Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...
مضمون نگار
موضوعات
کل مضامین
بولتے مضامین

حضور حجۃ الاسلام! مختصر تعارف

حضور حجۃ الاسلام! مختصر تعارف
عنوان: حضور حجۃ الاسلام! مختصر تعارف
تحریر: حافظ افتخار احمد قادری
پیش کش: ناظم اسماعیلی

تاریخِ وصال 17 جمادی الاولیٰ پر خصوصی تحریر: تاج الاصفیاء، رئیس العلماء، آفتابِ شریعت و طریقت، شیخ المحدثین، راس المفسرین، حجۃ الاسلام حضرت علامہ محمد حامد رضا خاں قادری بریلوی رضی اللہ عنہ کی ولادت مرکزِ اہلِ سنت بریلی شریف میں ماہِ ربیع الاول 1292ھ/ 1875ء میں ہوئی۔ عقیقے میں آپ کا نام حسبِ دستورِ خاندانی محمد رکھا گیا، جن کے اعداد 92 ہیں اور یہی نام آپ کا تاریخی ہو گیا، آپ کا عرفی نام ”حامد رضا“ اور خطاب حجۃ الاسلام ہے۔

تعلیم و تربیت

حجۃ الاسلام حضرت مولانا محمد حامد رضا خاں قادری بریلوی رضی اللہ عنہ کی تعلیم و تربیت آغوشِ والدِ ماجد امامِ اہلِ سنت، مجددِ دین و ملت شاہ امام احمد رضا خاں قادری فاضلِ بریلوی رضی اللہ عنہ میں ہوئی۔ والدِ ماجد آپ سے بڑی محبت فرماتے اور ارشاد فرماتے کہ ”حَامِدٌ مِنِّي وَأَنَا مِنْ حَامِدٍ“۔ جملہ علوم و فنون آپ نے اپنے والدِ ماجد سے حاصل کیے، یہاں تک کہ حدیث، تفسیر، فقہ و کتب، معقول و منقول کو پڑھ کر صرف 19 سال کی عمر شریف میں فارغ التحصیل ہو گئے۔ [فاضلِ بریلوی علمائے حجاز کی نظر میں، ص: 3]

حجۃ الاسلام حضرت سید شاہ ابو الحسین احمد نوری رضی اللہ عنہ کے مرید و خلیفہ تھے اور آپ کو آپ کے والدِ ماجد امام احمد رضا خاں قادری فاضلِ بریلوی علیہ الرحمۃ والرضوان سے بھی اجازت و خلافت حاصل تھی۔ آپ سلسلۂ عالیہ قادریہ رضویہ کے چالیسویں امام و شیخِ طریقت ہیں۔ آپ اپنے والدِ ماجد کی تمام خوبیوں کے جامع، آپ کی شخصیت و حقانیت اسلام کی بولتی تصویر تھی۔ بیشتر غیر مسلم آپ کے چہرۂ انور کو دیکھ کر حلقہ بگوشِ اسلام ہوئے۔ حسن کا ظاہری عالم یہ تھا کہ ایک نظر میں دیکھنے والا پکار اٹھتا ”هٰذَا حُجَّةُ الْإِسْلَامِ“۔ (یہ اسلام کی دلیل ہیں)۔ حرمین شریفین کی حاضری پر حضرت شیخ سید حسین دباغ اور سید مالکی ترکی نے آپ کی قابلیت کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا تھا:

”ہم نے ہندوستان کے اطراف و اکناف میں حجۃ الاسلام جیسا فصیح و بلیغ نہیں دیکھا۔“ [تذکرۂ مشائخِ قادریہ برکاتیہ، ص: 483]

آپ کمالاتِ باطنی کے جامع، اپنے عہد کے لاثانی و بے نظیر مدرس تھے اور آپ کا تفسیر و حدیث کا درس خاص طور پر مشہور تھا۔ آپ عربی ادب میں منفرد حیثیت کے مالک اور شعر و ادب کا بہت نازک و پاکیزہ ذوق رکھتے تھے۔ آپ نے مسلکِ اہلِ سنت و سلسلۂ عالیہ قادریہ رضویہ کی بے مثال خدمات انجام دیں اور ساری عمر مسلمانانِ اسلام کی فلاح و ترقی میں کوشاں رہے۔ آپ اپنے اسلاف و آبا و اجداد کے مکمل نمونہ اور اخلاق و عادات کے جامع تھے۔ آپ جب بات کرتے تو تبسم فرماتے ہوئے، لہجہ انتہائی محبت آمیز ہوتا، بزرگوں کا احترام، چھوٹوں پر شفقت کا برتاؤ آپ کی سرشت کے نمایاں جوہر تھے۔ آپ ہمیشہ نظریں نیچی رکھتے، درود شریف کا کثرت سے ورد فرماتے، یہی وجہ ہے کہ اکثر آپ کو نیند کے عالم میں بھی درود شریف پڑھتے دیکھا گیا۔ آپ کی طبیعت انتہائی نفاست پسند تھی، آپ کا لباس آپ کی نفاست کا بہترین نمونہ ہوتا تھا، انگریز اور اس کی معاشرت کے آپ اپنے والدِ ماجد کی طرح شدید مخالف تھے۔ آپ علوم و فنون کے شہنشاہ، زہد و تقویٰ میں یگانہ اور خطابت کے شہسوار تھے۔ آپ نے اپنے اسلاف کا جو نمونہ قوم کے سامنے چھوڑا ہے وہ ایک عینی شاہد کی زبانی ملاحظہ فرمائیں:

”شیخ الدلائل مدنی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: حجۃ الاسلام نورانی شکل و صورت والے ہیں، میری اتنی عزت کرتے کہ جب میں مدینۂ منورہ سے ان کے یہاں گیا، کپڑا لے کر میری جوتیاں تک صاف کرتے، اپنے ہاتھ سے کھانا کھلاتے، ہر طرح خدمت کرتے، کچھ روز کے قیام کے بعد جب میں بریلی شریف سے واپس عازمِ مدینہ ہونے لگا تو حضرت حجۃ الاسلام نے فرمایا: مدینۂ منورہ میں سرکارِ اعظم صلی اللہ علیہ وسلم میں میرا سلام عرض کرنا:

اب تو مدینہ لے بُلا گنبدِ سبز دے دکھا
حامد و مصطفیٰ رضا ہند میں ہیں غلام دو

[تذکرۂ مشائخِ قادریہ برکاتیہ، ص: 484]

آپ نہایت ہی متقی اور پرہیزگار تھے، علمی و تبلیغی کاموں سے فرصت پاتے تو ذکرِ الٰہی اور درود شریف کے ورد میں مصروف ہو جاتے۔ آپ کے جسمِ اقدس پر ایک پھوڑا ہو گیا تھا، جس کا آپریشن ناگزیر تھا، ڈاکٹر نے بے ہوشی کا انجکشن لگانا چاہا تو آپ نے منع فرمایا اور صاف کہہ دیا کہ میں نشے والا ٹیکہ نہیں لگواؤں گا، عالمِ ہوش میں دو تین گھنٹے تک آپریشن ہوتا رہا آپ درود شریف کا ورد کرتے رہے اور کسی بھی درد و کرب کا اظہار نہ ہونے دیا، ڈاکٹر آپ کی ہمت اور استقامت و تقویٰ پر ششدر رہ گیا۔ [ماہنامہ حجازِ جدید دہلی، اپریل 1989ء، ص: 51]

علمی و تبلیغی کارنامے

حجۃ الاسلام ایک بلند پایہ خطیب، مایہ ناز ادیب اور یگانۂ روزگار عالم و فاضل تھے۔ دینِ متین کی خدمت و تبلیغ، ناموسِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت، قوم کی فلاح و بہبود آپ کی زندگی کے اصل مقاصد تھے اور یہی سچ ہے کہ وہ غلبۂ اسلام کی خاطر زندہ رہے اور سفرِ آخرت فرمایا تو پرچمِ اسلام بلند کر کے اس دنیا سے سرخرو اور کامران ہو کر گئے۔ آپ کے والدِ ماجد اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خاں قادری فاضلِ بریلوی رضی اللہ عنہ نے خود ان کی علمی و دینی خدمت کو سراہا ہے اور ان پر ناز کیا ہے۔

مسلکِ اہلِ سنت و جماعت کی ترویج و اشاعت کی خاطر آپ نے برصغیر کے مختلف شہروں اور قصبوں کے دورے فرمائے، گستاخانِ رسول سے مناظرے کیے، سیاست دانوں کے دامِ فریب سے مسلمانوں کو نکالا، شدھی تحریک کی پسپائی کے لیے جی توڑ کوشش کی اور ہر جہت سے باطل اور باطل پرستوں کا مقابلہ کیا۔ آپ سیاست دانوں کی چالوں کو خوب سمجھتے تھے اور اپنے زمانے کے حال سے پوری طرح باخبر رہ کر مسلمانوں کو سیاست و ریاست کے چنگل سے بچانے کی ہر ممکن جدوجہد کرتے رہے، ساتھ ہی ساتھ اس آندھی میں اڑنے والے مسلم قائدین اور دانشوران سے افہام و تفہیم اور حق نہ قبول کرنے پر ان سے ہر طرح کی نبرد آزمائی کے لیے بھی تیار رہتے۔

علامہ عبد الباری صاحب فرنگی محلی پر ان کی کچھ سیاسی حرکات اور تحریرات کی بنا پر سرکارِ اعلیٰ حضرت نے فتویٰ صادر فرمایا، علامہ عبد الباری صاحب نے نجدیوں کے ذریعے حرمین شریفین کے قبے گرانے اور بے حرمتی کرنے کے سلسلے میں لکھنؤ میں ایک کانفرنس بلائی تھی، حجۃ الاسلام جماعتِ رضائے مصطفیٰ کی طرف سے چند مشہور علما کے ہمراہ لکھنؤ تشریف لے گئے، وہاں علامہ عبد الباری صاحب اور ان کے متعلقین و مریدین نے زبردست استقبال کیا اور علامہ عبد الباری نے حجۃ الاسلام سے مصافحہ کرنا چاہا تو آپ نے ہاتھ کھینچ لیا، اور فرمایا کہ جب تک میرے والدِ گرامی کا فتویٰ ہے اور جب تک آپ توبہ نہیں کر لیں گے میں آپ سے نہیں مل سکتا۔ حضرت علامہ عبد الباری صاحب فرنگی محلی کا لقب صوت الایمان تھا، انہوں نے حق کو حق سمجھ کر کھلے دل سے توبہ کر لی اور یہ فرمایا:

”لاج رہے یا نہ رہے، میں اللہ تعالیٰ کے خوف سے توبہ کر رہا ہوں، مجھ کو اسی کے دربار میں جانا ہے، مولوی احمد رضا خاں نے جو کچھ لکھا ہے صحیح لکھا ہے۔“ [تذکرۂ مشائخِ قادریہ برکاتیہ، ص: 486]

آپ کو ایک بار دار العلوم معینیہ اجمیر شریف میں طلبہ کا امتحان لینے اور دار العلوم کے معائنے کے لیے دعوت دی گئی، طلبہ کے امتحان وغیرہ سے فارغ ہو کر جب آپ چلنے لگے تو مفتی معین الدین صاحب اجمیری نے دار العلوم کے معائنے کے سلسلے میں کچھ لکھنے کی فرمائش کی، آپ نے فرمایا فقیر تین زبانیں جانتا ہے، عربی، فارسی اور اردو، آپ جس زبان میں کہیں لکھ دوں۔ علامہ معین الدین صاحب اس وقت تک اعلیٰ حضرت یا حجۃ الاسلام سے اتنے متاثر نہ تھے جتنا ہونا چاہیے تھا، انہوں نے کہہ دیا عربی میں تحریر کر دیجیے۔ حجۃ الاسلام نے قلم برداشتہ کئی صفحے کا نہایت ہی فصیح و بلیغ عربی میں معائنہ تحریر فرمایا، آپ کے اس قلم برداشتہ لکھنے پر علامہ معین الدین صاحب حیرت زدہ بھی ہو رہے تھے اور سوچ بھی رہے تھے کہ نہ جانے کیا لکھ رہے ہیں؟ کیونکہ ان کو بھی اپنی عربی دانی پر بڑا ناز تھا۔

جب معائنہ لکھ کر حجۃ الاسلام قدس سرہ العزیز چلے آئے تو بعد میں اس کے ترجمے کے لیے مولانا مرحوم بیٹھے تو انہیں حجۃ الاسلام کی عربی سمجھنے میں بڑی دقت پیش آئی، بمشکل تمام لغت دیکھ کر ترجمہ کیا وہ بھی پورا ترجمہ نہیں کر سکے اور بعض الفاظ انہیں لغت میں بھی نہ ملے۔ بعد میں انہیں عرب علماء کی زبان اور ان کی کتب سے حاصل ہوئے تب جا کر انہیں ان الفاظ اور محاوروں کا علم ہوا۔ [تذکرۂ مشائخِ قادریہ برکاتیہ، ص: 487]

آپ زیارتِ حرمین شریفین سے بھی مشرف ہوئے، 1323ھ میں اپنے والدِ گرامی کے ہمراہ تشریف لے گئے، یہ حج آپ کا علمی و تحقیقی میدان میں عظیم حج تھا اور جو کارہائے نمایاں آپ نے اس حج میں ادا فرمائے وہ ”الدولۃ المکیۃ“ کی ترتیب ہے، جسے سرکارِ اعلیٰ حضرت نے صرف آٹھ گھنٹے کی قلیل مدت میں قلم برداشتہ لکھا، مذکورہ کتاب کے اجزاء حجۃ الاسلام کو دیے جاتے تھے تو آپ ان کو صاف کرتے تھے، پھر اس کا ترجمہ بھی آپ ہی نے کیا، یہ ترجمہ بہت ہی اہم ہے جو دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے۔ زیارتِ سرکارِ مدینہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اشتیاق جس درجے آپ کو تھا اس کا صحیح اندازہ آپ کے مندرجہ ذیل شعر سے ہوتا ہے:

اب تمنا میں دم پڑا ہے یہی سہارا ہے زندگی کا
بُلا لو مجھ کو مدینہ سرور نہیں تو جینا حرام ہوگا

حجۃ الاسلام صاحبِ تصنیف بزرگ تھے، ذیل میں آپ کی قلمی یادگاروں کی نشاندہی کی جاتی ہے، قارئین ملاحظہ فرمائیں:

  1. الصارم الربانی علی اسراف القادیانی (سب سے پہلے آپ نے 1315ھ میں قادیانیوں کا رد لکھا)۔
  2. ترجمہ الدولۃ المکیہ بالمادۃ الغیبیہ
  3. حسام الحرمین علی منحر الکفر والمین کا ترجمہ
  4. حاشیہ ملا جلال
  5. مقدمہ الاجازات المتینہ
  6. نعتیہ دیوان
  7. فتاویٰ حامدیہ

اولادِ امجاد

حجۃ الاسلام کے دو صاحبزادے اور چار صاحبزادیاں تھیں، صاحبزادگان کے نام یہ ہیں: حضور مفسرِ اعظم ہند حضرت مولانا ابراہیم رضا خاں جیلانی میاں، حضرت مولانا حماد رضا خاں نعمانی میاں۔

وصال

حجۃ الاسلام 17 جمادی الاولیٰ 1362ھ مطابق 23 مئی 1943ء، 70 سال کی عمر میں عین حالتِ نماز میں دورانِ تشہد 10 بج کر 35 منٹ پر اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے۔ جنازے کی نماز آپ کے خلیفۂ خاص حضرت محدثِ اعظم پاکستان مولانا سردار احمد قادری قدس سرہ العزیز نے مجمعِ کثیر میں پڑھائی، آپ کا مزارِ مبارک خانقاہِ عالیہ رضویہ بریلی شریف میں والدِ ماجد کے پہلو میں ہے۔ ہر سال عرسِ مبارک کی تاریخ میں بے شمار علما و مشائخ کے ساتھ عوام شریک ہوتے ہیں اور اپنے دامنوں کو گوہرِ مراد سے پر کرتے ہیں۔ بریلی شریف کے علاوہ بھی برصغیر پاک و ہند میں آپ کے بے شمار متوسلین مذکورہ تاریخ میں آپ کے روحانی فیض سے مستفیض ہوتے ہیں۔ [ماخوذ از: سنی دنیا، بریلی شریف، نومبر 2023ء، ص: 41، 42، 43]

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!