Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...
مضمون نگار
موضوعات
کل مضامین
بولتے مضامین

قرآن اور آسمان

قرآن اور آسمان
عنوان: قرآن اور آسمان
تحریر: غزالیِ زماں احمد سعید کاظمی علیہ الرحمہ
پیش کش: محمد سجاد علی قادری ادریسی

قرآن اور آسمان

جناب معلے القاب حضرت سید المفسرین تاج المحدثین مولانا قبلہ شاہ صاحب دام مجدکم، آداب تسلیمات مسنونہ، تکریمات مقرونہ کے بعد معروض ہوں: مسئلہ مندرجہ ذیل میں جنابِ عالی کی تحقیقاتِ علمیہ اور تدقیقِ محققانہ کی ضرورت ہے۔ امید ہے کہ اپنے قیمتی اوقات سے فرصت نکال کر متوجہ مسئلہ متذکرہ ذیل ہوں گے۔ وَعَلَى اللَّهِ تَعَالَى أَجْرُكُمْ۔

الاستفسار ما تولکم دام طولکم اندریں باب کہ: آسمان کی بابت ہم اہلِ اسلام کا عقیدہ ہے کہ وہ ایک مضبوط بنا ہے، اور اس میں دروازے ہیں۔ وہ ملائکہ کرام کا مستقر ہے اور اس میں خرق و التیام وغیرہ لوازماتِ جسمیہ کے قائل ہیں۔

قال تعالیٰ:
وَّبَنَيْنَا فَوْقَكُمْ سَبْعًا شِدَادًاۙ [النباء: 12]
وَ قَالَ عَزَّ مِنْ قَائِلٍ: أَأَنْتُمْ أَشَدُّ خَلْقًا أَمِ السَّمَآءُؕ بَنٰىهَاۭ رَفَعَ سَمْكَهَا فَسَوّٰىهَاۙ [النازعات: 27، 28]
وَ فُتِحَتِ السَّمَآءُ فَكَانَتْ أَبْوَابًاۙ [النباء: 19]

النباء، النازعات، الانفطار، الانشقاق وغیرہ صفات سے ثابت ہے کہ عام اجسام کی صفات سے متصف اور حدوث و فنا میں ان کے ساتھ ملحق ہے۔

اسی طرح اجرامِ فلکیہ، ستارۂائے ثوابت و سیارہ کا افلاک میں مرکوز ہونا، اور بعض کا ثابت و ساکن اور بعض کا متحرک ہونا معلوم ہوتا ہے، کما یشیر الیہ قوله تعالیٰ:
وَ لَقَدْ جَعَلْنَا فِي السَّمَآءِ بُرُوْجًا [الحجر: 16]
كُلٌّ فِيْ فَلَكٍ يَسْبَحُوْنَ [الانبیاء: 33]
فَلَاۤ أُقْسِمُ بِالْخُنَّسِۙ الْجَوَارِ الْكُنَّسِۙ [التکویر: 15، 16]

برخلاف اس کے حکمائے یونانیین آسمان کو جسم بسیط اور متحرک تو مانتے ہیں، مگر اس میں خرق و التیام کو ممتنع بتاتے ہیں، اور اس کی قدامت کے قائل اور فنا کے منکر ہیں۔

اور اہلِ سائنس جدید وجودِ آسمان کے منکر اور خلا کے قائل ہیں۔ ان کا نظریہ ہے کہ سب ستارے نظامِ شمسی کے ماتحت سورج کے گرد گردش کر رہے ہیں، اور اب راکٹوں اور میزائلوں کے ذریعہ ثابت کرتے ہیں کہ ۷۰۶ لاکھ میل تک خلا میں سفر کرنے کے بعد بھی آسمان کا وجود نہیں بلکہ خلا ہی خلا ہے، حتیٰ کہ ان کا مصنوعی سیارہ چاند سے گزر کر سورج کے گرد گھوم رہا ہے۔

اس سے وہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ نظریۂ اہلِ اسلام و حکماء اہلِ رصد متقدمین برصواب نہیں۔ براہِ کرم اس بارہ میں مفصل روشنی ڈال کر ماجور و مشکور ہوں۔

کتبہ الفقیر: حافظ محمد عفی عنہ

الجواب:

مکرمی، وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! آپ کے استفسار کا مفصل جواب حسبِ ذیل ہے: ۷۸۶

تخلیقِ انسانی کا وہ مقصدِ عظیم، جس کی تکمیل کے لیے فطرتِ انسانی عقلِ سلیم کی روشنی میں بے تاب نظر آتی ہے، صرف معرفتِ الٰہی ہے۔

قال اللہ تعالیٰ:
وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُوْنَ [الذاریات: 56]

خازن میں ہے:
وَقِيلَ مَعْنَاهُ إِلَّا لِيَعْرِفُونَ، وَهُوَ أَحْسَنُ [خازن، ص: 206،]

اسی لیے ارشاد فرمایا:
أَلَا بِذِكْرِ اللّٰهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوْبُ [الرعد: 28]

اور یہی وجہ ہے کہ ہر فردِ انسان کسی نہ کسی رنگ میں ہستیِ باری تعالیٰ کو تسلیم کرتا ہے۔ یہ علیحدہ بات ہے کہ اس کا تسلیم کرنا عقلِ سلیم کی روشنی میں شرعاً صحیح ہے یا نہیں، لیکن اس میں شک نہیں کہ اصنام و احجار، بہار و اشجار، خاک و نار، شمس و قمر، ماء و مطر کو الٰہ ماننے والے زبانِ حال سے پکار رہے ہیں کہ ہم الٰہِ حق کی تلاش میں حیران و سرگرداں ہیں۔

یہ ہماری بدنصیبی اور محروم القسمتی ہے کہ ہم نے غیرِ الٰہ کو الٰہ سمجھا، عابد کو معبود اور ساجد کو مسجد جانا، لیکن ان مظاہرِ کائنات کی پرستش ہماری فطرت کے تقاضے کا پتہ دے رہی ہے کہ ہم بھی ہستیِ معبود کے مقر ہیں۔

حتیٰ کہ دہریہ نے بھی دہر کو مؤثرِ حقیقی مان کر تسلیم کر لیا کہ مؤثر کے بغیر اثر ناممکن ہے۔ کسی نے کیا خوب کہا ہے:

دہری نے کیا دہر سے تجھ کو تعبیر
انکار کسی سے بن نہ آیا تیرا

اور یہ امر بھی ظاہر ہے کہ معرفتِ الٰہیہ ہی ایسی چیز ہے جس کے دامن سے سعادتِ دارین، فلاحِ کونین، راحتِ ابدی اور نجاتِ حقیقی وابستہ ہیں، جس کے لوازمات سے تخلی عن الرذائل اور تجلی بالفضائل ہے۔

لہٰذا ضروری ہوا کہ ”اسلام“، جو اللہ تعالیٰ کا بھیجا ہوا دین ہے، اور قرآن، جو اسی خالقِ حقیقی کا کلامِ بلاغت نظام ہے، وہ عامۃ الناس کے لیے وضاحت کے ساتھ انہی مسائل کو بیان کرتا ہے جن سے اس کے مقصدِ تخلیق اور اس کے لوازمات و مناسبات کا تعلق ہے۔

اگر آپ دین کے ہر گوشے اور قرآن کے ہر بیان پر گہری نظر ڈالیں گے تو آپ کو معلوم ہوگا کہ جن مسائل و مضامین کا تعلق اس مقصدِ عظیم سے نہیں، یا جن چیزوں میں الجھ کر انسان کے اپنے مقصودِ حقیقی سے دور ہو جانے کا اندیشہ ہو، قرآن اور اسلام نے ان کو بنیادی حیثیت نہیں دی۔ البتہ خواص کے لیے ایسے اشارات رکھ دیے جن کی روشنی میں ان کے لیے وہ تمام علوم و حکم اور مسائل و مضامین واضح اور روشن ہیں، جو عوام کے حق میں بجائے مفید ہونے کے مضر ہو سکتے ہیں۔

زمین و آسمان و دیگر مصنوعاتِ کائنات میں اللہ تعالیٰ نے جس تفکر کی دعوت دی ہے، وہ صرف ایسے طریقے سے ہے جس کا تعلق معرفتِ الٰہیہ سے ہو۔ اس کے علاوہ تفکر کے دوسرے طریقے، جو معرفتِ الٰہی کا ذریعہ نہیں بلکہ بسا اوقات گمراہی کا سبب ہو سکتے ہیں، قرآن نے پیش نہیں کیے۔

کسی چیز میں تین طرح کا تفکر ہو سکتا ہے:

  1. یہ چیز اصل حقیقت میں کیا ہے؟
  2. اپنے اوصاف میں کیسی ہے؟
  3. اس کا فائدہ کیا ہے؟

پہلی صورت کم علم عوام کے لیے گمراہی کا سبب بن سکتی ہے، اس لیے اس طرزِ تفکر سے عوام کو بچایا گیا۔

ارشاد ہوتا ہے:
وَيَسْـٴَـلُوْنَكَ عَنِ الرُّوْحِؕ قُلِ الرُّوْحُ مِنْ أَمْرِ رَبِّيْ وَمَاۤ أُوْتِيْتُمْ مِّنَ الْعِلْمِ إِلَّا قَلِيْلًا [الاسراء: 85]
یعنی معرفتِ روح کے بارے میں ”الرُّوْحُ مِنْ أَمْرِ رَبِّي“ سے آگے تفکر نہ کرو، کیونکہ تم اتنا علم نہیں رکھتے。

دوسری صورت کا تعلق جس جگہ معرفتِ الٰہیہ سے ظاہر و باہر ہو، وہاں وہ اندازِ فکر شرعاً مطلوب و محمود ہے۔

قال اللہ تعالیٰ:
أَفَلَا يَنْظُرُوْنَ إِلَى الْإِبِلِ كَيْفَ خُلِقَتْۭ وَإِلَى السَّمَآءِ كَيْفَ رُفِعَتْۭ وَإِلَى الْجِبَالِ كَيْفَ نُصِبَتْۭ وَإِلَى الْأَرْضِ كَيْفَ سُطِحَتْ [الغاشیۃ: 17 تا 20]

تیسری صورت کا بھی یہی حال ہے کہ اگر وہ طریقۂ تفکر معرفتِ ایزدی کا ذریعہ ہو تو عند اللہ مطلوب و مرغوب ہے، ورنہ مذموم و مبغوض。

قرآنِ کریم میں ہے:
يَسْـٴَـلُوْنَكَ عَنِ الْأَهِلَّةِؕ قُلْ هِيَ مَوَاقِيْتُ لِلنَّاسِ وَالْحَجِّؕ [البقرۃ: 189]

چاند کے گھٹنے بڑھنے کا فائدہ اوقاتِ عبادات کا معلوم ہونا ہے۔ اگر اس انداز سے اس میں تفکر واقع ہو تو بلاشک مطلوب و محمود ہے۔

مصنوعاتِ عالم میں قرآنِ کریم نے جو دعوتِ تفکر دی ہے، اس کی ایک جھلک ملاحظہ ہو:

ارشاد ہوتا ہے:
إِنَّ فِيْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ الَّيْلِ وَالنَّهَارِ وَالْفُلْكِ الَّتِيْ تَجْرِيْ فِي الْبَحْرِ بِمَا يَنْفَعُ النَّاسَ وَمَاۤ أَنْزَلَ اللّٰهُ مِنَ السَّمَآءِ مِنْ مَّآءٍ فَأَحْيَا بِهِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا وَبَثَّ فِيْهَا مِنْ كُلِّ دَآبَّةٍۙ وَتَصْرِيْفِ الرِّيٰحِ وَالسَّحَابِ الْمُسَخَّرِ بَيْنَ السَّمَآءِ وَالْأَرْضِ لَآيٰتٍ لِّقَوْمٍ يَّعْقِلُوْنَ [البقرۃ: 164]

نیز ارشاد فرمایا:
وَيَتَفَكَّرُوْنَ فِيْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَالْأَرْضِۚ رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هٰذَا بَاطِلًاۚ سُبْحَانَكَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ [آل عمران: 191]

ان آیات سے معلوم ہوا کہ قرآن نے ہمیں اس حیثیت سے تفکر کی دعوت دی ہے کہ اس تفکر سے ہمیں معرفتِ الٰہیہ کا فائدہ حاصل ہو، اور ہم سمجھیں کہ ہر شے کا حقیقی فائدہ یہ ہے کہ وہ وسیلۂ معرفتِ خداوندی ہو۔

اس کے برعکس جاہلیت کا نظریہ رکھنے والے مادہ پرست جو اندازِ فکر اختیار کرتے ہیں، وہ عموماً پہلی قسم کا ہوتا ہے، اور وہ ”تفکر فی الماہیت“ ہے، یعنی اس بات کو سوچنا کہ اس چیز کی حقیقت کیا ہے۔

اس اندازِ فکر سے یہ تو ممکن ہے کہ مصنوعاتِ عالم کے بعض دنیوی اور عارضی فوائد حاصل ہو جائیں، لیکن یہ ناممکن ہے کہ غور و فکر کا یہ طریقہ ان کے لیے معرفتِ الٰہی کا ذریعہ اور سعادتِ دنیوی و نجاتِ اخروی کا وسیلہ ہو سکے۔

مختصر یہ کہ اسلام نے ایک طرف تو ہمیں گمراہ کن اندازِ فکر سے بچایا، اور دوسری طرف ہمارے لیے ان مسائل کی وضاحت پر اکتفاء کیا جن کا تعلق معرفتِ خداوندی، سعادتِ ابدی اور نجاتِ اخروی سے تھا۔

چاند، سورج، ستاروں اور آسمانوں کے مسائل بھی اسی قسم کے ہیں۔ قرآنِ مجید نے ان کے موجود اور محسوس و مشاہدۂ حالات و کیفیات کو دلائلِ قدرت و براهینِ معرفت سے شمار کیا اور صرف اسی حیثیت سے ان میں تفکر کی دعوت دی ہے۔ ان کی حقیقت و ماہیت میں سوچ بچار اور ان کے احوال و تغیرات کے اسباب و علل کی چھان بین، چونکہ انسان کے مقصدِ تخلیق سے بہت دور تھی اور اس کے عارضی فوائد کے مقابلے میں گمراہی کے خطرات بہت زیادہ اور شدید تھے، اس لیے قرآنِ مجید نے عامۃ الناس کے لیے ان کی وضاحت سے پہلو تہی کی، اور ان کے بیان میں وہی انداز رکھا جو انسانوں کے لیے ان کے مقصدِ تخلیق کے اعتبار سے مفید ثابت ہو۔

جہاں تک آسمانوں کے وجود کا تعلق ہے، قرآنِ مجید کی روشنی میں ان کا تسلیم کرنا ضروریاتِ دین سے ہے۔ جو شخص آسمانوں کے مطلق وجود کا انکار کرے گا، وہ مومن نہیں رہ سکتا۔ رہا یہ امر کہ آسمانوں کے وجود کی حقیقت و ماہیت کیا ہے؟ وہ اجسامِ ثقیلہ ہیں یا خفیف، ان کے اجزاء سخت ہیں یا نرم، وہ لطیف ہیں یا کثیف؟ نیز یہ کہ ستارے ان میں مرکوز ہیں یا غیر مرکوز؟ ان امور کے متعلق قرآن نے کوئی قطعی حکم بیان نہیں کیا، نہ ان مسائل کو اصولی و بنیادی حیثیت دی۔

جن آیات میں خلقِ سموات کا ذکر ہے، ان کا مفہوم صرف اس قدر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو موجود کیا۔ ان کا وجود کیا ہے؟ یہ امر مسکوت عنہ ہے۔

آپ نے جن آیاتِ قرآنیہ سے یہ ثابت کیا ہے کہ ”وہ عام اجسام کی صفات سے متصف اور محدوث و فنا میں ان کے ساتھ ملحق ہے“ اور اس کے بعد آپ نے بعض آیات تحریر فرمائیں، جن کے پیشِ نظر ارشاد فرمایا کہ وہ اجرامِ فلکیہ، ستارۂائے ثوابت و سیارہ کا افلاک میں مرکوز ہونا، اور بعض کا ثابت و ساکن اور بعض کا متحرک ہونا معلوم ہوتا ہے— وہ آیات آپ کے تحریر فرمودہ نظریات سے بالکل ساکت ہیں۔

آسمان یقیناً حادث ہیں، مگر ان کے متعلق یہ نظریہ کہ وہ عام اجسام (کثیف محسوسہ) کی صفات سے متصف ہیں، نیز یہ کہ ستارۂائے ثوابت جداگانہ افلاک میں مرکوز ہیں، بعض ساکن اور بعض متحرک ہیں— یہ علمائے ہیئت کا نظریہ ہے۔ جمہور محققینِ اسلام اس کو صحیح نہیں مانتے。

اس اجمال کی تفصیل یہ ہے کہ علمائے ہیئت کا مذہب یہ ہے کہ:

  1. آسمانوں میں خرق و التیام محال ہے۔
  2. ہر ستارہ الگ آسمان میں ہے۔
  3. ہر ستارہ اپنے آسمان میں مرکوز ہے۔
  4. آسمان اجرامِ صلبہ، یعنی بہت سخت قسم کے اجسام ہیں۔

اور جمہور محققینِ اسلام کا مذہب اس کے خلاف یہ ہے کہ:

  1. آسمانوں میں خرق و التیام نہ صرف ممکن بلکہ واقع ہے۔
  2. سب ستارے ایک آسمان میں گھومتے ہیں۔
  3. کوئی ستارہ کسی آسمان میں مرکوز نہیں، بلکہ ستارے آسمان میں جاری ہیں۔
  4. آسمان کا وجود یقینی ہے، لیکن اس کا جرم سخت نہیں، بلکہ وہ پانی اور ہوا کی طرح لطیف ہے، یا مجوف ہے، اور اس کا جوف ہوا سے پُر ہے، یا مجوف ہے مگر ہوا وغیرہ سے خالی ہے۔

اس میں ستارے اس طرح چلتے ہیں جیسے پانی میں مچھلی، یا یہ کہ آسمان میں ستاروں کے جاری ہونے کی جگہ ایسی لطیف ہے کہ اس میں ستاروں کا چلنا آسان ہے، یعنی آسمان کی وہ سطح جس میں ستارے چلتے ہیں لطیف ہے اور باقی حصہ منجمد ہے۔

امام ضحاک نے کہا کہ فلک کوئی جسم نہیں بلکہ وہ ستاروں کا مدار ہے، اور اکثر کا قول ہے کہ افلاک اجسام ہیں جن پر ستارے گھومتے ہیں۔ ان کے اجسام کی کیفیت میں بھی اختلاف ہے۔ بعض نے کہا کہ فلک ایک موجِ مکفوف ہے، جس میں چاند، سورج اور ستارے جاری ہوتے ہیں۔ امام کلبی نے کہا کہ وہ ماء مجموع ہے جس میں ستارے تیرتے ہیں۔

ان کی دلیل یہ ہے کہ سباحت (تیراکی) پانی کے بغیر ناممکن ہے۔ ہم ان کو جواب دیں گے کہ سباحت کا اطلاق پانی کے بغیر بھی جائز ہے۔ دیکھیے تیز رفتار گھوڑے کو عربی محاورات میں ”سابح“ (تیراک) کہا جاتا ہے۔

ان تمام اقوال و نظریات کے ثبوت میں حسبِ ذیل عبارات نقل کی جاتی ہیں، ملاحظہ فرمائیں:

  1. وَكُلٌّ تَنْوِيْئُهُ عَرْضٌ عَنِ الْمُضَافِ إِلَيْهِ مِنَ الشَّمْسِ وَالْقَمَرِ وَالنُّجُومِ [جلالین]
  2. فِي فَلَكٍ وَاحِدٍ مِنَ الْأَفْلَاكِ وَهِيَ السَّمَاءُ الدُّنْيَا، بِدَلِيلِ قَوْلِهِ تَعَالَى: ”إِنَّا زَيَّنَّا السَّمَاءَ الدُّنْيَا بِمَصَابِيْحَ“ يَسْبَحُونَ كَمَا يَسْبَحُ السَّمَكُ فِي الْمَاءِ [تفسیر مظہری، پ: 23، ص: 85،]
  3. وَالسَّبَبُ فِي ذَلِكَ عِنْدَ الْهَيْئَةِ أَنَّهَا مُرْتَكَزَةٌ فِي أَفْلَاكٍ جُرْمِيَّةٍ [تفسیر مظہری، پ: 30، ص: 208،]
    اس سے آگے چند سطور کے بعد فرماتے ہیں:
    وَأَمَّا عِنْدَنَا فَالْكَوَاكِبُ كُلٌّ مِنْهَا فِي فَلَكٍ يَسْبَحُونَ عَلَى مَا أَرَادَ اللَّهُ سُبْحَانَهُ [پ: 30، ص: 208،]
  4. الْمَسْأَلَةُ الثَّالِثَةُ: الْفَلَكُ فِي كَلَامِ الْعَرَبِ كُلُّ شَيْءٍ دَائِرٍ، وَجَمْعُهُ أَفْلَاكٌ، وَاخْتَلَفَ الْعُقَلَاءُ فِيهِ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ: الْفَلَكُ لَيْسَ بِجِسْمٍ، وَإِنَّمَا هُوَ مَدَارُ هَذِهِ النُّجُومِ، وَهُوَ قَوْلُ الضَّحَّاكِ. وَقَالَ الْأَكْثَرُونَ: بَلْ هِيَ أَجْسَامٌ تَدُورُ النُّجُومُ عَلَيْهَا، وَهَذَا أَقْرَبُ إِلَى ظَاهِرِ الْقُرْآنِ. ثُمَّ اخْتَلَفُوا فِي كَيْفِيَّةِ ذَلِكَ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ: الْفَلَكُ مَوْجٌ مَكْفُوفٌ تَجْرِي الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ وَالنُّجُومُ فِيهِ. وَقَالَ الْكَلْبِيُّ: مَاءٌ مَجْمُوعٌ تَجْرِي فِيهِ الْكَوَاكِبُ، وَاحْتَجَّ بِأَنَّ السِّبَاحَةَ لَا تَكُونُ إِلَّا فِي الْمَاءِ. قُلْنَا: لَا نُسَلِّمُ، فَإِنَّهُ يُقَالُ فِي الْفَرَسِ الَّذِي يَمُدُّ يَدَيْهِ فِي الْجَرْيِ: سَابِحٌ. وَقَالَ جُمْهُورُ الْفَلَاسِفَةِ وَأَصْحَابِ الْهَيْئَةِ: إِنَّهَا أَجْرَامٌ صُلْبَةٌ لَا ثَقِيلَةٌ وَلَا خَفِيفَةٌ، غَيْرُ قَابِلَةٍ لِلْخَرْقِ وَالِالْتِيَامِ وَالنُّمُوِّ وَالذُّبُولِ. أَمَّا الْكَلَامُ عَلَى الْفَلَاسِفَةِ فَهُوَ مَذْكُورٌ فِي الْكُتُبِ الْمُؤَلَّفَةِ فِيهِ، وَالْحَقُّ أَنَّهُ لَا سَبِيلَ إِلَى مَعْرِفَةِ صِفَاتِ السَّمَوَاتِ إِلَّا بِالْخَبَرِ [تفسیر کبیر، ج: 6، ص: 149،]
  5. وَهَذَا الْمَجْرَى فِي السَّمَاءِ، وَلَا مَانِعَ عِنْدَنَا أَنْ يَجْرِيَ الْكَوْكَبُ بِنَفْسِهِ فِي جَوْفِ السَّمَاءِ، وَهِيَ سَاكِنَةٌ لَا تَدُورُ أَصْلًا، وَذَلِكَ بِأَنْ يَكُونَ فِيهَا تَجْوِيفٌ مَمْلُوءٌ هَوَاءً أَوْ جِسْمًا آخَرَ لَطِيفًا مِثْلَهُ، يَجْرِي الْكَوْكَبُ فِيهِ جَرَيَانَ السَّمَكَةِ فِي الْمَاءِ، أَوِ الْبُنْدُقَةِ فِي الْأُنْبُوبِ الْمُسْتَدِيرِ، أَوْ يَكُون تَجْوِيفٌ خَالٍ مِنْ سَائِرِ مَا يَشْغَلُهُ مِنَ الْأَجْسَامِ، يَجْرِي الْكَوْكَبُ فِيهِ، أَوْ بِأَنْ تَكُونَ السَّمَاءُ بِأَسْرِهَا لَطِيفَةً، أَوْ مَا هُوَ مَجْرَى الْكَوْكَبِ مِنْهَا لَطِيفًا، فَيَشُقُّ الْكَوْكَبُ مَا يُحَاذِيهِ وَيَجْرِي، كَمَا تَجْرِي السَّمَكَةُ فِي الْبَحْرِ، أَوْ فِي سَاقِيَةٍ مِنْهُ، وَقِيلَ: انْجَمَدَ سَائِرُهُ، وَالْقِطَاعُ كُرَةُ الْهَوَاءِ عِنْدَ كُرَةِ النَّارِ الْمُمَاسَّةِ لِمُقَعَّرِ فَلَكِ الْقَمَرِ عِنْدَ الْفَلَاسِفَةِ، وَانْحِصَارُ الْأَجْسَامِ اللَّطِيفَةِ بِالْعَنَاصِرِ الثَّلَاثَةِ، وَصَلَابَةُ جَوْهَرِ السَّمَاءِ، وَتَسَاوِي أَجْزَائِهَا، وَاسْتِحَالَةُ الْخَرْقِ وَالِالْتِيَامِ عَلَيْهَا، وَوُجُودُ الْخَلَاءِ— لَمْ يَقُمْ دَلِيلٌ عَلَى شَيْءٍ مِنْ ذَلِكَ، وَأَقْوَى مَا يُذْكَرُ فِي ذَلِكَ شُبُهَاتٌ أَوْهَنُ مِنْ بَيْتِ الْعَنْكَبُوتِ، وَإِنَّهُ لَوَهْنُ الْبُيُوتِ [روح المعانی، پ: 23، ص: 22،]

عباراتِ منقولہ سے حسبِ ذیل فوائد حاصل ہوئے:

  1. محققینِ اسلام کے نزدیک آسمانوں کا وجود ایسا لطیف ہے جس میں تمام ستارے اس طرح جاری ہیں جیسے پانی میں مچھلی جاری ہوتی ہے۔
  2. آسمانوں میں خرق و التیام واقع ہے۔
  3. ستارے آسمان میں مرکوز نہیں۔
  4. ہر ستارے کے لیے الگ آسمان نہیں، بلکہ تمام ستارے ایک ہی آسمان میں ہیں۔
  5. بعض محققین، جیسے امام ضحاک رحمۃ اللہ علیہ، تاروں کے جاری ہونے کی جگہ (فلک) کو جسم نہیں مانتے۔
  6. آسمانوں کے جرم کی سختی و صلابت فلاسفہ کا مذہب ہے، اہلِ اسلام کا نہیں۔
  7. فلک اور آسمان کی ماہیت و کیفیت کے بارے میں جلیل القدر ائمۂ تفسیر اور محققین کے اختلافِ اقوال اس امر کی روشن دلیل ہے کہ قرآنِ کریم نے عامۃ الناس کے لیے اس مسئلے کی وضاحت سے پہلو تہی کر کے تخلیقِ انسانی کے مقصدِ عظیم کی تکمیل کے لیے اسے کوئی اہمیت نہیں دی، اور وہ کوئی ایسا بنیادی اور اصولی مسئلہ نہیں جس میں اختلاف کا امکان نہ ہو۔

ان فوائد کی روشنی میں یہ حقیقت بالکل ظاہر ہے کہ اگر کسی وقت کوئی شخص چاند، سورج سے آگے بھی چلا جائے اور اسے آسمانوں کے وجود کا احساس و ادراک نہ ہو تو کچھ بعید نہیں، اس لیے کہ اشیاءِ لطیفہ کثیف چیزوں کی طرح محسوس و مدرک نہیں ہو سکتیں۔

جس کی دلیل سائنس دانوں کا یہ نظریہ ہے کہ سورج اور زمین کے درمیان ایک رقیق مادہ (اثیر) ہر وقت متحرک ہے، جو تمام اجسام کا مبدأ دراصل مادہ ہے، لیکن حواسِ خمسہ میں سے کوئی حس آج تک اس کا ادراک نہ کر سکی، محض اس لیے کہ وہ نہایت رقیق و لطیف ہے۔

لہٰذا اگر آسمان بھی اسی رقت و لطافت کی وجہ سے محسوس نہ ہوں تو اس میں کون سا تعجب ہے؟ بالخصوص اس صورت میں جبکہ وہ مستقرِ ملائکہ ہے، اور ملائکہ لطیف ہیں، اس لیے ان کا مستقر بھی لطیف ہونا چاہیے۔

ہاں، وہ فلاسفہ جن کے نزدیک آسمان کا جرم نہایت سخت اور کثیف ہے اور اس میں خرق و التیام بھی نہیں ہو سکتا، وہ اپنے اصول کے مطابق جواب نہ دے سکیں گے۔ میں پہلے عرض کر چکا ہوں کہ اسلامی نظریات کی روشنی میں چونکہ یہ مسئلہ اصولی اور بنیادی حیثیت نہیں رکھتا، اس لیے اگر کسی مسلمان متکلم نے بھی یہاں فلاسفہ کے بعض اقوال کو تسلیم کر لیا ہو تو اس سے ہمارے بیان پر زد نہیں پڑتی۔ زیادہ سے زیادہ اسی کے مسلک پر اعتراض ہوگا جس نے فلاسفہ کے قول کی تائید کی ہے۔

اسی طرح وہ بعض روایات جو ضعیف ہیں، یا ضعیف نہیں مگر اخبارِ آحاد ہیں، اور ان سے بظاہر اجسامِ فلکیہ کی کثافت اور ثقل و صلابت مفہوم ہوتی ہے، ہمیں مضر نہیں؛ کیونکہ ایسی روایات پر کسی اصولی اور بنیادی مسئلے کا ابتنا نہیں ہو سکتا۔ ہماری بحث صرف اصولی اور بنیادی مسائل میں ہے، ضعیف ظنی باتیں ہمارے پیشِ نظر نہیں۔

یہ تقریر اس تقدیر پر ہے کہ سائنس دانوں کا آسمانوں سے گزر جانا اور چاند، سورج سے آگے بڑھ جانا دلیل سے ثابت ہو جائے۔ ابھی تک تو کسی ادنیٰ حیوان کا بھی وہاں تک پہنچنا ثابت نہیں ہوا، چہ جائیکہ انسان کی رسائی۔ چند ہزار فٹ سے زیادہ بلندی پر آج تک کوئی نہ جا سکا، تو ۶ لاکھ میل کی بلند پروازی کسی کے حق میں کیوں کر متصور ہو سکتی ہے؟

رہا یہ امر کہ راکٹ اتنی مسافت طے کر گیا، تو اگر اسے صحیح مان بھی لیا جائے تو آسمان کے جسمِ لطیف سے اس کا گزر جانا اس طرح ممکن ہوگا جیسے وہ ایتھر سے گزر گیا۔ اور اگر اصل حقیقت پر غور کیا جائے تو راکٹ کے متعلق بھی یہ دعویٰ بلادلیل ہے؛ کیونکہ اس کی کیفیتِ رفتار معلوم نہیں۔ اس بات پر کون سی دلیل قائم ہے کہ وہ بخطِ مستقیم حرکت کر رہا ہے، جس کی بنا پر یہ اندازہ صحیح مانا جائے؟ ہو سکتا ہے کہ اس کی حرکت ایسی نوعیت کی ہو جس کی بنا پر یہ اندازہ غلط قرار پائے。

میں تو یہ سمجھتا ہوں کہ جن لوگوں نے راکٹ چھوڑے ہیں وہ یہ دعویٰ یقین کے ساتھ نہیں کرتے، بلکہ محض اندازہ لگا کر کہتے ہیں کہ ہمارا راکٹ اس رفتار کے حساب سے اتنے عرصہ میں اتنی بلندی پر پہنچ گیا۔ اس انکل پچو اندازے کے متعلق قرآنِ کریم نے پہلے ہی فرما دیا:
إِنْ يَّتَّبِعُوْنَ إِلَّا الظَّنَّ وَ إِنْ هُمْ إِلَّا يَخْرُصُوْنَ [الأنعام: 116]

ایسی صورت میں اگر ہم اس دعویٰ کو یقینی قرار دیں تو وہی مثال صادق آئے گی کہ: مدعی سست، گواہ چست。

اب ان آیات پر کلام کرتا ہوں جن کے پیشِ نظر بیانِ سابق میں شبہات پیدا ہو سکتے ہیں۔ فاقول وباللہ التوفیق:

  1. وَ جَعَلْنَا السَّمَآءَ سَقْفًا مَّحْفُوْظًا [الانبیاء: 32]: اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم نے آسمان کو گرنے سے محفوظ کر دیا، یہ نہیں کہ مطلقاً وہاں سے کسی کا گزرنا ہی محال ہے۔
  2. وَ حَفِظْنٰهَا مِنْ كُلِّ شَیْطٰنٍ رَّجِیْمٍ [الحجر: 17]: اس سے بھی یہ مراد نہیں کہ علی الاطلاق وہاں کسی کی رسائی نہیں ہو سکتی، بلکہ یہ بتانا مقصود ہے کہ آسمانوں کو ہم نے شیاطین کے استراقِ سمع سے محفوظ کر دیا۔
  3. وَ بَنَيْنَا فَوْقَكُمْ سَبْعًا شِدَادًا [النباء: 12]: اس کے معنی یہ نہیں کہ سمواتِ سبع نہایت محکم، پائیدار اور ایسے قوی الخلقت ہیں کہ مرورِ زمانہ ان میں اثر نہیں کرتا، اور وہ اپنی پائیدار پیدائش کی وجہ سے فطور و خروج کے آثار و تغیرات سے محفوظ و مصون ہیں۔ دیکھیے تفسیرِ کبیر میں اسی آیت کے تحت ہے:
    ”شداد“ جمع ”شدیدۃ“، یعنی ”مُحْكَمَةٌ قَوِيَّةُ الْخَلْقِ“، ”لَا يُؤَثِّرُ فِيهَا مُرُورُ الزَّمَانِ، لَا فُطُورَ فِيهَا وَلَا فُرُوجَ[تفسیر کبیر، ج: 8، ص: 431،]
  4. أَأَنْتُمْ أَشَدُّ خَلْقًا أَمِ السَّمَآءُ، بَنٰىهَا، رَفَعَ سَمْكَهَا فَسَوّٰىهَا [النازعات: 27، 28]: اس آیت کے بھی یہ معنی نہیں کہ آسمان کا جسم سخت ہے، بلکہ آیتِ کریمہ کا مفہوم یہ ہے کہ تمہارا بنانا مشکل ہے یا آسمان کا؟ اللہ تعالیٰ نے اسے بنایا، اس کے ابھار کو اونچا کیا، پھر اسے درست کیا۔ لطیف چیز کا ابھار بھی لطیف ہوتا ہے۔
  5. وَ فُتِحَتِ السَّمَآءُ فَكَانَتْ أَبْوَابًا [النباء: 19]: اصول یہ ہے کہ موصوف جیسا ہوگا، اس کی صفات بھی اسی نوعیت کی ہوں گی۔ جب كُلٌّ فِيْ فَلَكٍ يَسْبَحُوْنَ سے یہ امر ثابت ہو گیا کہ آسمان ایسی لطیف شے ہے جس میں ستارے سباحت (تیراکی) کرتے ہیں، تو اس کا بست و کشاد اور اس کے ابواب بھی اس کے حسبِ حال اور شایانِ شان ہوں گے۔

دیکھیے الرَّحْمٰنُ عَلَى الْعَرْشِ اسْتَوٰى [طہ: 5] میں وہی ”استویٰ“ مراد ہے جو اللہ تعالیٰ کی شان کے لائق ہے، یعنی جو اس کی جسمانیت کو مستلزم نہ ہو۔ اسی طرح آسمانوں کا کھلنا، بند ہونا، اس کے دروازے، علیٰ ہذا القیاس اس کا انفطار و انشقاق— سب اس کی لطافت کے موافق ہوگا۔

اسی طرح اس کے بروج اور اس میں مختلف الحال ستاروں کا پایا جانا— یہ سب بھی لطیف اوصاف ہوں گے، جیسا کہ موصوف لطیف ہے۔

قرآنِ مجید میں ”يَوْمًا ثَقِيْلًا“، ”قَوْلًا ثَقِيْلًا“ اور اسی قسم کے بکثرت الفاظ وارد ہیں، لیکن آج تک کسی نے ”ثقل“ سے مادی ثقل مراد نہیں لیا، کیونکہ ”ثقیل“ یوم اور قول کی صفت ہے۔ جب موصوف جسمانی اور مادی نہیں تو صفت کس طرح جسمانی اور مادی ہوگی؟ اسی طرح افلاک و سموات کے لوازم بھی موصوف کے حسبِ حال اور اس کی شان کے لائق و مناسب ہی ہوں گے، اس کے خلاف کیوں کر مراد لیے جائیں گے؟

نیز قرآنِ مجید کی آیت ثُمَّ اسْتَوٰى إِلَى السَّمَاءِ وَهِيَ دُخَانٌ [فصلت: 11] سے بھی آسمان کے جسمِ لطیف ہونے کی تائید ہوتی ہے۔

  1. يٰمَعْشَرَ الْجِنِّ وَالْإِنْسِ إِنِ اسْتَطَعْتُمْ أَنْ تَنْفُذُوْا مِنْ أَقْطَارِ السَّمٰوٰتِ وَالْأَرْضِ فَانْفُذُوْا، لَا تَنْفُذُوْنَ إِلَّا بِسُلْطٰنٍ [الرحمن: 33]: اس آیت سے بظاہر یہ شبہ پیدا ہوتا ہے کہ جب آسمانوں اور زمینوں سے نکل بھاگنا ممکن نہیں تو ظاہر ہے کہ آسمانوں سے گزرنا بھی محال ہوگا۔

اس کا جواب یہ ہے کہ یہاں اللہ تعالیٰ کے قبضۂ قدرت سے نکل جانے اور اس کے احاطۂ اختیار سے باہر ہو جانے کی نفی مراد ہے۔ اور اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ اگر تم زمین و آسمان سے نکل بھی جاؤ، تب بھی اللہ تعالیٰ کے سلطان، یعنی اس کی قدرتِ کاملہ اور قدرتِ غالبہ سے باہر نہیں جا سکتے، یا یہ کہ قیامت کے دن اس کی قدرتِ کاملہ کے بغیر اس کے عذاب سے نہیں چھوٹ سکتے۔ آیۂ کریمہ کا سیاق و سباق ان معانی کی روشن دلیل ہے [ملاحظہ ہو تفسیر کبیر، ج: 8، ص: 30-31،؛ تفسیر مظہری، ج: 10،]۔

آخر میں ایک چھوٹے شبہ کا جواب عرض کر دوں کہ اگر کسی وقت یہ ثابت ہو جائے کہ چاند وغیرہ ستاروں میں آبادی ہے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم انہیں کس طرح پہنچے گی؟ پھر وہاں نہ قرآن ہے، نہ کعبہ ہے، نہ چاند ہے، کیونکہ وہ خود چاند میں رہتے ہیں، تو وہ روزہ، نماز وغیرہ کس طرح ادا کریں گے؟ اگر وہاں کوئی نبی مانا جائے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیین نہیں رہتے。

اس کا مختصر جواب یہ ہے کہ یہ ضروری نہیں کہ باوجود اختلافِ احوال کے تمام مکلفین کے لیے احکامِ شرعیہ یکساں ہوں۔ علاوہ ازیں یہ کہ یہ اعتراض بھی فلاسفہ کے مذہب پر ہوگا، اسلام اس امر کو محال نہیں جانتا کہ ایک وجود بیک وقت متعدد مقامات پر پایا جائے، نہ اسلامی اصول کی رو سے یہ امر ضروری ہے کہ مصنوعاتِ عالم کی ہر چیز سب کے علم میں ہو۔

ممکن ہے کہ ایک چیز موجود ہو اور کسی مانع کی وجہ سے ہم اس کا مشاہدہ نہ کر سکیں۔ سائنس دان اور علمائے ہیئت نے ایسے بہت سے ستاروں کو معلوم کر لیا جن کو پہلے فلاسفہ نہ جانتے تھے، اس لیے ہو سکتا ہے کہ چاند میں رہنے والوں کے لیے اللہ تعالیٰ نے کوئی اور ستارہ بنایا ہو جو ان کے لیے چاند کا کام دیتا ہو، اور ہمیں ابھی تک اس کا علم نہ ہوا ہو۔

اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ کسی نبی کو ان کے لیے تسلیم کرنے کی اجازت نہیں۔ جب سائنس کی روشنی میں یہ بات پایۂ ثبوت کو پہنچ چکی ہے کہ فردِ واحد آنِ واحد میں کروڑوں مقامات پر موجود ہو سکتا ہے، اور ہمارے لیے تو حضرت عبداللہ بن عباس کا وہ اثر کافی ہے جس میں زمین کے ہر طبقے میں آدم علیہ السلام کی طرح آدم، اور نوح علیہ السلام کی طرح نوح، اور حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرح محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا وجود ثابت ہے۔

بعض محدثین نے اس حدیث میں ”لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ[الشوری: 11] کی طرح حرفِ تشبیہ کو زائد قرار دیا ہے، جس کا مقتضیٰ یہ ہوا کہ تمام طبقاتِ زمین میں سب انبیائے مذکورین علیہم السلام بیک وقت پائے جاتے ہیں۔ اسی طرح اگر حضور علیہ السلام کا وجودِ مبارک اور ایسے ہی کعبۂ شریفہ چاند میں بھی پائے جاتے ہوں اور وہاں کے سب باشندے حضور ہی کی شریعت کے مکلف ہوں، تو اس میں کون سا استحالہ ہے۔

حوالہ: [مقالات کاظمی]

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!