Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...
مضمون نگار
موضوعات
کل مضامین
بولتے مضامین

شریعت اسلامیہ کی حفاظت

شریعت اسلامیہ کی حفاظت
عنوان: شریعت اسلامیہ کی حفاظت
تحریر: صدر الافاضل مفتی محمد نعیم الدین مرادآبادی علیہ الرحمہ
پیش کش: محمد سجاد علی قادری ادریسی

شریعت اسلامیہ کی حفاظت مسلمانوں کے لیے سب سے اہم اور ضروری فرض ہے، جس کے لیے وہ اپنی جان و مال اور ہر نعمت و دولت کو بے دریغ صرف کرتے رہے ہیں اور دمِ آخر تک صرف کرتے رہیں گے، اور کبھی ملتِ طاہرہ میں تغیر آنے پر راضی نہ ہوں گے۔ کسی طرح، کسی حال میں گوارا نہ کریں گے کہ دینِ اسلام میں کسی طرح کا فرق آئے یا اس کے حسن و جمال، خد و خال بلکہ کسی ادا میں بھی کوئی تبدیلی ہو۔

زمانہ موجودہ میں بلادِ مشرقیہ پر یورپ کی تہذیب و معاشرت حکمرانی کر رہی ہے، اور سرعت و تیزی کے ساتھ یورپی خصائل و عادات ہمارے ہم وطنوں کے دل و دماغ، اعضاء و جوارح پر اپنا قبضہ و تسلط کرتے چلے جاتے ہیں، اور ہمارے ملک کے قدیم رسم و رواج اور پرانا طریقِ زندگی نامرغوب و غیر مانوس ہو رہا ہے، اور وہ وقت قریب نظر آ رہا ہے کہ ہندوستان کی نئی نسل بالکل یورپی شکل و صورت میں نظر آئیں، اور یہاں کے باشندے کسی جبر سے بھی اپنے باپ دادا کے طریقِ زندگی اور وضع و انداز کو تھوڑی دیر کے لیے بھی گوارا نہ کر سکیں۔ اسی کے ساتھ یورپ کی لامذہبی بھی مشرق پر اپنا سکہ جمانے میں پوری طاقت صرف کر رہی ہے، اور یورپی طریقِ زندگی کے شیدائی مذہب کو ایک ناقابلِ برداشت بار کی طرح ناگوار سمجھ رہے ہیں، اور بارہا جنون اور دیوانگی کے توہین آمیز کلمات سے اس کی توہین و تنقیص کرتے ہیں، اور مذہبی قیود اور دینی پابندیوں کو توڑ ڈالنے کے لیے نہایت بے قرار ہیں۔

انگریزی تعلیم:

انگریزی تعلیم کا یہ ثمرہ ہے کہ ہمارے نوجوان شب و روز اسی فکر میں غلطاں ہیں کہ کسی طرح مذہب کو ناپید کر ڈالیں اور ایک ایک کر کے تمام احکام کو بدل کر یورپ کی جیسی لامذہبی میں گرفتار ہوں۔

سیدِ عالم علیہ الصلوۃ والسلام کا ارشاد:

حضور پرنور سیدِ عالم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے پہلے ہی خبر دے دی ہے کہ میری امت بدفہم لڑکوں کے ہاتھوں برباد ہوگی۔ آج یہی دیکھا جا رہا ہے کہ ہمارے نوعمر بچے، جن سے ہمیں بڑی امیدیں تھیں کہ کسی قابل ہوں گے تو ہمارے کام آئیں گے، اپنی قابلیت سے دین اور اہلِ دین کو قابلِ قدر مدد پہنچائیں گے، افسوس وہ دشمنوں سے زیادہ خطرناک ثابت ہو رہے ہیں۔ روزمرہ اسلام پر انہیں کے ہاتھوں حملے ہوتے ہیں۔ پردہ کی مخالفت میں وہ سرگرم ہیں۔ آباء و اجداد سے ترکہ میں پائی ہوئی غیرت و حمیت کو انہوں نے بے قدری سے ٹھکرا دیا۔ آج ان کی بیبیاں، بیٹیاں بے پردہ، بے حجاب سڑکوں اور سیرگاہوں میں پھرتی نظر آتی ہیں، جن کی کنیز تک کا چہرہ کل تک کسی کو دیکھنا نصیب نہ تھا۔ نامور خاندانوں کی لڑکیاں غیر مردوں سے ہاتھ ملانے اور اختلاط کرنے میں جری اور دلیر پائی جاتی ہیں، اور یہ بات ان کی نظر میں عیب ہی نہیں معلوم ہوتی۔ لڑکیوں کا مدرسہ میں جانا اور بے قیدی کی تعلیم حاصل کرنا تو معمولی بات ہو گئی ہے، بلکہ اب تو ایک خاص جماعت ایسی ہو گئی ہے جو عورتوں کے لیے مدارس کی تعلیم کو صرف معمولی ہی نہیں سمجھتی بلکہ ضروری قرار دیتی ہے۔ اس طرح زمانہ بدل رہا ہے اور دین میں رخنے پیدا ہو رہے ہیں۔

خرد سالی کے نکاح:

آج کل ایک اور فتنہ برپا ہے۔ یہ کوشش کی جا رہی ہے کہ شریعتِ اسلامیہ نے جو ولایت کا قانون نافذ فرمایا ہے اور اولیاء کو صغیر و صغیرہ کے نکاح کا اذن و اختیار دیا ہے، اس کو باطل کیا جائے اور ایسی کوشش کی جائے کہ حکومت کے قانونِ رائج الوقت میں اولیاء کا یہ شرعی حق جرم قرار دیا جائے، اور اسی طرح دینِ محمدی کے قانون کو مٹایا جائے۔ کوئی شخص اپنی صغیر سن اولاد کی شادی نہ کر سکے، اور اگر حسبِ اجازتِ شرع کرے تو مجرم قرار دیا جائے، سزا یاب ہو، مصیبت میں گرفتار ہو۔ لڑکے اور لڑکیاں بالغ ہو کر خود اپنی مرضی سے شادی کیا کریں، اور ایک غیرت سوز، شرمناک زندگی کی ذلت و رسوائی میں مسلمانوں کو گرفتار کیا جائے۔

ایک معزز شخص بسترِ مرگ پر بیمار پڑا ہے۔ اس کے سامنے اس کی نورِ نظر لڑکیاں ہیں، جن کا کوئی نگراں اس کو اپنے بعد نظر نہیں آتا۔ بیماری سے زیادہ اس کو یہ رنج و قلق بے چین کر رہا ہے کہ اس کے بعد اس کی عزت و ناموس کی حفاظت کس طرح ہوگی۔ اس حال میں وہ اپنی تسکینِ خاطر کے لیے یہ تدبیر کرتا ہے کہ ایک معزز خاندان کے ہونہار لڑکوں کے ساتھ وہ اپنے جگر بندوں کا رشتہ کر دے۔ ایسا کر کے وہ مطمئن ہو جاتا ہے کہ جس خاندان میں لڑکیوں کا عقد کر دیا ہے، وہ اپنی عزت کی حفاظت کے لحاظ سے ان کی کافی نگرانی کریں گے، اور لڑکیاں اس کے بعد بے کسی کی ذلیل زندگی اور خطرات سے محفوظ رہیں گی۔

صغیر سنی کے نکاح کو جرم قرار دینے کی تجویز مجبور کرے گی کہ آدمی مرتے دم اپنے ساتھ اپنی بے آبروئی اور ناموس کے خطرات کا ایک روح تڑپا دینے والا داغ بھی اپنے دل پر لے جائے۔

یہ ایک مثال تھی۔ آپ غور کیجیے تو صغیر سنی کے نکاح میں بکثرت مصالح ہیں، اور اس کو جرم قرار دینے والے مسلمانوں کی زندگی، مال و آبرو سب خطرے میں پڑتے ہیں، اور ان سب سے بڑھ کر یہ کیسی مصیبت ہے کہ شریعتِ طاہرہ کا قانون مٹا جاتا ہے۔ مسلمان سچے مسلمان موت گوارا کر سکتے ہیں مگر ایسا قانون گوارا نہیں کر سکتے۔

علمائے اسلام:

علمائے اسلام! اے حامیانِ ملت! دین کی حفاظت آپ کا سب سے مقدم فرض ہے۔ آپ کے لیے اسی قدر کافی نہیں ہے کہ مدارس میں درس دے کر طلبہ کو کتبِ متداولہ پر عبور کرا دیجیے، یا کسی مجلس میں تقریر کر کے خاموش ہو جائیں، یا گوشہ تنہائی میں بیٹھ کر نماز و وظیفہ میں اپنے تمام اوقات صرف کر ڈالیں۔ بیشک آپ کے یہ تمام کام دینی اعلیٰ خدمتیں ہیں، اور اللہ رب العزت عز وجل آپ کو اس کے بہترین صلے عطا فرمائے گا۔ لیکن ان سب کے ساتھ ساتھ آپ پر یہ بھی فرض ہے کہ آپ دیکھیں کہ آج دنیا اسلام کو مٹا ڈالنے کے لیے کیا کر رہی ہے، اور دین کی حفاظت کے لیے آپ کو کیا کرنا چاہیے۔

اے رسولِ کریم علیہ الصلوۃ والتسلیم کے نائبوں! اپنے خلوت خانوں سے قدم نکالو اور اسلام کی کشتی سنبھالو! اس قانون کے مخالفِ شرع ہونے کا اعلان کر دو، اور گورنمنٹ کو بتا دو کہ یہ قانون اسلام کو مٹانے کی ایک تجویز ہے جس نے تمام عالمِ اسلام کو بے چین کر دیا ہے۔ ہم ایک لمحہ کے لیے اس کو گوارا نہیں کر سکتے۔ گورنمنٹ ایسا قانون منظور کرنے اور ہمارے دین و ملت میں رخنے ڈالنے سے پرہیز کرے۔

علمائے دین! جلد سے جلد، بے تاخیر، آپ اپنی مجالس میں اس مضمون کی تجویزیں منظور کر کے گورنمنٹ کے پاس بھیجیں اور اخبارات میں شائع فرمائیے۔

ساتھ میں یہ بھی واضح کر دیجیے کہ کونسل کے ممبر اور ہمارے نمائندے کوئی ایسا مسئلہ، جس کا تعلق شریعتِ طاہرہ سے ہو، علمائے دین سے استصواب کیے بغیر ہرگز نہ پیش کریں! اگر ایسا کریں گے تو وہ ہمارے نمائندے نہیں، ان سے ہمارے دین کو ضرر ہے۔

ضرورت ہے کہ جا بجا اس مقصد کے لیے جلسے کر کے گورنمنٹ کو مسلمانوں کے تحفظِ دین کی ضرورت سے آگاہ کیا جائے، اور اس میں تاخیر روا نہ رکھی جائے۔

حوالہ: [مقالات نعیمی]

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!