Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...
مضمون نگار
موضوعات
کل مضامین
بولتے مضامین

الٰہی بھیج یہاں پھر کوئی سلطان ایوبی (قسط دوم)

الٰہی بھیج یہاں پھر کوئی سلطان ایوبی (قسط دوم)
عنوان: الٰہی بھیج یہاں پھر کوئی سلطان ایوبی (قسط دوم)
تحریر: مفتی عبد الرحیم نشتر فاروقی
پیش کش: محمد بلال رضا مدنی، احمد آباد

دراصل یہودیوں نے اپنے خفیہ منصوبے کے تحت مسلمانوں کی بے خبری اور سادہ لوحی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی افرادی قوت مجتمع کر لی، کئی عسکری گروہ بھی بنا ڈالے، جنہوں نے فلسطین میں اپنی الگ ریاست بنانے کے لیے آوازیں بلند کرنا شروع کر دیں اور برطانیہ نے اس آگ میں گھی ڈالنے کا کام کیا۔ یہ بھی ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ دوسری عالمی جنگ سے پہلے مغربی ممالک میں 90 لاکھ سے زائد یہودی آباد تھے، جن میں سے 20 لاکھ یہودیوں کو جرمنی کے تانا شاہ ہٹلر نے نہایت ہی ظلم و بربریت کے ساتھ موت کے گھاٹ اتار دیا، باقی ماندہ ڈرے سہمے یہودی اپنی جان بچانے کے لیے در در بھٹک رہے تھے، اس وقت وہ ممالک بھی یہودیوں کی تباہی و بربادی کا تماشہ دیکھ رہے تھے جو آج ان کی حمایت کا دم بھر رہے ہیں، اس برے وقت میں بھی ان بے شرم اور احسان فراموش یہودیوں کو انہی فلسطینیوں نے جائے پناہ دی تھی، جن کا خون یہ آج نہایت ہی بے دردی کے ساتھ بہا رہے ہیں۔

آج پوری دنیا دیکھ رہی ہے کہ جن ممالک نے یہودیوں کو تباہ و برباد کیا، انہیں مار کر اپنی زمین سے بھی کھدیڑ دیا اور جن ممالک نے انہیں تباہ و برباد ہونے دیا، وہ سارے کے سارے آج نہ صرف یہودیوں کے لیے محفوظ و مامون ہیں بلکہ ان کے بہی خواہ اور خیر خواہ بھی بنے ہوئے ہیں اور جن مسلمانوں نے ان کی جان بچائی، انہیں اپنی زمین پر پناہ دی اور ان کے ساتھ اپنوں جیسا سلوک کیا، آج وہی نہ صرف ان کے ظلم و زیادتی کے شکار ہیں بلکہ ان کے دشمن بھی گردانے جا رہے ہیں، یہاں تک کہ یہ احسان فراموش انہی کو بموں اور میزائلوں سے اڑا رہے ہیں اور ان کی زمین پر قبضہ جما رہے ہیں۔ ان پر یہ کہاوت صادق آتی ہے کہ سانپ کو لاکھ دودھ پلاؤ، وہ آپ کو ڈسنا نہیں چھوڑے گا۔ اس موقع پر مجھے ہٹلر کی بھی ایک بات یاد آ رہی ہے، اس نے یہودیوں کی نسل کشی کے بعد کہا تھا: ”میں نے کچھ یہودیوں کو زندہ اس لیے چھوڑ دیا تاکہ دنیا جان سکے کہ میں نے انہیں کیوں مارا تھا۔“

غالباً ہٹلر نے ان کی اس بے وفا فطرت کو بھانپ لیا تھا، جبھی اس نے ان کے ساتھ ایسا عبرت ناک سلوک روا رکھا۔ خیر دوسری عالمی جنگ میں بھی یہودیوں نے انگریزوں کی خوب مدد کی، جس سے خوش ہو کر انگریزوں نے بطور انعام اسرائیل نام سے الگ ملک بنانے میں یہودیوں کی مدد کرنے کا وعدہ کیا۔ پھر 1947ء میں اقوامِ متحدہ کی دادا گیری میں ووٹنگ کے ذریعے یہ فیصلہ کیا گیا کہ فلسطین کو دو حصوں میں بانٹ دیا جائے، جن میں سے ایک حصہ پناہ گزین یہودیوں کو دے دیا جائے، جس کا نام ”اسرائیل“ ہوگا اور دوسرا حصہ فلسطین کے نام سے مسلمانوں کو! جبکہ یروشلم یعنی بیت المقدس کی حیثیت ایک بین الاقوامی شہر کی ہوگی۔ اس بٹوارے کو یہودیوں کو تو قبول کرنا ہی تھا، سو انہوں نے اسے قبول کر لیا تھا جبکہ عربوں نے اسے مسترد کر دیا۔

اس بٹوارے میں اقوامِ متحدہ نے جو تاریخی کارنامہ انجام دیا وہ یہ ہے کہ فلسطین کا 56 فیصد حصہ وہاں پناہ گزین یہودیوں کی جھولی میں ڈال دیا، جبکہ مسلمانوں کو ان کی اپنی ہی زمین کا صرف 44 فیصد حصہ تھما کر ان پر احسانِ عظیم کا ڈھنڈورا پیٹا، اس طرح اقوامِ متحدہ نے یہودیوں کو انگریزوں سے وفاداری کا انعام دیا اور ساتھ ہی ساتھ اپنے وجود کے مقصدِ اصلی کو بھی واضح کر دیا۔

فلسطین اسرائیل تنازع کے حل میں ناکامی کے بعد برطانیہ نے 1948ء میں فلسطین پر اپنا کنٹرول چھوڑ دیا جبکہ یہودیوں نے اسرائیل نامی ریاست کے قیام کا اعلان کر دیا، جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ کئی عرب ممالک نے فلسطین کی حمایت کرتے ہوئے اس پر حملہ کر دیا۔ مہینوں شدت کی لڑائی چلی، اس دوران لاکھوں فلسطینیوں کو اپنے گھروں سے بے دخل ہونا پڑا، جب لڑائی تھمی تو اسرائیل نے فلسطین کے زیادہ تر علاقوں پر قبضہ کر لیا تھا، اردن نے اس علاقے پر قبضہ کر لیا جو غربِ اردن یا مغربی کنارے کے نام سے جانا جاتا تھا۔ جبکہ مصر نے غزہ پر قبضہ کر لیا، بیت المقدس کے مغربی حصے پر اسرائیلی افواج اور مشرقی علاقے پر اردنی فوجیوں کا کنٹرول تھا کیونکہ وہاں کبھی بھی امن معاہدہ نہیں ہوا تھا، اس کے بعد کئی دہائیوں تک مزید جنگیں اور خونی جھڑپیں ہوئیں، مسلمان موت کے گھاٹ اتارے گئے، عورتیں بیوہ اور بچے یتیم کیے گئے، زخموں سے چور انسانی آہ و فغاں نے عام انصاف پسندوں کے بھی دل دہلا دیے۔

(جاری ہے...) [ماخوذ از: ماہنامہ سنی دنیا، بریلی شریف، ص: 6]

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!