| عنوان: | پیغمبر خدا قانون داں بھی قانون ساز بھی |
|---|---|
| تحریر: | شارح بخاری علامہ مفتی شریف الحق امجدی رحمۃ اللہ علیہ |
| پیش کش: | محمد سجاد علی قادری ادریسی |
قانون ساز اور قانون داں یہ دو لفظ عرف میں الگ الگ معنی کے لیے آتے ہیں۔ قانون داں کے معنی ہیں، قانون جاننے والا، جس کی حیثیت صرف قانون کی کلیات و جزئیات کے معتد بہ حصے پر عبور کی ہوتی ہے، ساتھ ہی ساتھ اس کے اندر اتنی مہارت ضروری ہے کہ وہ ہر نئے پیش آنے والے حادثے کا حکم قانون کی کلیات سے یا اس کی مثل و نظیر دوسری جزئی سے قیاس کر کے نکال سکے جس کی مثال وکیل اور بیرسٹر ہیں کہ یہ لوگ صرف قانون داں ہوتے ہیں۔ خواہ وہ کتنے ہی قابل، ذہین، فطین ہوں یہ لوگ قانون کی دفعات یا اس کی عبارت میں کوئی ادنیٰ ردو بدل نہیں کر سکتے۔ قانون کے اصطلاحی معنوں میں کوئی تغیر نہیں کر سکتے۔ اگرچہ ان میں اتنی صلاحیت ہوتی ہے کہ وہ نئے مقدمات کے لیے قانون کی دفعات سے احکام نکال لیتے ہیں اور اسے اپنے دعوے کے مطابق کرنے کے لیے ہفتوں، مہینوں بحث و تمحیص کر سکتے ہیں، مگر قانون میں کوئی ترمیم نہیں کر سکتے۔
شریعتِ اسلامیہ میں ان کی نظیر علمائے دین ہیں جو شریعت کے اصول و فروع پر حاوی ہوتے ہیں۔ اتنی استعداد رکھتے ہیں کہ کوئی نیا واقعہ رونما ہو تو اس کا حکم استخراج کر لیتے ہیں۔ حتیٰ کہ مسائلِ شرعیہ پر اعتراض کرنے والوں کو دندان شکن جواب دے لیتے ہیں، مگر شریعت کے کسی حکم کو بدل نہیں سکتے اس میں کوئی ترمیم نہیں کر سکتے اس کے الفاظ کو نیا معنیٰ نہیں پہنا سکتے۔
رہ گیا قانون ساز تو یہ لفظ اس بااختیار ہستی پر اطلاق کیا جاتا ہے جو جب چاہے خواہ باختیارِ خود یا باذنِ مختارِ مطلق قانون کی جس دفعہ کو چاہے منسوخ کر دے، اس میں ردو بدل کر دے۔ الفاظ کے نئے معنی معین کر دے، جن افراد کو چاہے جس قانون سے چاہے مستثنیٰ کر دے۔ اس کی ایک مثال ہمارے معاشرے میں شہنشاہ کی ہے کہ وہ اپنی مملکت کا آمرِ مطلق ہوتا ہے، جو چاہتا ہے کرتا ہے، جو قانون چاہتا ہے ختم کر دیتا ہے جسے چاہتا ہے جس قانون سے چاہتا ہے مستثنیٰ کر دیتا ہے۔ دوسری مثال وزیرِ قانون کی ہے کہ وہ شہنشاہ کے باذن و اختیار سے قانون بناتا ہے، اس میں ترمیم و تبدیل کرتا ہے۔
اب جب قانون داں اور قانون ساز دونوں الفاظ کے معنی ذہن نشین ہو گئے تو اب آئیے شریعتِ اسلامیہ کی تاسیس کا ایک تحقیقی جائزہ لیں اور یہ تلاش کریں کہ حضور سیدِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیثیت صرف قانون داں کی تھی یا یہ کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم باذن اللہ قانون ساز بھی تھے۔
- اس بحث کے چند پہلو ہیں، ایک یہ کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم باذن اللہ قانون ساز تھے قرآن کی روشنی میں۔
- آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم قانون ساز ہیں احادیث کی روشنی میں۔
- آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم قانون ساز ہیں شواہد کی روشنی میں۔
- اس بارے میں امت کا عقیدہ آج سے پہلے کیا رہا اور کیا ہے۔
1۔ آیات:
آیاتِ قرآنِ کریم پر اگر کوئی تحقیقی نظر ڈالے تو اسے اس بارے میں صدہا نصوص مل جائیں گے۔ سرسری نظر ڈالنے پر بھی جو نصوص سامنے ہیں وہ کم نہیں۔
آپ قرآنِ مجید کی تلاوت کریں، جگہ جگہ ملے گا اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو۔ جس نے اللہ عزوجل اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کی وہ فاسق و ظالم ہے، اس کا ٹھکانا جہنم ہے۔ اللہ عزوجل کے مختارِ مطلق ہونے کے بارے میں کسی مدعیِ اسلام کو ادنیٰ شبہ نہیں ہو سکتا۔ اس کی شان تو فَعَّالٌ لِمَا يُرِيدُ اور يَحْكُمُ مَا يَشَاءُ ہے۔ اللہ عزوجل کی اطاعت و عصیان کے موازی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کا حکم اور عصیان کی ممانعت اس کی دلیل ہے کہ اس باب میں مختار و ماذون، عطائی و ذاتی، وجوب و امکان، حدوث و قدم وغیرہ کا فرق تو ہے مگر واجب الاتباع و مطاع دونوں ہیں۔ اس لیے ماننا پڑے گا کہ جس طرح اللہ عزوجل شریعت میں نسخ، ترمیم، تبدیل، تخصیص، تقیید کر سکتا ہے، اس کے اذن سے اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم بھی یہ سب اختیار رکھتے ہیں، اور یہی معنیٰ قانون ساز کے ہیں۔ ان عمومی ارشادات کے علاوہ آئیے چند خصوصی ارشادات ملاحظہ کریں، ارشاد ہے:
قُلْ إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ
ترجمہ: فرما دو! اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو میری اتباع کرو، اللہ تم کو محبوب بنا لے گا۔ [سورۃ آل عمران: 31]
اور ہر شخص جانتا ہے کہ اتباع کا یہی مطلب ہے کہ جو حکم دیا جائے اس کو مانا جائے اور اس پر عمل کیا جائے۔ اس سے صاف ظاہر ہو گیا کہ رسول جو حکم دیں اس کا ماننا لازم ہے تو ثابت ہو گیا کہ رسول کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ امت کو جو چاہیں حکم دیں، یہی قانون ساز کے معنی ہیں، اور فرمایا گیا:
وَمَنْ يُشَاقِقِ الرَّسُولَ مِنْ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُ الْهُدَىٰ وَيَتَّبِعْ غَيْرَ سَبِيلِ الْمُؤْمِنِينَ نُوَلِّهِ مَا تَوَلَّىٰ وَنُصْلِهِ جَهَنَّمَ وَسَاءَتْ مَصِيرًا
ترجمہ: حق ظاہر ہو جانے کے بعد جو بھی رسول کی مخالفت کرے، اور مومنوں کے راستے کے علاوہ کوئی اور راستہ پکڑے ہم اس کو اسی طرف پھیر دیں گے جدھر وہ مڑا اور اسے جہنم میں ڈالیں گے اور یہ برا ٹھکانا ہے۔ [سورۃ النساء: 115]
رسول کی مخالفت یہی ہے کہ وہ جو فرمائیں نہ مانا جائے اس پر عمل نہ کیا جائے، یہ اسی بنا پر ہے کہ ان کا ہر حکم قانونِ شریعت ہے اور جس کا حکم ہر قانونِ شریعت ہوتا ہے، وہ قانون ساز ہوتا ہے، صرف قانون داں نہیں۔ اور سنیے سورۂ نور میں ہے:
فَلْيَحْذَرِ الَّذِينَ يُخَالِفُونَ عَنْ أَمْرِهِ أَنْ تُصِيبَهُمْ فِتْنَةٌ أَوْ يُصِيبَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ
ترجمہ: جو لوگ رسول کے حکم کی مخالفت کرتے ہیں وہ ڈریں کہیں ان کو فتنہ نہ آئے یا درد ناک عذاب نہ پہنچے۔ [سورۃ النور: 63]
رسول کے حکم کی مخالفت کرنے والے پر یہ وعید اسی لیے ہے کہ ان کے کسی حکم کی خلاف ورزی شریعت کی خلاف ورزی ہے، اور یہ حیثیت شریعت ساز کی ہو سکتی ہے صرف شریعت داں کی نہیں۔ لیجیے سورۂ احزاب کی آیت ہے:
وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَلَا مُؤْمِنَةٍ إِذَا قَضَى اللّٰهُ وَرَسُولُهُ أَمْرًا أَنْ يَكُونَ لَهُمُ الْخِيَرَةُ مِنْ أَمْرِهِمْ وَمَنْ يَعْصِ اللّٰهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ ضَلَّ ضَلَالًا مُبِينًا
ترجمہ: کسی مسلمان مرد یا مسلمان عورت کی مجال نہیں کہ اللہ و رسول کوئی حکم فرما دیں تو انہیں اپنے معاملے کا اختیار رہے اور جو اللہ و رسول کا حکم نہ مانے وہ بلاشبہ کھلے بندوں گمراہ ہوگا۔ [سورۃ الاحزاب: 36]
اس آیتِ کریمہ کی مراد کی توضیح کے لیے اس کا شانِ نزول بھی سنتے چلیے۔ حضور سیدِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے متبنیٰ زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کے نکاح کا پیام زینب بنت جحش رضی اللہ تعالیٰ عنہا اور ان کے بھائی کو دیا، ان لوگوں نے نامنظور کیا۔ اس پر یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی۔ غور کیجیے! زید بن حارثہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حضرت زینب کا نکاح ہونا حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہی نے بنفسِ نفیس طے فرمایا۔ خود ہی پیام دیا، اس بارے میں کوئی آیت نہیں اتری تھی، مگر اسے نامنظور کرنے پر اتنی سخت وعید آئی اور اسے اللہ کا بھی حکم فرمایا گیا، اس کی نافرمانی اللہ کے حکم کی نافرمانی قرار دی گئی۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی حیثیت صرف قانون داں کی نہیں قانون ساز کی بھی ہے۔
2۔ احادیث:
-
تَرَكْتُ فِيكُمْ أَمْرَيْنِ لَنْ تَضِلُّوا مَا تَمَسَّكْتُمْ بِهِمَا كِتَابَ اللّٰهِ وَسُنَّةَ نَبِيِّهِ.
ترجمہ: میں نے تم میں دو چیزیں چھوڑی ہیں جب تک ان دونوں کے پابند رہو گے ہرگز گمراہ نہ ہو گے، کتاب اللہ اور سنتِ رسول اللہ۔
کتاب اللہ کے قانونِ شریعت ہونے میں کسی کو انکار کی گنجائش نہیں۔ اس کے موازی آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے سنتِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی رکھا، جس سے معلوم ہوا کہ سنتِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی قانونِ شریعت ہے اور یہ اسی وقت صحیح ہو سکتا ہے کہ حضور سیدِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم کو قانون ساز تسلیم کیا جائے، جن کے ارشاد، کردار اور تقریر کا نام سنت ہے۔
-
حضرت مقدام بن معدی کرب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے جسے ابو داؤد، ابنِ ماجہ، دارمی نے نقل فرمایا۔ ارشاد ہے:
أَلَا يُوشِكُ رَجُلٌ شَبْعَانُ عَلَى أَرِيكَتِهِ يَقُولُ عَلَيْكُمْ بِهٰذَا الْقُرْآنِ فَمَا وَجَدْتُمْ فِيهِ مِنْ حَلَالٍ فَأَحِلُّوهُ وَمَا وَجَدْتُمْ فِيهِ مِنْ حَرَامٍ فَحَرِّمُوهُ وَإِنَّ مَا حَرَّمَ رَسُولُ اللّٰهِ كَمَا حَرَّمَ اللّٰهُ.
ترجمہ: کوئی پیٹ بھرا اپنی مسند پر بیٹھا یہ نہ کہنے لگے: تم صرف قرآن کے پابند رہو اس میں جو حلال پاؤ اسے حلال جانو، اور اس میں جو حرام پاؤ اسے حرام جانو۔ حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جسے حرام فرما دیا وہ اسی کے مثل ہے جسے اللہ نے حرام فرمایا۔
-
امام ابو داؤد نے حضرت عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ سے اسی کے ہم معنیٰ روایت کی، اس میں یہ ارشاد فرمایا:
أَلَا وَإِنِّي وَاللّٰهِ قَدْ أَمَرْتُ وَنَهَيْتُ عَنْ أَشْيَاءَ إِنَّهَا لَمِثْلُ الْقُرْآنِ.
ترجمہ: سنو! قسم خدا کی میں نے کچھ چیزوں کا حکم فرمایا ہے اور کچھ چیزوں سے منع فرمایا ہے، بے شک وہ قرآن کے مثل ہیں۔
-
امام ترمذی، ابو داؤد و ابنِ ماجہ اور امام بیہقی نے حضرت ابو رافع رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اسی کے مثل روایت فرمائی، اس میں ارشاد ہے:
لَا أُلْفِيَنَّ أَحَدَكُمْ مُتَّكِئًا عَلَى أَرِيكَتِهِ يَأْتِيهِ الْأَمْرُ مِنْ أَمْرِي مِمَّا أَمَرْتُ بِهِ أَوْ نَهَيْتُ عَنْهُ فَيَقُولُ لَا نَدْرِي مَا وَجَدْنَا فِي كِتَابِ اللّٰهِ اتَّبَعْنَاهُ.
ترجمہ: اپنی مسند پر ٹیک لگائے کسی کو یہ کہتے نہ پاؤں کہ جب اس کے پاس کوئی چیز میری فرمودہ یا میری منع کردہ آئے تو کہہ دے ہم نہیں جانتے۔ ہم نے جو کتاب اللہ میں پایا اس کی اتباع کی۔
ان احادیث کو پڑھیے اور دیکھیے جن لوگوں نے صرف اللہ کے حلال کیے ہوئے کو حلال جانا اور اللہ کے حرام کیے ہوئے کو حرام اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حلال کیے ہوئے کو حلال اور حرام کیے ہوئے کو حرام نہیں جانا ان پر کتنا شدید غضب فرمایا۔ اور بلا کسی اشتباہ کے فرمایا کہ میری حلال کردہ اشیاء اور حرام کردہ اشیاء اسی کے مثل ہیں جنہیں اللہ نے حلال یا حرام فرمایا۔ کیا کسی قانون داں کا قول، قانون ساز کے قول کے مثل ہو سکتا ہے؟ کیا جو قانون داں اور قانون ساز کے اقوال میں تفریق کرے وہ اس شدید غضب کا مستحق ہے؟ اگر اس کا جواب نفی میں ہے اور ضرور نفی میں ہے تو جو لوگ اللہ عزوجل کو قانون ساز مانتے ہیں انہیں ماننا پڑے گا کہ حضور سیدِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم بھی ضرور بالضرور قانون ساز ہیں۔
-
امام مالک و احمد و بخاری و مسلم و نسائی و ابنِ ماجہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت فرماتے ہیں کہ ارشاد فرمایا:
لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي لَأَمَرْتُهُمْ بِالسِّوَاكِ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ.
ترجمہ: اگر میری امت پر شاق نہ ہوتا تو میں ہر نماز کے وقت مسواک کا حکم فرما دیتا۔
تیسیر وغیرہ میں اس حدیث کو متواتر بتایا ہے، انہیں ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے امام احمد و نسائی نے یوں روایت فرمائی کہ ارشاد ہوا:
لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي لَأَمَرْتُهُمْ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ بِوُضُوءٍ وَمَعَ كُلِّ وُضُوءٍ بِسِوَاكٍ.
ترجمہ: اگر اس کا لحاظ نہ ہوتا کہ میری امت پر شاق ہوگا تو انہیں حکم دیتا کہ ہر نماز کے وقت وضو کریں اور ہر وضو کے ساتھ مسواک کریں۔
-
ابنِ ماجہ حضرت ابو امامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے راوی ہیں کہ یوں ارشاد ہوا:
لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي لَفَرَضْتُهُ عَلَيْهِمْ.
ترجمہ: اگر میری امت کی مشقت کا خوف نہ ہوتا تو مسواک ان پر فرض کر دیتا۔
-
امام ابو نعیم حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے راوی ہیں کہ ارشاد فرمایا:
لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي لَأَمَرْتُهُمْ أَنْ يَسْتَاكُوا بِالْأَسْحَارِ.
ترجمہ: اس کا لحاظ نہ ہوتا کہ میری امت پر شاق ہو تو میں حکم فرما دیتا کہ ہر پچھلے پہر مسواک کریں۔
-
امام بخاری و مسلم و نسائی حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت کرتے ہیں:
لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي لَأَمَرْتُهُمْ أَنْ يُصَلُّوهَا هٰكَذَا (يَعْنِي الْعِشَاءَ نِصْفَ اللَّيْلِ).
ترجمہ: اگر میری امت پر شاق ہونے کا خیال نہ ہوتا تو میں حکم دیتا کہ اسے یعنی عشاء کو اس وقت یعنی آدھی رات کو پڑھیں۔
غور کیجیے! ہر نماز کے وقت وضو یا مسواک یا ہر وضو کے ساتھ مسواک یا ہر صبح کو مسواک یا نمازِ عشاء کا نصفِ لیل تک مؤخر کرنا فرض نہیں، مگر حضور سیدِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اس کا لحاظ ہے کہ ان چیزوں کو فرض فرما دینے سے امت مشقت میں پڑ جائے گی ورنہ ان چیزوں کو فرض کر دیتا مگر چونکہ ان کے فرض کر دینے سے امت مشقت میں پڑ جائے گی، اس لیے میں نے ان کو فرض نہیں فرمایا۔
-
یہ قول کسی قانون داں کا نہیں ہو سکتا یہ قول صرف قانون ساز کا ہو سکتا ہے، فرماتے ہیں:
إِنِّي أُحَرِّجُ عَلَيْكُمْ حَقَّ الضَّعِيفَيْنِ الْيَتِيمِ وَالْمَرْأَةِ.
ترجمہ: میں دو کمزوروں کی حق تلفی تم پر حرام کرتا ہوں: یتیم اور عورت۔ (متفق علیہ)
-
لَا تَشْرَبْ مُسْكِرًا فَإِنِّي حَرَّمْتُ كُلَّ مُسْكِرٍ.
ترجمہ: نشے کی کوئی چیز نہ پی، میں نے ہر نشہ آور حرام فرما دیا۔
3۔ شواہد:
شواہد و نظائر بھی اس باب میں اتنے کثیر ہیں کہ ان سب کا احاطہ دشوار ہے۔ بلکہ جو فقیر کے علم میں اس وقت ہیں ان سب کا بھی یہ نمبر متحمل نہیں ہو سکتا۔ اس لیے چند پر اکتفا کرتا ہوں۔
-
صحاح ستہ میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے:
ایک صاحب حاضر ہوئے، عرض کی: میں ہلاک ہو گیا۔ فرمایا کیا بات ہے؟ عرض کی، میں نے رمضان میں اپنی بیوی سے ہم بستری کر لی ہے۔ فرمایا: ایک غلام آزاد کر سکتا ہے؟ عرض کی نہیں، فرمایا کیا ایسی طاقت ہے کہ مسلسل ساٹھ روزے رکھے، عرض کی، نہیں۔ فرمایا: کیا اتنی استطاعت ہے کہ ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلائے؟ عرض کی، نہیں۔ اتنے میں پندرہ صاع (سوا دو من) خرمے کسی نے پیش کیے۔ فرمایا: انہیں خیرات کر دے۔ عرض کی اپنے سے زیادہ محتاج پر؟ مدینہ بھر میں کوئی گھر ہمارے برابر محتاج نہیں۔ یہ سن کر سیدِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم اتنا ہنسے کہ دندانِ مبارک ظاہر ہو گئے، فرمایا: جا، اپنے گھر والوں کو کھلا دے۔
-
اسی کے مثل کفارۂ ظہار میں وارد ہے:
ظہار اور روزے کا کفارہ یہ مقرر ہے کہ وہ غلام آزاد کرے، اس کی استطاعت نہ ہو تو دو مہینے میں لگاتار روزے رکھے۔ اس کی طاقت نہ ہو تو ساٹھ مسکینوں کو دونوں وقت پیٹ بھر کھانا کھلائے۔ مگر یہ حضور سیدِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی شانِ قانون سازی ہے کہ ان دونوں صاحبوں کو اس کفارے سے مستثنیٰ فرما دیا، نہ صرف یہ کہ مستثنیٰ فرما دیا، بلکہ انہیں اتنے کثیر خرمے عطا فرمائے۔
-
امام احمد مسند میں ثقات رجالِ صحیح مسلم سے روایت فرماتے ہیں کہ ایک شخص آئے اور اس شرط پر اسلام لائے کہ صرف دو ہی نمازیں پڑھوں گا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قبول فرما لیا۔ کیا صرف قانون داں کی حیثیت ہے کہ وہ اللہ کی فرض کی ہوئی تین نمازوں کو معاف کر دے۔ یہ صرف قانون ساز کا عہدہ ہے۔
-
حارث بن اسامہ نے نعمان بن بشیر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے اور خود حضرت خزیمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے، مصنف ابنِ ابی شیبہ و تاریخ بخاری و مسند ابو یعلیٰ و ابنِ خزیمہ اور معجم کبیر طبرانی میں مروی ہے کہ فرمایا:
مَنْ شَهِدَ لَهُ خُزَيْمَةُ فَهُوَ حَسْبُهُ.
ترجمہ: خزیمہ کسی کے موافق یا مخالف گواہی دیں ان کی تنہا گواہی کافی ہے۔
حالانکہ قرآنِ کریم میں ہے:
وَأَشْهِدُوا ذَوَيْ عَدْلٍ مِنْكُمْ
ترجمہ: تم میں سے دو عادل گواہی دیں۔
مگر آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت خزیمہ کی تنہا شہادت کو دو کے برابر فرما دیا، یہ دلیل ہے کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم قانون ساز ہیں۔
-
سونا اور ریشمی کپڑا مردوں کے لیے حرام ہے۔ مگر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت براء کے لیے سونے کی انگوٹھی اور حضرت سراقہ کے لیے کسریٰ کے زریں کنگن اور حضرت عبد الرحمن بن عوف و زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے لیے خارش کے وقت ریشمی لباس حلال فرمایا۔
-
حکام کے لیے تحفے قبول کرنا جائز نہیں، مگر حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے لیے حلال فرمایا۔ (سیف فی کتاب الفتوح)
-
فرماتے ہیں:
قَدْ عَفَوْتُ عَنِ الْخَيْلِ وَالرَّقِيقِ فَهَاتُوا صَدَقَةَ الرِّقَّةِ مِنْ كُلِّ أَرْبَعِينَ دِرْهَمًا دِرْهَمٌ.
ترجمہ: میں نے گھوڑوں اور غلاموں کی زکوٰۃ معاف کر دی، روپوں کی زکوٰۃ دو ہر چالیس درہم میں ایک درہم ہے۔
صحیحین اور مسندِ امام احمد اور شرح معانی الآثار میں حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ فرمایا:
اللّٰهُمَّ إِنَّ إِبْرَاهِيمَ حَرَّمَ مَكَّةَ وَإِنِّي أُحَرِّمُ مَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا.
ترجمہ: اے اللہ! ابراہیم نے مکہ کو حرم کر دیا اور میں (مدینہ کی) دونوں پہاڑیوں کے درمیان کو حرم بناتا ہوں۔ ”یعنی مدینۂ طیبہ کو“۔
-
حجۃ الوداع کا موقع ہے، حرمِ مکہ کے احکام بیان فرما رہے ہیں، ارشاد ہوا۔ اس کا میدان نہ صاف کیا جائے یعنی گھاس نہ چھیلی جائے۔ حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کھڑے ہو کر عرض کی:
إِلَّا الْإِذْخِرَ فَإِنَّهُ لِقَيْنِهِمْ وَبُيُوتِهِمْ.
ترجمہ: سوائے اذخر کے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! اس لیے کہ یہ ان کی بھٹی کے لیے ہے اور ان کے گھروں کے لیے ہے۔
فوراً بلا تاخیر اس کا استثنا فرما دیا۔ حجۃ الوداع کا موقع ہے۔ حضور سیدِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم حج کی فرضیت بیان فرما رہے ہیں کہ اقرع بن حابس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کھڑے ہوئے عرض کیا:
أَلِعَامِنَا هٰذَا أَمْ لِلْأَبَدِ.
کیا اسی سال کے لیے یا ہمیشہ کے لیے۔
فرمایا: ہمیشہ کے لیے۔ اگر میں ہاں کہہ دوں تو ہر سال کے لیے واجب ہو جائے۔
ان شواہد کو دیکھیے کیا یہ سب پکار پکار کر نہیں بتا رہے ہیں کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم قانون ساز ہیں۔ صرف قانون داں نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ احناف کے نزدیک حدیث سے قرآنِ مجید کا نسخ جائز ہے۔ مرقات میں ہے:
قَدْ ثَبَتَ عِنْدَ الْحَنَفِيَّةِ أَنَّ الْحَدِيثَ يَكُونُ نَاسِخًا لِلْكِتَابِ.
ترجمہ: حنفیہ کے نزدیک ثابت ہے کہ حدیث کتاب اللہ کی ناسخ ہو سکتی ہے۔
اور یہ حدیثِ صحیح سے ثابت ہے کہ ارشاد فرمایا:
كَلَامِي يَنْسَخُ بَعْضُهُ بَعْضًا كَنَسْخِ الْقُرْآنِ.
میرا کلام بعض بعض کو منسوخ فرما دیتا ہے جیسے قرآن کو منسوخ کرتا ہے۔
امت کا عقیدہ:
حضور سیدِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم قانون ساز ہیں۔ اس بارے میں امت کا عقیدہ عہدِ صحابہ سے لے کر یہی رہا ہے کہ حضور سیدِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم قانون ساز ہیں، صرف قانون داں نہیں۔
-
سنن ابی داؤد، ابنِ ماجہ و مسندِ امام طحاوی و معجم طبرانی و بیہقی وغیرہ میں حضرت خزیمہ بن ثابت انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے:
جَعَلَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْمُسَافِرِ ثَلَاثًا وَلَوْ مَضَى السَّائِلُ عَلَى مَسْأَلَتِهِ لَجَعَلَهَا خَمْسًا.
ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسافر کے لیے موزوں پر مسح کی مدت تین دن مقرر فرمائی۔ اگر مانگنے والا مانگے جاتا تو ضرور پانچ دن کر دیتے۔
-
بخاری میں زید بن ثابت انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے:
وَجَدْتُهَا مَعَ خُزَيْمَةَ الَّذِي جَعَلَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَهَادَتَهُ بِشَهَادَتَيْنِ.
ترجمہ: میں نے یہ آیت خزیمہ کے پاس پائی، جن کی شہادت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو گواہوں کے برابر فرمائی۔
-
حرمِ مدینہ کے سلسلے میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں:
نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُعْضَدَ شَجَرُهَا أَوْ يُخْبَطَ أَوْ يُؤْخَذَ طَيْرُهَا.
ترجمہ: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا کہ مدینے کے درخت کاٹے جائیں یا پتے جھاڑے جائیں یا چڑیا پکڑی جائے۔
ان کے علاوہ خود یہی حضرت ابو ہریرہ، انس بن مالک، سعد بن ابی وقاص، زید بن ثابت، ابو سعید خدری، عبد الرحمن بن عوف، صعب بن جثامہ، رافع بن خدیج، خبیب بن ہذلی، اور جابر بن عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے فرمایا:
حَرَّمَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا بَيْنَ لَابَتَيِ الْمَدِينَةِ وَلَابَتَيْهَا شَجَرَهَا أَنْ يُعْضَدَ أَوْ يُخْبَطَ حَرَّمَ صَيْدَهَا حَرَّمَ الْبَقِيعَ بِاخْتِلَافِ الْأَلْفَاظِ بَعْضُهُمْ بَعْضًا.
ترجمہ: مدینہ کی دونوں پہاڑیوں کے مابین حرم بنایا۔ اس کے درخت کاٹنا یا پتے کا جھاڑنا حرام فرمایا، اس کا شکار حرام فرمایا بقیع کو حرم بنایا۔
یہ دس صحابۂ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کے ارشادات ہیں کہ انہوں نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ کو حرم بنایا اس کے درخت کاٹنا پتے جھاڑنا، اس کی چڑیا پکڑنا حرام فرمایا۔ حرام کرنے کی اسناد حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کرنی اس کی دلیل ہے کہ ان سب کا عقیدہ تھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کا اختیار تھا کہ جس چیز کو چاہیں حلال فرما دیں، جسے چاہیں حرام فرما دیں۔ اسناد میں اصل حقیقت ہے جب تک کوئی قرینۂ صارفہ نہ ہو، جو یہاں منتفی ہے تو ثابت ہو گیا کہ صحابۂ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کا عقیدہ یہی تھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم قانون ساز ہیں۔
-
حضرت براء بن عازب رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں:
نَهَانَا رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ خَاتَمِ الذَّهَبِ.
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سونے کی انگوٹھی پہننے سے منع فرمایا۔
-
حضرت خنیس بن اویس نخعی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے خدمتِ اقدس میں حاضر ہو کر ایک قصیدۂ مدحیہ عرض کیا، جس میں ہے:
شَرَعْتَ لَنَا دِينَ الْحَنِيفَةِ بَعْدَمَا
عَبَدْنَا كَأَمْثَالِ الْحَمِيرِ طَوَاغِيَاہمارے لیے دینِ حنیفہ کی آپ نے تشریح فرمائی اس کے بعد کہ ہم گدھوں کی طرح بتوں کو پوجتے تھے۔
-
امام قدوری فرماتے ہیں:
سَنَّ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْغُسْلَ لِلْجُمُعَةِ وَالْعِيدَيْنِ وَالْإِحْرَامِ وَعَرَفَةَ.
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسنون فرمایا غسل، جمعہ اور عیدین اور احرام اور عرفہ کے دن۔
سَنَّ کی اسناد حضور سیدِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کرنی اس بات کی دلیل ہے کہ ان کا عقیدہ تھا کہ حضور سیدِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم قانون ساز ہیں۔
-
امام عبد الوہاب شعرانی قدس سرہ ”میزان الشریعۃ الکبریٰ“ میں فرماتے ہیں:
كَانَ الْحَقُّ تَعَالَىٰ جَعَلَ لَهُ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُشَرِّعَ مِنْ قِبَلِ نَفْسِهِ مَا شَاءَ.
اللہ عزوجل نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ اختیار دے رکھا تھا کہ اپنی طرف سے جو چاہیں مشروع فرما دیں۔
-
امام احمد خطیب قسطلانی ”مواہب“ میں فرماتے ہیں:
مِنْ خَصَائِصِهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ يَخُصُّ مَنْ شَاءَ مِنَ الْأَحْكَامِ.
سیدِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے خصائص میں سے یہ ہے کہ شریعت کے احکام میں جسے چاہیں جس حکم سے چاہیں مستثنیٰ فرما دیں۔
-
علامہ زرقانی نے اس کی شرح میں اضافہ فرمایا:
مِنَ الْأَحْكَامِ وَغَيْرِهَا.
احکام کی تخصیص نہیں جس چیز سے چاہیں جسے چاہیں خاص فرما دیں۔
-
علامہ اجل سیوطی قدس سرہ نے ”خصائصِ کبریٰ“ میں اس مضمون کا ایک باب منعقد فرمایا:
بَابُ اخْتِصَاصِهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَنَّهُ يَخُصُّ مَنْ شَاءَ بِمَا شَاءَ مِنَ الْأَحْكَامِ.
اس کا بیان کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس منصب کے ساتھ ہیں کہ جسے چاہیں جس حکم سے چاہیں خاص فرما دیں۔
-
علامہ محمد بن عبد الباقی زرقانی شرحِ مواہب میں فرماتے ہیں:
قَدِ اشْتَهَرَ إِطْلَاقُهُ عَلَيْهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَنَّهُ شَرَعَ الدِّينَ وَالْأَحْكَامَ.
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو شارع کہنا مشہور ہے اس لیے کہ حضور نے دین اور احکام کی تشریع فرمائی۔
-
قصیدۂ بردہ شریف میں ہے:
نَبِيُّنَا الْآمِرُ النَّاهِي فَلَا أَحَدٌ
أَبَرَّ فِي قَوْلِ لَا مِنْهُ وَلَا نَعَمِہمارے نبی آمر اور ناہی ہیں۔ ”ہاں“ اور ”نہیں“ کہنے میں ان سے زیادہ کوئی سچا نہیں۔
-
علامہ شہاب خفاجی اس شعر کی شرح میں فرماتے ہیں:
مَعْنَى نَبِيِّنَا الْآمِرِ إِلَخْ أَنَّهُ لَا حَاكِمَ سِوَاهُ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَهُوَ حَاكِمٌ غَيْرُ مَحْكُومٍ.
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے آمر و ناہی ہونے کے معنی یہ ہیں حضور حاکم ہیں، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا عالم میں کوئی حاکم نہیں، وہ کسی کے محکوم نہیں۔
اور آج اس بارے میں امت کا کیا عقیدہ ہے یہ معلوم کرنا ہو تو ترجمانِ ملت مجددِ وقت اعلیٰ حضرت قدس سرہ کا رسالۂ مبارکہ ”منبہ اللبیب“ اور ”الامن والعلیٰ“ کا مطالعہ کریں۔
