Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...
مضمون نگار
موضوعات
کل مضامین
بولتے مضامین

اسلامی مدارس کی اہمیت

اسلامی مدارس کی اہمیت
عنوان: اسلامی مدارس کی اہمیت
تحریر: علامہ محمد احمد مصباحی ناظمِ تعلیمات جامعہ اشرفیہ
پیش کش: اکرام رضوی

آج دنیا میں دو طرح کے نظامِ تعلیم رائج ہیں، ایک وہ جس کا مقصد دین و مذہب کی تعلیم و ترویج ہے، دوسرا وہ جو دین و مذہب کی قید اور دینِ اسلام سے بہت دور ہے۔

لادینی نظامِ تعلیم کا واحد مقصد یہ ہے کہ نئی نسل کے دل و دماغ سے دینی و مذہبی اسپرٹ بالکل ختم کر دی جائے اور وہ یہ سمجھ ہی نہ سکیں کہ ہم کیا ہیں؟ ہمارا مقصدِ وجود کیا ہے؟ اسی مقصد کی تکمیل کے لیے جابجا نرسری اسکولوں کا قیام عمل میں آ رہا ہے جس کا نقد فائدہ یہ دیکھا جاتا ہے کہ بچے ابتدا ہی سے اخلاق و تہذیب کے حامل بن جاتے ہیں اور انگریزی میڈیم تعلیم حاصل کر کے سنِ رشد کو پہنچتے پہنچتے لائق فائق انگریزی داں اور ماہرِ علوم و فنون ہو جاتے ہیں، لیکن باخبر حلقوں سے مخفی نہیں کہ ایسی درسگاہوں کا نصب العین یہ ہے کہ بچے ابتدا ہی سے غیر دینی ماحول میں پرورش پائیں تاکہ ان کے اندر دینی فکر و مزاج پیدا ہی نہ ہو سکے۔

ظاہر ہے کہ یہ مقصد دلفریب فوائد دکھائے بغیر حاصل نہیں ہو سکتا تھا اس لیے وہ سب انتظامات کیے جاتے ہیں جو مادی نگاہوں کو مسحور کر سکیں۔

افسوس یہ ہے کہ مسلم اہلِ ثروت نے بھی ایسی درسگاہوں میں اپنے ننھے بچوں تک کو داخل کرنا شروع کر دیا جس کا لازمی نتیجہ بہت جلد سامنے آ گیا کہ اہلِ دنیا کی زبان میں خواہ وہ بچے لائق فائق کہے جا سکتے ہوں مگر مذہب کی نظر میں واجبی فکر و شعور سے یکسر خالی ہیں۔

ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اہلِ ثروت خود ایسی درسگاہیں قائم کرتے جن میں عصری طرزِ تعلیم کی بھرپور رعایت کی جاتی، ساتھ ہی طلبہ کو اس اخلاق و تہذیب کا حامل بنایا جاتا جس کا تقاضا مذہبِ اسلام کرتا ہے۔ ان درسگاہوں میں ابتدا ہی سے قرآنِ پاک اور دینیات کی تعلیم دی جاتی اور عصری علوم بھی پڑھائے جاتے تاکہ ایک طرف وہ بچے مذہبی جذبات و عواطف اور اسلامی اسپرٹ سے سرشار نظر آتے اور دوسری طرف عصری فنون کے ماہر ہو کر ہر عصری ماہرِ علوم کی آنکھوں میں آنکھیں ملا کر بات کرنے کی ہمت اور اسلام کی حقانیت و برتری ثابت کرنے کی صلاحیت بھی رکھتے۔

لیکن مادی نفعِ عاجل کی ہوس یہ سب سوچنے اور انتظام کرنے کی مہلت کب دیتی ہے؟ جہاں بھی ہو بچوں کو داخل کرو دنیاوی قدر و منفعت حاصل ہونی ضروری ہے، مذہب ہمیں کیا آرام و آسائش دے سکتا ہے کہ ہم اس کی بقا کی فکر کریں؟ یہ ایک عام طرزِ تصور ہے جو مسلم آبادیوں خصوصاً مالداروں پر عفریت کی طرح چھاتا جا رہا ہے۔ بہت کم اللہ کے نیک بندے ایسے ملتے ہیں جو مال و دولت کی آغوش میں پہنچنے کے بعد بھی اسلام کو جان و مال، عزت و وقار اور عیش و آرام سے زیادہ عزیز رکھتے ہیں، ربِ کریم ان کے امثال زیادہ کرے۔ (آمین)

ایسے افکار و حالات کے پیشِ نظر آپ تصور کریں کہ دینی درسگاہوں کا قیام کتنا اہم مسئلہ ہے اور اس کی بقا و استحکام میں کیسی کیسی دشواریاں حائل ہیں۔ کہیں تو حکومتیں ادارے چلاتی ہیں اور ان کا ہر خرچ برداشت کرتی ہیں، ساتھ ہی تعلیم حاصل کرنے والے بھی فیس کی شکل میں بہت سا خرچ ادا کرتے ہیں، اور کہیں ایسا ہے کہ کچھ عاقبت بیں افراد در در کی بھیک مانگتے اور ہر طرح کی تکالیف و مصائب کا سامنا کرتے ہیں، پھر کہیں وہ اپنے مدارس کی رمق باقی رکھنے کا سامان کر پاتے ہیں۔

پہلے دینی مدارس کی کفالت بھی حکومتیں کیا کرتی تھیں اور علمائے دین کو شاہانہ عز و وقار بھی حاصل تھا مگر اب وہ دور نہیں، خود خاکِ ہند کے مسلمانوں کو اپنی بقا کا انتظام کرنا ہے اور اپنے ملی وجود و تشخص کی تعمیر کے لیے اپنی متاعِ بے بہا قربان کرنی ہے، ورنہ اس منظر کا تصور بھی ہمارے لیے سوہانِ روح ہے جب خدانخواستہ اسلامی مدارس یا ان کا اصل تشخص باقی نہ رہے۔ الجامعۃ الاشرفیہ جیسی عظیم دینی درسگاہ بھی اپنی بقا و تحفظ میں یقیناً مسلمانانِ ہند کے تعاون کی محتاج ہے، اس کی طرف بھرپور توجہ دینا اہلِ اسلام کا اہم ترین فریضہ ہے تاکہ نونہالانِ قوم کی تعلیم و تربیت کا معقول اور عصری تقاضوں کے مطابق عمدہ سے عمدہ انتظام کیا جا سکے۔ واضح رہے کہ الجامعۃ الاشرفیہ مذہبی تعلیم کے ساتھ ساتھ عصری علوم و فنون کی تعلیم کی طرف بھی روز بروز پیش قدمی کرتا جا رہا ہے۔ [مقالاتِ مصباحی]

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!