Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...
مضمون نگار
موضوعات
کل مضامین
بولتے مضامین

خانقاہ برکاتیہ کے علمی اور روحانی چشم و چراغ حسان الہند حضرت نظمی میاں قادری علی الرحمہ

خانقاہِ برکاتیہ کے علمی اور روحانی چشم و چراغ حسان الہند حضرت نظمی میاں قادری علیہ الرحمہ
عنوان: خانقاہِ برکاتیہ کے علمی اور روحانی چشم و چراغ حسان الہند حضرت نظمی میاں قادری علیہ الرحمہ
تحریر: مبارک حسین مصباحی
پیش کش: محمد صابر عطاری

مرشد طریقت حسان الہند سید ملت حضرت سید شاہ آل رسول حسنین میاں نظمی برکاتی علیہ الرحمہ کا یکم محرم الحرام ۱۴۳۵ھ / ۶ نومبر ۲۰۱۳ء کو وصالِ پرملال ہو گیا، اللہ تعالیٰ اپنے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے طفیل مرقدِ نظمی کو جنت الفردوس بنا دے۔ ان سطروں کے لکھنے والے نے حضرت کی بار بار زیارت کی، گفتگو کا شرف حاصل کیا، حضرت بجائے خود خاندانی وجاہت اور ذاتی اوصاف و کمالات کے جامع تھے، آپ ایک بلند پایہ صحافی اور عظیم نثر نگار تھے، آپ نے اردو، ہندی، سنسکرت اور انگریزی میں بھی بلند پایہ شاعری کی ہے۔ حضرت بلا شبہ ایک آفاقی قلم کار، اپنے عہد میں اپنے لب و لہجہ کے منفرد شاعر تھے، بلکہ سچی بات یہ ہے کہ آپ نے جتنی طویل بحروں میں نعتیں کہی ہیں، اس کی مثال پوری اردو دنیا پیش کرنے سے قاصر ہے۔ مگر ان سارے اوصاف و محاسن سے بلند ایک چیز ہے جس نے جہانِ اہلِ سنت کو ان کا شیدائی اور فدائی بنا رکھا ہے، وہ ان کی روحانی عظمت ہے۔ اس روحانی عظمت میں ان کا خاندانی وقار صاف نظر آتا تھا، ان کی عبادت و ریاضت، ان کا زہد و تقویٰ اور ان کی سادگی و پاکیزگی اپنی مثال آپ تھی۔ وہ وعدے کے سچے اور وقت کے پابند تھے، جو کہتے وہی کرتے اور جو کرتے وہی کہتے تھے۔ ان کی علمی، روحانی، ادبی اور شعری تصانیف بھی تین درجن سے زیادہ ہیں جب کہ مختلف اخبارات و رسائل میں شائع ہونے والے مضامین و مقالات کی تعداد بھی کافی ہے۔ حضرت اپنے علم و اخلاق، خدمتِ خلق اور تطہیرِ قلوب میں دور دور تک بے مثال تھے۔ اللہ تعالیٰ ان کے علم و روحانیت کا یہ چشمۂ شیریں اسی طرح جاری رکھے۔

حضرت سید ملت علیہ الرحمہ کے برادرِ خورد رفیقِ ملت حضرت سید شاہ نجیب حیدر قادری برکاتی اپنی خانقاہ کے سال نامہ اہلِ سنت کی آواز میں لکھتے ہیں:

”ابھی اداریہ رقم ہی ہو رہا ہے کہ یہ روح فرسا خبر ملی کہ بھائی صاحب قبلہ سید شاہ آلِ رسول حسنین میاں نظمی ہم سے رخصت ہو گئے۔ بذریعہ فون ممبئی سے یہ اطلاع ملتے ہی خانقاہ برکاتیہ میں تعزیت کرنے والوں کا ہجوم اکٹھا ہو گیا۔ ہر شخص خانوادۂ برکات کے اس سانحۂ عظیم پر رنجیدہ و افسردہ چلا آ رہا تھا، بھائی صاحب نے اپنی زندگی کا ایک بڑا حصہ ممبئی میں گزارا۔ انفارمیشن براڈ کاسٹنگ محکمے میں مختلف اعلیٰ عہدوں پر فائز رہے۔ ملازمت کے آخری سالوں میں شیلانگ پریس انفارمیشن بیورو میں بحیثیت ڈائریکٹر رہتے ہوئے سبک دوش ہوئے۔ حضرت سید ملت خانوادۂ برکاتیہ کی علمی، دینی اور روحانی اقدار و روایات کے امین و پاس دار تھے۔ دینی تعلیم اپنے بزرگوں سے عمر کے ابتدائی سالوں میں حاصل کی۔ اس کے بعد جامعہ ملیہ اسلامیہ دہلی سے اپنی عصری تعلیم مکمل کی۔ پھر مسلسل بڑے ابا حضور سید العلما قدس سرہ کی خدمت میں رہ کر تمام علوم ظاہری اور باطنی کی تکمیل فرمائی، اپنے والد ماجد کی صحبت نے ان کو دینی، دنیاوی علوم اور معاملات میں ہر طرح سے پختہ کر دیا تھا۔ کئی زبانوں میں مہارت رکھتے تھے بالخصوص انگریزی اور اردو زبان پر بڑی دست رسی تھی۔ وہ بیک وقت ایک بہترین نثر نگار اور ایک قادر الکلام شاعر تھے۔ نعتیہ شاعری ان کا مخصوص میدان تھا۔ انھوں نے بہت نعتیں کہیں اور بہت اچھی نعتیں کہیں۔“

شہزادہ احسن العلما حضرت رفیقِ ملت مارہروی مزید اپنے اداریے میں لکھتے ہیں:

”بھائی صاحب کا آخری سفر ممبئی سے شروع ہوا، منارہ مسجد میں ہزاروں وابستگان نے برکاتیت کے نقیب کا آخری دیدار کر کے ممبئی سے ہمیشہ کے لیے رخصت کیا۔ وہاں سے بذریعہ طیارہ ان کا جسدِ مبارک ان کے اہلِ خانہ کے ہم راہ دہلی لایا گیا اور پھر بذریعہ ایمبولینس مارہرہ شریف جنازے کو لائے۔ سب سے پہلے زنان خانے میں زیارت کے واسطے بڑے ابا کے گھر رکھا گیا پھر تقریباً ۱۲ بجے خانقاہ شریف میں جنازے کو لایا گیا جہاں ہزاروں چاہنے والوں کے ہجوم نے اپنے مخدوم زادے کا دیدار کیا اور آخری سلام پیش کیا۔... اہل خاندان اور متوسلین و معتقدین کی موجودگی میں بھائی صاحب قبلہ کو ان کے والد ماجد اور عم محترم قدس سرہم کے پائتانے سپردِ خاک کیا گیا۔ بعد نمازِ عشا جامعہ آل رسول مارہرہ شریف میں تعزیتی جلسہ منعقد ہوا، جس میں کثیر تعداد میں سوگوار احباب و متوسلین نے شرکت کی۔ اس جلسہ میں راقم الحروف، حضرت سید ملت کے فرزندِ اکبر و ولی عہد مولانا سید سبطین حیدر قادری برکاتی سلمہ، برادرِ معظم حضرت شرفِ ملت اور صاحبِ سجادہ حضرت امین ملت دام ظلہ نے اپنے اپنے قلبی تاثرات کا اظہار فرمایا اور حضرت بھائی صاحب علیہ الرحمہ کی حیات و خدمات سے لوگوں کو روشناس کرایا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ حضرت سید ملت کو جنت الفردوس میں اعلیٰ سے اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور ان کے درجات کو بلند سے بلند تر فرمائے، ان کے جملہ متعلقین، اہل و عیال اور وابستگان کو صبرِ جمیل کامل عطا فرمائے۔ آمین بجاہ سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم

[اہل سنت کی آواز، مارہرہ، ۲۰ نومبر ۲۰۱۳ء]

جلالۃ العلم حافظِ ملت علامہ شاہ عبد العزیز محدث مراد آبادی علیہ الرحمہ نے جب دار العلوم اشرفیہ کو جامعہ اشرفیہ میں تبدیل کرنے کا منصوبہ بنایا، یہ ۱۳۹۲ھ / ۱۹۷۲ء کی تاریخ تھی، اس ”یادگار تعمیری کانفرنس“ میں ملک بھر سے سیکڑوں علما اور مشائخ نے شرکت فرمائی تھی، خاص طور پر تاج دارِ اہلِ سنت مفتی اعظم ہند حضرت علامہ شاہ مصطفیٰ رضا بریلوی اور سید العلما حضرت سید شاہ آل مصطفیٰ قادری برکاتی علیہم الرحمہ نمایاں تھے، حسب پروگرام تمام تقریبات بحسن و خوبی انجام پذیر ہوئیں، اور پھر اس کے ڈیڑھ سال بعد ایک عظیم الشان کانفرنس ہوئی اس کی صدارت حضرت سید العلما مارہروی قدس سرہ العزیز نے فرمائی۔ حضرت نے اپنے خطبۂ صدارت میں یہ جملے بھی ارشاد فرمائے تھے۔

”حافظ ملت صاحب! آپ اپنوں اور بیگانوں کی مخالفت سے گھبرائیں نہیں، یہ سید آل مصطفیٰ آپ کے ساتھ ہے۔ اگر ضرورت پڑے گی تو میں آپ کو سونے سے تول دوں گا اور میں اپنی خانقاہ کے جملہ مریدین و متوسلین کو آپ کے قدموں میں جھکا دوں گا۔“

خانقاہ برکاتیہ مارہرہ مطہرہ صدیوں سے اکابر اہلِ سنت کا مرکزِ عقیدت رہا ہے اور إن شاء الله ہمیشہ رہے گا۔ مولیٰ تعالیٰ خانقاہ برکاتیہ سے جامعہ اشرفیہ مبارک پور کی غلامی کا یہ بندھن بھی اسی طرح مستحکم رکھے۔

سید ملت حضرت نظمی میاں کی ولادت ۶ رمضان المبارک ۱۳۶۵ھ / ۴ اگست ۱۹۴۶ء کو مشن اسپتال کاس گنج میں ہوئی۔ ابتدائی تعلیم مارہرہ شریف میں درجہ پنجم تک بمبئی میں ہوئی۔ انٹر میڈیٹ مارہرہ شریف سے کیا اس کے بعد اعلیٰ تعلیم کے لیے جامعہ ملیہ دہلی پہنچے، جہاں بی اے اور اسلامیات اور انگریزی زبان و ادب میں ایم اے (پارٹ ون) کے پہلے سال کی تکمیل کی۔ اس دوران یونین پبلک سروسز کمیشن (U.P.S.C.) کے مقابلہ جاتی امتحان (کمپیٹیشن) میں حصہ لیا اور بہترین کامیابی حاصل کی۔ جس کے بعد سینٹرل انفارمیشن سروس (CIS) میں منتخب ہوئے اور پہلی پوسٹنگ دہلی میں پریس انفارمیشن بیورو (P.I.B.) میں اسسٹنٹ جرنلسٹ کے عہدہ پر ہوئی۔ پھر اسی عہدہ پر ۱۹۶۹ء میں ممبئی منتقل ہوئے۔ اس کے بعد (F.D.) میں ٹرانسفر ہوا۔ پھر آل انڈیا ریڈیو (A.I.R.) کے سینئر کرسپانڈنٹ کے عہدے پر ترقی ہوئی لیکن پھر ممبئی کے احباب کے اصرار اور ان کی بے لوث محبتوں کے احترام میں ممبئی ہی میں (P.I.B.) کے I.O. Coordination کی پوسٹ پر آپ نے ٹرانسفر کرا لیا۔

ملازمت کے آخری سالوں میں شیلانگ میں پریس انفارمیشن بیورو میں بحیثیت ڈائریکٹر رہتے ہوئے استعفا دے کر سبک دوش ہوئے اور پھر ممبئی و مارہرہ مطہرہ میں دعوت و ارشاد اور تصنیف و تالیف میں مصروف ہو گئے تھے۔

حضرت سید ملت کو بیعت و خلافت اپنے والد ماجد حضرت سید العلما سید شاہ آلِ مصطفیٰ سید میاں قادری برکاتی علیہ الرحمہ سے حاصل تھی، جب کہ اجازت و خلافت اپنے عم محترم حضرت احسن العلما سید شاہ مصطفیٰ حیدر حسن میاں قادری برکاتی علیہ الرحمہ اور سید شاہ حبیب احمد علیہ الرحمہ مسولی شریف بارہ بنکی سے حاصل تھی۔ والد گرامی کی تعلیم و تربیت تو تھی ہی لیکن حضرت احسن العلما بھی آپ سے بہت زیادہ محبت فرماتے تھے، وہ آپ کی نعتوں کو خوب پسند فرماتے تھے، حضرت احسن العلما نے مسندِ سجادگی پر جلوہ گر ہو کر سب سے پہلے آپ کو اجازت و خلافت سے سرفراز فرمایا۔ حضرت سید ملت کا حلقۂ ارادت تو بہت وسیع تھا، آپ نے اپنے خاندان کی ۶ شخصیات کو خلافت و اجازت سے سرفراز فرمایا، جب کہ دیگر اہم شخصیات میں ۲۴ اسمائے گرامی ہیں۔ اللہ تعالیٰ اپنے پیارے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کے طفیل آپ کا یہ روحانی سلسلہ اسی طرح جاری رکھے۔ حضرت سید ملت علیہ الرحمہ دنیا کی آٹھ زبانیں جانتے تھے، عربی، فارسی، اردو، ہندی، سنسکرت، گجراتی، مراٹھی اور انگریزی۔ آپ کو مہاراشٹر اسٹیٹ اردو اکیڈمی کی جانب سے سال ۱۹۸۰ء میں بہترین اردو صحافی کا ایوارڈ دیا گیا۔

سید ملت حضرت نظمی میاں تمام تر مصروفیات کے باوجود شعر و ادب اور تصنیف و تالیف سے بھی گہرا شغف رکھتے تھے۔ آپ کی تصانیف اور تالیفات بھی تین درجن سے زائد ہیں:

  1. کلام الرحمن [ہندی ترجمہ کنز الایمان و خزائن العرفان]
  2. مصطفیٰ جانِ رحمت [مختصر سیرت]
  3. شانِ نعت مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم [کلام رضا پر تضمین]
  4. مدائح مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم [نعتیہ دیوان]
  5. اسرار خاندانِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم [ترجمہ رسالہ فارسی]
  6. تنویرِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم [نعتوں کا مجموعہ]
  7. عرفانِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم [مجموعۂ کلام]
  8. نوازش مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم [نعتیہ دیوان]
  9. مصطفیٰ سے آل مصطفیٰ تک [تذکرۂ مرشدانِ سلسلۂ برکاتیہ]
  10. مصطفیٰ سے مصطفیٰ رضا تک [تذکرہ]
  11. قرآنی نماز بمقابلہ مائیکروفونی نماز [اردو میں رسالہ]
  12. قرآنی نماز بمقابلہ مائیکروفونی نماز [ہندی میں رسالہ]
  13. دی گریٹ بیونڈ [علمِ غیبِ رسول پر انگریزی رسالہ]
  14. نظمِ الٰہی [انگریزی تفسیر سورۂ بقرہ]
  15. گستاخی معاف [ہندی انشائیے]
  16. گھر آنگن میلاد [خواتین کے لیے میلاد نامہ مختصر]
  17. گھر آنگن میلاد [برائے خواتین مفصل]
  18. ذبحِ عظیم [واقعاتِ کربلا]
  19. دی وے ٹو بی [انگریزی ترجمہ بہارِ شریعت حصہ ۱۶]
  20. کیا آپ جانتے ہیں؟ [اسلامی معلومات]
  21. اسلام دی ریلیجن الٹیمیٹ [انگریزی]
  22. ڈیسٹینیشن پیراڈائز [فضائل صحابہ، انگریزی]
  23. گیٹ وے ٹو ہیون [خواتین کے لیے رسالہ، انگریزی]
  24. ان ڈیفنس آف اعلیٰ حضرت [انگریزی]
  25. فضلِ ربی [سفر نامہ اردو]
  26. فضلِ ربی [سفر نامہ ہندی]
  27. سبع سنابل پر اعتراضات کے جوابات
  28. قصیدۂ بردہ شریف [اردو، ہندی و انگریزی میں ترجمہ و تشریح]
  29. کتاب الصلوٰۃ [طریقۂ نماز پر انگریزی رسالہ]
  30. اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کی کتاب ”الامن والعلیٰ“ کا انگریزی ترجمہ
  31. ہندی ترجمہ نئی روشنی [اصلاحی ناول مصنفہ حضور سید العلما علیہ الرحمہ]
  32. مصطفیٰ سے مصطفیٰ حیدر حسن تک [تذکرہ]
  33. بعد از خدا... [مکمل نعتیہ دیوان]
  34. کیا آپ جانتے ہیں؟ [ہندی]
  35. چھوٹے میاں [خانقاہی پس منظر میں ایک ناول]
  36. عمر قید [گجراتی کلاسیکی ناول کا اردو ترجمہ نیشنل بک ٹرسٹ انڈیا کے لیے]
  37. لولو [شیلانگ کے پس منظر میں ایک سماجی ناول]

حضرت سید ملت اپنے مضامین و مقالات کی اشاعت کے تعلق سے رقم طراز ہیں:

”ہند کے ممتاز اردو اخبارات اور جرائد مثلاً نیا دور (لکھنؤ)، آج کل (نئی دہلی)، استقامت ڈائجسٹ (کانپور)، انقلاب، اردو ٹائمز ہندوستان، سب رس ہندوستانی زبان، صبح امید، قومی راج (ممبئی)، کھلونا، ہما، ہدیٰ، ہدف، ہزار داستان، پیامِ مشرق، پرچمِ ہند (نئی دہلی)، ہندی روزنامہ لیٹسٹ (رائے پور مدھیہ پردیش)، انگریزی رسالہ دی مرر، پندرہ روزہ ریاضِ عقیدت (کونچ ضلع جالون) میں کہانیوں، افسانوں، انشائیوں، نظموں اور غزلوں کی اشاعت۔ اس کے علاوہ سیکڑوں کتابوں پر تبصرے جو برسوں تک ماہ نامہ صبح امید ممبئی میں شائع ہوتے رہے۔ ساتھ ہی ممبئی سے نکلنے والے اردو روزنامہ شام نامہ میں عرصۂ دراز تک نظمی کے ترتیب دیے ہوئے علمی ادبی معمے شائع ہوئے اور کافی مقبول ہوئے۔“ [مقدمہ بعد از خدا...]

حضرت سید ملت علیہ الرحمہ نے ملک بھر کے دورے کیے، غیر ملکی اسفار میں حجازِ مقدس، عراق، دبئی، اسرائیل، شام، انگلینڈ، پاکستان، نیپال وغیرہ۔ پہلا حج ۱۹۸۵ء میں، دوسرا حج ۱۹۹۴ء میں، تیسرا حج ۱۹۹۷ء میں۔ ۱۹۹۹ء میں بڑا عمرہ اور زیارت مقاماتِ مقدسہ بغداد، بیت المقدس، شام، اسرائیل۔ رمضان عمرہ ۲۰۰۰ء میں کیا۔

سید ملت حضرت نظمی میاں مارہروی فنِ نعت گوئی میں بلند مقام رکھتے ہیں وہ بلا شبہ اپنے عہد کے حسان الہند تھے۔ عشق انگیز مفاہیم، دردِ دل جگا دینے والا لب و لہجہ، جدید اصطلاحات، نادر ردیفیں، مشکل قوافی، سنگلاخ زمینیں، جمالیاتی در و بست، خوب صورت الفاظ کا حسنِ انتخاب، دل آویز بندشیں، شعریت اور نغمگی کی فراوانی اور جزئیات نگاری حضرت نظمی کی شاعری کے چند ممتاز پہلو ہیں۔ حضرت نظمی میاں علیہ الرحمہ نے بعض ایسی زمینوں میں بھی نعتیں کہی ہیں کہ اردو کی نعتیہ شاعری میں اس کی مثالیں نایاب ہیں یا کم از کم کمیاب ہیں۔ حضرت مصنف اپنے نعتیہ دیوان عرفانِ مصطفیٰ کے پیش لفظ میں لکھتے ہیں:

”عرفانِ مصطفیٰ میں ہم نے اپنی روایتوں کو برقرار رکھتے ہوئے مشکل اور سنگلاخ زمینیں چنی ہیں، نئی اصطلاحیں بھی ہیں اور جدید نعت کی انگڑائیاں بھی۔ ایک بہت ہی طویل بحر کی نعت اس دیوان میں شامل ہے۔ میرے عزیز ترین بھائی ڈاکٹر سید محمد امین میاں برکاتی خلفِ ارشد حضور احسن العلما دامت برکاتہم القدسیہ جو فی الوقت علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبۂ اردو میں ریڈر ہیں، وہ کہتے ہیں کہ اردو ادب میں اتنی طویل بحر میں کسی نے نعت نہیں لکھی۔“ [عرفان مصطفی، ص: ۶، ۷،]

عرفانِ مصطفیٰ میں شامل اس بحرِ طویل کی نعت کا ایک مصرعہ دیکھیے:

یہی آرزو ہے یہی جستجو ہے، کہ جب تک رہیں دھڑکنیں میرے دل میں
چلیں میرے سینے میں جب تک یہ سانسیں، کیے جاؤں آقاے نعمت کی باتیں، انھیں مصطفیٰ جانِ رحمت کی باتیں

حضرت نظمی میاں ہندی اور سنسکرت میں بھی بھرپور شاعری کرتے تھے۔ ذیل میں ایک ہندی بند آپ ہی کے آزاد اردو ترجمہ کے ساتھ پڑھیے۔

کوٹی کوٹی پرنام نَت مستک سکل پرجا جَنَم
ہے دین بندھو دیاندھی ابھینندنم سوسواگتم
شاہِ امم، شاہِ امم

ترجمہ: کروڑوں درود و سلام، سارے جہاں والوں کا سر تسلیمِ خم ہے، اے غریبوں کے غم گسار، گنجینۂ رحم و کرم تشریف لائیں، آپ کا خیر مقدم ہے، استقبال ہے۔

نوازشِ مصطفیٰ علیہ التحیۃ والثناء حضرت نظمی میاں کا چوتھا دیوان ہے۔ جس میں نعتوں کے ساتھ مناقب کا بھی خاص حصہ شامل ہے، اس دیوان کی ترتیب حضرت کے تیسرے سفرِ حج کے بعد عمل میں آئی جب آپ منیٰ کی جھلساتی ہوئی آگ کے اثر سے شفایاب ہو گئے، آپ اس دیوان کے آغاز میں لکھتے ہیں:

”قارئین کرام کو نظمی کا سلام:
کچھ پرانی، کچھ نئی نعتیں لیے ایک بار پھر آپ کی خدمت میں حاضر آیا ہوں۔ عرفانِ مصطفیٰ سے نوازشِ مصطفیٰ تک کا سفر اس بار ذرا البیلا رہا۔ اس کی وجہ کچھ تو مصروفیت تھی اور کچھ علالت۔ اللہ تعالیٰ کا لاکھ لاکھ احسان کہ اس نے مجھے تیسری بار حاضری حرمین شریفین کی سعادت عطا فرمائی۔ مقام منیٰ کا وہ پہلا دن زندگی کا ایک یادگار دن بن گیا ہے۔ وہ آگ ایک قیامت سے کم نہ تھی، نفسی نفسی کا عالم اب تک سنا پڑھا ہی تھا، مگر اس قیامت خیز آگ نے ایک لمحے کے لیے حشر کے میدان کا نقشہ پیش کر دیا۔ میں بھی اس آگ میں پھنس گیا۔ والدہ ماجدہ کو بچانے کے دوران آگ نے میرے بدن کا دس فی صد حصہ بری طرح جھلسا دیا۔ اللہ کا عظیم احسان ہے کہ میرے ارکانِ حج مکمل ہو گئے۔ قربان جائیے رب رحیم کے اس پیارے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کے کہ ان کا تصور کرتے ہی ساری کلفتیں دور ہو جاتی ہیں۔ ہمیشہ کی طرح اس بار بھی نئے تجربات لے کر حاضر خدمت ہوا ہوں۔“ [نوازش مصطفی، ص: ۴، ۵،]

دور کے شہزادہ احسن العلما قدس سرہ حضرت سید محمد اشرف قادری برکاتی مدظلہ نے اس دیوان کے مقدمہ میں حضرت نظمی میاں علیہ الرحمہ کی شاعرانہ نظم کی چند خصوصیات اور اہم نکات کی جانب اشارہ کیا ہے۔

حضرت سید محمد اشرف قادری برکاتی لکھتے ہیں:

”نظمی کی شعر گوئی کو سمجھنے کے لیے کچھ نکات پر توجہ دینا لازمی ہے، سب سے پہلا اور یقیناً سب سے اہم نکتہ ان کا عشقِ رسول ہے جس کی چاشنی کے بغیر نعت کا شعر قبولِ عام حاصل ہی نہیں کر سکتا... نظمی خود بھی اس نکتے کے عارف ہیں:

نعت میں نظمی کو کچھ یوں ہی نہیں شہرت ملی
جذبۂ حبِ نبی شعروں کے اندر رکھ دیا

دوسرا نکتہ جو ملحوظِ خاطر رکھنا ضروری ہے کہ نظمی نے اپنے بیش تر اشعار کی بنیاد آیاتِ قرآنی اور حدیثِ محبوبِ ربانی پر رکھی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے اشعار میں بھرتی کے مضمون نظر نہیں آتے... تیسرا بہت اہم نکتہ ہے نعت کے شعر میں احتیاط کا دامن تھامے رکھنا...! نظمی اپنے ان اجداد کرام کے اس وصف سے بھی واقف ہیں کہ خانقاہ برکاتیہ کا سجادہ نشیں علمِ معرفت اور شریعت و طریقت دونوں میں سے کسی کو بھی فراموش نہیں کرتا۔ وہ طریقت کا نعرۂ مستانہ بھی شریعت کی حدود کے اندر رہ کر لگاتا ہے اور یہیں سے جنم لیتی ہے وہ احتیاط اور یہیں سے بنتا ہے وہ ضبط جو خانقاہ برکاتیہ کا خاصہ ہے۔ نظمی کی شاعری کا تجزیہ کرتے وقت ان کی زبان دانی کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا... نظمی اپنے شعر میں جو لفظ لاتے ہیں وہ اس کی روح سے واقف ہوتے ہیں۔ جہاں آسمان کہنا ہوتا ہے وہاں فلک نہیں کہتے، جہاں زمین باندھنا ہوتا ہے وہاں دھرتی نہیں باندھتے... نظمی کے اشعار کی ایک نمایاں خصوصیت جزئیات نگاری ہے۔ چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں اشیاء، کیفیات، واردات اور حالات کی اتنی خوب صورت اور مناسب جزئیات نگاری کرتے ہیں کہ شعر کا حق ادا ہو جاتا ہے۔ نظمی کی ایک اور خوبی سے صرفِ نگاہ کرنا بے انصافی ہوگی وہ یہ کہ نظمی نے کہیں کہیں بڑی ٹیڑھی ترچھی بحروں میں اور کبھی کبھی بہت ادق ردیفوں میں اپنا کمالِ شعر آزمایا ہے۔ لیکن خدا لگتی کہنے میں کوئی جھجھک نہیں کہ ایسے تمام موقعوں پر کمالِ فن نے نظمی کے ہاتھ چومے ہیں۔ نظمی کی شاعری کی بہت نمایاں خصوصیت ہے اعلیٰ حضرت مجدد دین و ملت سیدی احمد رضا خاں علیہ الرحمۃ والرضوان سے فیض اٹھانا۔ ایسے کسی بھی موقع پر نظمی نے اپنے فیض کے منبع کو چھپایا نہیں ہے۔ نظمی کی نعت گوئی کی ایک امتیازی صفت ہندی کے مدھر بولوں کا استعمال ہے۔ یہ وہ ہندی نہیں جس میں آکاش وانی کی خبریں نشر ہوتی ہیں بلکہ یہ وہ بولی ہے جو بڑے تمدنوں کے سنگم سے وجود میں آتی ہے... چوکھا رنگ، ملنگ، دبنگ، پریم، سونے نین، چرن اور ان جیسے کتنے ہی الفاظ نظمی کی اس صنعت کے آئینہ دار ہیں۔“ [نوازش مصطفی، ص: ۱۷، ۱۸،]

اس حقیقت کا حضرت نظمی میاں برملا اعتراف کرتے ہیں کہ انھوں نے امام احمد رضا قدس سرہ کی نعتیہ شاعری سے بھرپور استفادہ کیا ہے اور ان کی ڈگر پر بہت دور چل کر دکھایا ہے۔ انھوں نے حضرت رضا بریلوی کی نعتوں پر کامیاب تضمینیں کی ہیں۔ اعلیٰ حضرت کی آواز میں آواز ملا دینا کوئی معمولی بات نہیں یہ جراتِ فکر و قلم ان کے شاعرانہ کمال اور امام احمد رضا کے پرتوِ جمال ہونے کی نشان دہی کرتی ہے۔ ان کا مجموعۂ کلام ”شانِ نعت مصطفیٰ مسمی بہ فیوضِ کلکِ رضا“ اعلیٰ حضرت کی سترہ نعتوں پر تضمینوں کا مرقعِ جمال ہے۔ ان تضمینوں میں حضرت نظمی کا فن امام احمد رضا کے فیضانِ نور کا آئینہ دار بن گیا ہے اور بعض مقامات پر تو اتنے قریب سے ہو کر گزرے ہیں کہ کلامِ نظمی پر کلامِ رضا ہونے کا شبہ ہونے لگتا ہے۔

نعت کا یہ انداز نیا کس نے اپنایا نظمی نے
اک اک شعر میں رنگ رضا کس نے چمکایا نظمی نے
کلکِ رضا کا سا یہ ڈھنگ کس نے دکھایا نظمی نے
قلم کا جادو گھر گھر دل دل کس نے جگایا نظمی نے

یہ ہے شہ بطحا کی عنایت صلی اللہ علیہ وسلم

سید ملت حضرت سید شاہ آل رسول نظمی میاں علیہ الرحمہ امام احمد رضا کے مرکزِ عقیدت مارہرہ مطہرہ کے چشم و چراغ تھے، انھوں نے خاندانی وجاہت و سیادت کے باوجود اپنی محنت و لگن سے بلندیوں کا سفر طے کیا، تلاش و تحقیق اور محنت و جستجو زندگی کی ہر ڈگر پر جاری رکھی۔ ان کا دل و دماغ خانقاہی فکر و مزاج سے سرشار رہتا تھا۔

ان کے وصالِ پرملال کے بعد ان کے علمی، دینی اور روحانی وارث ان کے لختِ جگر ہیں، وہ اپنی خاندانی اور اپنی علمی اور عملی خوبیوں کی وجہ سے اپنے والدِ بزرگوار کے سچے جانشین ہیں۔ ہماری مراد ہیں پیکرِ اخلاص و وفا سراپا علم و عمل پیر طریقت حضرت علامہ سید شاہ سبطین حیدر قادری برکاتی دامت برکاتہم العالیہ۔ موصوف بھی دینی، روحانی اور عصری علوم و فنون کے سنگم ہیں، خاص بات یہ ہے کہ آپ نے شہرۂ آفاق درس گاہ جامعہ اشرفیہ مبارک پور سے ۲۰۰۰ء میں دستارِ فضیلت حاصل کی، جب کہ روحانیت کی تکمیل خانقاہ عالیہ قادریہ برکاتیہ مارہرہ مطہرہ میں حاصل کی۔ مولیٰ تعالیٰ اپنے پیارے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کے طفیل خانقاہ برکاتیہ مارہرہ مطہرہ کے اس چشم و چراغ کو تادیر سلامت رکھے، اور خانقاہ کا یہ علمی اور روحانی فیضان اسی طرح جاری رہے۔ آمین۔

فاضل اشرفیہ حضرت مولانا نصر اللہ رضوی کا سانحۂ ارتحال

۲۰۱۳ء واقعی غم و اندوہ کا سال ہے۔ دسمبر ۲۰۱۳ء میں ہم نے مفتی اعظم راجستھان اور امامِ علم و فن علامہ خواجہ مظفر حسین رضوی کا مرثیہ لکھا تھا، اور افسوس اس بار بھی ہمارے زیر قلم دو بزرگوں کے مرثیے ہیں۔ معروف عالمِ دین حضرت مولانا نصر اللہ رضوی بھی صبح ۴ بج کر ۱۵ منٹ پر ۴ محرم الحرام ۱۴۳۵ھ / ۹ نومبر ۲۰۱۳ء کو اچانک اپنے مالکِ حقیقی سے جاملے۔ إنا لله وإنا إليه راجعون۔ مولانا رضوی جامعہ اشرفیہ مبارک پور کے نام ور فرزند اور علوم و فنون کے ماہر تھے۔ ۱۹۷۴ء سے تا وقتِ وصال درس و تدریس میں مصروف رہے، مقالہ نگاری، مضمون نویسی، تصنیف، حاشیہ نویسی اور ترجمہ نگاری آپ کا محبوب مشغلہ رہا۔ آپ اپنی خوش خلقی، تواضع، انکساری، نیکی اور ملنساری کے لیے بھی بہت مشہور تھے، جس سے ملتے دل کھول کر ملتے اور دوستی کا حق ادا کرنے کی بھرپور کوشش کرتے، مہمان نوازی میں بھی وہ اپنی مثال آپ تھے۔ علم و عمل اور فکر و فن میں بھی شہرۂ آفاق تھے۔ وہ جس موضوع پر بھی لکھتے لکھنے کا بڑی حد تک حق ادا کر دیتے تھے۔ علمِ فرائض اور حساب کتاب میں بھی بڑی شہرت رکھتے تھے۔ اپنے استاذِ گرامی حضور حافظِ ملت علامہ شاہ عبد العزیز محدث مراد آبادی سے قلبی لگاؤ رکھتے تھے، ان کا روحانی رشتہ مرکزِ اہلِ سنت بریلی شریف سے تھا مگر علمی رشتہ جامعہ اشرفیہ مبارک پور سے تھا، اس لیے اپنے اسمِ گرامی کے ساتھ پہلے رضوی اور پھر مصباحی لگاتے تھے، ان کا حلقۂ احباب با صلاحیت دانش وروں اور قلم کاروں کا تھا، وہ المجمع الاسلامی ملت نگر مبارک پور کے انتہائی متحرک و فعال رکن تھے۔

ان کے انتقالِ پرملال کی خبر ملی تو ہم جامعہ اشرفیہ میں قرطاس و قلم میں مصروف تھے، وصال کی خبر کو پہلے تو ہم نے مذاق سمجھا، مگر جب یقین ہوا تو دل و دماغ نے گہرا اثر قبول کیا۔ اور ہم اپنی کرسی پر پتھر کی طرح منجمد ہو گئے احباب سے معلوم ہوا کہ بہت سے اساتذہ اور طلبہ نمازِ جنازہ میں شرکت کریں گے، اور شرکت کرنا بھی چاہیے۔ نمازِ جنازہ کا وقت بعد نمازِ ظہر طے ہوا تھا، جامعہ اشرفیہ سے نمازِ جنازہ میں شرکت کرنے کے لیے یکے بعد دیگرے متعدد گاڑیاں نکلیں، ۱۲ بجے کے بعد ہم لوگ بھی نکلے، پہلے ہم لوگوں نے نمازِ ظہر ادا کی اور پھر مسجد سے جنازے کی طرف بڑھے، جنازے کے قریب علما، طلبہ اور افرادِ اہلِ سنت کی بھیڑ تھی، آبادی کے بیرونی حصے میں حضرت رضوی صاحب علیہ الرحمہ نے اپنا نیا مکان تعمیر کرایا ہے، اس کے قریب جنازہ رکھا گیا تھا، صفیں درست کی گئیں، امامت کے مصلے پر صدر العلما حضرت علامہ محمد احمد مصباحی دام ظلہ العالی جلوہ گر ہوئے اور انتہائی غم زدہ ماحول میں نمازِ جنازہ ادا کی گئی، اور پھر قریب میں حضرت رضوی صاحب کی زمین میں تدفین ہوئی۔ تمام ضروری امور سے فراغت کے بعد سراج الفقہا حضرت مفتی محمد نظام الدین رضوی نے مولانا مرحوم کا ذکر کرتے ہوئے پس ماندگان اور متعلقین کو صبر و شکر کی تلقین فرمائی۔ اللہ تعالیٰ اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کے طفیل حضرت مولانا نصر اللہ رضوی مصباحی علیہ الرحمہ کو جنت الفردوس میں بلند ترین مقام عطا فرمائے۔ آمین۔

فاضل اشرفیہ مولانا نصر اللہ رضوی کی ولادت ۳ رجب ۱۳۷۵ھ / ۱۵ فروری ۱۹۵۶ء میں ہوئی۔ آپ کا مولد و مسکن آستانہ بھیرہ پوسٹ ولید پور ضلع مئو (یوپی) ہے۔ والد گرامی جناب ماسٹر محمد یونس [م: ۱۸ ذی الحجہ ۱۴۲۴ھ / ۲۰۰۴ء] معمولی تعلیم یافتہ، نیک سیرت اور بلند اخلاق تھے۔ صوم و صلاۃ کے بھی حد درجہ پابند تھے، مسجد قدم رسول اور جامع مسجد نوری میں نماز پڑھاتے، گاہے بہ گاہے نمازِ جمعہ بھی پڑھا دیتے تھے، اخیر عمر میں بھی آپ کی نماز قضا نہیں ہوئی۔

دین دار والد گرامی نے اپنے بیٹے کی تعلیم و تربیت بھی اسلامی طرز پر شروع کی، ابتدائی تعلیم کے لیے آبادی کے مکتب مدرسہ رحیمیہ میں داخل کرایا جہاں آپ نے پرائمری کی تعلیم اور ابتدائی فارسی پڑھی، اور خارجی طور پر کچھ ابتدائی عربی پڑھ لی تھی۔ ۱۹۶۸ء میں پورے ولولۂ شوق کے ساتھ خاکِ ہند کی شہرۂ آفاق درس گاہ دار العلوم اشرفیہ مصباح العلوم مبارک پور میں داخل ہوئے اور باضابطہ حضور حافظِ ملت کی سرپرستی میں درسِ نظامی کی تعلیم شروع کی، آپ ابتدا ہی سے محنتی اور جفاکش تھے، جو کچھ درس گاہ میں پڑھتے اسے یاد کرتے اور ہم جماعت طلبہ کے ساتھ تکرار فرماتے، آپ کے اہم اساتذہ میں حضور حافظِ ملت، ماہر علم و فن علامہ حافظ عبد الرؤف بلیاوی، قاضی شریعت مولانا محمد شفیع، مولانا شمس الحق گجہڑوی، بحر العلوم مفتی عبد المنان اعظمی، استاذ القراء قاری محمد یحییٰ مبارک پوری، مولانا اسرار احمد اور مولانا مظفر حسین ظفر ادبی قابل ذکر ہیں۔ آپ نے بڑی محنت اور لگن سے تعلیم و تربیت حاصل کی۔ آپ کی طالب علمی کے دور میں صدر العلما مولانا محمد احمد مصباحی اعلیٰ جماعت کے طالب علم تھے، ان سے بھی آپ نے چند کتابیں پڑھیں، مولانا رضوی علیہ الرحمہ درسیات کے علاوہ علمِ فرائض، حساب و کتاب اور اہتمام و انصرام سے بھی خصوصی لگاؤ رکھتے تھے۔ مدرسہ فیض العلوم محمد آباد گوہنہ کی تدریس اور المجمع الاسلامی مبارک پور کی رکنیت کے دوران آپ نے اپنی صلاحیتوں کا بھرپور مظاہرہ کیا۔ آپ نے ۱۰ شعبان ۱۳۹۲ھ / ۱۹۷۳ء میں فراغت حاصل کی، دستارِ فضیلت الجامعۃ الاشرفیہ کے جشنِ افتتاح کے حسین موقع پر ۱۹۷۴ء میں ہوئی۔ اس جشن میں بڑی تعداد میں علمائے اہلِ سنت اور اکابر و مشائخ شریک ہوئے تھے۔

آپ کا وطن بھیرہ آپ کی طالب علمی کے دور میں بھی دیوبندیت زدہ تھا اور آج بھی ہے، بھیرہ میں ایک انجمن امجدیہ تھی، اس انجمن کے ذمہ دار حضرت مولانا محمد احمد مصباحی کے والد گرامی جناب محمد صابر مرحوم تھے اور دوسرے انتہائی متحرک و فعال میاں جی محمد مرحوم تھے، آبادی کے لوگ حضرت حافظِ ملت، بحر العلوم مفتی عبد المنان اعظمی اور حضرت قاری محمد یحییٰ سے بے حد لگاؤ رکھتے تھے، گاؤں میں دیوبندی مکتبِ فکر کا ایک اجلاس ہوا، نور محمد ٹانڈوی نے اس میں اعلان کیا کہ حیاتِ انبیا کا عقیدہ باطل ہے، نیز علمائے اہلِ سنت کی جانب سے پیش کردہ دلیل الأنبياء أحياء في قبورهم ويصلون ويرزقون کو غلط بتایا اور اس نے یہ بھی کہا کہ یہ حوالہ علامہ زرقانی کی مواہبِ لدنیہ میں ہرگز نہیں ہے۔ مولوی عبد الباری مبارک پوری نے بھی اعلان کیا کہ اگر کوئی سنی اس حوالے کو دکھا دے تو اسے پانچ سو روپے نقد انعام دوں گا۔ حضرت مولانا محمد احمد مصباحی ان دنوں جامعہ اشرفیہ مبارک پور میں ہدایۂ اخیرین کے طالب علم تھے، آپ نے مواہبِ لدنیہ کی چھٹی جلد انجمن اشرفی دار المطالعہ سے نکال لی اور اہلِ بھیرہ نے اہلِ سنت کا ایک جلسہ طے کر دیا اور بحیثیت خطیب حضور حافظِ ملت، حضرت بحر العلوم اور حضرت قاری محمد یحییٰ علیہ الرحمہ کو مدعو کر لیا۔ ان طلبہ نے مواہبِ لدنیہ اسٹیج پر سجادی اور اب بحیثیت خطیب حضرت بحر العلوم خطابت کی کرسی پر جلوہ گر ہوئے۔ اب اس کے بعد کی تفصیل حضرت مولانا نصر اللہ رضوی کے قلم سے پڑھیے:

”حضرت بحر العلوم نے تقریر کا ملکہ عیاں کرتے ہوئے عمدہ تمہید سے تقریر شروع کی، جس کے مضامین اب تک ذہن میں نقش کالحجر ہیں۔ تمہید کے بعد آپ نے ارشاد فرمایا، انعام دینا نہ دینا آپ کا کام ہے، حوالہ ثابت کرنا اور دکھانا ہمارا کام ہے، لیجیے اور حوالہ دیکھیے۔ پھر کتاب اٹھائی، صفحہ اور سطر کی وضاحت کے ساتھ پڑھ پڑھ کر سنایا اور کہا، جسے دیکھنا ہو یہاں آ کر دیکھ لے مگر کسی میں ہمت نہ ہوئی کہ آ کر دیکھتا۔“ [بحر العلوم نمبر، ص: ۱۹۶، امام احمد رضا اکیڈمی، بریلی شریف]

اس حوالے کے دکھانے سے اہلِ سنت کے اسٹیج اور سامعین میں مسرت و شادمانی کی لہر دوڑ گئی، تمام خطابات اور صلاۃ و سلام کے بعد حافظِ ملت کی دعا پر اجلاس اختتام پذیر ہوا۔

مولانا نصر اللہ رضوی علیہ الرحمہ فاضلِ اشرفیہ مبارک پور ہوئے، اسی کے ساتھ آپ نے الہ آباد عربی فارسی بورڈ سے منشی، منشی کامل، مولوی، عالم، فاضل دینیات، فاضل ادب اور فاضل طب اور جامعہ اردو علی گڑھ میں ادیب، ادیب ماہر اور ادیب کامل کیا۔

فراغت کے بعد مولانا نصر اللہ رضوی علیہ الرحمہ نے باضابطہ تدریس شروع فرمائی، سب سے پہلے حضرت حافظِ ملت نے آپ کو بحیثیت صدر المدرسین مدرسہ عربیہ ضیاء العلوم ادری ضلع مئو بھیجا۔ اس کے بعد کچھ دنوں کے لیے آپ مدرسہ معراج العلوم دیوریا تشریف لے گئے، دیوریا قیام کے دوران ایک مسجد میں امامت و خطابت کے فرائض بھی انجام دیے۔ ۱۹۷۶ء میں بحیثیت صدر المدرسین دار العلوم غوثیہ نظامیہ ذاکر نگر جمشید پور بہار (اب جھارکھنڈ) چلے گئے۔ جمشید پور میں ذاکر نگر حضور حافظِ ملت کا خاص علاقہ ہے، وہاں آپ نے انتہائی محنت اور جدو جہد کے ساتھ تدریسی اور تبلیغی خدمات انجام دیں۔ ۱۹۷۸ء میں آپ مدرسہ عربیہ فیض العلوم محمد آباد گوہنہ ضلع مئو تشریف لے آئے، یہ ادارہ آپ کے وطنِ مالوف سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ اس ادارے میں آپ کی خدمات قریب ۳۵ برس پر محیط ہیں، آپ نے یہاں ایک ملازم کی حیثیت سے نہیں بلکہ دین و سنیت کے سچے خادم کی حیثیت سے خدمت کی کوئی بھی انسان جب اپنے وطن میں خدمت کرتا ہے تو اسے صرف انتظامیہ ہی کو مطمئن کرنا نہیں ہوتا بلکہ اس علاقے کی بستیوں سے بھی فطری لگاؤ ہوتا ہے، وہ وہاں کچھ کر گزرنے کا ذوق رکھتا ہے، کیوں کہ اس کی نظر میں صرف ملازمت نہیں ہوتی بلکہ اپنے علاقے سے سچی محبت کارفرما ہوتی ہے۔ مولانا نے اس ادارے میں صرف ایک مدرس کی حیثیت سے نہیں بلکہ دین و سنیت کے سچے وفادار خادم کی حیثیت سے گراں قدر کارنامے انجام دیے۔

آپ کے تلامذہ سیکڑوں کی تعداد میں ہیں جو ملک و بیرون ملک درس و تدریس، امامت و خطابت، صحافت و قیادت اور تصنیف و تالیف کی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ان میں بہت سے بجائے خود ایک تحریک کی حیثیت رکھتے ہیں، ہم ذیل میں چند نام ذکر کرنے پر اکتفا کرتے ہیں۔

  1. مفتی احمد القادری مصباحی مقیم حال امریکہ
  2. مفتی آل مصطفیٰ مصباحی استاذ جامعہ امجدیہ گھوسی
  3. قاضی شہید عالم جامعہ نوریہ بریلی
  4. مولانا اعجاز انجم لطیفی استاذ جامعہ منظر اسلام بریلی
  5. مولانا جمال اشرف مصباحی استاذ جامعہ اظہار العلوم جہاں گیر گنج
  6. مولانا اختر حسین مصباحی استاذ جامعہ اشرفیہ مبارک پور
  7. مولانا سید فاروق رضوی استاذ جامعہ حنفیہ غوثیہ بنارس
  8. مولانا ابوالوفا بھیروی استاذ مدرسہ حق الاسلام بستی
  9. مولانا رونق احسان بانی و مہتمم مدرسہ گلشن ابراہیم پٹنہ
  10. مولانا مسیح اللہ فیضی مصباحی استاذ مدرسہ فیض العلوم، محمد آباد گوہنہ۔

حضرت مولانا نصر اللہ رضوی علیہ الرحمہ کا تحریر و قرطاس سے بھی بڑا گہرا رشتہ تھا، اردو، عربی اور فارسی لکھنے لکھانے پر بھرپور قادر تھے۔ آپ خود بھی لکھتے اور اپنے طلبہ سے بھی لکھواتے تھے، اپنے طلبہ کو مقابلہ جاتی پروگراموں میں شرکت کراتے اور گہری توجہ کے ساتھ ان سے مضامین اور مقالات تحریر کراتے تھے۔ ان کے طلبہ آج بھی ان کی کرم فرمائیوں کو یاد کرتے ہیں اور ان کے حوالے سے اپنے طلبہ کی تحریری مشق کراتے ہیں۔ آپ نے اردو میں درجنوں علمی اور فقہی مقالات تحریر فرمائے، متعدد کتابوں کے اردو اور عربی میں حواشی تحریر کیے۔ عربی اور فارسی کتابوں کے انتہائی اہم ترجمے کیے۔ آپ صرف مقالات تحریر ہی نہیں کرتے تھے بلکہ موضوع کی تہ تک پہنچنے کی بھرپور کوشش کرتے تھے، فقہی سیمیناروں کے مقالات لکھنے لکھانے کا مقصد صرف لکھنا نہیں ہوتا، بلکہ جدید حالات میں قدیم مسائل سے فقہ حنفی کے اصول کی روشنی میں اصل حکم کا استخراج ہوتا ہے۔ مولانا کے فقہی مقالات پر نظر ڈالیے تو صرف عنوانات دیکھ کر حیرت ہوتی ہے کہ ان جدید مسائل کو فقہی اصول کی روشنی میں حل کرنا کتنا مشکل ہو گا مگر مولانا فقہی مسائل پر لکھتے تھے اور آخر میں بڑی وضاحت کے ساتھ اصل حکم تک پہنچنے کی بھرپور کوشش فرماتے تھے۔

المجمع الاسلامی جب محمد آباد گوہنہ میں آیا تو ایک ذمہ دار رکن کی حیثیت سے منسلک ہو گئے، ان دنوں علامہ محمد احمد مصباحی بھی بحیثیت پرنسپل مدرسہ عربیہ ضیاء العلوم محمد آباد گوہنہ میں تھے۔ ان سے اور دیگر اراکین میں مولانا یٰسین اختر مصباحی، مولانا عبدالمبین نعمانی، مولانا افتخار احمد اعظمی، مولانا بدر القادری مصباحی، مولانا احمد القادری مصباحی، مولانا عبد الغفار مصباحی اور مولانا عارف اللہ مصباحی سے گہرا رابطہ رہا، عام طور پر جب تحریر و اشاعت کے مسائل درپیش ہوتے تو باہم تبادلۂ خیالات ہوتے اور اتفاقِ رائے سے مسائل کا حل تلاش کیا جاتا، اس وقت تحریر و قرطاس کے حوالے سے دنیا کا رخ کیا ہے، دوسری جماعتیں اس حوالے سے کتنی آگے نکل گئی ہیں، اب ہمیں اپنی جماعت کی طرف سے کیا کرنا چاہیے، چلتے پھرتے، اٹھتے بیٹھتے، یہی مسائل سامنے ہوتے، غور و فکر کے بعد کسی اہم نتیجے تک پہنچتے اور اس کے مطابق کام کی رفتار ہوتی، ادھر اہلِ سنت میں داخلی اور خارجی اختلافات بھی بہت بڑھ گئے ہیں۔ ان امور پر بھی آئے دن گفتگو ہوئی، راقمِ سطور بھی بہت سے موقع پر ساتھ رہتا اور مولانا نصر اللہ رضوی کی دور اندیشی، استصوابِ رائے اور نتیجہ خیزی سے متاثر ہوتا، ملت نگر مبارک پور میں ۱۹۹۲ء اور ۱۹۹۴ء میں زمین کی خریداری اور اس کی نقشہ سازی تعمیر و ترقی میں بھی مولانا کا بڑا کلیدی کردار رہا。

ہمیں یاد آتا ہے کہ جب مجلسِ برکات جامعہ اشرفیہ میں قائم ہوئی اس کی متعدد میٹنگیں ہوئیں کچھ دنوں کے بعد اس کا سارا نظام صدر العلما محمد احمد مصباحی کی صدارت میں آگیا تو باضابطہ کام کا آغاز ہوا ان دنوں پاکستان سے عبد الحکیم شرف قادری بھی تشریف لائے تھے، ان کی آمد چوں کہ اسی اہم کام کے لیے ہوئی تھی، حضرت صدر العلما کی صدارت میں اساتذۂ اشرفیہ کی مختلف نشستیں ہوئیں۔ مجلسِ برکات کا بنیادی نشانہ درسِ نظامی کی اشاعت تھا، علمائے دیوبند نے اپنے فکر و قلم کا بے جا استعمال کر کے اکابر کے حواشی سے ان کے اسمائے گرامی ہی ختم کر دیے تھے۔ بعض مقامات پر انتہائی چابک دستی سے ان کی جگہ اپنے نام لکھ دیے تھے، اس قسم کی بہت سی چیزیں سامنے آئیں۔ خیر اتفاقِ رائے سے یہ طے پایا کہ جن کتابوں پر بزرگوں کے حواشی اصل ناموں کے ساتھ شائع ہو رہے ہیں، پہلے انھیں شائع کر دیا جائے۔ ان کتابوں کی پہلی کھیپ کے لیے ہم تین لوگوں کو نام زد کیا گیا، حضرت مولانا نصر اللہ رضوی، مولانا زاہد علی سلامی اور راقم مبارک حسین مصباحی۔ ہم لوگ چند دن دہلی میں مقیم رہے، کھانا پینا اور رہن سہن ساتھ ساتھ رہا۔ دہلی قیام کے دوران کتابوں کے ٹائٹل بنوانا اور کتابوں کی اشاعت کرانی تھی۔ اس دوران کوئی ایک واقعہ بھی ایسا نہیں ہوا جس سے کسی کے دل میں کوئی خلش پیدا ہوئی ہو۔ حضرت مولانا نصر اللہ رضوی بلاشبہ بلند اخلاق اور معاملہ فہم تھے، کس سے کیا بات کرنا ہے، عدمِ اعتماد کی صورت میں گفتگو کیسے کی جائے، اگر کوئی چیز پسند نہ ہو تو معاملہ کو کس طرح ٹالا جائے، مولانا رضوی صاحب دل جوئی اور ملنساری میں بھی بے مثال تھے، لطیفہ گوئی اور ہنسنے ہنسانے میں بھی اپنی مثال آپ تھے، سب کچھ ادب کے دائرے میں رکھتے ہوئے محفل کو لالہ زار بنا دیتے تھے۔

گفتگو چل رہی تھی، مولانا کے قرطاس و قلم کی، مولیٰ تعالیٰ نے یہ صلاحیت بھی آپ کو بھرپور عطا فرمائی تھی۔ جامعہ اشرفیہ مبارک پور کے زیرِ اہتمام ”مجلس شرعی“ ۱۴۱۳ھ / ۱۹۹۲ء میں قائم ہوئی، مولانا نصر اللہ رضوی علیہ الرحمہ ابتدا ہی سے اس سے منسلک ہو گئے تھے، ابتدائی دو ایک سیمیناروں کو چھوڑ کر تمام سیمیناروں کے لیے آپ نے گراں قدر علمی اور فقہی مقالات تحریر فرمائے، صفحات کی وضاحت کے ساتھ جن کی فہرست حسبِ ذیل ہے۔

  1. مشترکہ سرمایہ کمپنی کی شرعی حیثیت ۷
  2. دوامی اجارہ ۴
  3. دیون اور ان کے منافع کی زکوٰۃ ۴
  4. اسبابِ ستہ اور عمومِ بلویٰ کی تنقیح ۱۸
  5. اعضا کی پیوند کاری ۳
  6. غیر مسلم ممالک میں جمعہ و عیدین ۱۵
  7. ہائر پرچیز کرایہ فروخت کا حکم ۴۰
  8. چھت سے سعی و طواف ۷
  9. بیمہ وغیرہ میں ورثہ کی نام زدگی کی شرعی حیثیت ۴
  10. فقدانِ زوج کی مختلف صورتوں کے احکام
  11. فسخ نکاح بوجہ تعسرِ نفقہ ۷
  12. فلیٹوں کی خرید و فروخت کے جدید طریقے
  13. مصنوعی سیارہ سیٹلائٹ سے رؤیتِ ہلال کا حکم ۹
  14. قضاۃ اور ان کی حدودِ ولایت ۷
  15. مسائلِ حج
  16. آنکھ اور کان میں دوا ڈالنا مفسدِ صوم ہے یا نہیں
  17. دنیا کی حکومتیں اور ان کی شرعی حیثیت ۲
  18. تقلیدِ غیر کب جائز اور کب ناجائز ۷
  19. بیت المال اور مسلم اسکول و کالج کے نام پر تحصیلِ زکوٰۃ ۹
  20. تحصیلِ صدقات پر کمیشن کی تنقیح ۸
  21. طبیب کے لیے اسلام اور تقویٰ کی شرط ۵
  22. مساجد میں مدارس کا قیام
  23. میوچول فنڈ کی شرعی حیثیت ۷
  24. پرافٹ پلس کی شرعی حیثیت
  25. درآمد برآمد ہونے والے گوشت کا حکم ۷
  26. جدید مسعیٰ میں سعی کا حکم ۵
  27. مساجد کی آمدنی سے اے سی وغیرہ کا انتظام ۷
  28. مجوزہ فلیٹوں کی سلسلے وار بیع ۵
  29. غیر رسمِ عربی میں قرآنِ کریم کی کتابت ۱۲
  30. طویلے کے جانوروں اور دودھ پر زکوٰۃ ۲
  31. اینی میشن کا شرعی حکم ۷
  32. برقی کتابوں کی خرید و فروخت ۴
  33. زینت کے لیے قرآنی آیات کا استعمال ۴
  34. انٹرنیٹ کے شرعی حدود ۲
  35. بینکوں کی ملازمت شریعت کی روشنی میں ۴
  36. فلیٹوں کی زکوٰۃ ۳
  37. مسئلہ کفاءت عصرِ حاضر کے تناظر میں ۱۱
  38. ڈی این اے ٹیسٹ اسلامی نقطۂ نظر سے ۱۰
  39. انٹرنیٹ کے مواد و مشمولات کا شرعی حکم ۷
  40. چلتی ٹرین پر فرض اور واجب نمازوں کا حکم ۱۱
  41. جینیٹک ٹیسٹ کا شرعی حکم ۱۰

موجودہ اکیسواں فقہی سیمینار پونے مہاراشٹر میں ۱۹ تا ۲۲ دسمبر ۲۰۱۳ء میں منعقد ہونے والا ہے۔ اس کے لیے درجِ ذیل مضامین کا مسودہ تیار کر لیا تھا، مبیضہ کرنے کے لیے گھر لے کر گئے تھے، مگر افسوس طبیعت خراب ہوئی اور اللہ تعالیٰ کو پیارے ہو گئے۔

  1. بلڈ بینک میں خون جمع کرنے کا حکم۔
  2. رشوت سے آلودہ ماحول میں حقوق العباد کی حفاظت۔
  3. جدید ایجادات میں قرآن مقدس بھرنے اور اسے چھونے کا حکم۔

آپ نے ان فقہی اور تحقیقی مقالات کے علاوہ کچھ مضامین بھی مرتب فرمائے جن کی تفصیل حسبِ ذیل ہے۔

  1. انوارِ امام اعظم میں اخلاقی اور اجتماعی مسائل میں امام اعظم کے افکار۔
  2. معارفِ شارحِ بخاری میں نزہت القاری اور فقہی مسائل۔
  3. جہانِ مفتی اعظم میں مفتی اعظم اور اسنادِ فقہ و حدیث۔
  4. جہانِ مفتی اعظم میں حضور مفتی اعظم کی حق گوئی و بے باکی۔
  5. بحر العلوم نمبر میں بحر العلوم کی علمی وجاہت۔
  6. شیخ اعظم نمبر میں۔ حضرت شیخ اعظم، خدمات اور کارنامے۔
  7. علامہ فضل حق خیر آبادی نمبر میں مسئلۂ امتناع النظیر اور علامہ فضل حق خیر آبادی۔ (یہ مضمون ابھی غیر مطبوعہ ہے)
  8. دیوانِ لطیفی اور تصوف۔
  9. امینِ شریعت ٹرسٹ فقہی کونسل دہلی سیمینار کے لیے جدید ذرائعِ ابلاغ اور رؤیتِ ہلال کا مسئلہ۔

جہاں تک ہماری نظر پہنچی، یہ فہرست ہم نے مرتب کر دی، ان کے علاوہ بھی کچھ مضامین و مقالات اور تبصرے ہوں گے جہاں تک ہماری نظر نہیں پہنچ سکی。

درج بالا مقالات و مضامین کے علاوہ آپ نے متعدد وقیع کتابیں لکھیں، ان میں کچھ مستقل تصانیف و تالیفات ہیں اور کچھ تراجم و حواشی۔ اب ہم ذیل میں ان کتابوں کا مختصر تعارف نوٹ کرتے ہیں۔

  1. سیدنا عبد الوہاب جیلانی کا مدفن بغداد یا ناگور: یہ کتاب دراصل ”تاریخ مشائخ قادریہ“ جلدِ اول کی ایک غلط بیانی کی تردید اور حقائق کا تحقیقی و تنقیدی جائزہ ہے۔ تاریخِ مشائخِ قادریہ حصہ اول جلد دوم ڈاکٹر غلام یحییٰ انجم کی تصنیف لطیف ہے جو سن ۲۰۰۰ء میں شائع ہوئی۔ کتاب کی بھرپور تحسین و تبریک ہوئی، لیکن اس کا ایک خاص گوشہ حضرت سید جیلانی علیہ الرحمہ کے مدفن کے حوالے سے بھی تھا۔ ڈاکٹر صاحب نے اپنا پورا زورِ قلم اس رخ پر صرف کیا کہ ان کا مدفن بغداد نہیں بلکہ ہندوستان کا شہر ناگور ہے، اس بات کو لے کر اہلِ علم تاریخ دانوں میں چہ میگوئیاں تو بہت ہوتی تھیں، لیکن ساری باتیں باتوں ہی کے دائرے تک رہتی تھیں، قابلِ مبارکباد ہیں ایک بزرگ جناب سید ذکی احمد جنھوں نے اپنا اختلاف تحریری شکل میں پیش کیا، یہ کتاب تذکرہ حضرت شیخ سیف الدین عبد الوہاب قدس سرہ اپریل ۲۰۰۱ء میں شائع ہو کر منظرِ عام پر آئی، کتاب کی بہت پذیرائی ہوئی، مگر ڈاکٹر انجم صاحب نے اس کا بھی کوئی خاص اثر قبول نہیں کیا، بلکہ نومبر ۲۰۰۷ء میں ایک مضمون ”سلسلۂ قادریہ ہندوستان میں“ لکھا۔ انھوں نے پھر اپنی منفرد تحقیق کا مظاہرہ کیا اور اپنی کھلی غلطی پر اہلِ علم کو اپنی ہم نوائی کی خاموش دعوت بھی دی۔ قابلِ مبارک باد ہیں حضرت علامہ محمد احمد مصباحی کہ انھوں نے اس رخ پر سنجیدگی سے غور کیا اور کچھ مواد دے کر مولانا نصر اللہ رضوی کو اس موضوع پر باضابطہ مقالہ لکھنے کی دعوت دی، آپ نے انتہائی محنت سے ایک علمی مقالہ ”سیدنا عبد الوہاب جیلانی کا مدفن بغداد یا ناگور“ تحریر فرمایا۔ یہ مقالہ فروری، مارچ، اپریل ۲۰۰۸ء میں جامِ نور دہلی سے قسط وار شائع ہوا۔ اس پوری کتاب کا نشانہ صرف اتنا ہے کہ حضرت سیدنا عبد الوہاب جیلانی رضی اللہ عنہ کا مزارِ اقدس ناگور نہیں بلکہ بغدادِ مقدس کے مقبرۂ طلبہ میں ہے۔ المجمع الاسلامی مبارک پور سے جون ۲۰۰۸ء میں شائع ہوئی، اپنے موضوع پر یہ کتاب بڑی اہمیت کی حامل ہے۔
  2. برکات السراج لحل اصول السراجیہ: تقسیمِ وراثت کے موضوع پر سراجی صدیوں سے مقبولِ انام ہے، علمائے کرام اور مفتیانِ عظام دنیا بھر میں اس سے استفادہ کرتے رہے ہیں، اصل ماخذ کے مصنف معروف عالمِ دین حضرت شیخ سراج الدین محمد بن عبد الرشید سجاوندی [۶۰۰ھ / ۱۲۰۳ء] ہیں۔ مجدد و مفکر امام احمد رضا محدث بریلوی نے بھی اس کی اہمیت کا اعتراف کیا ہے۔ یہ کتاب آج بھی درس گاہوں میں داخلِ نصاب ہے، سراجی کی مختلف زبانوں میں توضیح و تشریح بھی ہوئی، اور متعدد زبانوں میں اس کے تراجم بھی ہوئے، قابلِ مبارک باد ہیں مولانا نصر اللہ رضوی کہ انھوں نے بھی اس کتاب کا ایک کامیاب حاشیہ عربی زبان میں تحریر فرمایا۔
  3. برکات السراج کے آخر میں محشی کی اہم کتاب قواعدِ میراث ہے۔ اس کا تاریخی نام رسم الفرائض [۱۴۲۲ھ] ہے۔ کتاب معلومات افزا ہے، اس میں سوالات و تمرینات بھی ہیں، اس سے کتاب کی درسی اہمیت بڑھ جاتی ہے۔ یہ دونوں کتابیں ایک ساتھ ۲۰۰۲ء میں مجلسِ برکات جامعہ اشرفیہ مبارک پور سے شائع ہوئی ہیں۔
  4. ایضاحِ حقیقت شرح حقیقتِ محمدیہ: حقیقتِ محمدیہ کے مصنف حضرت علامہ شاہ وجیہ الدین احمد علوی گجراتی قدس سرہ [۹۱۱ھ - ۹۹۸ھ / ۱۵۰۵ء - ۱۵۹۰ء] ہیں۔ دسویں صدی ہجری خاکِ ہند کی علمی، دینی، سیاسی اور سماجی تاریخ میں نمایاں مقام رکھتی ہے۔ آپ نسبی طور پر حسینی سید ہیں، تذکرۃ الوجیہ میں آپ کی تصانیف ۲۶ شمار کرائی ہیں اور مآثر الکرام میں شروح و حواشی کی تعداد ایک سو ستانوے لکھی ہے۔ حقیقتِ محمدیہ عربی زبان میں تصوف کے موضوع پر متوسط سائز کے ۲۳ صفحات کا ایک مختصر رسالہ ہے۔ آپ کے شاگردِ رشید علامہ شیخ عبد العزیز خالدی [م: ۱۰۳۰ھ] ہیں۔ شارح علیہ الرحمہ نے حضرت شیخ وجیہ الدین علوی کے متن سے علوم و معارف کے دریا بہائے اور زیرِ بحث مسائلِ تصوف کو عشق و معرفت سے نہال کر دیا۔ یہ شرح فارسی میں تھی، عہدِ حاضر میں اس سے استفادہ ایک مشکل امر تھا، مولانا نظام الدین مصباحی گجراتی اور مولانا مقصود احمد مصباحی نے اپنی خواہش کا اظہار کیا اور اصل کتاب کے دو قلمی نسخے المجمع الاسلامی مبارک پور کے نام بھیجے، ذمہ داران نے یہ دونوں نسخے حضرت مترجم علیہ الرحمہ کے حوالے کیے، حضرت مترجم نے اپنی فکری اور قلمی صلاحیت کا بھرپور استعمال کیا اور ایک وقیع ترجمہ منظرِ عام پر آ گیا۔ حضرت مترجم ترجمے کے پیش لفظ میں لکھتے ہیں: ”مخطوطہ نسخے پر کام کرنا کتنا مشکل ہوتا ہے، یہ بات اہلِ علم سے پوشیدہ نہیں۔ بہر حال اس وادی میں قدم رکھا اور کرم نواز حضرت مولانا محمد احمد مصباحی صدر المدرسین الجامعۃ الاشرفیہ و ڈائریکٹر المجمع الاسلامی مبارک پور سے اصلاحات لیتا رہا اور ان کی رہ نمائی میں کام آگے بڑھتا رہا۔ اب ترجمہ، تعلیق، تحقیق، تقدیم، تحشیہ کے بعد کتاب آپ کے ہاتھوں میں ہے۔ اہلِ علم سے کریمانہ توقعات وابستہ ہیں۔“ حضرت مترجم مزید لکھتے ہیں: ”ترجمۂ کتاب کے ساتھ ہم نے جا بہ جا کچھ مفید حواشی کا اضافہ کیا ہے، بعض مقامات پر اصل مراجع کی طرف رجوع کر کے تصحیح کی گئی ہے۔ شرح میں مذکور کتاب اور مصنفین کا مختصر تعارف بھی لکھ دیا ہے۔ البتہ کمپوزنگ کی آسانی کے لیے حواشی کو کتاب کے اخیر میں کر دیا گیا ہے۔ متن و شرح کے مضامین کی ایک تفصیلی فہرست بھی بنا دی ہے۔“ [پیش لفظ ایضاح حقیقت، ص: ۴، ۵،] ۳۰۴ صفحات پر مشتمل یہ علمی کتاب اپریل ۲۰۱۰ء میں المجمع الاسلامی ملت نگر مبارک پور نے شائع کی ہے۔
  5. بہارِ جاوداں حاشیہ گلستاں: شیخ شرف الدین سعدی بن عبد اللہ شیرازی [م: ۶۹۱ھ / ۱۲۹۲ء] فارسی زبان و ادب کے شہرۂ آفاق شاعر اور نثر نگار تھے، آپ کی تحریروں کو عوام و خواص میں حد درجہ مقبولیت حاصل ہوئی، گلستاں بھی ان کی دیگر کتب کی طرح جادو بیانی اور فصاحت و بلاغت کا مرقع ہے۔ خاص بات یہ ہے کہ آپ کی گلستان اور بوستان کو مدارسِ اسلامیہ میں داخلِ نصاب کیا گیا ہے، اور بفضلہ تعالیٰ یہ خوب صورت سلسلہ آج تک جاری ہے۔ مولانا نصر اللہ رضوی علیہ الرحمہ نے اس کا بھی ایک حاشیہ بنامِ بہارِ جاوداں تحریر فرمایا، حاشیہ نگاری کی تاریخ تکمیل ۲۰ رمضان ۱۴۲۴ھ / ۱۶ نومبر ۲۰۰۳ء ہے۔ یہ فصیح و بلیغ اور جامع حاشیہ مجلسِ برکات جامعہ اشرفیہ مبارک پور سے شائع ہو چکا ہے۔
  6. ضوفشاں حاشیہ بوستاں: حضرت شیخ سعدی علیہ الرحمہ کی یہ کتاب بھی انتہائی معروف اور مقبول ہے، یہ بھی صدیوں سے مدارس کے نصاب میں شامل ہے۔ فارسی منظوم ادب کی اس کتاب پر بھی گلستاں کی طرح بہت کام ہوا ہے۔ مولانا نصر اللہ رضوی نے اس کا بھی خوب صورت اور جامع حاشیہ نوٹ فرمایا ہے۔ یہ بھی مجلسِ برکات جامعہ اشرفیہ مبارک پور نے شائع کر دیا ہے۔ حاشیہ ضوفشاں کی اولین اشاعت شعبان المعظم ۱۴۲۶ھ / ستمبر ۲۰۰۵ء میں ہوئی۔

مولانا نصر اللہ رضوی علیہ الرحمہ نے ان دونوں حواشی کی کچھ خصوصیات نوٹ فرمائی ہیں۔ ہم ان کی تلخیص ذیل میں پیش کرتے ہیں۔

حاشیہ آسان اور بامحاورہ ہے۔ مشکل الفاظ کی تشریح، تراکیب کی توضیح اور اعلام و واقعات بھی تاریخ کی روشنی میں قید و بند کے ساتھ نوٹ کیے گئے ہیں۔ نسخوں کے اختلاف اور الحاقی اشعار کی نشان دہی کر دی گئی ہے۔ ان دونوں حواشی میں معتبر کتب لغات اور مستند کتبِ سیر و تاریخ سے استفادہ کیا گیا ہے۔ جگہ جگہ مرادفات بھی ذکر کر دیے ہیں۔

حضرت محشی نے ضوفشاں کے آخر میں درجِ ذیل عبارت نوٹ کی ہے۔

لله الحمد والمنة کہ ۲ ربیع الثانی ۱۴۲۶ھ مطابق ۱۲ مئی ۲۰۰۵ء، بہ شبِ پنج شنبہ ایک بجے اس حاشیہ نگاری سے میں فارغ ہوا۔“

مولانا نصر اللہ رضوی علیہ الرحمہ ۱۹۶۹ء میں تاج دارِ اہلِ سنت مفتی اعظم ہند علامہ شاہ محمد مصطفیٰ رضا نوری رضوی علیہ الرحمہ سے بیعت ہوئے اور انھیں کی ہدایات کی روشنی میں معمولاتِ حیات کا رخ متعین کیا۔

مولانا نے دو بار حج و زیارت کا شرف حاصل کیا۔ پہلا سفرِ حج ۱۹۹۸ء میں اور دوسرا ۲ دسمبر ۲۰۰۶ء میں کیا، دونوں کے حوالے سے بہت سی باتیں بیان فرماتے تھے۔

۷ نومبر ۲۰۱۳ء کو آپ مدرسہ ضیاء العلوم محمد آباد سے متعلقہ کاغذات اور کتابیں لے کر گھر گئے، ارادہ تھا کہ ان فقہی مضامین کو مبیضہ کر لیں گے، جمعہ کے دن بعد نمازِ عشا کچھ طبیعت ناساز ہوئی، سانس لینے میں تکلیف ہونے لگی، صاحب زادگان انھیں لے کر محمد آباد ڈاکٹر کے پاس گئے، مگر انھوں نے اعظم گڑھ ریفر کر دیا، ڈاکٹر امتیاز سے ملاقات نہیں ہو سکی، پھر ایک دوسرے امراضِ قلب کے ماہر کے پاس پہنچے، ڈاکٹر نے علاج شروع کیا تو صبح کے چار بج چکے تھے۔ صبح چار بج کر ۱۵ منٹ پر داعی اجل کو لبیک کہا اور ایک عالمِ ربانی اپنے مالکِ حقیقی سے جاملا。

آپ کا عقدِ مسنون جناب محمد ہاشم ڈھولنا مئو کی صاحب زادی سے ہوا۔ پانچ صاحب زادیاں اور چار صاحب زادے ہیں۔ جناب شاہد رضا یزدانی، حامد رضا ناصر، مولانا حافظ شاداب رضا اور مولانا احمد رضا دانش مصباحی。

مولیٰ تعالیٰ اپنے حبیبِ پاک کے طفیل حضرت کی اہلیہ محترمہ اور ان بچوں کو صبر و شکر کی توفیق عطا فرمائے اور مولانا علیہ الرحمہ کو جنت الفردوس میں بلند مقام عطا فرمائے، آمین۔

پیر طریقت حضرت سید شاہ عبید الرحمن علیہ الرحمۃ والرضوان سجادہ نشیں دھاواں شریف ضلع غازی پور کا بھی ۳۰ نومبر ۲۰۱۳ء کو انتقال ہو گیا۔ اللہ تعالیٰ انھیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ آمین۔

[ماہنامہ اشرفیہ، جنوری ۲۰۱۴ء]

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!