Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...
مضمون نگار
موضوعات
کل مضامین
بولتے مضامین

بیوی خیرِ اعظم ہے

بیوی خیرِ اعظم ہے
عنوان: بیوی خیرِ اعظم ہے
تحریر: طارق محمود رضوی
پیش کش: بنت عقیل احمد مصباحی

زندگی میں ویسے تو انسان کی بہترین اور مختلف طرح کی مشغولیات ہوتی ہیں جس میں وہ اپنے آپ کو منہمک رکھتا ہے اور دوسری دنیا سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہوتا، مثلاً: ایک شاعر اپنے آپ کو شاعری میں مشغول رکھتا ہے اور یہ کوشش کرتا ہے کہ کوئی لمحہ شاعری کے بغیر نہ گزرے، سوشل میڈیا کا دیوانہ ہر لمحہ سوشل میڈیا پر گزارنے کا خواہاں ہوتا ہے، اسی طرح لوگ مختلف چیزوں میں دلچسپی رکھتے ہیں اور اس چیز کو وہ اپنا متاعِ حیات سمجھ کر گلے سے لگا لیتے ہیں، ان تمام مصروفیات کو مدنظر رکھتے ہوئے مطالعہ کو گہری نظر سے دیکھیں تو وہ بہترین اور وفادار ساتھی بن کر ہمارے رنج و الم کو ختم کرتا نظر آتا ہے، اسی فکر کو اپنے ذہن میں بساتے ہوئے بہت سارے لوگ سفر کی صعوبتوں کو ختم کرنے کے لیے مطالعہ کرتے ہیں کہ سفر بھی آسانی سے مکمل ہو جائے اور وقت کا ضیاع بھی نہ ہو، فقیر بھی اسی روش پر عمل پیرا رہنے کی کوشش کرتا ہے۔

گزشتہ کل جے پور سے لکھنؤ کا سفر کرنا تھا جو کہ ایک طویل مسافت تھی، اگرچہ یہ سفر رات کا تھا اور سونے میں کٹ سکتا تھا لیکن ”السَّفَر كَالسَّقَر“ سے کون واقف نہیں! اسی لیے فقیر نے اس سفر میں ”اسلام اور چاند کا سفر“ کتاب کا مطالعہ کرنے کا ارادہ کیا لیکن کتابی شکل میں نہ ہونے کی وجہ سے ارادہ تبدیل کرنا پڑا اور ”بیویوں کی ایذا رسانی پر صبر“ کو بالاستیعاب از اول تا آخر بغور پڑھا، ”بیویوں کی ایذا رسانی پر صبر“ یہ کتاب محترم یوسف ابجیک السوسی کی کتاب ”الصَّبْر عَلَى الزَّوْجَات“ کا اردو ترجمہ ہے۔

یہ کتاب میاں بیوی کے تعلقات کو سمجھنے اور سلجھائے رکھنے میں کافی مددگار ہے، بیویوں کے تعلق سے وہ معلومات فراہم کی گئی ہیں جن کا علم ہر ایک مسلمان کو ہونا چاہیے، ساتھ میں یہ ان لوگوں کے لیے بہت مفید ہے جو شادی کا ارادہ تو رکھتے ہیں مگر شادی سے خوف کھاتے ہیں یا جن کی شادی ہو گئی ہے اور وہ اپنی بیویوں سے پریشان رہتے ہیں، خواہ اس طرح پریشان ہوں کہ انھیں اپنے ہم سفر کی طرف سے کسی بات کا جواب اچھے انداز میں نہیں ملتا یا ہر وقت کان میں ایک ڈراؤنی آواز گونجتی رہتی ہے یا بیوی کی ناراضگی ہو یا ان کی بیوی ان کے لیے جانِ وبال بن گئی ہوتی ہے یا کوئی اور معاملہ ہو، غرض میاں بیوی کے درمیان ہر قسم کے ہونے والے معاملات کا حل اس میں موجود ہے، ساتھ ہی یہ کتاب طلاق دینے کا ارادہ رکھنے والوں کے لیے بھی ان گنت فوائد سے خالی نہیں ہے۔

کتاب میں مندرجہ ذیل موضوعات پر گفتگو کی گئی ہے:
طلاق کیسا عمل ہے؟ والدین کے کہنے پر عورت کو طلاق دینے کا کیا حکم ہے؟ عورتوں کی زبان درازی پر کیا کرنا چاہیے؟ بیویوں کی اذیت کرنے پر کیا ثواب ہے؟ بزرگوں کے پاس اپنی بیوی کی شکایت لانے والوں کو بزرگوں کا جواب، انبیائے کرام، صحابۂ عظام، علما اور صلحا کی بیویوں کا کس طرح کا رویہ رہتا تھا؟ بیویوں کی ایذا رسانی پر قصیدہ۔ دو شادیاں کرنے والوں کا کیا حال ہوتا ہے؟

ایک واقعہ خوش طبعی کے لیے پیشِ خدمت ہے:
شیخ علی خواص کے شاگرد امام شعرانی ”لَوَاقِحُ الْأَنْوَارِ الْقُدْسِيَّةِ فِيْ بَيَانِ الْعُهُوْدِ الْمُحَمَّدِيَّةِ“ میں فرماتے ہیں: شیخ علی خواص رحمۃ اللہ کی بیوی تین ماہ سے زیادہ عرصہ آپ کو چھوڑے رہیں، ایک ماہ تو محض اس لیے دور رہیں کہ کھلے پانی میں آپ نے ان کی مرغی کو پانی پلا دیا تھا، ایک بار غلطی سے بیوی کے برتن میں پانی پی لیا تو آپ کے منہ لگنے کی جگہ کو انھوں نے کھرچ دیا اور کبھی بھی اس جگہ اپنا منہ نہ لگایا، حجاز کا سفر ساتھ کیا، لیکن وہ پاس نہ آئیں، مصر کا سفر ساتھ کیا واپس آ گئے لیکن دونوں کے درمیان کوئی بات نہ ہوئی، جب مر گئیں تو آپ سفید جھنڈا لے کر اس کی میت کے ساتھ چلے۔

انھوں نے اپنے مرضِ موت میں مجھے بتایا کہ وہ اپنی بیوی کے ساتھ ستاون سال رہے، ایک رات بھی وہ آپ کے ساتھ نہ سوئی، حالاں کہ شادی کے وقت دونوں راضی تھے، جب آپ کو کوئی کہتا کہ اسے طلاق دے دو تو کہتے ظلم میری جانب سے ہے، اس کی جانب سے نہیں کیوں کہ یہ تو میرے اعمال کی شکل ہے۔

[ماہنامہ سنی دنیا، بریلی شریف، نومبر ۲۰۲۳ء، ص: ۵۲]

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!