Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...
مضمون نگار
موضوعات
کل مضامین
بولتے مضامین

بقلم خود امیر القلم، بزبانِ خویش مناظرِ اہلِ سنت اور بہ دہانِ خود مفکرِ اسلام جیسے القابات پر ایک تجزیاتی تحریر

بقلم خود امیر القلم، بزبانِ خویش مناظرِ اہلِ سنت اور بہ دہانِ خود مفکرِ اسلام جیسے القابات پر ایک تجزیاتی تحریر
عنوان: بقلم خود امیر القلم، بزبانِ خویش مناظرِ اہلِ سنت اور بہ دہانِ خود مفکرِ اسلام جیسے القابات پر ایک تجزیاتی تحریر
تحریر: ڈاکٹر غلام مصطفیٰ نجم القادری
پیش کش: ناظم اسماعیلی

آج زمانہ جس ڈگر پر چل رہا ہے، لوگ جس حال و ماحول میں زندگی گزار رہے ہیں، اس حال و ماحول میں ”ریا“ نے جیسے ڈیرہ جما لیا ہے۔ جس ڈگر پر نظر ڈالیے دکھاوا سر اٹھا اٹھا کر اپنا جلوہ دکھا رہا ہے۔ خلوت نے جلوت کا روپ دھار لیا ہے۔ نہاں عیاں کی خلعتِ فاخرہ پر فخر کر رہی ہے۔ جو دل کی بات تھی وہ زبان پر آ گئی ہے۔ جو نہ کہنے کی چیز تھی، بلا تامل کہی جا رہی ہے۔ اور جس کے نہ لکھنے ہی میں عافیت تھی، بے دھڑک لکھی جا رہی ہے۔ ایسی بے نیازی، بے پروائی، بے فکری کی کیفیت ہے، کمیت نے جیسے گوشۂ عافیت ڈھونڈ لیا ہے۔ اگر یہ جسارت صرف جہالت کے آنگن میں ہوتی تو تاویل پر تاویل کی جاتی، مگر اسے کیا کہیے کہ علم کی گود بھی اس غفلت سے محفوظ نہیں ہے۔ اور علم وہ بھی علمِ دین جو اصلِ علم، روحِ علم، ماخذِ علم اور منبعِ علم ہے۔ کروڑوں درود نازل ہوں کعبے کے بدر الدجیٰ پر اور لاکھوں سلام برسیں طیبہ کے شمس الضحیٰ پر جنہوں نے اس علم کی عصمت و اہمیت لوگوں کے دلوں میں جاگزیں کرنے اور ناقدروں کی ناقدری کے صدمے سے بچانے کے لیے صدیوں پہلے تنبیہ کر دی تھی کہ ”نااہل کو علم (قرآن و حدیث) سکھانا ایسا ہے جیسے خنزیر کے گلے میں سونے اور موتیوں کا ہار پہنانا“ [مفہومِ حدیث، مشکوٰۃ]۔

پتہ چلا کہ یہ علم اہلِ کے لیے ہے، نااہل کے لیے نہیں ہے۔ یہ بے لحاظ تعلیم کا نتیجہ ہے کہ علم کچھ لوگوں کے ہاتھوں سرِ بازار رسوا ہو رہا ہے اور جس طرح ہر کسی کو تعلیم دینے کی اجازت نہیں ہے، ویسے ہی ہر کسی سے تعلیم لینے کی بھی اجازت نہیں ہے۔

حضرت محمد بن سیرین رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ: ”یہ علم (یعنی قرآن و حدیث کی تعلیم) دین ہے، لہٰذا تم دیکھ لو کہ کس سے دین حاصل کر رہے ہو“ [صحیح مسلم]۔

لہٰذا دینی رموز و اسرار ہر کسی کو بتانے، یا دینی علوم و افکار ہر کسی سے سیکھنے کی چھوٹ نہیں ہے، پہلے غور کرو کہ وہ خود کیسا ہے، اگر شاگرد ہے تو اہل ہے کہ نہیں اور اگر استاذ ہے تو اخلاص، عقیدہ و عمل سے اس کا دامن مزین ہے کہ نہیں۔ پہلے پرکھو، جانچو، پھر قریب کرو، قریب ہونے کا موقع دو، اگر معیار درست ہے تو ٹھیک ہے، ورنہ کنارہ کش ہو جاؤ، جب تک اس توازن کا پاس و لحاظ تھا، علم سمتوں میں پھولتا پھلتا اور جہتوں میں پھیلتا تھا۔ مذہبی فضا معتدل تھی۔ سماجی آب و ہوا خوشگوار تھی، توازن کیا بگڑا ہر طرف اتھل پتھل نظر آنے لگی۔ توازن کیا بگڑا معاشرتی ہوش کے قفس کی تیلیاں بکھر گئیں۔ عملی جسم سے اخلاص کی روح کیا نکلی، فکرِ آخرت اور خوفِ بازپرس سے آدمی بے نیاز ہو گیا۔ سادگی و بے نفسی کا جنازہ نکل گیا۔ رضا و رجا کے چہرے پر ہوائیاں اڑنے لگیں، مکر و فریب کے تعفن سے گرد و پیش بوجھل ہو گیا۔ حالانکہ کوئی بھی عمل چھوٹا ہو یا بڑا، ایک مسلمان کا اس کے پیچھے یہ جذبۂ خیر کارفرما ہوتا ہے کہ روزِ جزا اس کا صلہ ملے گا۔

تاہم اس حقیقت کو بھی فکر و نظر سے اوجھل نہیں ہونے دینا چاہیے کہ عملِ خیر اگر دشوار تر ہے تو اس کی حفاظت دشوار ترین ہے۔ بہت سی چیزیں ہیں جو اعمالِ خیر کے لیے زہرِ قاتل ہیں۔ ان میں ریا و سمعہ کی تو بطورِ خاص قرآن و حدیث میں مذمت کی گئی ہے اور اس سے ہر حال میں بچے رہنے کی تنبیہ کی گئی ہے۔ اخلاص و بے نفسی کو اپنانے اور ریا و دکھاوا سے دور رہنے کی ہدایت پر ہدایت دی گئی ہے۔ فقہائے کرام فقہ میں اخلاص کی خوبیوں اور ریا کی خامیوں سے دامنِ اوراق گلزار کرتے رہے۔ [ماخوذ از: سنی ماہنامہ بریلی شریف، اپریل 2018ء، ص: 38]

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!