| عنوان: | جامعۃ الاشرفیہ کی تعمیر اور حضور حافظ ملت |
|---|---|
| تحریر: | کلیم اشرف رضوی مظفرپوری |
| پیش کش: | بنت محمد صدیق |
سرکار حافظ ملت علامہ شاہ عبد العزیز محدث مراد آبادی علیہ الرحمۃ والرضوان، بانی الجامعۃ الاشرفیہ مبارک پور اعظم گڑھ، ملتِ اسلامیہ کے اس محافظ و پاسبان کا نام ہے، جس نے ملت کی حفاظت فرمائی، ہر ان مؤثر ذرائع کو استعمال فرما کر، جو ملت کی حفاظت و صیانت کے لیے لازمی وسائل تھے۔ آپ نے ملتِ اسلامیہ کی فلاح و بہبود، اسے تعلیمی میدان میں آگے بڑھانے اور فرزندانِ اہلِ سنت کو علومِ اسلامیہ اور فنونِ عصریہ سے مزین کرنے کے لیے جو قربانیاں پیش کی ہیں، وہ کسی باخبر حلقے سے پوشیدہ نہیں۔ آپ نے ملت کی تعمیر و ترقی کے لیے ہر طرح سے محنت اور کوشش کی۔ اس سلسلے میں جس چیز میں آپ نے سب سے زیادہ محنت اور کوشش کی ہے، وہ الجامعۃ الاشرفیہ کی تعمیر ہے۔ آپ نے الجامعۃ الاشرفیہ کی تعمیر میں جس محنت و مشقت اور مصائب و آلام کا سامنا کیا ہے، اس کی مثال برصغیر ہند و پاک میں دور دور تک کہیں دیکھنے کو نہیں ملتی۔ آپ نے اس کی تعمیر و ترقی کے لیے تن من دھن کی بازی لگا دی تھی اور اس کے عروج و ارتقا کے لیے اپنے خونِ جگر کا ایک ایک قطرہ بہا دیا، حتیٰ کہ اسی اشرفیہ کی خاک میں مدفون ہو گئے۔ تب جا کر علم و ادب کا یہ جگمگاتا شہر ”الجامعۃ الاشرفیہ“ کی شکل میں اہلِ سنت و جماعت کو عطا ہوا۔ جو آج ہند و بیرونِ ہند کے کروڑوں مسلمانوں کے دل کی دھڑکن بن چکا ہے، اور جو اس وقت پورے ہندوستان ہی نہیں بلکہ عالمِ اسلام کی ایک ابھرتی ہوئی مرکزی دینی درس گاہ اور نونہالانِ قوم کی بہترین تربیت گاہ ہے۔ اس لیے مجھے یہ کہنے میں کوئی تامل نہیں کہ حضور حافظ ملت نے الجامعۃ الاشرفیہ قائم کر کے ملتِ اسلامیہ پر جو عظیم احسان فرمایا ہے، اس کے لیے ملتِ اسلامیہ کی گردنیں ہمیشہ حضور حافظ ملت کے احسان تلے خم رہیں گی۔ اگر حافظ ملت نے جامعہ اشرفیہ قائم نہ کیا ہوتا تو آج مسلمانانِ ہند جہالت و پسماندگی کے نہ جانے کس تاریک صحرا میں بھٹک رہے ہوتے۔ جامعہ اشرفیہ کی تعمیر و تشکیل کس طرح عمل میں آئی اور اس سلسلے میں حضور حافظ ملت نے کتنی صعوبتیں برداشت کیں، ذیل میں اجمالاً اس کا بیان کچھ یوں ہے:
حضور حافظ ملت کے دل میں ایامِ طالبِ علمی ہی سے ملتِ اسلامیہ کی تعلیمی پسماندگی کا احساس تھا اور آپ کی خواہش تھی کہ میری قوم کے فرزند تعلیمی میدان میں آگے بڑھیں اور علم و عمل کے زیور سے آراستہ ہو کر قوم و ملت کی خدمات انجام دیں۔ لہٰذا جب آپ دار العلوم معینیہ عثمانیہ اجمیر شریف میں علومِ دینیہ سے لیس ہو گئے اور جامعہ منظرِ اسلام بریلی شریف سے سندِ فراغت حاصل کر لی، تو آپ کے استاذِ گرامی حضور صدر الشریعہ علامہ امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ نے شعبان ۱۳۵۲ھ میں اپنے علاقے کے ”مدرسہ اشرفیہ مصباح العلوم“ مبارک پور میں آپ کو بحیثیت صدر المدرسین بھیجا۔ جب حضور حافظ ملت نے مبارک پور کی سرزمین کو اپنی آمد کا شرف بخشا تو اہلِ مبارک پور کے درمیان فرحت و انبساط کی عجیب لہر دوڑ گئی۔ اور مبارک پور کے گم گشتگانِ راہ کو ایک ایسا رہبر مل گیا جس نے اہلِ مبارک پور کی تقدیر بدل کر رکھ دی۔ اس وقت وہ مدرسہ ایک مکتب کی شکل میں تھا۔ آپ نے اپنی شبانہ روز مساعی کے ذریعہ اس میں چار چاند لگا دیے۔ اس کے ایک سال بعد آپ نے دار العلوم اشرفیہ مصباح العلوم بنام تاریخی ”باغِ فردوس“ ۱۳۵۳ھ میں قائم فرمایا۔ اس ادارے نے اتنی شہرت حاصل کی کہ چند سالوں کے اندر ہی اندر ملک کے مختلف گوشوں سے طلبہ کا ہجوم امڈ آیا اور یہ ادارہ اپنی وسعت کے باوجود تنگ دامانی پر شکوہ کناں ہونے لگا۔ تب حضور حافظ ملت نے ایک ایسا ادارہ قائم فرمانے کا منصوبہ بنایا جو اہلِ سنت و جماعت کے لیے عظیم قلعہ ہو اور جس میں ہند و بیرونِ ہند کے طلبہ ہزاروں کی تعداد میں اپنی علمی تشنگی بجھا سکیں۔
یہ ایک ایسا تعمیری منصوبہ تھا کہ سب کے بس کی بات نہیں تھی کہ اسے پایۂ تکمیل کو پہنچا دے۔ کیوں کہ جس طرح یہ منصوبہ بڑا اور اہم تھا، اسی طرح اس کی راہ کی رکاوٹیں اور پریشانیاں بھی بے شمار تھیں۔ آپ نے ان رکاوٹوں اور کٹھنائیوں کی کوئی پروا نہ کی۔ اس لیے کہ حافظ ملت جدوجہد کے اس کوہِ پیکر کا نام ہے کہ جس کے سامنے مصیبتوں اور رکاوٹوں کے پہاڑ بھی گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ آپ کی دن رات کی محنت و مشقت کے بعد آپ کے اس منصوبے کو زمین پر اتارنے کے لیے مبارک پور کے ایک لق و دق صحرا میں ۳۳ ایکڑ زمین کی خریداری عمل میں آئی۔ جب حضور حافظ ملت نے کام کا آغاز فرمانا چاہا تو اس وقت دار العلوم اشرفیہ مصباح العلوم کی مجلسِ انتظامیہ نے اس کی اجازت نہ دی۔ اس سے آپ کو کافی سخت رنج ہوا، لیکن آپ کے پایۂ استقلال میں ذرہ برابر بھی لغزش نہ آئی۔ اور جب آپ کو یہ یقین ہو گیا کہ یہ کام مبارک پور کی سرزمین پر پایۂ تکمیل کو نہ پہنچ سکے گا تو آپ نے اس کام کے لیے بلرام پور کی سرزمین کو منتخب فرما لیا اور مبارک پور سے بلرام پور منتقل ہونے کا عزمِ صمیم کر لیا۔ جب مبارک پور کے مخلص اور غیور مسلمانوں کو اس بات کی اطلاع ملی تو انھوں نے آپ سے التجا کی کہ آپ اپنا کام یہیں رہ کر مکمل کریں، ہم ہر طرح سے آپ کے ساتھ ہیں۔ یہاں تک کہ اگر جان کی بھی ضرورت پڑی تو ہم اس سے بھی پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ اور ہم اس وقت تک اپنے بال بچوں کے ساتھ آپ کے دروازے پر دھرنا دیں گے جب تک آپ مبارک پور کو چھوڑنے کا ارادہ ترک نہیں کر دیتے۔ حضور حافظ ملت کو اہلِ مبارک پور کے اس مخلصانہ جذبے کے احترام میں مجبوراً اپنا ارادہ بدلنا پڑا اور آپ مبارک پور ہی میں اپنے منصوبے کی تکمیل کے لیے مقیم ہو گئے۔
اب آپ نے اس کی تکمیل کے لیے جدوجہد شروع کی، زمین کی خریداری عمل میں آ چکی تھی۔ اس لیے اب عمارت کھڑی کرنے کے لیے ایک خطیر رقم کی ضرورت تھی۔ حضور حافظ ملت نے اس کے لیے اپنے آپ کو بالکل وقف کر دیا اور اشرفیہ کی تعمیر کے لیے طرح طرح کی صعوبتیں برداشت کیں۔
حتیٰ کہ ایامِ پیری میں بھی کبھی سائیکل سے یا پیدل چلنے کی ضرورت پیش آئی تو بھی آپ نے قدم پیچھے نہیں ہٹایا۔ جسم اگرچہ بوڑھا تھا، مگر ہمت و عزم اس قدر جوان تھے کہ اس کام کے لیے چلچلاتی دھوپ میں بھی میلوں پیدل یا سائیکل سے چلتے پھر بھی آپ کی پیشانی پر تھکاوٹ کے آثار نظر نہیں آتے۔ جب بھی آپ اشرفیہ کی تعمیر کے سلسلے میں نکلتے تو آرام کا نام بھی نہیں لیتے۔ جوان لوگ تھک جاتے مگر آپ نہیں تھکتے۔ بلکہ آپ فرماتے کہ ”جب میں دین کے کام کے لیے نکلتا ہوں تو مجھے آرام ملتا ہے۔“ اس طرح حضور حافظ ملت اس عظیم کام کی خاطر ہر وقت کوشش میں لگے رہتے۔ خود بھی دور دراز مقامات کا سفر کرتے اور اہلِ خیر حضرات کو اس کارِ خیر میں حصہ لینے کے لیے رغبت دلاتے۔ ساتھ ہی ملک کے مختلف گوشوں میں اپنے وفود بھیجتے اور وہ فتح و کامرانی کے ساتھ واپس آتے۔ اس طرح جب سارے اسباب فراہم ہو گئے اور وہ دن جس کا خواب حضور حافظ ملت نے برسوں پہلے اپنی آنکھوں میں سجا کر جدوجہد کی مشقت بھری گھاٹیوں کو عبور کیا تھا، وہ جب قریب ہو گیا تو ۶ مئی ۱۹۷۲ء کو حضور مفتی اعظم ہند بریلوی، حضرت سید العلما مارہروی، حضرت مجاہد ملت اڑیسوی علیہم الرحمۃ والرضوان وغیرہ اجلۂ علما و مشائخ کے مقدس ہاتھوں ”الجامعۃ الاشرفیہ“ کا سنگِ بنیاد مبارک پور کے ایک صحرا میں رکھ دیا گیا۔ جامعہ اشرفیہ کے سنگِ بنیاد کی جو منظرکشی تاجدار (weekly) ممبئی نے کی ہے، وہ پڑھنے سے تعلق رکھتی ہے۔ ”مفتی اعظم ہند قبلہ کی رہبری میں جب علما کا قافلہ چلا تو اعلان و ہدایت کے باوجود مسلمانوں کا اپنے جذباتِ مسرت پر قابو پانا ناممکن ہو گیا۔ رضاکاروں کی پوری فوج اپنی کوشش کے باوجود دیوانگیِ شوق کے اس قابلِ احترام اظہار پر نظم و نسق کا کوئی پہرہ نہ بٹھا سکی۔ جذباتِ محبت کے دیوانے اپنے اکابر کی قدم بوسی، دست بوسی اور مصافحہ کے لیے شوق کی وارفتگی میں مچل رہے تھے۔ حضور مفتی اعظم ہند کی قیادت میں جب علما کا کارواں اس سرزمین پر پہنچا جہاں سنگِ بنیاد رکھا جانے والا تھا، تو پوری فضا عشق و ایمان اور کیف و سرور کی برسات میں بھیگی ہوئی تھی، جذبۂ مسرت سے چھلکتے ہوئے آنکھوں کے پیمانے، لب پہ درود و سلام کے نذرانے، رو رو کر نعرۂ تکبیر و رسالت کی تکرار، پوری فضا پر عشق و محبت اور شوق و تمنا کا پھیلا ہوا جادو، اس ماحول میں حضور مفتی اعظم ہند کا اس یونیورسٹی کے لیے پہلی اینٹ رکھنا، ایک ایسا نورانی منظر تھا، جس کی لذت روح تو محسوس کر سکتی ہے، مگر الفاظ و معانی کی دنیا تعبیر سے قاصر ہے۔“
[تاجدار، ممبئی، ۱۲ مئی ۱۹۷۲ء، ص: ۷،]
یقیناً وہ منظر بہت حسین منظر رہا ہو گا جب اہلِ سنت و جماعت کے فرزندوں کے لیے حضور حافظ ملت اپنے اکابر کے ساتھ جامعہ اشرفیہ کی بنیاد رکھ رہے ہوں گے۔ آپ نے جامعہ کی بنیاد رکھنے کے بعد کئی ایک کانفرنسیں منعقد کیں جس میں جامعہ کی عمارتوں، اس کے نصابِ تعلیم، موجودہ معاشرہ کی اخلاقی، اصلاحی، تبلیغی، اجتماعی اور علمی ضرورتوں کو سامنے رکھ کر، عربی مدارس کے طلبہ کی ذہنی، علمی اور عملی تربیت کے لیے ایک جامع نظام کی ترتیب، عربی مدارس کے درمیان تعلیمی معیار کی حد بندی پر غور و فکر وغیرہ، اس کانفرنس میں ان چیزوں کا حل تلاش کیا گیا۔ جس پر بحمدہٖ تعالیٰ عملی کارواں اب تک رواں دواں ہے۔
[ملخصاً: مختصر سوانح حافظ ملت از: اختر حسین فیضی مصباحی، ص: ۶۶، ۶۷،]
یہ ایک مختصر سی روداد تھی جامعہ اشرفیہ کی تعمیر و تشکیل کی۔ حضور حافظ ملت جامعہ کی بنیاد رکھنے کے بعد سے لے کر تاحیات اس کی ترقی کے لیے کوشاں رہے، حتیٰ کہ اس کے صحن میں آخری سانس لی اور ۳۱ مئی ۱۹۷۶ء شب ۱۱ بج کر ۵۵ منٹ پر اپنے مالکِ حقیقی سے جا ملے۔
اللہ رب العزت نے حضور حافظ ملت کی محنت اور کوشش کو رائیگاں نہ ہونے دیا بلکہ آپ کی کوشش کو درجۂ کمال تک پہنچا دیا۔ اور اس طرح حضور حافظ ملت کی محنت و جفاکشی رنگ لائی اور آپ نے اپنے خواب کو شرمندۂ تعبیر کر ہی دیا۔ اور آپ کی محنت اور کوشش نے اعظم گڑھ کے ایک غیر معروف قصبے کو شہرتِ دوام بخش دی۔ اور اہلِ سنت و جماعت کے افراد کو علم و ادب کا ایک خوب صورت شہر عطا کر دیا۔ جس شہر سے تا قیامت علوم و فنون کے ماہرین پیدا ہوتے رہیں گے اور قرآن و حدیث کے علم کو عام و تام کرتے رہیں گے۔
حضور حافظ ملت اس ادارے کی ترقی کے لیے ہر وقت اپنے اکابر علما اور مرشدانِ طریقت سے دعا کی درخواست فرماتے رہتے تھے۔ سرکار حافظ ملت کی اسی محنت اور اخلاص کا نتیجہ ہے کہ آج الجامعۃ الاشرفیہ سورج کی ہر نئی کرن کے ساتھ عروج و ارتقا کی ایک نئی راہ پر گامزن ہے۔ اور ہزاروں مخالفت کے باوجود آسمان کی بلندیوں کو چھوتا ہوا نظر آ رہا ہے۔
بارگاہِ رب العلیٰ میں دعا ہے کہ سرکار حافظ ملت کے اس تعلیمی و تربیتی مشن کو اور زیادہ ترقی عطا فرمائے اور اسے حاسدین کے سایے سے بھی محفوظ رکھے۔ ہمیں تاحیات اس ادارے سے محبت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
