| عنوان: | امام احمد رضا اور حسنِ اخلاق (قسط اول) |
|---|---|
| تحریر: | ڈاکٹر غلام مصطفیٰ نجم القادری |
| پیش کش: | ساریہ فاطمہ رضویہ |
فیاضِ ازل کی اپنے دین سے محبت بھی کیسی مثالی، البیلی اور نرالی ہے کہ جب جب دین کو جیسی جیسی ضرورتیں پڑتی رہیں اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے شاہکار سے ویسا ہی انتظام فرما رہا ہے، جب کبھی اسلام کی رگوں میں تازہ خون دوڑانے کی ضرورت محسوس ہوئی تو جانباز شہدائے محبت کے ذریعے اور اگر شریعت کی زلفِ پیچاں کو سنوارنے کی ضرورت پڑی تو نکتہ شناس، نکتہ رس، نکتہ آفریں فقہائے اسلام کے ذریعے اور اگر زنگ آلود کردار و عمل، اخلاق و سیرت کو صیقل کرنے کی حاجت ہوئی تو برگزیدہ نفس صوفیا کو بھیج کر وہ انتظام فرماتا رہا کہ دین تازہ دم ہو کر تازگیِ نو بکھیرنے لگتا۔ یہ وہ نظامِ فطرت ہے جو چل رہا ہے اور چلتا ہی رہے گا، امام احمد رضا چونکہ انہی فقہا و صوفیا کی مستحکم جماعت کے تکملہ و تمہ تھے اس لیے سردست مجھے ان کی حیات و خدمات کے مہکتے گلشن کے گلِ اخلاق کی خوشبو سے اپنے قارئین کے مشامِ جاں کو معطر کرنا مقصود ہے، اس لیے آئیے دیکھیں کہ ان کے علم کا چار دانگِ عالم میں شہرہ ہے، ان کے عشق و وفا کا بزمِ محبت میں جتنا تذکرہ ہے، ان کے اخلاقِ حسنہ کا پایہ کتنا بلند ہے، مگر پہلے ان کی حیات کے خاکے میں علمی تاریخی رنگ و نور تاکہ آنے والی ہر بات سماعت کے واسطے سے بصیرت کی انجمن میں جگمگاتی رہے۔
آپ اپنے شہر بریلی کے آبائی مکان میں 10 شوال المکرم 1272ھ / 14 جون 1856ء روز شنبہ، بوقت ظہر رونق آرائے بزمِ ہستی ہوئے۔ چار برس کی عمر میں ناظرہ قرآن مجید ختم کیا، چھ سال کی عمر میں ربیع الاول کے جلسے میں بہت بڑے مجمعے سے خطاب کیا، اس طرح اپنی بے نظیر ذکاوت اور محیر العقول ذہانت کے بل بوتے 13 سال 10 ماہ 5 دن کی عمر میں تمام تر مروجہ علومِ عقلیہ و نقلیہ کی تکمیل کر کے 1282ھ میں فارغ التحصیل ہو گئے (عامہ کتب)۔ جن علوم و فنون کی تحصیل اپنے اساتذہ اور ذاتی مطالعے سے کی ان کی تعداد بقول انہی کے 59 ہے۔ ان 59 علوم میں سے 21 علوم کے بارے میں لکھتے ہیں کہ یہ علوم میں نے اپنے والدِ ماجد سے حاصل کیے، پھر دس علوم کے بارے میں فرماتے ہیں کہ میں نے اساتذہ سے بالکل نہیں پڑھا، پر نقاد علمائے کرام سے مجھے ان کی اجازت حاصل ہے، پھر 28 علوم کے متعلق لکھتے ہیں کہ محض رب تعالیٰ کے الہامی فیض سے حاصل کیے ہیں۔ [امام احمد رضا اور عشقِ مصطفیٰ، بحوالہ الاجازات المتینہ]
یہ ٹوٹل 59 علوم و فنون ہوتے ہیں، پھر یہ کہ یہ اصل علوم ہیں، ان علوم و فنون سے جو نئی نئی شاخیں پھوٹی ہیں اور اربابِ فکر و نظر نے تحقیق و تنقید کی چھلنی میں جب ان تمام کو چھانا ہے تو اب تک کی جدید تحقیق و تفحص کے مطابق علوم و فنون کی تعداد 305 جا پہنچی ہے اور یہ کوئی حسنِ عقیدت یا مبالغہ آرائی نہیں بلکہ ثبوت کے لیے ہر علم و فن میں ان کی تصانیف موجود ہیں اور تعجب ہے کہ ان کی ہزار کے قریب کتابوں میں سے 50 کتابوں کا تعلق جدید سائنس سے ہے، جبکہ ان علوم کی تحصیل کے لیے کبھی کسی کالج یا یونیورسٹی کا دروازہ نہیں کھٹکھٹایا، چند اسباق کے چند بیرونی اساتذہ کو چھوڑ کر جو کچھ پڑھا، باضابطہ طور پر اپنے گھر پر ہی پڑھا۔ ایک طرف کثرتِ علوم و فنون اور دوسری طرف ان کے کل اساتذہ جن کی تعداد صرف آٹھ ہے وہ دیکھیے تو برجستہ ڈاکٹر مسعود احمد صاحب مظہری کا یہ جملہ دہلیزِ ذہن پر دستک دینے لگتا ہے کہ ”ان کی کارگہِ فکر میں انجم ڈھلتے تھے“، جو شخصیت علوم و معارف کی ایسی جامع ہو کہ ان کی کثرتِ علوم و فنون کا دور دور تک کوئی جواب نہ ہو، دینی درسگاہ سے لے کر عصری دانش گاہ تک جن کی دھومیں مچی ہوں آئیے دیکھیں کہ ان کی اخلاقی خو بو کیا تھی، ان کی سیرت کا گلدان کتنا معطر اور ان کے کردار کا سمندر کتنا منور تھا۔ آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ وہ علم میں جتنے بلند تھے عمل میں اس سے کہیں زیادہ بلند تھے، ان کے علم کے قالب پر عمل کی سیمیں قبا ایسی راس آتی تھی کہ علم و عمل کو اگر باہم گلو گیر دیکھنا ہو تو ان کی زندگی کی کتاب کا کوئی ورق الٹیے، اخلاق و ایثار کی تابانی سے ہر ورق فروزاں اور درخشاں نظر آئے گا، مثلاً:
آج کل کی پیری مریدی کا بڑا زور و شور ہے، جدھر دیکھیے جنگل میں منگل کا سماں نظر آتا ہے۔ ہر بوالہوس کے حسن پرستی کے شعار کا تصور افقِ خیال پر محوِ خرامِ ناز ہو جاتا ہے، شریعت نے شرائط کی زنجیر میں اس شغل کو جتنا جکڑا تھا، یارانِ میکدہ نے تتلیاں بکھیر کر آزادی اختیار کر لی، دکانیں سجی ہیں، ایجنسیاں کام کر رہی ہیں، رجھانے، لبھانے کی وہ وہ توبہ شکن ادائیں اپنائی جا رہی ہیں کہ سنگ دل بھی موم بن کر پگھل جائے، کہاں کی نماز اور کہاں کا روزہ، حلال و حرام کی کوئی فکر و تمیز نہیں ہے، بیچارے اباحت و اساءت کس گنتی میں ہیں، پیر صاحبان کے نزدیک مرید سے خدمت لینا ہی اصل تصوف اور روحِ معرفت بن کر رہ گیا ہے، مگر اعلیٰ حضرت ایسے پیر نہ تھے، وہ پہلے عالمِ باعمل تھے اس کے بعد صوفیِ باصفا، ان کی ہر حرکت و سکون پر شریعت و طریقت کے پہرے بیٹھے ہوئے تھے، اس لیے ان کا ہر کام شریعت کی روشنی اور طریقت کی چاندنی میں ظہور پذیر ہوتا تھا، اس لیے وہ خدمت لینا کم اور خدمت کرنا اپنا شیوہ رکھتے تھے اور اس پر وہ سفر و حضر ہر جگہ عامل رہے۔ 1323ھ میں فریضۂ حج سے فارغ ہو کر مدینۂ طیبہ کی حاضری کے لیے روانہ ہوئے، یہ وہ زمانہ تھا جب حجاج اونٹ، خچر وغیرہ پر سفر کیا کرتے تھے، کاریں وغیرہ وہاں اس وقت نہیں چلتی تھیں، بارہ چودہ روز کا راستہ تھا، جب قافلہ ایک منزل پر جا ٹھہرا، ظہر کی نماز کا وقت ہوا، پانی کی تلاش ہوئی، اعلیٰ حضرت بھی پانی کی تلاش میں ایک سمت چل دیے، آگے چل کر ایک کنواں جو بہت گہرا تھا، ڈول میں رسی باندھ کر بدقتِ تمام پانی نکالا، لوگ استنجے کے لیے ادھر ادھر منتشر ہو گئے، جب حاضر ہوئے تو دیکھا کہ اعلیٰ حضرت کنویں سے پانی بھر بھر کر تمام برتنوں میں بھر چکے ہیں، پیر کے لیے پانی بھرنا تو سمجھ آتا ہے، مگر مرید کے لیے پانی بھرنا یہ اعلیٰ حضرت کا اخلاق ہے، اعلیٰ حضرت کی یہ رواداری اور مرید نوازی دورِ حاضر کے پیرانِ عظام کے لیے نمونہ بھی ہے، درسِ عبرت بھی ہے، اعلیٰ حضرت کی نظر میں آقائے کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی پوری مبارک زندگی تھی خصوصاً یہ اخلاقی پہلو کہ صحابۂ کرام کے مکرر اصرار کے باوجود حضور صلی اللہ علیہ وسلم اپنا کام خود کرنے کو ترجیح دیتے تھے، اعلیٰ حضرت آقا کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس سنت پر پوری زندگی گامزن رہے۔
آج دستر خوان پر چاہے جتنا عمدہ کھانا چن دیا جائے، کھانے میں نقص نکالنا، عیب جوئی کرنا لوگوں کی عام عادت بن چکی ہے، ذرہ برابر احساس نہیں ہوتا کہ ہماری اس مکروہ حرکت کا صاحبِ خانہ کے دل پر کیا اثر پڑے گا، یہ تو عجیب بات ہو گئی، کھانا بھی کھلاؤ اور تنقید کے نشتر سے گھائل ہونے کے لیے تیار بھی رہو، مگر اللہ کریم کے کچھ ایسے حساس دل بندے بھی ہوئے ہیں جو خود آزردہ ہو لیتے تھے مگر اپنے احباب و اقربا کو آزردہ کرنے سے امکانی حد تک پرہیز کرتے تھے، خود مشقت اٹھا لیتے مگر اعزہ کا مشقت میں پڑنا انہیں گوارا نہیں تھا، اعلیٰ حضرت ایک دستر خوان پر حاضر ہیں، انواع و اقسام کے کھانے چن دیے گئے ہیں، اعلیٰ حضرت کے ساتھ مدعو مہمانوں کا جمِ غفیر ہے، دستر خوان پر موجود ککڑی کے بارے میں اجازت مانگی، اجازت ملنے پر ککڑی کی ایک قاش اٹھا کر کھائی، پھر یکے بعد دیگرے قاش اٹھاتے رہے اور کھاتے رہے، یہاں تک کہ پوری ککڑی ختم ہو گئی، یہ ایک اچنبھے میں ڈال دینے والی بات تھی جو آج دستر خوان پر آپ سے ظاہر ہوئی۔ کھانے کے بعد آخر کسی نے پوچھ ہی لیا، اعلیٰ حضرت نے فرمایا: میں نے جو ککڑی کی پہلی قاش منہ میں رکھی تو نہایت کڑوی تھی، پھر جو بھی اٹھاتا گیا سب کو کڑوی ہی کڑوی پایا، میں نے یہ سوچ کر سب ککڑی کھا لی کہ حاضرین میں سے اگر کسی نے ایک پیس بھی کھایا تو وہ کڑوی اتنی ہے کہ کھانے والا ضرور تھو تھو کرے گا اور اس سے میرے میزبان کو شرمندگی ہوگی، میں نے اپنے میزبان کی عزت کو اپنی عزت سمجھا اور سب ککڑی خود ہی کھا کر اپنے میزبان کو ذلت سے بچا لیا۔
غلطی کس سے نہیں ہوتی، معصوم صرف نبی و رسول اور فرشتے ہیں، تاہم غلطی ہو جانے پر غلطی سے بیدار ہو جانا یہ کمالِ عبدیت اور جمالِ انسانیت ہے، خدانخواستہ یہ احساس اگر بجھ گیا تو پھر آدمی کہیں کا نہیں رہتا لاش کا روپ دھار لیتا ہے، یہ احساسِ ندامت ہی ہے جو انسان کو معافی تلافی کرنے، آنسو بہانے، توبہ و دعا کرنے، رب کی روٹھی رحمت کو منانے پر ابھارتا اور اکساتا ہے، اب دیکھا یہ جا رہا ہے کہ غیر اختیاری یا اضطراری طور پر کسی سے کوئی غلطی ہو گئی، مثلاً مغلوب الغضب ہو کر کسی کو طمانچہ رسید کر دیا اور طمانچہ رسید کرنے والا علم و عمل اور مرتبے میں بہت بڑا ہے، تو پھر بیچارے چھوٹے کی کوئی حیثیت ہی نہیں ہوتی، چھوٹا اپنے چھوٹے پن سے مرعوب ہو کر کچھ نہ بولے، کچھ نہ کہے تو بھی بڑے کو خیال نہیں ہوتا کہ انجانے میں ہی سہی ہم لغزش کا شکار ہوئے ہیں، لہٰذا چھوٹے سے کم سے کم معذرت ہی کر لیں، یہ اب کے بڑے ہیں، پہلے کے بڑے ایسے ہوتے تھے کہ انہیں احتسابِ عمل کا خیال رہتا تھا، وہ کسرِ نفسی کے اسیر اور بلندیِ کردار میں بے نظیر ہوتے تھے، اس لیے اپنے سے بہت چھوٹے سے معافی مانگنے میں انہیں کوئی عار نہیں ہوتا تھا، وہ معمولی بھول چوک پر بھی تڑپ اٹھتے تھے، جب تک اس کا تدارک نہیں ہو جائے انہیں چین نہیں آتا تھا، رمضان شریف کا مہینہ ہے، اعلیٰ حضرت معتکف ہیں، چونکہ پان کھانے کے عادی تھے اس لیے بعدِ افطار پان ضرور کھاتے تھے، ایک دن اتفاق سے شام کو پان نہیں آیا، سخت ناگواری ہوئی، مغرب سے تقریباً دو گھنٹے بعد گھر کا ملازم ایک بچہ پان لایا، بعدہ سحر کے وقت سحری کھا کر مسجد کے دروازے پر تشریف لائے، اس وقت دو شخص مسجد میں موجود تھے، ان سے فرمایا آپ صاحبان میرے کام میں مخل نہ ہوں، بعدہ اس بچے کو بلوایا جو پان دیر سے لایا تھا اور جسے تھپڑ مار دیا تھا، بچہ آ گیا تو فرمایا کہ شام کو میں نے غلطی کی جو تم کو چپت مار دی، قصور دیر سے بھیجنے والے کا تھا، لہٰذا تم میرے سر پر چپت مارو اور ٹوپی اتار کر اصرار کرنے لگے، وہ بچہ حیران ہو کر کانپنے لگا، اس نے ہاتھ جوڑ کر عرض کی حضور میں نے معاف کیا، فرمایا تم نابالغ ہو تمہیں معاف کرنے کا حق نہیں، تم چپت مارو مگر وہ نہ مار سکا، تب اپنا بکس منگوا کر مٹھی بھر پیسے نکالے، وہ پیسے دکھا کر فرمایا، میں تم کو یہ دوں گا، تم چپت مارو مگر وہ بیچارہ یہی کہتا رہا میں نے معاف کیا، آخر کار اعلیٰ حضرت نے اس کا ہاتھ پکڑ کر بہت سی چپتیں اپنے سرِ مبارک پر لگائیں اور پھر اسے پیسے دے کر رخصت کیا۔
اسلام میں اصلاحِ مفاسد کے اسلوب میں بڑی شائستگی اور رونقِ ادب و تہذیب ہے، اسلام یہ چاہتا ہے کہ سامنے والے کی دل آزاری بھی نہ ہو اور وہ سنت و شریعت کا پیکر بھی بن جائے، ورنہ اگر تقاضائے اخلاق و انسانیت سے دور رہ کر اصلاح کی کوشش کی گئی تو ہو سکتا ہے وہ اکڑ جائے اور اس طرح مزید گناہوں کی دلدل میں پھنس جائے اور اگر خامی کسی ایسے آدمی کے اندر ہے جو حسب و نسب یا علم و فضل میں بڑا ہے تب تو ولولۂ اصلاح میں اور فکر و غور کی ضرورت ہے، ورنہ نتیجہ معکوس بھی ہو سکتا ہے، یعنی یہ ہو سکتا ہے کہ مصلح صاحب خود بے ادبی کا شکار ہو کر رب کے فضل سے محروم ہو جائیں۔ یہ جاننے کے باوجود کہ آقائے کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے مرد کے لیے سونا حرام کر دیا ہے، سونے کی انگوٹھی پہننا عام فیشن بن چکا ہے، لوگ دھڑلے سے پہنتے ہیں، اب تو بغیر سونے کی انگوٹھی اور چین کے نکاح کا منعقد ہونا مشکل ہو گیا ہے، جیسے یہ نکاح کے رکنِ رکیں میں شامل ہو اور اگر سونے کی انگوٹھی کوئی سید صاحب پہنے ہوں تو کیا کیا جائے، ایک طرف شریعتِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کا قانون ہے، دوسری طرف نسبتِ مصطفیٰ کا احترام، اس تناظر میں اعلیٰ حضرت کا حسنِ اصلاح کا حسین منظر دیکھیے، اعلیٰ حضرت کی خدمت میں ایک سید صاحب حاضر ہوئے، انہوں نے سونے کی انگوٹھی پہن رکھی تھی، یہاں معاملہ سید صاحب کا تھا اور اعلیٰ حضرت ساداتِ کرام کا بہت احترام کرتے تھے، دیکھیے کس طرح حکم، ادب کے سانچے میں ڈھلتا ہے، ”سرکار عالی وقار اگر یہ انگوٹھی آپ مجھے عنایت فرما دیں تو عین نوازش ہوگی“، اعلیٰ حضرت کے سوال پر جھٹ خوشی خوشی سید صاحب نے وہ انگوٹھی اعلیٰ حضرت کی خدمت میں نذر کر دی، بعد میں اعلیٰ حضرت نے اس انگوٹھی کے وزن سے کچھ زیادہ وزن کے سونے کا زیور بنوا کر سید صاحب کی زوجۂ محترمہ کے لیے بھجوا دیا اور ساتھ ہی تحریری طور پر شریعت کا یہ حکم بھی پہنچا دیا کہ ”سونے کی انگوٹھی مرد کے لیے حرام ہے، سونے کے زیورات کی صرف عورت حق دار ہے“۔
(جاری ہے...) [ماخوذ از: سہ ماہی سنی دنیا، بریلی شریف، مئی 2018ء]
