Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...
مضمون نگار
موضوعات
کل مضامین
بولتے مضامین

روزہ! طبی اور روحانی فوائد کا سرچشمہ قسط: ۲

روزہ! طبی اور روحانی فوائد کا سرچشمہ قسط: ۲
عنوان: روزہ! طبی اور روحانی فوائد کا سرچشمہ قسط: ۲
تحریر: مفتی عبد الرحیم نشتر فاروقی
پیش کش: بنت شہاب عطاریہ

اسلام نے روزہ کو مومن کے لیے شفا قرار دیا، جب سائنس نے اس کی حقیقت کی تحقیق کی تو چونک اٹھی اور یہ اقرار کیا کہ اسلام ایک کامل مذہب ہے۔ آکسفورڈ یونیورسٹی کے مشہور پروفیسر مور پالڈ اپنا قصہ اس طرح بیان کرتے ہیں کہ: ”میں نے اسلامی علوم کا مطالعہ کیا اور جب روزے کے باب پر پہنچا تو میں چونک پڑا کہ اسلام نے اپنے ماننے والوں کو اتنا عظیم فارمولا دیا ہے، اگر اسلام اپنے ماننے والوں کو کچھ اور نہ دے کر صرف روزے کا فارمولا ہی دیا ہوتا تو اس سے بڑھ کر کسی اور نعمت کی ضرورت نہ تھی، میں نے سوچا کہ اس کو آزمانا چاہیے، پھر میں نے مسلمانوں کے طرز پر روزے رکھنا شروع کیے، چوں کہ میں عرصۂ دراز سے ورمِ معدہ میں مبتلا تھا، کچھ دنوں کے بعد ہی میں نے محسوس کیا کہ اس میں کمی واقع ہوئی ہے، میں نے روزوں کی مشق جاری رکھی، کچھ عرصہ بعد ہی میں نے اپنے جسم کو نارمل پایا اور ایک ماہ بعد اپنے اندر انقلابی تبدیلی محسوس کی۔“

ڈاکٹر ہلوک نور باقی کے مطابق روزے کا حیران کن اثر خاص طور پر جگر پر مرتب ہوتا ہے، کیوں کہ کھانا ہضم کرنے کے علاوہ جگر کے اور مزید ۱۵ کام بھی ہوتے ہیں، یہ اس طرح تکان کا شکار ہو جاتا ہے، جیسے ایک چوکیدار ساری عمر کے لیے پہرے پر کھڑا ہو، روزے کے ذریعے جگر کو چار سے چھ گھنٹوں تک آرام مل جاتا ہے، یہ روزے کے بغیر قطعی ناممکن ہے، جگر پر روزے کی برکات کا مفید اثر پڑتا ہے، جیسے جگر کے انتہائی مشکل کاموں میں ایک کام اس توازن کو برقرار رکھنا ہے جو غیر ہضم شدہ خوراک اور تحلیل شدہ خوراک کے مابین ہوتا ہے، اسے یا تو ہر لقمے کو اسٹور میں رکھنا ہوتا ہے یا پھر خون کے ذریعے اس کو ہضم ہو کر تحلیل ہو جانے کے عمل کی نگرانی کرنی پڑتی ہے، روزے کے ذریعے جگر توانائی بخش کھانے کے اسٹور کرنے کے عمل سے بڑی حد تک آزاد ہو جاتا ہے اور اپنی توانائی Globulins پیدا کرنے پر صرف کرتا ہے جو جسم کے مدافعتی نظام کی تقویت کا باعث ہے۔

ڈاکٹروں نے یہ تحقیق کی ہے کہ ایک مہینے کے روزے رکھنے سے بہت سی بیماریاں انسان کے جسم سے خود بخود دور ہو جاتی ہیں، روزوں کا جسمانی طور پر بھی فائدہ ہے اور روحانی طور پر بھی، اس دنیا میں بہت لوگ وہ بھی ہوتے ہیں جن کے گھر کا غسل خانہ کسی غریب آدمی کے گھر سے بھی زیادہ مہنگا اور بڑا ہوتا ہے، پورے سال وہ اپنی مرضی سے کھاتے پیتے ہیں اگر رمضان المبارک کے روزے نہ ہوتے تو ہو سکتا ہے انھیں یہ پتا ہی نہ چلتا کہ جو غریب آدمی اپنے بچوں کے ساتھ بھوکا ہے، اس کے ساتھ کیا گزرتی ہے؟ اللہ تعالیٰ نے روزے فرض کر کے ہمارے اوپر احسان کیا، انسان جب سارا دن کچھ نہ کھائے، کچھ نہ پیے تو خیال آتا ہے کہ جو بھوکا رہتا ہوگا، اس کا کیا حال ہوتا ہوگا؟

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!