے عظیم درجہ ماں کا ہے، جسے بے شمار مشکل گزار گھاٹیوں، مرحلوں اور منزلوں سے ہو کر گزرنا پڑتا ہے، اسلام نے انہی تمام صعوبتوں، مشکلوں اور تکلیفوں کو سامنے رکھتے ہوئے ماں کو سب سے زیادہ حسنِ سلوک، عزت و احترام اور قرابت داری کا مستحق و حقدار قرار دیا ہے جو اسلام کا عورت بالخصوص ماں پر ایک عظیم احسان ہے۔ چنانچہ قرآنِ کریم میں وارد ہوا:

وَوَصَّيْنَا الْإِنْسَانَ بِوَالِدَيْهِ إِحْسَانًا حَمَلَتْهُ أُمُّهُ كُرْهًا وَوَضَعَتْهُ كُرْهًا وَحَمْلُهُ وَفِصَالُهُ ثَلَاثُونَ شَهْرًا حَتَّىٰ إِذَا بَلَغَ أَشُدَّهُ وَبَلَغَ أَرْبَعِينَ سَنَةً

ترجمہ: ہم نے انسان کو اس کے ماں باپ کے ساتھ حسنِ سلوک کرنے کا حکم دیا ہے، اس کی ماں نے اسے تکلیف جھیل کر پیٹ میں رکھا اور تکلیف برداشت کر کے اسے جنا، اس کے حمل اٹھانے کا اور اس کے دودھ چھڑانے کا زمانہ تیس مہینے کا ہے۔ [سورۃ الاحقاف: 15]

اسی طرح حدیثِ مبارکہ میں بھی ماں کی عظمت و فضیلت کو بیان کیا گیا ہے، چنانچہ مذکور ہے کہ:

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَىٰ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ، مَنْ أَحَقُّ النَّاسِ بِحُسْنِ صَحَابَتِي؟ قَالَ: أُمُّكَ، قَالَ: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ: ثُمَّ أُمُّكَ، قَالَ: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ: ثُمَّ أُمُّكَ، قَالَ: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ: ثُمَّ أَبُوكَ.

ایک شخص نبیِ کریم علیہ الصلوٰۃ والتسلیم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے حسنِ سلوک کا سب سے زیادہ حقدار کون ہے؟ نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تیری ماں۔ اس نے پوچھا پھر کون؟ نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تیری ماں۔ اس نے پوچھا پھر کون؟ نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تیری ماں۔ اس نے پوچھا پھر کون؟ نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تیرا باپ۔ [صحیح بخاری]

اور ایک حدیث میں ہے کہ:

عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ جَاهِمَةَ السَّلَمِيِّ، أَنَّ جَاهِمَةَ جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ! أَرَدْتُ أَنْ أَغْزُوَ وَقَدْ جِئْتُ أَسْتَشِيرُكَ، فَقَالَ: هَلْ لَكَ مِنْ أُمٍّ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَالْزَمْهَا، فَإِنَّ الْجَنَّةَ تَحْتَ رِجْلَيْهَا.

ترجمہ: حضرت معاویہ بن جاہمہ سے روایت ہے کہ ان کے والد جاہمہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرا ارادہ جہاد میں جانے کا ہے، آپ سے مشورہ طلب کرنے کے لیے حاضر آیا ہوں۔ ارشاد فرمایا، کیا تیری ماں ہے؟ انہوں نے عرض کیا: ہاں، فرمایا: اس کی خدمت کو اپنے اوپر لازم کر لو کہ جنت ماں کے قدموں تلے ہے۔ [سنن نسائی]

اسی طرح حجۃ الوداع کا وہ تاریخی خطبہ بھی عورتوں کے مراتب و مناصب کو کافی اجاگر کرتا ہے جس میں اللہ کے پیارے رسول نے فرمایا: ”اے لوگو تم نے ان کو اللہ کے نام پر حاصل کیا ہے“۔ اس کے علاوہ مختلف مواقع پر مردوں کو عورتوں کے ساتھ حسنِ سلوک، ادائے حقوق اور بہتر معاشرت کی ترغیب دلائی۔ آپ نے یہ بھی فرمایا کہ اولاد کے لیے ماں کی خدمت کا اجر حج و جہاد سے افضل ہے۔ یہاں تک فرمایا کہ:

الْجَنَّةُ تَحْتَ أَقْدَامِ الْأُمَّهَاتِ

ترجمہ: ان کے قدموں کے نیچے جنت ہے۔ [الکنی والاسماء للدولابی]

مذکورہ آیات و احادیث کی روشنی میں یہ معلوم ہو گیا کہ عورت کو کتنا عظیم مقام و مرتبہ تفویض کیا گیا ہے اور اس کے ساتھ کس طرح الفت و محبت، اخلاص و مروت اور گھریلو اور معاشرتی طور پر پیش آنے کی تلقین و تاکید کی گئی ہے۔

عورت کا تعلیم یافتہ ہونا:

”عورت“ گھر، خاندان اور معاشرے کی ایک عظیم انقلاب آفریں مصلحہ و مربیہ بھی کہلاتی ہے، عورت اپنی آغوش میں پرورش پانے والی اولاد کی عہدِ طفولیت سے لے کر آغازِ شباب تک تربیت و اصلاح کی خود ذمہ دار ہوتی ہے، یہ تمام ذمہ داریاں صنفِ نازک کے ناتواں کندھوں پر ہوتی ہیں، جو اسے بحسن و خوبی سرانجام دینی ہوتی ہیں، جس سے وہ سبکدوش نہیں ہو سکتی۔ اس لیے کہا گیا ہے کہ ماں کا تعلیم یافتہ ہونا انتہائی ضروری ہے، کیوں کہ اولاد کی پہلی درسگاہ ماں کی گود ہوا کرتی ہے، اس لیے کہ ماں کی تربیت کا اولاد پر گہرا اثر پڑتا ہے، اگر گھر میں عورت تعلیم یافتہ ہو تو وہ گھر انسانیت کی یونیورسٹی ہوا کرتا ہے، لہٰذا دینی و عصری علوم سے وابستہ ہونا بھی ضروری ہے تاکہ وہ اپنے بچوں اور بچیوں کو دینی و دنیوی ماحول میں بہتر طور پر پروان چڑھا سکے۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!