Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...
مضمون نگار
موضوعات
کل مضامین
بولتے مضامین

الٰہی بھیج یہاں پھر کوئی سلطان ایوبی (قسط اول)

الٰہی بھیج یہاں پھر کوئی سلطان ایوبی (قسط اول)
عنوان: الٰہی بھیج یہاں پھر کوئی سلطان ایوبی (قسط اول)
تحریر: مفتی عبد الرحیم نشتر فاروقی
پیش کش: محمد بلال رضا مدنی، احمد آباد

فلسطین وہ متبرک سرزمین ہے جہاں کئی انبیائے کرام نے اپنے مقدس شب و روز گزارے ہیں۔ قبلۂ اول کا وجودِ مسعود بھی اس کی اہمیت و انفرادیت کو دوچند کرتا ہے۔ حضرت فاروقِ اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور سلطان صلاح الدین ایوبی علیہ الرحمہ کے دستِ شجاعت نے اس کی زلفوں کو سنوارا ہے، اس لیے یہ ارضِ مقدس ہمیشہ مسلمانوں کے لیے متبرک اور عزیز رہی ہے، یوں تو اس زمین نے صدیوں نشیب و فراز کا سامنا کیا ہے، کئی بار تاراج ہوئی اور آباد ہوئی، کئی بار مسلمانوں کی بے گور و کفن لاشوں کا بوجھ اٹھایا اور پھر اپنی آغوش میں ان کی نسلِ نو کی پرورش بھی کی ہے لیکن مسلمانوں کی جرأت و شجاعت کے جوہر کو کبھی زنگ آلود نہیں ہونے دیا، آج ایک بار پھر فلسطین لہو لہو ہے اور پرستارانِ حق کا وجود اپنے جسم کے بکھرے ہوئے چیتھڑوں کو سمیٹنے والے کسی مسیحا کی راہ تک رہا ہے۔

فلسطین اسرائیل تنازع دنیا کے قدیم اور طویل ترین تنازعات میں سے ایک ہے، مشرقِ وسطیٰ کے اس خونی تنازع کو آج دہائیاں گزر چکی ہیں، لیکن اس کا کوئی حل ہوتا دکھائی نہیں دے رہا، اس راہ میں اسرائیل کی موجودہ پالیسی اہم سدِ راہ ہے، اسے پورے فلسطین پر قبضہ چاہیے خواہ فلسطینی کہیں بھی جائیں، یہی وجہ ہے کہ دورانِ جنگ دوسرے ممالک میں پناہ گزین مسلمانوں کی فلسطین واپسی اسے ایک آنکھ نہیں بھاتی، چنانچہ جب کوئی پناہ گزین مسلمان فلسطین واپسی کی کوشش کرتا ہے تو اسرائیل اسے سختی سے روکتا ہے اور نہ رکنے پر اسے موت کی نیند سلا دیتا ہے۔

1948ء سے قبل پورے فلسطین پر صدیوں سے مسلمانوں کا قبضہ تھا، 1517ء میں یہاں مسلمانوں کا تناسب 98 فیصد تھا جبکہ یہودیوں کا تناسب صرف ایک اعشاریہ 7 فیصد تھا، یہاں تک کہ 1917ء میں بھی یہودیوں کی کل آبادی صرف 8 اعشاریہ 1 فیصد تھی جو ارضِ فلسطین کے ایک چھوٹے سے خطے پر پناہ گزین تھی، یہ تاریخی حقیقت ہے کہ جب پورے فلسطین پر مسلمانوں کی مکمل حکومت تھی تب انہوں نے یہودیوں کو وہاں آباد ہونے سے کبھی نہیں روکا، نہ انہیں کوئی گزند پہنچائی، بلکہ ہمیشہ ان کے ساتھ رواداری و ہمدردی سے پیش آئے۔

یہی وجہ ہے کہ 1922ء میں یہاں یہودیوں کی آبادی بڑھ کر 11 فیصد سے بھی تجاوز کر گئی، رفتہ رفتہ یہودیوں کی یہ آبادی بڑھتی رہی، یہاں تک کہ فلسطینی مسلمانوں کی کشادہ دلی کے سبب 1947ء میں یہ تعداد بڑھ کر 32 فیصد ہو گئی، یہاں یہودیوں کی آبادی اتنی جلد بڑھنے کی اصل وجہ پہلی عالمی جنگ کے بعد عیسائی ممالک میں یہودیوں کے خلاف بڑے پیمانے پر منافرت اور قتل و غارت کی گرم بازاری تھی، دراصل عیسائیوں کا یہ ماننا تھا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو یہودیوں نے ہی سولی پر لٹکا دیا، بایں سبب انہوں نے یہودیوں کو عیسائیت کا سب سے بڑا دشمن سمجھ لیا اور انہیں ہر طرف ظلم و ستم کا نشانہ بنایا جانے لگا، عیسائی سرِ عام انہیں مارنے، کاٹنے اور لوٹنے لگے، یہاں تک کہ انہیں اپنی جان کے لالے پڑ گئے۔

یہ وہ وقت تھا جب اپنا وجود بچانے کے لیے در در بھٹکنے والے ان یہودیوں کو کسی بھی ملک نے پناہ نہ دی لیکن فلسطینی مسلمانوں نے انہیں گلے سے لگایا اور اپنی زمین ان کے لیے کشادہ کر دی، نتیجے کے طور پر یہودی یہاں بے خوف و خطر آ کر آباد ہونے لگے، اس وقت فلسطین کا پورا خطہ سلطنتِ عثمانیہ کے زیرِ حکومت تھا، پہلی جنگِ عظیم کے بعد 1917ء میں برطانیہ نے اس پر اپنا تسلط قائم کر لیا اور یہودی انگریزوں سے مل کر اپنے خفیہ منصوبے پر کام کرنے لگے، یہیں سے فلسطینی مسلمانوں اور یہودیوں میں ٹکراؤ کا آغاز ہوا۔

(جاری ہے...) [ماخوذ از: ماہنامہ سنی دنیا، بریلی شریف، ص: 5]

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!