| عنوان: | حضور تاج الشریعہ کے محاسن و کمالات |
|---|---|
| تحریر: |
مفتی محمد عاقل رضوی
صدر المدرسین، جامعہ رضویہ منظرِ اسلام، سوداگران بریلی شریف |
| پیش کش: | مظفر حسین شیرانی |
نبیرۂ امامِ اہلِ سنت، وارثِ علومِ اعلیٰ حضرت، فخرِ ازہر، مرشدِ گرامی، سیدی الکریم، تاج الشریعہ حضرت علامہ الحاج الشاہ مفتی محمد اختر رضا قادری ازہری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اپنے علم و فضل، تقویٰ و طہارت، جزمِ احتیاط، جملہ علوم میں کمال مہارت کی وجہ سے یگانۂ روزگار شہرۂ آفاق شخصیت کے حامل تھے۔ اپنے بیگانے سب ان کی علمی برتری کے قائل اور معترف تھے۔ پیچیدہ، لاینحل مسائل میں اکابر علما آپ سے رجوع کرتے۔ اس طرح آپ کی مبارک ذات عوام و خواص سبھی کے لیے مرکزِ عقیدت تھی۔
اہلِ سنت کو حضرت سے ایسی والہانہ عقیدت و محبت تھی کہ پروانہ وار نثار ہونے کے پاکیزہ جذبۂ بیکراں سے ہمیشہ سرشار رہتے۔ حضرت جس علاقے میں جلوہ افروز ہوتے سارا علاقہ سمٹ آتا اور حضرت کی زیارت، زبانِ حق ترجمان کے مبارک کلمات سے عقیدہ و ایمان کا تحفظ ہو جاتا، لوگوں کے دلوں میں عشقِ رسالت کی ضیابار کرنوں میں مزید چمک آ جاتی، کتنے بدعقیدہ بدمذہبیت سے توبہ کر کے داخلِ سلسلہ ہو جاتے، حضرت کے دستِ حق پرست پر بیعت ہونے والے افراد لاکھوں کی تعداد میں دنیا بھر میں مذہبِ اہلِ سنت، مسلکِ اعلیٰ حضرت کا پرچم بلند کر رہے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ آپ نے مسلکِ اعلیٰ حضرت اور سلسلۂ عالیہ قادریہ برکاتیہ رضویہ کی ترویج و اشاعت میں پوری زندگی وقف کر دی۔ عوام و خواص میں قبولِ عام کا بارگاہِ ایزدی سے وافر حصہ ملا، یہی وجہ ہے کہ آپ کے دامنِ کرم سے وابستہ افراد بے شمار ہیں۔
ملک و بیرونِ ملک میں تبلیغی اسفار کی بے پناہ مصروفیات کے باوجود فتویٰ نویسی اور درجنوں علمی کتابوں کے مصنف و مترجم ہونے کی حیثیت سے بھی آپ کی ذات انفرادی خصوصیت کی حامل نظر آتی ہے۔ ہر تصنیف سے عیاں ہوتا ہے کہ آپ علمِ کثیر، وسعتِ مطالعہ اور قلمِ سیال کے مالک ہیں۔
سب سے پہلے حضرت کی زیارت اور خطاب سننے کا موقع 1986ء میں اس وقت میسر آیا جب آپ افتتاحِ بخاری شریف کے لیے جامعہ فاروقیہ عزیز العلوم قصبہ بھوج پور، ضلع مراد آباد میں جلوہ فرما ہوئے۔ اسی موقع پر راقم الحروف کو شرفِ بیعت حاصل ہوا۔ حضرت نے حدیثِ مبارک ”إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ... إِلَخْ“ کی تشریح و توضیح فرماتے ہوئے ایسے علمی نکات بیان فرمائے کہ سارے مجمع سے داد و تحسین کی صدائیں بلند ہونے لگیں۔
حضور تاج الشریعہ دیگر علوم کی طرح علمِ حدیث میں بھی اپنے وقت کے امام اور عظیم و جلیل محدث تھے۔ حضرت کا حاشیۂ بخاری شریف اس پر شاہدِ عدل ہے جو علمِ حدیث میں گراں قدر قابلِ افتخار علمی سرمایہ ہے۔ حاشیۂ بخاری شریف سے چند نمونے پیش کیے جاتے ہیں جس سے حضرت کی قوتِ استحضار، ندرتِ استدلال اور شانِ علم و فضل کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
حدیثِ مبارک ”إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ“ کی تشریح کرتے ہوئے ”فائدہ“ کے تحت ارشاد فرماتے ہیں:
”نبیِ اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم اور صحابۂ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کسی سے منقول نہیں کہ انہوں نے زبان سے نماز کی نیت کی ہو۔ البتہ صحابۂ کرام علیہم الرحمۃ والرضوان نے زبان سے نیت کرنے کو مستحب قرار دیا۔ اس سے معلوم ہوا کہ زبان سے نیت کرنا بدعتِ حسنہ ہے۔ بدعت صرف بدعتِ سیئہ نہیں ہوتی ہے بلکہ حسنہ بھی ہوتی ہے۔ لہٰذا وہابیوں کا یہ گمان کہ ہر بدعت سیئہ ہے مسلمانوں پر ظلم و زیادتی ہے۔ بلکہ ان کا یہ گمان خود بدعت ہے اور وہ بدعتی ہیں۔“ پھر اس تعلق سے احادیثِ مبارکہ، علامہ ملا علی قاری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی ”مرقاۃ شرح مشکوٰۃ“ کی تفصیلی عبارت نقل فرمائی۔
حضرت امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے بخاری شریف میں ایک باب قائم فرمایا:
”بَابُ قَوْلِ اللّٰهِ وَمَا أُوتِيتُمْ مِنَ الْعِلْمِ إِلَّا قَلِيلًا.“
پوری آیت یہ ہے:
وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الرُّوحِ قُلِ الرُّوحُ مِنْ أَمْرِ رَبِّي وَمَا أُوتِيتُمْ مِنَ الْعِلْمِ إِلَّا قَلِيلًا
[سورۃ الاسراء: 85]
اس کے اس حاشیے میں مولوی احمد علی سہارنپوری نے یہ تحریر فرمایا:
أَرَادَ بِإِيرَادِ هٰذَا الْبَابِ الْمُتَرْجِمُ بِهٰذِهِ الْآيَةِ التَّنْبِيهَ عَلَىٰ أَنَّ مِنَ الْعِلْمِ شَيْئًا لَمْ يُطْلِعِ اللّٰهُ تَعَالَىٰ عَلَيْهِ نَبِيًّا وَلَا غَيْرَهُ.
یعنی اس آیت کے ساتھ باب مقرر کرنے میں اس بات پر تنبیہ کرنا ہے کہ کچھ علوم ایسے ہیں جن پر اللہ تعالیٰ نے نبی اور غیرِ نبی کسی کو مطلع نہیں فرمایا۔
حضور تاج الشریعہ اس حاشیے کا رد کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں:
”میں کہتا ہوں کہ اس تنبیہ پر کوئی دلالت نہیں۔ آیت اس پر دلالت نہیں کرتی جو تم گمان کرتے ہو۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ حالانکہ اللہ تبارک و تعالیٰ نبیِ کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے حق میں ارشاد فرماتا ہے:
وَعَلَّمَكَ مَا لَمْ تَكُنْ تَعْلَمُ
اور فرمایا:
الرَّحْمٰنُ عَلَّمَ الْقُرْآنَ خَلَقَ الْإِنْسَانَ عَلَّمَهُ الْبَيَانَ
یعنی بیانِ ماکان و مایکون۔ اور کہا گیا ہے کہ ”الْإِنْسَانَ“ سے مراد نبیِ اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ہیں۔ اور قرآنِ منزل کی صفت میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:
وَلَا رَطْبٍ وَلَا يَابِسٍ إِلَّا فِي كِتَابٍ مُبِينٍ
اور فرمایا:
تِبْيَانًا لِكُلِّ شَيْءٍ
اور لفظِ ”كُلِّ“ صیغۂ عموم ہے جو ہر شے کو شامل، مفیدِ استغراق ہے۔ نبیِ اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے عمومِ علم سے علمِ روح بھی مستثنیٰ نہیں بلکہ نبیِ کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو روح کا علم بھی عطا فرمایا گیا۔ سیاقِ آیت اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ قریش نے یہ سوال کیا کہ روح قدیم ہے یا حادث؟ اس آیت میں اس کا جواب دیا گیا جس کا حاصل یہ ہے کہ روح موجود اور حادث ہے۔ کلمۂ ”كُنْ“ سے پیدا کی گئی۔ فرمایا ”قُلِ الرُّوحُ مِنْ أَمْرِ رَبِّي“ سائلین کے لیے جواب کو مبہم رکھا گیا یہ اشارہ کرنے کے لیے کہ اے سائلین تمہیں اس کے علم کی کوئی راہ نہیں۔ اسی لیے فرمایا ”وَمَا أُوتِيتُمْ مِنَ الْعِلْمِ إِلَّا قَلِيلًا“ یہ خطاب یہود و سائلین سے ہے۔“
حضور تاج الشریعہ علیہ الرحمہ نے یہ تشریح تفقہاً فرمائی پھر یہ تشریح تفسیرِ کبیر میں دیکھی۔ خود فرماتے ہیں:
هٰكَذَا كُنْتُ أَظُنُّ ثُمَّ رَاجَعْتُ التَّفْسِيرَ الْكَبِيرَ فَوَجَدْتُهُ صَرَّحَ بِنَحْوِ مَا فَهِمْتُهُ فَالْحَمْدُ لِلّٰهِ عَلَى التَّوْقِيفِ.
تشریحِ بالا سے حضور تاج الشریعہ کا رسوخ فی العلم اور علمی کمال، ندرتِ استحضار کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
حدیثِ مبارک ہے:
عَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ رَجُلًا قَامَ فِي الْمَسْجِدِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللّٰهِ مِنْ أَيْنَ تَأْمُرُنَا أَنْ نُهِلَّ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُهِلُّ أَهْلُ الْمَدِينَةِ مِنْ ذِي الْحُلَيْفَةِ وَيُهِلُّ أَهْلُ الشَّامِ مِنَ الْجُحْفَةِ وَيُهِلُّ أَهْلُ نَجْدٍ مِنْ قَرْنٍ.
یعنی عبد اللہ بن عمر روایت کرتے ہیں کہ ایک صاحب نے مسجد میں کھڑے ہو کر عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! احرام کس جگہ سے باندھا جائے؟ تو حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اہلِ مدینہ ذوالحلیفہ سے احرام باندھیں اور اہلِ شام مقامِ جحفہ سے اور اہلِ نجد قرن سے۔
اس حدیث کے تحت حضور تاج الشریعہ تحریر فرماتے ہیں:
فِيهِ مُعْجِزَةٌ عَظِيمَةٌ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَيْثُ أَخْبَرَ بِأَنَّ النَّاسَ يُسْلِمُونَ وَيَحُجُّونَ الْبَيْتَ مِنْ كُلِّ مَكَانٍ فَعَيَّنَ لِكُلٍّ مُهَلًّا يُهِلُّ مِنْهُ.
یعنی نبیِ کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا اہلِ شام کے لیے میقات مقرر کرنا حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا عظیم معجزہ ہے کہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے پہلے ہی خبر دے دی کہ لوگ اسلام قبول کریں گے اور ہر طرف سے حج کے لیے آئیں گے تو حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے سب کے لیے الگ الگ میقات مقرر فرمائی۔
اسی طرح پورا حاشیہ علمی نکات پر مشتمل اہم علمی ذخیرہ ہے۔ یہ حاشیۂ بخاری شریف کے ساتھ مجلسِ برکات مبارکپور سے شائع ہو چکا ہے۔
حضور تاج الشریعہ علیہ الرحمۃ والرضوان دنیا سے رخصت ہوئے تو دنیائے سنیت میں کہرام برپا ہو گیا۔ میرِ کارواں کا رخصت ہونا یقیناً کارواں کے لیے ناقابلِ تلافی نقصان ہے۔ حضور تاج الشریعہ کے وصال سے ہمارے اکابر علما و مشائخ کی دینی و علمی و مسلکی ذمہ داریوں میں بے پناہ اضافہ ہو گیا ہے۔ مذہبِ اہلِ سنت، مسلکِ اعلیٰ حضرت کی ترویج و اشاعت اور بریلی شریف کی مرکزیت کے استحکام کے لیے ضروری ہے کہ تمام علمائے اہلِ سنت متحد ہو کر جماعت کی شیرازہ بندی فرمائیں تاکہ ہماری جماعت بدمذہبوں کی عیاری و مکاری سے محفوظ رہے اور گلشنِ سنیت کی پربہار رونق میں مزید اضافہ ہو۔
اللہ رب العزت حضور تاج الشریعہ علیہ الرحمہ کے مزارِ پرانوار پر خصوصی فضل و کرم کی بارش نازل فرمائے اور جنت الفردوس میں بلند مقام سے سرفراز فرمائے اور ہم سب کو حضور تاج الشریعہ کے علمی فیضان سے ہمیشہ مالامال رکھے۔
