| عنوان: | کاش مسلمان اپنی قوت سے آشنا ہوں اور اپنے دشمنوں کے مددگار نہ بنیں |
|---|---|
| تحریر: | علامہ محمد احمد مصباحی ناظمِ تعلیمات جامعہ اشرفیہ |
| پیش کش: | اکرام رضوی |
اسلام دشمن قوتوں میں سرفہرست یہود ہیں۔ قرآنِ کریم میں ہے:
لَتَجِدَنَّ أَشَدَّ النَّاسِ عَدَاوَةً لِلَّذِينَ آمَنُوا الْيَهُودَ وَالَّذِينَ أَشْرَكُوا.
”ضرور اہلِ ایمان کی دشمنی میں تم یہود اور مشرکین کو سب لوگوں سے زیادہ سخت پاؤ گے۔“ [سورۃ المائدہ: 82]
قبل از اسلام بھی یہود اپنی نافرمانی، سرکشی، انبیائے کرام سے بغاوت اور احکامِ ربانی سے عداوت میں معروف تھے۔ انہوں نے حضرت عیسیٰ کو سولی دینے کا منصوبہ بنایا اور ان سے قبل خود بنی اسرائیل کے نہ معلوم کتنے نبیوں کو شہید کیا۔ پھر سرورِ کائنات علیہ الصلاۃ والسلام کی بعثت کے بعد یہود کی ایک چھوٹی سی جماعت کے سوا باقی سب اپنی اسی پرانی روش پر رہے، اسلام اور پیغمبرِ اسلام کی دشمنی میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی۔ اس وقت سے آج تک ان کی یہ کوشش ایک طویل، منصوبہ بند اور منظم سازش کی شکل میں جاری ہے۔ عیسائیت کے ساتھ بھی ان کی سازش یہی رہی کہ اس کو ظاہری قوت اور مذہبی حرارت سے بالکل خالی کر دیں۔ جب عیسائیوں پر ان کا افسوں پوری طرح کام کر گیا تو ان کی جال سازیوں کے مقابلے میں مسلمان تنہا رہ گئے۔
سب سے پہلے انہوں نے مسلم حکومتوں یا حکمرانوں کو مسخر کرنے کی کوشش کی، ادارۂ اقوامِ متحدہ کے خوشنما اور دلفریب جال میں ساری دنیا کو پھنسایا، سب کو اپنے تابع بنایا، مسلم حکمرانوں کو اسلام کی روح سے دور کرنے اور مغربی تہذیب و ثقافت سے قریب لانے کا سحر چلایا اور بیشتر کو مسحور بھی کر دیا، لیکن اسلامی برادری پر اس کا جادو پوری طرح کام نہ کر سکا۔ مسلمانوں میں جو دین کے جانثار تھے وہ مغربیت کے شیطانی نظام سے ہمیشہ بیزار اور متنفر ہی نظر آئے اور ہر دور میں اکثریت انہی کی رہی۔
اس صورتِ حال نے یہودی دماغوں کو اضطراب و بے چینی میں ڈال دیا وہ حیران و ششدر رہ گئے کہ جو سحر عیسائیت کو کھوکھلا کر گیا وہ اسلام پر کیوں کامیاب نہ ہو سکا؟ انہیں محسوس ہوا کہ مسلمانوں میں جب تک خدا اور رسول کی عظمت و محبت، قرآن کی عقیدت اور آخرت کا یقین باقی ہے، دین سے ان کی وابستگی و محبت باقی ہے، اس لیے انہوں نے ایسے پرفریب پروگرام اور ایسی دلکش اسکیمیں بنائیں جن کے جال میں پھنسنے کے بعد مسلمان اپنے دین سے خود ہی دور ہو جائیں، ان کا دینی عقیدہ و یقین کمزور ہو جائے اور وہ کسی طرح سچے پکے مسلمان نہ رہیں۔
انہوں نے شریعتِ اسلامیہ کے جائز و ناجائز کا بھی عام مسلمانوں سے زیادہ گہرا مطالعہ کیا، تجارت، صنعت، معیشت، معاشرت اور زندگی کے تمام شعبوں میں ایسی پرفریب چیزوں کو داخل کیا جن سے متاثر ہو کر ایک مسلمان انہیں قبول کر لے اور اسے پتہ بھی نہ چلے کہ میں اپنے مذہب سے دور ہو گیا۔ تعلیم کو انہوں نے دینی اور دنیاوی حصوں میں بانٹ دیا اور دنیاوی تعلیم ایسی رکھی جس سے روحانی اور دینی حرارت پیدا ہی نہ ہو سکے، بلکہ جو کچھ موجود ہو وہ بھی ختم ہو جائے۔
انہوں نے سنیما، ریڈیو، ٹیلی ویژن اور اخبارات و رسائل کا بھرپور استعمال کیا اور ایسے معاشرے کو پھیلانے کی کوشش کی جس میں دین، علمِ دین، علمائے دین اور احکامِ دین سے دوری پیدا ہو، بچے ماں باپ سے ناآشنا ہوں، اپنے فرائض اور باہمی حقوق سے غافل ہوں۔ لباس، آرائش و زیبائش کے وہ نئے نئے سامان فراہم کیے جو مسلم تہذیب و ثقافت سے نوجوانوں کو الگ کر دیں۔ وہ منظم طور سے اس کوشش میں لگے ہیں کہ مسلمان حرام و گناہ میں زیادہ سے زیادہ مبتلا ہوں، اس لیے کہ انسان جتنا ہی گناہ کرتا ہے اس کی روحانی قوت کمزور ہو جاتی ہے، برائی سے الفت اور نیکی سے نفرت بڑھتی ہے۔ تجارت میں سود کا رواج، ناجائز طور پر نفع اٹھانے کا رواج، بیوٹی پارلر، ناخن پالش وغیرہ میں ناپاک چیزوں کی آمیزش وغیرہ وغیرہ کا مقصود یہی ہے کہ مسلمان مرد و عورت حرمت، نجاست کی دلدل میں ایسا پھنسیں کہ یا تو وہ روزہ، نماز وغیرہ کے پابند ہی نہ رہیں یا اگر ادائیگی کی کوشش کریں تو نجاستوں سے آلودگی کی وجہ سے صحت ہی نہ حاصل ہو یا ان میں روحانیت نہ برپا ہو۔ طبی طریقوں میں حلال راہوں کو چھوڑ کر حرام کو اپنانے اور اس پر زیادہ سے زیادہ تحقیق کر کے بہت مفید اور دلکش، سحر انگیز عبارت اور منفعت نما تقریروں کے ساتھ رواج دینے پر ان کی لابی مسلسل کام کر رہی ہے اور عیسائی دنیا اور نئی مسلم دنیا بھی ان کے طلسمِ ہوش ربا کا شکار ہو کر ان کی باتیں بے سوچے سمجھے دہرانے میں لگی ہوئی ہے، بلکہ اسی کو رواج دینے میں اپنا کمال اور اپنی ترقی تصور کرتی ہے، فَيَا لَلْعَجَبِ۔
مسلمانو! غیرت کا تقاضا یہ ہے کہ وہ مغرب کی شاگردی چھوڑ کر خود اپنی استادی کا حق ادا کریں اور اپنے دین کی روشنی میں اپنی معیشت، معاشرت، طبابت، صنعت و حرفت ہر قسم کا نظام ترتیب دیں مگر افسوس کہ جو حکمران اور تعلیم یافتہ طبقہ اس میدان میں پیش قدمی کا سب سے زیادہ ذمہ دار تھا وہ خود سب سے پہلے مغرب کے افسوں کا شکار ہو چکا ہے۔ اس کے باوجود مغرب کو اسلام کی ذرا سی قوت اور مسلمانوں کی معمولی سی طاقت بھی سراسیمہ کر دیتی ہے۔ جہاد سے یہودیت آج بھی خوف زدہ ہے، اسی لیے عراق و عرب کی جنگی قوتوں کو ختم کرنے اور نام کی مسلم حکومتوں کے بھی بال و پر کترنے کے لیے اس کا دماغ ہر وقت چکر کرتا رہتا ہے۔ مسلم ممالک پر حملے اور ان میں طرح طرح کی اذیتوں میں بالواسطہ اور بلاواسطہ گرفتار کرنے کی سازشیں اسی خوف و سراسیمگی اور اضطراب و بے چینی کا نتیجہ ہیں۔ اگر ہمارا حکمران طبقہ اپنے ذاتی فائدے کو قربان کر کے امتِ مسلمہ کے مفاد کو ترجیح دیتا تو آج دنیا کا نقشہ کچھ اور ہی ہوتا، مگر جو مادیت اور منفعت کی اندھی حرص میں پڑ گیا اس کا دماغ اپنے دین اور اپنی قوم کی منفعت کہاں سوچ سکتا ہے؟
عام مسلمانوں کا جو فریضہ ہے وہ ان پر بہرحال عائد ہوتا ہے اور وہی اس وقت اسلام کی کشتی اسی طرح لے کر چل سکتے ہیں۔ وہ اگر یہودیت کے جال کو سمجھتے ہوئے شیطانی تہذیب سے دوری اور ربانی احکام کی پابندی پر کاربند ہو جائیں تو یہودیت کا خواب پورے طور سے کبھی شرمندۂ تعبیر نہیں ہو سکتا۔
دینِ حنیف سے مسلمانوں کی وابستگی اور مغربیت کے تیز جھونکوں کی ضد پر اسلامی احکام اور اسلامی تہذیب و ثقافت کا چراغ جلانے کی روش ان کی روحانیت کو ضرور قوت دے گی اور ان کے اندر طاقتور ایمان اور ان کے پاکیزہ ماحول کا اثر انگیز اسلام شیطانی قوتوں کی تسخیر کے میدان میں ایک دن ضرور رنگ لا کر رہے گا۔
کاش مسلمان اپنی قوت پہچانیں، اپنے دین کی قدر کریں، اپنے احکام کی عظمت سمجھیں، اپنے دشمنوں کے پھیلے ہوئے جال سے چوکنا رہیں، نہ ان کی تہذیب اپنائیں، نہ روزہ نماز اور دیگر احکامِ اسلام کو ترک کر کے دشمن کے منصوبے کو کامیاب کریں، نہ اپنی روحانی و ایمانی قوت گھٹائیں، نہ اپنا ضمیر اور دل مردہ و خوابیدہ ہونے دیں، بلکہ نفس و شیطان اور ان کے آلہ کار انسانوں کو خوب پہچان کر ان کے ہر حربے کو ناکام بنائیں۔ لباس، تہذیب، معاشرت، عادات و اطوار، رہن سہن، معاملات ہر راہ سے آج ان کے اوپر حملہ ہو رہا ہے۔ خدارا حملہ آوروں کی مدد کر کے اپنی موت کا سامان نہ کریں، بلکہ ایک زندہ قوم اور ایک زندہ و تابندہ اسلامی تشخص کے ساتھ جینے کی تدبیر کریں اور یہ سمجھ لیں کہ اسلامی حکومتوں کی توانائی کے زمانے میں تو ایک مسلمان کا گناہ صرف اس کی خرابی تک محدود رہ سکتا تھا کیونکہ دوسروں کو بچانے والی قوتیں موجود تھیں، مگر آج گناہوں کو اپنانے کا مطلب ہے باطل کے خفیہ منصوبوں کو کامیاب بنانا اور اپنے ہی کو نہیں بلکہ اپنے معاشرے اور اپنی قوم کو بھی تباہی کے دہانے تک پہنچانا۔ آج ہمیں اپنے ظاہری و باطنی اسلحوں اور اپنی روحانی قوتوں سے آراستہ ہونے کی ضرورت ہے۔
وَاللّٰهُ الْمُسْتَعَانُ وَعَلَيْهِ التُّكْلَانُ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَىٰ حَبِيبِهِ سَيِّدِ الْإِنْسِ وَالْجَانِّ وَعَلَىٰ آلِهِ وَصَحْبِهِ مَا تَعَاقَبَ الْمَلَوَانِ.
[حوالہ: مقالاتِ مصباحی]
