Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...
مضمون نگار
موضوعات
کل مضامین
بولتے مضامین

بات طاقت کی نہیں غیرتِ ایمانی کی ہے

بات طاقت کی نہیں غیرتِ ایمانی کی ہے
عنوان: بات طاقت کی نہیں غیرتِ ایمانی کی ہے
تحریر: مولانا غلام مصطفیٰ نعیمی
پیش کش: ناہد فاطمہ قادریہ

آج سے تقریباً تیرہ صدی پہلے سندھ کے راجا داہر کے کارندوں نے حجاز جا رہے مسلمانوں کے ایک بحری جہاز پر حملہ کیا، ساز و سامان لوٹا اور مسافروں کو قید خانے میں ڈال دیا۔ مسافروں میں مردوں کے ساتھ کچھ خواتین بھی شامل تھیں جو علاقۂ سراندیپ سے اپنے وطن جا رہی تھیں لیکن شومیِ قسمت سے ظالموں کے نرغے میں گھر گئیں۔ یہ وہ زمانہ تھا جب عبد الملک بن مروان (متوفی 86ھ) خلیفۂ وقت اور حجاج بن یوسف ثقفی (متوفی 95ھ) عراق کا گورنر ہوا کرتا تھا۔ مسافروں میں سے کسی طرح دو لوگ داہر کی قید سے بھاگ نکلنے میں کامیاب رہے اور اس طرح اس حادثے کی خبر عراقی گورنر حجاج بن یوسف تک پہنچ گئی۔

یوں تو حجاج بن یوسف کا شمار تاریخِ اسلام کے انتہائی سفاک، ظالم اور بے رحم حاکم کے طور پر کیا جاتا ہے، اس کے دامن پر ہزاروں صلحا کے خونِ ناحق کے دھبے ہیں لیکن حادثۂ سندھ کی خبر نے اس کی غیرتِ ایمانی پر شدید ضرب لگائی، دشمنوں کے ہاتھوں مسلمانوں کی توہین اسے قومِ مسلم کی توہین محسوس ہوئی، اسے لگا جیسے چند مسلمانوں کی نہیں قومِ مسلم کی توہین کی گئی ہے۔ غیرتِ ایمانی اور ملی جذبات سے سرشار حجاج نے اولاً راجا داہر کو مکتوب لکھ کر مسلم خواتین کی رہائی کا مطالبہ کیا۔ داہر کے رعونت آمیز جواب نے حجاج کو برانگیختہ کر دیا اور اس نے اپنے 17 سالہ بھتیجے محمد بن قاسم (متوفی 95ھ) کو چھ ہزار کا لشکر دے کر سندھ کی مہم پر روانہ کیا تاکہ راجا داہر کو سبق سکھایا جا سکے۔ محمد بن قاسم نے نوعمری کے باوجود محض چھ ہزار کی فوج کے ساتھ راجا داہر کی تین گنا زیادہ فوج کو شکست دے کر مسلم خواتین کو اس کی قید سے آزاد کرایا اور ساری دنیا کو ایک واضح پیغام دیا کہ:

”کوئی بھی مسلمان کہیں بھی تنہا نہیں ہے، اگر کسی نے مسلمان پر ذرہ برابر بھی ظلم کیا تو سلطنتِ اسلامیہ اسے گھر میں گھس کر نشانِ عبرت بنا دے گی۔“

دوسرا منظر نامہ

8 اکتوبر 2023ء کو اسرائیلی جارحیت کے خلاف فلسطینی تنظیم حماس نے حقِ دفاع استعمال کیا، جواباً اسرائیل نے اپنی تمام تر طاقت کے ساتھ کمزور اور ننھے فلسطینیوں پر حملہ بول دیا۔ اب تک دو ہزار سے زائد مرد و خواتین، سینکڑوں بچے، ہزاروں رہائشی مکانات، درجنوں ہسپتال اور کئی اسکولوں کو میزائلوں کے ذریعے تباہ کر دیا گیا ہے، غزہ کی بجلی سپلائی کاٹ دی گئی، اناج وغیرہ کی ترسیل کے راستے بھی بند کر دیے گئے ہیں۔ اسرائیلی جارحیت کا یہ عالم ہے کہ وہ غزہ پٹی کے رہائشی علاقوں پر فاسفورس بموں تک کا استعمال کر رہا ہے، جبکہ انسانی آبادی کے خلاف حالتِ جنگ میں بھی فاسفورس کے استعمال پر سخت پابندی ہے لیکن اسرائیل تمام تر عالمی ضابطوں کی دھجیاں اڑاتے ہوئے اہلِ فلسطین کی نسل کشی پر آمادہ ہے۔

موجودہ صورتِ حال انتہائی سخت ہے، فلسطینی مسلمانوں پر یہ کوئی پہلا حادثہ نہیں ہے ظلم و تشدد کا یہ سلسلہ 1948ء میں قیامِ اسرائیل بلکہ اس سے پہلے سے ہی چلا آ رہا ہے۔ اس درمیان لاکھوں فلسطینی مسلمان شہید ہو چکے ہیں، ہزاروں دودھ پیتے بچوں نے جامِ شہادت پیا، ہزاروں ماؤں کی کوکھ اجڑی، لاکھوں فلسطینی بے وطنی کی زندگی گزار رہے ہیں، مگر 75 سال کی چیخ و پکار کے باوجود کرۂ ارض پر موجود ستاون مسلم ممالک کے حکمرانوں کے کانوں تک فلسطینیوں کی چیخیں اور یہودیوں کے حقارت آمیز قہقہے نہیں پہنچ سکتے ہیں۔ غزہ کے دو طرف اسرائیلی سرحد، ایک طرف سمندر اور ایک طرف مصر ہے۔ اسرائیل تو اپنی سرحدیں کھول نہیں سکتا۔ افسوس مصری حاکموں پر ہے جنہوں نے سخت ترین بربادی کے وقت بھی فلسطینیوں پر سرحد پوری طرح بند کر رکھی ہے۔ فلسطینی مصری سرحد پار کرنے کی کوشش بھی کرتے ہیں تو مصر کی مسلم فوجیں اپنے ہی مسلم بھائیوں پر گولیاں برساتی ہیں، اس طرح فلسطینی مسلمان چاہ کر بھی کہیں باہر نہیں نکل سکتے۔ آسمان سے برستے اسرائیلی بموں کے شور میں غزہ پٹی کے مکانات کھنڈرات میں بدلتے جا رہے ہیں، صاف و شفاف آسمان دھواں دھواں ہے اور فلسطینی شہدا کی تعداد بڑھتی ہی جا رہی ہے۔

فرق غیرت کا ہے

دونوں منظر ناموں پر غور کریں اور کچھ بنیادی چیزوں کو سمجھنے کی کوشش کریں:

  • دونوں منظر ناموں کے درمیان تیرہ صدی یعنی 1312 سال کا فاصلہ ہے۔
  • اس وقت سلطنتِ اسلامیہ کے طور پر سلطنتِ بنو امیہ ہی موجود تھی۔
  • اس وقت مسلم سلطنتوں کے نام پر 57 ملک موجود ہیں۔
  • اس زمانے میں سندھ اور عراق کے درمیان تقریباً 3500 کلومیٹر سے زائد کا فاصلہ تھا۔
  • آج فلسطینی سرحد سے مصر، لبنان، شام اور اردن کی سرحدیں بالکل ملی ہوئی ہیں، لیکن کل غازیانِ عرب ساڑھے تین ہزار کلومیٹر تک چلے آئے تھے، جبکہ آج عربوں سے چند قدموں کا فاصلہ طے نہیں ہو رہا ہے۔
  • اہلِ عرب کے لیے سندھ ایک اجنبی اور نامانوس علاقہ تھا، زبان، بود و باش اور رہن سہن سب کچھ مختلف تھا۔
  • فلسطین کے ہمسایہ مسلم ممالک کے لیے سب کچھ دیکھا بھالا ہے، زبان، ماحول اور راستوں تک سے شناسائی ہے۔
  • سندھی حکومت ایک مضبوط اور علاقائی اعتبار سے انتہائی طاقتور حکومت تھی جبکہ محمد بن قاسم کی فوج کافی کم اور کمزور تھی۔
  • اسرائیل طاقتور تو ہے لیکن اتنا بھی نہیں جیسا پروپیگنڈہ کیا جاتا ہے، حماس کے حالیہ حملوں نے اس کی طاقت اور انٹیلی جنس کی قلعی کھول کر رکھ دی ہے۔
  • محمد بن قاسم کی فوجی تعداد راجا داہر سے تین گنا کم تھی، جنگی ساز و سامان کا بھی یہی حال تھا۔
  • آج مسلم دنیا کے پاس 57 ممالک، 50 لاکھ فوج، گیس اور تیل کے 14 ذخائر اور ایٹمی طاقت بھی موجود ہے۔
  • محمد بن قاسم کی فوج کے لیے تبدیلیِ موسم اور صعوبتِ سفر کی ذہنی مشکل بھی ایک مسئلہ تھی۔
  • انہیں ہنگامی صورتِ حال میں کسی مدد یا رسد کی کوئی امید نہیں تھی، جبکہ آج مسلم ممالک کے سامنے ایسی کوئی پریشانی نہیں ہے۔

ان تمام تر ذہنی و جسمانی مشکلات کے باوجود محمد بن قاسم کے غیرت مند غازیوں نے اپنی بیٹیوں کی عزت کی خاطر عرب سے عجم تک 3500 کلومیٹر طویل سفر کی تکلیفیں برداشت کرنا گوارا کیا لیکن مظلوم اور بے بس مسلمانوں کو ظالموں کے رحم و کرم پر چھوڑنا ان کی غیرت نے گوارا نہیں کیا، اس لیے راستے کی تکلیفیں ان پر نہ اثر ڈال سکیں اور نہ ہی موسم کی تبدیلی ان کی ہمت کو کمزور کر سکی، اجنبی ملک اور ناآشنا سے ماحول میں بھی انہوں نے ایمانی قوت کے دم پر مغروروں کا غرور کچل کر رکھ دیا تھا۔

اس دور کے مقابلے آج مسلم ممالک تمام تر آسائشوں، سہولتوں، فوجی کثرت اور ایٹمی طاقت کے حامل ہیں، اس کے باوجود اگر فلسطین کے مٹھی بھر جیالے ہی قبلۂ اول کی آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں تو فرق جنگی آلات، فوجی قوت اور کثرت و گنتی کا نہیں، بلکہ غیرتِ ایمانی اور ملی حمیت و خودداری کا ہے۔ تیرہ سو سال پہلے غیرتِ ایمانی زندہ تھی تو عربوں نے ساڑھے تین ہزار کلومیٹر کی مسافت کو ناپ کر رکھ دیا تھا، آج وہ غیرت مردہ ہو چکی ہے، اسی لیے چند قدموں کا فاصلہ ناپنے میں بھی پسینے چھوٹ رہے ہیں۔ ایک ہفتے سے فلسطین کی فضا دھواں دھواں اور بموں کے شور سے لہولہان ہے، مصر، سعودی، اردن اور متحدہ عرب امارات جیسے ممالک اسرائیل کے ساتھ ہیں، کل جمع گنتی کے دو چار ملک ہی ہیں جو زبانی طور پر ہی سہی فلسطین کی حمایت کا دم بھر رہے ہیں، مگر مسلم حکمرانوں کی اکثریت پوری طرح خاموش ہے، نہ حجاج سی غیرت ہے، نہ محمد بن قاسم سی ہمت! ارضِ فلسطین محمد بن قاسم اور سلطان صلاح الدین ایوبی کے وارثوں کو مسلسل... (جاری ہے...) [ماخوذ از: ماہنامہ سنی دنیا، بریلی شریف، ص: 26]

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!