| عنوان: | ضرورتِ پردہ |
|---|---|
| تحریر: | حضرت علامہ شرف قادری |
| پیش کش: | محمد سجاد علی قادری ادریسی |
یہ مقالہ ۲۲ شعبان المعظم مطابق ۹ اپریل ۱۹۸۸ء کو منعقد ہونے والی اصلاحِ معاشرہ کانفرنس، لیاقت باغ راولپنڈی کے لیے لکھا گیا۔
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
ضرورتِ پردہ
نَحْمَدُهٗ وَنُصَلِّي وَنُسَلِّمُ عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ، وَعَلَى آلِهِ وَاَصْحَابِهِ اَجْمَعِيْنَ.
اس موضوع کی حمایت اور مخالفت میں بہت کچھ کہا اور لکھا جا چکا ہے، اس کے باوجود ضروری ہے کہ بحیثیت مسلمان ہم خدا اور رسول [جَلَّ جَلَالُهٗ وَصَلَّى اللّٰهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَسَلَّمَ] کے احکام کا مطالعہ کرتے رہیں اور ان میں غور و فکر کر کے نہ صرف خود ان پر عمل پیرا ہوں بلکہ اپنے مسلمان بھائیوں اور بہنوں کو ان سے آگاہ کرتے رہیں۔ اس وقت ہمارا خطاب مسلمانوں سے ہے، خدا کرے کہ یہ چند کلمات ہماری مسلمان بہنوں اور بھائیوں کے لیے فائدہ مند ثابت ہوں۔
اس میں شک نہیں کہ جہاد وہ اہم ترین عمل اور عبادت ہے جو مسلمانوں کی بقا اور ترقی کی ضمانت ہے۔ مسلمان جب تک مصروفِ جہاد رہے، ان کی ترقی کا عمل جاری رہا، پہاڑ اور دریا ان کے راستے کی رکاوٹ نہ بن سکے، اور جب انھوں نے جہاد سے منہ موڑ کر عیش و طرب کی محفلیں سجانا شروع کر دیں اور نفسانی خواہشات نے ان پر غلبہ حاصل کر لیا تو ان کے پاؤں اکھڑنے لگے اور شکست و نامرادی ان کا مقدر بن گئی۔
اس لیے علامہ اقبال نے کہا تھا:
آ تجھ کو بتاؤں میں، تقدیرِ امم کیا ہے؟
شمشیر و سناں اول، طاؤس و رباب آخر
غیر مسلم اقوام ہمیشہ اس بات سے خائف رہی ہیں کہ کہیں مسلمانوں میں جذبۂ جہاد بیدار نہ ہو جائے۔ اگر ایسا ہو گیا تو یہ متحد ہو کر ناقابلِ تسخیر بن جائیں گے اور دنیا کی کوئی طاقت ان کی پیش قدمی کو روک نہیں سکے گی۔
اس خطرے سے بچنے کے لیے کئی سازشیں کی گئیں، مسلمانوں میں افتراق کا بیج بویا گیا اور وحدتِ ملی کو پارہ پارہ کیا گیا تاکہ نہ یہ متحد ہوں اور نہ ہی ہمارے لیے خطرہ بن سکیں۔ پردے کو صحت کے منافی قرار دیا گیا اور کہا گیا کہ جب تک پردہ باقی رہے گا اس وقت تک ترقی یافتہ معاشرہ معرضِ وجود میں نہیں آ سکتا۔ عریانیت اور فحاشی کو ثقافت قرار دیا گیا، رنگ رنگ کے ناچ اور گانے کو اعلیٰ سوسائٹی کی علامت قرار دیا گیا۔
اس سازش کا مقصد یہ تھا کہ مسلمانوں کے بچوں اور جوانوں کو شرم و حیا اور غیرت سے یکسر عاری کر دیا جائے، اور جو قوم ان اعلیٰ صفات سے محروم ہو جائے وہ چنگ و رباب سے تو دل بہلا سکتی ہے، لیکن میدانِ جنگ میں شمشیر و سناں سے کھیلنا اور دادِ شجاعت دینا اس کے بس کا روگ نہیں رہتا。
حضرت محمد بن قاسم رحمہ الله تعالیٰ غیرت و حمیت کے پیکر تھے، ان کا دل نورِ ایمانی سے منور تھا۔ یہی وجہ تھی کہ وہ خطۂ سندھ میں گرفتار بہنوں کی فریاد سن کر ساڑھے تین ہزار میل کا فاصلہ طے کر کے باب الاسلام سندھ پہنچے اور اپنی بہنوں کو رہا کرا کے دم لیا۔ آج ہماری کتنی بہنیں ہیں جو ہندوستان میں ہندوؤں اور سکھوں کے ساتھ ذلت و رسوائی کی زندگی بسر کر رہی ہیں، فلسطین اور افغانستان کی مظلوم بہنوں کی دل دوز چیخیں آسمان تک پہنچ رہی ہیں، مگر ہے ہم میں کوئی محمد بن قاسم اور طارق بن زیاد ایسا جیالا جو اپنی بہنوں کی فریاد پر لبیک کہہ سکے؟
پاکستان خدا، رسول اور اسلام کے نام پر بنا تھا، آج اکتالیس سال کا طویل عرصہ گزارنے کے باوجود:
- کیا ہم ملکِ پاک میں نظامِ اسلام اور نظامِ مصطفیٰ کو نافذ کر سکے ہیں؟
- کیا ہم نظامِ تعلیم کو اسلامی سانچوں میں ڈھال سکے ہیں؟
- کیا ہماری تہذیب، ہماری ثقافت، ہمارا معاشرہ اسلامی رنگ میں رنگا جا سکا ہے؟
- کیا ہم قیامِ پاکستان کے زمانے کی نسبت آج بہتر مسلمان ہیں؟
اگر نہیں تو ہم اللہ تعالیٰ، اس کے حبیبِ اکرم ﷺ اور شہدائے پاکستان کو کیا منہ دکھا سکیں گے؟
آج کیفیت یہ ہے کہ مسجدیں مرثیہ خواں ہیں کہ نمازی نہ رہے، سینما ہال آباد ہیں، فائیو اسٹار ہوٹل آباد ہیں، مخلوط پارٹیاں پر رونق ہیں۔ کالجوں اور یونیورسٹیوں میں نوجوان لڑکے اور لڑکیاں پڑھ رہی ہیں بلکہ گروپوں کی صورت میں دوسرے شہروں میں پکنک منانے کے لیے جاتے ہیں۔ بازاروں میں مکمل آرائش و زیبائش کے ساتھ بے حجابانہ خریداری اور مٹرگشت کی جاتی ہے اور کوئی انھیں روکنے والا نہیں۔
گلی گلی، کوچہ کوچہ ویڈیو سینٹر قائم ہو چکے ہیں اور ایسی ایسی فحش اور عریاں تصویریں آویزاں ہوتی ہیں کہ غیرت سر پیٹ کر رہ جاتی ہے۔
اخبارات، جرائد اور ٹی وی پر ہر اشتہار کے ساتھ عورت کی تصویر شامل کر کے عورت کو پبلسٹی کا سامان بنا دیا گیا ہے۔ یہ طریقۂ کار عورت کا استحصال ہے اور اس کی بدترین توہین ہے۔ اسلام نے عورت کو وہ تقدس اور شرف عطا کیا ہے کہ جنت اس کے پاؤں کے نیچے ہے۔ وہ نوعِ انسانی کی افزائش کا مرکزی کردار ہے، اس کی آغوش سب سے پہلی اور اہم ترین درس گاہ ہے۔
نپولین نے کہا تھا:
”مجھے بہترین مائیں دو، میں تمھیں بہترین سپاہی فراہم کروں گا۔“
حضراتِ گرامی!
اسلام کی نظر میں ہر مرد اور عورت ذمہ دار ہے، لیکن زیادہ ذمہ داری مرد کی ہے:
- وہ باپ ہے تو اولاد کو اسلامی احکام اور اخلاق سے روشناس کرائے،
- بھائی ہے تو احکامِ اسلام بجا لانے میں بہن کا مددگار ہو، اور
- شوہر ہے تو اپنی بیوی کو اسلامی راستے پر چلنے کا پابند بنائے۔
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
وَإِذَا سَأَلْتُمُوهُنَّ مَتَاعًا فَسْـَٔلُوهُنَّ مِنْ وَرَاءِ حِجَابٍ [الاحزاب: 53]
”جب تم امہات المومنین سے کوئی سامان مانگو تو پردے کے پیچھے ہو کر مانگو۔“
غور کیجیے کہ نبی اکرم ﷺ کی ازواجِ مطہرات مسلمانوں کی مائیں ہیں، کسی مسلمان سے یہ متصور نہیں ہو سکتا کہ ان کی طرف میلی نگاہ اٹھا کر دیکھے۔ اس کے باوجود حکم دیا گیا ہے کہ ان سے بھی کوئی چیز مانگنی ہے تو پسِ پردہ کھڑے ہو کر مانگو۔ اس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ دوسری عورتوں کے لیے پردہ کس قدر ضروری ہوگا۔
پٹرول پمپ پر آگ جلانے سے سختی کے ساتھ منع کیا جاتا ہے کیوں کہ خطرہ ہوتا ہے کہ کہیں پٹرول کا ذخیرہ آگ نہ پکڑ لے۔ یہی صورت اس وقت پیدا ہوتی ہے جب عورت کسی نامحرم کے سامنے ضرورتِ شرعیہ کے بغیر جائے، تو خطرہ ہے کہ اس کے جذبات میں ہیجان پیدا کر دے گی، اس کے ازدواجی تعلقات کو ٹھیس پہنچائے گی، اور اگر وہ غیر شادی شدہ ہے تو اس کی سوچ اور فکر کو غلط راستوں پر ڈال دے گی، اور اس کے بعد جو خرابیاں پیدا ہوں گی وہ محتاجِ بیان نہیں ہیں۔ اسلام کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ وہ صرف برائی کو نہیں روکتا بلکہ برائی کی طرف جانے والے راستوں کو بھی بند کرتا ہے۔
مشکوٰۃ شریف میں ہے کہ ایک لڑکے کے بارے میں حضرت سعد بن ابی وقاص اور ابن زمعہ میں اختلاف ہو گیا۔ حضرت سعد کہتے تھے کہ یہ میرے بھائی عتبہ کا دورِ جاہلیت کا ناجائز بیٹا ہے، لہٰذا میرے سپرد کیا جائے۔ ابن زمعہ کا موقف تھا کہ یہ میرے باپ کی کنیز کا بیٹا ہے، لہٰذا اسے میں اپنے پاس رکھوں گا۔ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں مقدمہ پیش ہوا، آپ نے فیصلہ فرمایا کہ یہ ابنِ زمعہ کا بھائی ہے، لیکن اس لڑکے میں عتبہ کی مشابہت پائی جاتی تھی، اس لیے ام المومنین سودہ بنت زمعہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو فرمایا کہ: ”تم اس سے پردہ کرو“۔ چناں چہ تازیست اس لڑکے نے حضرت سودہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو نہیں دیکھا。
اندازہ فرمائیے کہ قانون کے مطابق وہ لڑکا حضرت سودہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا بھائی قرار پاتا ہے، چوں کہ اس لڑکے کی عتبہ کے ساتھ مشابہت پائی جاتی تھی، احتمال تھا کہ وہ عتبہ ہی کا بیٹا ہو، نبی اکرم ﷺ نے حضرت سودہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو اس سے پردے کا حکم دیا، تو جو مرد عورت کے لیے ہو ہی اجنبی، اس سے پردہ کرنے کا حکم کتنا سخت ہوگا۔
امام احمد اور امام مسلم، حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
”جہنم والوں کی دو قسموں کو میں نے نہیں دیکھا:
- وہ لوگ جن کے پاس گائے کی دم جیسے چابک ہوں گے جن سے وہ لوگوں کو ماریں گے۔
- وہ عورتیں جو لباس پہننے کے باوجود عریاں ہوں گی، خود مائل ہونے والی اور دوسروں کو مائل کرنے والی ہوں گی، ان کے سر بختی اونٹوں کی ایک جانب جھکی ہوئی کوہانوں کی طرح ہوں گے۔ وہ جنت میں داخل نہیں ہوں گی اور اس کی خوشبو بھی نہیں پائیں گی، حالاں کہ جنت کی خوشبو اتنے اتنے فاصلے سے محسوس کی جائے گی۔“
دوسری قسم کے بارے میں غور کیجیے کہ یہ غیب کی خبروں میں سے ایک خبر ہے، کیوں کہ سرکارِ دو عالم ﷺ نے اگرچہ اس قسم کو دیکھا نہیں، لیکن خداداد علم کی بنا پر اس کی خبر دی کہ وہ عورتیں کپڑے پہنے ہوئے ہوں گی لیکن ان کا چست باریک لباس پردہ داری میں ناکام ہوگا اور جسموں کے نشیب و فراز اور فتنے کے مقامات کو نمایاں کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔ ان کی کشش عابد، شب زندہ دار کو بھی اپنی طرف دیکھنے پر مجبور کر دے گی، اور انھوں نے بالوں کو اپنے سروں پر اس طرح جمایا ہوگا جیسے اونٹ کی کوہان ہو۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
”وہ جنت میں داخل نہیں ہوں گی، اور باوجودیکہ جنت کی خوشبو دور دراز سے محسوس کی جائے گی، لیکن وہ جنت کی خوشبو نہیں پائیں گی۔“
خدا اور رسول ﷺ پر ایمان رکھنے والی بہنوں اور بیٹیوں سے گزارش ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ اور اس کے حبیب ﷺ کے احکام کا مطالعہ کریں اور ان پر عمل پیرا ہوں، اسی میں ان کی عزت ہے اور اسی میں سلامتی ہے۔
حکومت کی بھی ذمہ داری ہے کہ:
- خواتین کے لیے الگ یونیورسٹیاں اور درس گاہیں قائم کرے،
- مخلوط اور بے حجابانہ اجتماعات کو خلافِ قانون قرار دے،
- اخبارات، رسائل اور ٹی وی پر عورت کو بطورِ پبلسٹی پیش کرنے کو ممنوع قرار دے،
- عریاں اور فحش لٹریچر پر پابندی عائد کرے۔
وَمَا عَلَيْنَا إِلَّا الْبَلَاغُ
حوالہ: [مقالاتِ شرف قادری]
