| عنوان: | ضرورتِ توحید |
|---|---|
| تحریر: | غزالیِ زماں احمد سعید کاظمی علیہ الرحمہ |
| پیش کش: | خوشہانہ قادری احمدی |
اللہ تعالیٰ کی محبت اور اس کے اس لطیف جذبے کو لیے ہوئے جب روحِ انسانی اس بارگاہِ قدس سے اس عالمِ اجسام میں آئی تو اس کا وہ جذبہ ابھرا اور اس نے اسی کو تلاش کیا جس کی ربوبیت کا اقرار کر کے آئی تھی۔
جذبہ
جذبۂ محبت ایسی چیز ہے کہ جب تک لقائے محبوب نہ ہو محب کو اطمینان نہیں ہونے دیتا۔ جس طرح بھوک پیاس کی حالت میں کھانا اور پانی ملے بغیر آدمی کو چین نہیں آتا اسی طرح روحِ انسانی کو بھی بارگاہِ ربوبیت میں رسائی کے سوا کسی حال میں سکون نہیں ملتا۔ روحِ انسانی اسی عالم میں دیوانہ وار خالقِ کائنات کی تلاش میں اٹھی۔ مگر افسوس ارواحِ سعداء کے سوا ہر روح نے ٹھوکر کھائی اور ذریعۂ تلاش غلط ہونے کی وجہ سے رب تعالیٰ سے قریب ہونے کے بجائے دور ہوتی چلی گئی۔
مظاہرِ کائنات کی پرستش
یہ حقیقت کسی سے مخفی نہیں کہ تغیراتِ عالم کے پیشِ نظر ایک مؤثر کے وجود کو تسلیم کرنے پر ایک دہریہ بھی مجبور ہے۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ موجودہ کائنات کے ساتھ ہر فردِ بشر کا ایک طبعی تعلق ہے اور یہی تعلق اس کی فطرت میں تلاشِ حق کے تقاضے کا اصل منشا ہے۔
اسی کو پورا کرنے کے لیے لوگوں نے مظاہرِ کائنات کی پرستش کی لیکن جس طرح سراب سے آب کا تقاضا پورا ہونا ناممکن ہے، اسی طرح مظاہرِ کائنات کی پرستش سے خالقِ کائنات کی معرفت مقتضائے طبعی کی تکمیل ممکن نہیں۔ لہٰذا جس طرح خدائے قدوس نے ہمارے جسمانی تقاضوں اور ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے جسمانی اسباب مہیا کیے تھے اسی نے روحانی حاجات و مقتضیات کی تکمیل کے لیے روحانی اسباب کا ایک زبردست اور مضبوط نظام قائم کیا جس کا نام سلسلۂ نبوت و رسالت ہے۔
جو حضرت آدم علیہ السلام سے شروع ہو کر سیدنا حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر اختتام پذیر ہوا۔
دوسرا بنیادی نکتہ
اس بیان سے ہماری بحث کا پہلا بنیادی نکتہ ناظرینِ کرام کے ذہن نشین ہو گیا ہوگا۔
اب ہم دوسرے نقطے کی طرف آتے ہیں اور اس کے متعلق کچھ کہنے سے پہلے اختصار کے ساتھ یہ بتانا چاہتے ہیں کہ اسلام سے قبل لوگوں کے عقائد وجودِ باری اور توحیدِ خداوندی کے بارے میں کیا تھے؟
مسئلۂ توحید میں مختلف گروہ
اس سلسلے میں سب سے پہلے ہماری نظر دہریوں پر پڑتی ہے جو وجودِ خالق کے منکر تھے لیکن دہر کو مؤثر مانتے تھے۔ قرآنِ مجید نے ان کے قول کا ذکر ان الفاظ میں کیا ہے:
إِنْ هِيَ إِلَّا حَيَاتُنَا الدُّنْيَا نَمُوتُ وَنَحْيَا وَمَا يُهْلِكُنَا إِلَّا الدَّهْرُ [سورۃ الجاثیہ: 24]
چونکہ وجودِ خالق کا انکار جزا و سزا کے انکار کو مستلزم ہے اس لیے یہ گروہ وجودِ خالق کے ساتھ جزا و سزا کا بھی منکر تھا۔
دہریوں کے بعد دوسرے چار گروہ
دوسرا گروہ وہ تھا جو وجودِ خالق کو مانتا تھا لیکن بعث و نشور کا منکر تھا۔ اس کا ذکر بھی قرآنِ مجید کی متعدد آیات میں وارد ہے۔ یہ سب لوگ نبوت اور رسالت کے منکر تھے۔ ان میں ایک گروہ ایسا بھی پایا جاتا تھا جو فرشتوں اور جنات کے وجود کا قائل تھا اور ایک گروہ ان کی پرستش کرتا تھا۔ ایک گروہ وہ جو ان کا منکر تھا اور بتوں کی پرستش کرتا تھا۔ عرب کے طاقتور قبائل اصنام پرست تھے۔
ان میں بعض لوگ بت پرستی میں اتنے راسخ تھے کہ صرف حضر میں نہیں بلکہ سفر میں بھی اپنے باطل معبودوں کو ساتھ رکھتے اور ان کی پوجا کرتے تھے۔
مشرکین کا عقیدہ
مشرکین جو امورِ عظام میں اللہ تعالیٰ کو متصرف مانتے تھے ساتھ ہی یہ عقیدہ بھی رکھتے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بعض عبادِ صالحین کو الوہیت عطا فرما دی۔ لہٰذا وہ تمام مخلوق کے معبود ہونے کے مستحق ہو گئے۔ حتیٰ کہ اگر کوئی شخص اللہ تعالیٰ کی عبادت کرے تو وہ اس وقت تک مقبول نہیں ہو سکتی جب تک کہ ان عبادِ صالحین کی عبادت کے ساتھ مضموم نہ ہو۔ بلکہ اللہ تعالیٰ تو انتہائے بلندی میں ہے اس لیے ان کی مخصوص عبادت بے کار ہے۔ عبادت انہی صالحین کی کرنی چاہیے جو اللہ تعالیٰ کے مقرب ہیں تاکہ ان کی برکت سے ہم اللہ تعالیٰ کے مقرب ہو سکیں۔ ان کا عقیدہ تھا کہ ہمارے یہ معبود سمیع و بصیر ہیں اور ہماری امداد و نصرت کرتے ہیں۔ انہوں نے انہی کے نام پر پتھر گھڑ لیے تھے۔ اور جب وہ اپنے معبودوں کی طرف رخ کرتے تو اپنی توجہ کا قبلہ ان پتھروں کو بنا لیتے تھے۔ ان کے پیچھے آنے والوں نے اتنا بھی نہ سمجھا کہ ان پتھروں اور انسانوں میں کتنا بڑا فرق ہے اور ان پتھروں کو ہی اپنا معبود بنا لیا۔
