| عنوان: | اسلام اور اخلاق و آداب |
|---|---|
| تحریر: | ڈاکٹر معین احمد خان قادری بریلوی |
| پیش کش: | بنت محمد صدیق |
صنعتی انقلاب کے بعد مغربی ممالک اور آزادی کے بعد ہندوستان نے مادی ترقیوں کے ہوش ربا مناظر دیکھے۔ یہ سچ ہے کہ آج کے اس دور میں مادی ترقی کے بغیر کسی بھی طرح کی ترقی نہیں کی جا سکتی ہے۔ محسنِ انسانیت رسولِ معظم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمانِ عالیشان ہے کہ آخر زمانے میں دین کا کام بھی دام و درہم سے چلے گا، لیکن آج اس دورِ جدید کے تعلق سے یہ بات بھی روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ جہاں ایک طرف انسان نے دنیوی یا معاشی ترقی کی وہیں اخلاقی تنزلی کی طرف بھی رواں دواں ہو گیا۔ اکثر یہی دیکھنے کو ملتا ہے، ہمارے ملک ہندوستان کے تعلق سے بھی دانشورانِ قوم و ملت یہی کہتے ہیں کہ جہاں اس ملک نے مادی ترقی کی نئی نئی تاریخیں رقم کیں وہیں اخلاقی تنزلی کی بھی نئی نئی سمتیں ایجاد کیں، اور اگر قومِ مسلم پر عمیق نظر ڈالی جائے تو کہنا پڑتا ہے کہ دیگر ہم وطن قوموں کی مادی ترقی میں مسلمان ان سے کافی پیچھے نظر آتے ہیں لیکن اگر اخلاقی تنزلی پر نظر ڈالی جائے تو مسلم قوم دیگر قوموں سے بھی اس میدان میں آگے نظر آتی ہے۔
آج اس قومِ مسلم کی اخلاقی تنزلی پر اپنے بیگانے سبھی تبصرہ کرتے نظر آتے ہیں۔ اس سے قطع نظر سب سے حیران کن بات یہ ہے کہ یہ قوم جس میں اخلاق و آداب پر اتنے تفصیلی ابواب شامل ہیں کہ جن کی مثال دنیا کی کسی بھی قوم کے پاس نہیں ہے، اس قوم کے پاس اخلاقیات پر محسنِ انسانیت کا دنیا کا سب سے پہلا ایک ایسا منشور ہے جس کی مثال دینے سے تاریخ قاصر ہے۔ خوش اخلاقی کے تعلق سے آئیے محسنِ انسانیت صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث ملاحظہ کرتے ہیں۔
سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم لوگوں کو اپنے اموال سے خوش نہیں کر سکتے لیکن تمہاری خندہ پیشانی اور خوش اخلاقی انہیں خوش کر سکتی ہے“۔ [شعب الایمان، جلد: 6، صفحہ: 253]
اور فرمایا نبیِ کریم علیہ الصلوٰۃ والسلام نے: ”قیامت کے دن بندۂ مومن کے میزانِ عمل میں اچھے اخلاق سے زیادہ وزنی کوئی عمل نہیں ہوگا“۔ [ترمذی، جلد: 3، صفحہ: 403]
اور فرماتے ہیں آقا کریم صلی اللہ علیہ وسلم: ”ایمان میں زیادہ کامل وہ مومنین ہیں جن کے اخلاق زیادہ اچھے ہوں“۔ [ابو داؤد، جلد: 4، صفحہ: 290]
ایک اور حدیثِ پاک ہے جس میں نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ: ”میرے نزدیک تم میں سب سے زیادہ پسندیدہ اور قیامت کے دن مجھ سے قریب تر وہ ہوں گے جن کے اخلاق سب سے زیادہ اچھے ہوں گے“۔ [ترمذی، جلد: 3، صفحہ: 409]
درج بالا چند احادیثِ پاک ہمیں بتاتی ہیں کہ اسلام میں خوش اخلاقی کی کتنی بڑی اہمیت ہے، لیکن اگر ہم نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیاتِ طیبہ پر نظر ڈالیں تو یہ پتا چلتا ہے کہ آپ کا خلقِ عظیم کا رتبہ کتنا بلند و اعلیٰ ہے کہ آپ کی پوری حیاتِ طیبہ اس کا اچھا نمونہ ہے جن کی کوئی مثال کسی کے پاس ہے ہی نہیں۔ محسنِ انسانیت صلی اللہ علیہ وسلم کے خلقِ عظیم کے تعلق سے ایک شاعر کا شعر میرے ذہن و فکر کی اسکرین پر آ رہا ہے، شاعر نے کیا خوب کہا ہے:
ہم تو ہم رو رو کے کہتا ہے دل اغیار کا
خلق اچھا تھا سیدِ ابرار کا
لیکن پریشان کن بات یہ ہے کہ وہی قوم آج اخلاقی پستی کے اس دور سے گزر رہی ہے کہ دنیا کی دیگر قومیں اس سے عبرت حاصل کر رہی ہیں۔ وہی قومِ مسلم جس کے بزرگوں کے اخلاقِ کریمانہ کی ضوفشانیاں ہر دور میں اپنے تو اپنے بیگانوں کے دل و دماغ کو حیران و مبہوت کر رہی تھیں، آج وہی قوم اپنی اخلاقی تنزلی کے سبب اربابِ علم و دانش کے لیے ایک موضوعِ بحث بن چکی ہے۔
آج ہماری قوم کی عدم برداشت اور تلخ کلامی پر بحث ہو رہی ہے مگر عجیب بات ہے کہ جو ہم دیکھتے ہیں کہ بحث کرنے والے خود ایسے ترش جملوں کا استعمال کرنے لگتے ہیں۔ فروری 2018ء کی سنی دنیا (ہندی) میں صفحہ 44 پر معروف پاکستانی عالمِ دین و ادارۃ المصطفیٰ انٹرنیشنل کے بانی مولانا پیر محمد ثاقب مصطفائی کا ایک مضمون محترم وسیم احمد رضوی صاحب کی ترتیب کے ساتھ شائع ہوا تھا۔ اس میں فاضل مضمون نگار کے چند جملے بڑے ہی کارآمد اور آئینہ دکھانے والے ہیں۔ موصوف فرماتے ہیں: ”منبر و محراب سے ہم دیکھتے ہیں کہ ایسے ایسے تلخ جملوں کے تبادلے ہوتے ہیں کہ بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ منبر پر بیٹھنے والا شخص جو یہاں سے کہہ رہا ہے، یہ دین ہی ہے؟ ہمارے یہاں ”اتھارٹی“ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ اگر میں اپنے نفس کے شکنجے میں کسا ہوا ہوں اور اپنی انا کے پنجرے کے اندر ہوں اور اس کو میں دین قرار دیتا ہوں تو یہ میں اپنے پر بھی زیادتی کر رہا ہوں“۔
سالارِ کارواں ہے میرِ حجاز اپنا
اس نام سے ہے باقی آرامِ جاں ہمارا
تو ہمارے لیے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سمندر ہیں، اگر میں بھی کہیں اپنی گفتگو کو اس انداز سے ترتیب دوں کہ اس معاشرے کے اندر بد اخلاقی کی نمو ہے تو پھر مجھے بتائیے گا کہ آپ خیر کہاں سے تلاش کریں گے۔ (مولانا ثاقب مصطفائی)
یقیں محکم، عمل پیہم، محبت فاتحِ عالم
جہادِ زندگانی میں یہ ہیں مردوں کی شمشیریں
آج شاعرِ مشرق کا یہ پیغام جو دراصل محسنِ انسانیت صلی اللہ علیہ وسلم کی حیاتِ طیبہ کو مدِ نظر رکھ کر اس دورِ جدید میں بے حد کارآمد ہے، شاید اس پیغام کو جو اسلام کا پیغام ہے، امن کا پیغام ہے، سلامتی اور شانتی کا پیغام ہے اور حقیقی معنوں میں محسنِ انسانیت صلی اللہ علیہ وسلم کا آج سے چودہ سو سال پہلے عرب کی سرزمین پر دیا ہوا وہ پیغام ہے کہ جب نہ ”ہیومن رائٹس“ کا کوئی جدید تصور تھا، نہ عالمی ادارہ برائے امن، نہ اقوامِ متحدہ جیسی کوئی تنظیم تھی۔ مگر ہمارے اسلامی امن کے پیغام سے متاثر ہو کر اس دنیا کی قومیں اس پر عمل پیرا ہو کر [کسی حد تک] اپنے آپ کو ترقی و کامیابی کی طرف لے جا رہی ہیں۔ اور ہم اور ہماری قوم اس فرمانِ نبی کو بھول کر تنزلی کی طرف گامزن ہیں۔ [الامان والحفیظ]
اس وقت میرے ذہن میں بچپن کے دوست و ایک عزیز ڈاکٹر مبین رضا خاں (علیگ) کا ایک واقعہ جو انگلستان کے شہر میں ان کے ساتھ ہوا تھا یاد آ رہا ہے، آپ بھی ملاحظہ کریں۔ 2007ء کی تعطیلِ کلاں میں میرے دوست جو ان دنوں کنگ عبد العزیز یونیورسٹی جدہ (سعودی عرب) میں شعبۂ انگریزی میں استاد تھے، تین ماہ کے لیے ماڈرن انگلش لٹریچر کے ڈپلوما کورس کے لیے کیمبرج یونیورسٹی تشریف لے گئے تھے۔ اپنے تین ماہ کے قیامِ انگلش کے دوران ڈاکٹر صاحب انگریزی ادب سے وابستہ کئی یادگار شاعروں و مشہور یادگاروں کو دیکھنے انگلینڈ کے کئی علاقوں کے دوروں پر گئے تھے۔ سفر کے دوران کسی چھوٹے قصبے سے واپسی پر رات ہو گئی، جب بس اسٹینڈ پر آئے تو پتہ چلا کہ شہر کے لیے صرف ایک بس آئے گی اور اس میں اگر سیٹ خالی ہوگی تبھی جگہ ملے گی ورنہ رات کو اسی قصبے میں رکنا ہوگا۔ مبین صاحب پریشان تھے اور اپنے رب سے دعا کر رہے تھے کہ بس میں سیٹ مل جائے کیونکہ وہاں رہائش و ہوٹل دونوں بے حد مہنگے ہیں۔ ان کے بس اسٹاپ پر آنے کے کچھ لمحات بعد ہی ایک انگریز جوڑا بھی آ کر ٹھہرا جو ان سے کچھ سیکنڈ یا کچھ قدم پیچھے ہی تھا۔ تھوڑی دیر بعد بس آ کر رکی اور کنڈکٹر نے آواز لگائی کہ صرف دو سیٹیں ہی خالی ہیں۔۔ [سنی دنیا، جون 2018ء، ص: 57]
