Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...
مضمون نگار
موضوعات
کل مضامین
بولتے مضامین

حافظِ ملت علیہ الرحمہ کی حب الوطنی

حافظِ ملت علیہ الرحمہ کی حب الوطنی
عنوان: حافظِ ملت علیہ الرحمہ کی حب الوطنی
تحریر: مولانا فیاض احمد مصباحی
پیش کش: ام ماجد، فاؤنڈر نالج آف اسلام اکیڈمی

آج اشرفیہ، فرزندانِ اشرفیہ اور افکارِ حافظِ ملت اپنے اسلامی افکار اور نظریات کی وجہ سے پوری دنیا کو اپنی طرف متوجہ ہونے پر مجبور کر رہے ہیں۔ تحقیق و تدقیق کی خاردار وادیاں ہوں یا ٹیکنالوجی کی بارونق بہاریں، ملک کی سیاست ہو یا قوم کی مصلحانہ قیادت، ہر میدان میں حافظِ ملت علیہ الرحمہ کے روحانی فرزند فرحت بھری مسکان بکھیر رہے ہیں۔ ایمانی جذبے کے ساتھ وطن کی محبت کے ترانے کی نغمہ سنجی ہو یا دشمنانِ وطن کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر مومنانہ جرات کے ساتھ بات کرنے کی ظریفانہ ہنرمندی ہو، ہر جگہ اس مردِ آہن کی محبت بھری تعلیم رہنمائی کر رہی ہے۔ ہندوستان کی محبت حافظِ ملت کی روح میں اتنی رچی بسی تھی کہ جوانی سے لے کر بڑھاپے تک اپنے شاگردوں کی طاقتور فوج کے دلوں میں حب الوطنی کا جذبہ حرزِ جاں بنا کر انڈیلتے رہے، یہی وجہ ہے کہ آپ کے نامور شاگردوں نے ہندوستانی عوام کی ضرورت کو سمجھا اور جہاں جس طرح کی ضرورت محسوس ہوئی اسے پورا کیا۔ حافظِ ملت علیہ الرحمہ اپنی پوری زندگی اسلامیانِ ہند کے سینے میں وطن کی محبت کا چراغ روشن کرتے رہے۔ جامعہ اشرفیہ آپ کے محبِ وطن ہونے کا سب سے بڑا ثبوت ہے، کیونکہ حافظِ ملت علیہ الرحمہ نے عظیم الشان جامعہ کا خواب تقسیمِ ہند کے بعد لوگوں کے سامنے پیش فرمایا، اگر دل میں کسی طرح کا لوچ ہوتا تو آپ اپنا علمی مشن اور عزیز فکر اپنے سینے میں لیے چلے جاتے یا پھر سرحد پار کی زمین دیکھتے۔

دورانِ طالبِ علمی سے آپ کا اخلاص، بلند ہمتی، مردم شناسی اور ہمالیہ صفت علم آپ کے اساتذہ اور ساتھیوں کی نظر میں تھا۔ تقسیمِ وطن کے خون آشوب حالات سے جب یہاں کے علماء گزرے تو بہتوں نے ہجرت کی، حالانکہ تقسیمِ وطن میں ایسی کوئی شرط نہیں تھی اور نہ ہی ان خطوط کو سامنے رکھ کر منقسمین نے تقسیم کی بے جا لکیریں کھینچی تھیں کہ عوام الناس اور خواص طبقے کو دل سوز حالات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ لیکن اسی کے ساتھ یہ بھی سچ ہے کہ باہری فضا اتنی مکدر کر دی گئی کہ عوام متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے۔ وہ تو حافظِ ملت علیہ الرحمہ کی مومنانہ فراست اور درویشانہ حکمت تھی کہ آپ بھانپ گئے اور آپ نے ترکِ وطن کی سخت مخالفت کی ورنہ اگر آپ بھی ترکِ وطن کرتے تو سرحد پار بھی علم کا سورج پوری آب و تاب کے ساتھ چمکتا اور عوام بھی محبت کے ساتھ اپنے دلوں میں بسا کر رکھتے کیونکہ آپ کے وصال کے بعد جب آپ کے نامور شاگرد حضرت حافظ جی علیہ الرحمہ (علامہ عبد الرؤف بلیاوی) کسی علمی کام سے پاکستان گئے تو آپ نے اپنے استقبال کے لیے عوام و خواص کے ایک جمِ غفیر کو اسٹیشن پر پایا جسے دیکھ کر حضرت حافظ جی علیہ الرحمہ بڑے متعجب ہوئے۔ اس کے ساتھ یہ خیال بھی گزرا کہ یہ سب میرے مشفق استاذ اور حضور اعلیٰ حضرت علیہما الرحمہ کا فیض ہے۔ اس سے یہ بات بھی بڑی آسانی سے سمجھی جا سکتی ہے کہ سرحد کے اس طرف بھی آپ کا سکہ کھنک رہا تھا، بالفرض آپ بھی سازش کا شکار ہو جاتے تو وہاں بھی جیسا تعلیمی ادارہ چاہتے بنا لیتے بلکہ بڑی آسانی سے بنا لیتے، لیکن وطن کی محبت آپ کے پیروں کی زنجیر بن گئی اور آپ نے اسی محبت کی نشانی اپنے ملک کو ایک ناقابلِ تسخیر علمی قلعے کی شکل میں دی۔

جب شرپسند عناصر اور خاص طبقے کی بیمار ذہنیت نے مادرِ وطن کے سینے پر تقسیم کی لکیر کھینچ دی تو ہجرت کی زبردست آگ کو پورے ملک کے عوام کا مقدر بنا دیا گیا، جس آگ کی چنگاری شعلہ بن کر مبارکپور پہنچی لیکن جواں سال حکیم نے اپنی حکمت کے ٹھنڈے پانی سے ہمیشہ کے لیے اسے بجھا دیا۔ آپ نے اس موضوع پر بڑی دانشمندی سے ایک مستقل رسالہ ”ارشاد القرآن“ لکھا اور اسے پورے ملک میں تقسیم کرایا۔ جلسے کرائے اور ہجرت مخالف جلسوں میں شرکت کی۔ مبارکپور میں جلسہ کرایا گیا جس میں خصوصی خطیب حضور صدر الشریعہ علیہ الرحمہ نے مبارکپور کے عوام کو مخاطب کر کے فرمایا:

”ہمیں اس ملک میں رہنا ہے اور اس عزم و حوصلے کے ساتھ کہ ہمارے اسلامی شعائر کے تمام گوشے حسبِ سابق قائم و دائم رہیں گے اور مستقبل میں دینِ حنیف اور اس کے ارکان پر کسی بھی حملے کا مقابلہ ہمیں یہیں رہ کر کرنا ہے، ہندوستان ہمارا وطن ہے۔ اس کے اندر ہونے والی ہر بدعنوانی کو ہمیں خود اپنی کمزوری تصور کرنا ہوگا، وطن کا سچا شیدائی وہ ہے جو اس کے ہر غلط اقدام کو اپنی غلطی سمجھ کر اصلاح کی کوشش کرے تاکہ غیر ممالک کی نگاہ میں ملک و وطن کا وقار مجروح نہ ہو۔“

حافظِ ملت علیہ الرحمہ کے مشفق استاذ اور مربی کے ان فرمودات کو بار بار پڑھیں اور ٹھنڈے دل سے سوچیں کہ آج وطنِ عزیز کے بگڑے ہوئے خدوخال کو آپ کے ارشادات کی روشنی میں کتنی آسانی سے سنوارا جا سکتا ہے؟

تقسیمِ ہند کے بعد سرحد پار ہجرت کو لے کر مسلمانوں کی ذہنی کیفیت کا کیا حال تھا، تاریخ سے واقفیت رکھنے والوں سے یہ بات پوشیدہ نہیں۔ ایسے حالات میں ترکِ وطن کی مخالفت وہی کر سکتا تھا جس کے دل میں اپنے وطن کی محبت کی جڑیں بہت مضبوط رہی ہوں۔ ان ناگفتہ بہ حالات کو آپ نے اپنے ناخنِ تدبیر سے حل فرمایا۔ مسلمانوں کو مخاطب کر کے لکھا:

”تمہارا رب فرماتا ہے: وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ (یعنی میں نے جن و انس کو اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے)۔ لہٰذا مسلمانو! جب تک تم اپنے وطن میں اپنے رب کی عبادت میں آزاد ہو تمہارا مقصود حاصل ہے۔ ایسی صورت میں ہرگز کہیں جانے کی ضرورت نہیں اور خدانخواستہ تم اپنے رب کی عبادت سے روک دیے جاؤ اور اس مقصود کے حاصل کرنے سے مجبور کر دیے جاؤ تو ایسی صورت میں بشرطِ اطاعت ترکِ وطن ضروری ہے اور محض یادِ الٰہی کے لیے ضروری ہے، خوشنودیِ خدا کے لیے ضروری ہے، اس میں کسی خطۂ زمین کی کوئی تخصیص نہیں جہاں بھی امن کے ساتھ اپنے رب کو یاد کر سکو وہاں جا کر اپنے رب کی عبادت کرو اگرچہ جنگل اور پہاڑ ہی کیوں نہ ہوں، کیونکہ:

رند جو ظرف اٹھائے وہی ساغر بن جائے
جس جگہ بیٹھ کے پی لے وہی میخانہ بن جائے

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!